Tag Archives: weekendwarrior

ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے…

Read more

After the Pharaoh drowned and the waves of the sea subsided, the Israelites were breathing in an atmosphere that many of their generations had never experienced. This was not just a migration… This was the beginning of the psychological, intellectual and spiritual reconstruction of a slave nation. But freedom is not always easy. Freedom also brings with it responsibilities, trials and patience. As soon as the Israelites set foot on the scorching land of the Sinai Desert, they were surrounded by their first great test. The water had run out. Thirst had intensified. They wandered for three days in search of water. This area was famous for its intense heat, dry mountains and harsh environment, where even survival was a struggle. When the thirst became unbearable, the nation began to protest again. They complained to Prophet Moses (peace be upon him). But Allah Almighty had hidden another miracle in the…

Read more

Tras el ahogamiento del faraón y la calma del mar, los israelitas respiraban una atmósfera que muchas generaciones jamás habían experimentado. Aquello no era solo una migración… Era el comienzo de la reconstrucción psicológica, intelectual y espiritual de una nación esclavizada. Pero la libertad no siempre es fácil. La libertad también conlleva responsabilidades, pruebas y paciencia. En cuanto los israelitas pisaron la abrasadora tierra del desierto del Sinaí, se vieron rodeados por su primera gran prueba. El agua se había agotado. La sed se había intensificado. Vagaron durante tres días en busca de agua. Esta región era famosa por su calor intenso, sus montañas áridas y su entorno hostil, donde incluso la supervivencia era una lucha. Cuando la sed se volvió insoportable, la nación comenzó a protestar de nuevo. Se quejaron al profeta Moisés (la paz sea con él). Pero Dios Todopoderoso había escondido otro milagro en el bastón de…

Read more

ایک دن بہلول نے حضرت جنید بغدادیؒ سے پوچھا:“شیخ صاحب! کیا آپ کھانے کے آداب جانتے ہیں؟” حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا:“بسم اللہ پڑھنا، اپنے سامنے سے کھانا، چھوٹا لقمہ لینا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اچھی طرح چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمے پر نظر نہ رکھنا، اللہ کو یاد کرنا، آخر میں الحمدللہ کہنا اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا۔” بہلول یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:“لوگوں کے مرشد ہو، مگر کھانے کے آداب نہیں جانتے!” یہ کہہ کر وہ آگے چل دیے۔حضرت جنیدؒ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ مریدوں نے عرض کیا:“حضور! وہ تو دیوانہ ہے۔”لیکن شیخ پھر بھی ان کے پاس پہنچ گئے۔ سلام کیا۔بہلول نے جواب دیا اور پوچھا:“کون ہو؟” فرمایا:“جنید بغدادی… جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔” بہلول نے پوچھا:“اچھا، بولنے کے آداب جانتے ہو؟” حضرت جنیدؒ نے فرمایا:“مخاطب کے مطابق بات کرنا، بے موقع اور فضول گفتگو سے بچنا،…

Read more

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔ اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں: * اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔ * صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔ * بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔ * اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔ * عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول…

Read more

فرعون کے غرق ہونے اور سمندر کی لہروں کے تھم جانے کے بعد بنی اسرائیل ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے تھے جسے ان کی کئی نسلوں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔ یہ صرف ایک ہجرت نہ تھی… یہ ایک غلام قوم کی نفسیاتی، فکری اور روحانی تعمیرِ نو کا آغاز تھا۔ مگر آزادی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ آزادی اپنے ساتھ ذمہ داریاں، آزمائشیں اور صبر بھی لاتی ہے۔ جیسے ہی بنی اسرائیل نے صحرائے سینا کی تپتی زمین پر قدم رکھا، انہیں پہلی بڑی آزمائش نے گھیر لیا۔ پانی ختم ہو چکا تھا۔ پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔ وہ تین دن تک پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ یہ علاقہ اپنی شدید گرمی، خشک پہاڑوں اور سخت ماحول کے لیے مشہور تھا، جہاں زندہ رہنا بھی ایک معرکہ تھا۔ جب پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو قوم نے پھر احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرت…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے پیچھے اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے تیزی سے ہرن کا پیچھا کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ بادشاہ نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کہاں جائے۔ گھوڑا بھی گرمی سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کوئی بستی نظر نہ آئی، البتہ دور کچھ جانور چرتے دکھائی دیے اور بانسری کی آواز بھی تیز ہوا کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کا رخ کیا۔ چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی…

Read more

سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔ ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔ اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا: “کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!” مرغے نے سر جھکا کر کہا:“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔” اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ مالک غصے سے بولا:“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!” مرغا خاموش ہوگیا۔ اگلے دن صبح ہوئی۔اس بار اس نے نہ اذان دی،…

Read more

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔ نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ… لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا: “سایہ چور!” یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!” بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ…

Read more

190/190
NZ's Corner