عدل کی عظمت اور نیکی کی فطرت
ایک بادشاہ نے حج کا ارادہ کیا۔ جب اس نے ارکانِ سلطنت سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کیا:بادشاہ کی مثال جان کی اور سلطنت جسم کی مانند ہے۔ جس وقت بادشاہ کا سایہ ملک سے اٹھ جائے گا تو بہت سی خرابیاں جنم لیں گی۔ بادشاہ نے کہا: پھر میں حج کا ثواب کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟انہوں نے جواب دیا: اس سلطنت میں ایک درویش رہتا ہے جو سات حج کر چکا ہے اور گوشۂ تنہائی اختیار کیے ہوئے ہے، ممکن ہے وہ ایک حج کا ثواب آپ کو فروخت کر دے۔ بادشاہ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:میرا ارادہ حج کا ہے، مگر سلطنت کے امور کے باعث مجھے منع کیا جا رہا ہے، کیا آپ ایک حج کا ثواب مجھے دے سکتے ہیں؟ درویش نے فرمایا: میں اپنے تمام حجوں کا ثواب فروخت کرتا ہوں۔بادشاہ نے پوچھا: ہر حج کی کیا قیمت…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
محض رحم کھا کر سانپوں کو پالنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک تلخ پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک رحم دل اور کھلے دل والی مرغی جو بلا پوچھے دوسروں کی مدد کرنے کی عادی تھی—اسے ایک بار گھاس میں ایک ننھا سا زخمی سانپ ملا۔ وہ مرنے کے قریب تھا، اکیلا اور کانپ رہا تھا۔ سب کو یہی توقع تھی کہ مرغی اسے اپنی چونچ مار مار کر ختم کر دے گی۔لیکن اس نے اس کے برعکس کیا۔اس نے اسے نرمی سے اٹھایا۔اپنے گھونسلے میں لے آئی۔اسے اپنے چوزوں کے ساتھ لٹایا۔اسے گرم رکھنے کے لیے اپنے پروں میں چھپا لیا۔اور اسے کھانا کھلایا—تب بھی جب خوراک کی کمی تھی۔دوسرے جانوروں نے اسے خبردار کیا:“یاد رکھو، یہ ایک سانپ ہے!”مگر اس نے جواب دیا:“اگر میں اسے محبت سے پالوں گی، تو یہ محبت کرنا سیکھ جائے گا۔”اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔کیونکہ آپ کسی کو تپش…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory urdu blog
اور نیل بہتا رہا۔۔۔🙂!
ہزاروں سال پہلے مصر کے لوگ کہتے تھے کہ اگر دریائے نیل کو راضی نہ رکھا جائے تو وہ نہیں بہے گا، اور اسے راضی رکھنے کے لیے ہر سال ایک لڑکی کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یعنی ہر سال ایک غیر فطری قربانی، پھر ایک دن ایک خط پانی میں ڈالا گیا، اور روایت ہے کہ سب کچھ بدل گیا۔ساتویں صدی میں جب مصر اسلامی خلافت کے زیرِ اثر آیا اور حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے گورنر مقرر ہوئے، تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ نیل کے سالانہ بہاؤ کے لیے یہ رسم ضروری ہے ورنہ تباہی ہو گی، یہ بات مدینہ بھیجی گئی۔ جواب میں خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک تحریر بھیجی جس میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ، اور اگر اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو پھر اسی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
اندھے اور ہاتھی: ایک اخلاقی کہانی
ایک قدیم گاؤں میں چھ اندھے آدمی رہتے تھے جو اپنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی لایا گیا۔ چونکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا جانور نہیں دیکھا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہاتھی کے پاس جائیں گے اور اسے چھو کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔پہلے آدمی نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھی کے پہلو (پیٹ) کو چھوا۔ وہ پکار اٹھا: “کتنا ہموار اور سپاٹ ہے! ہاتھی تو بالکل ایک دیوار کی طرح ہے۔”دوسرے آدمی نے ہاتھی کے دانت کو محسوس کیا۔ اسے ایک نوکیلی اور ہموار چیز ملی۔ اس نے بحث کرتے ہوئے کہا: “نہیں، نہیں، ہاتھی بہت تیز دھار اور خطرناک ہے۔ یہ تو بالکل ایک نیزے جیسا ہے۔”تیسرے آدمی کے ہاتھ میں ہاتھی کی سونڈ آئی، جو ہل جل رہی تھی۔ اس نے کہا: “تم دونوں غلط ہو۔ ہاتھی لمبا…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
*خوفِ خدا — نجات کا راستہ*
امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو ایک عجیب انداز میں طلاق دے دی، اور یہ واقعہ بعد میں فقہ کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔” یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
تبدیلی۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب اور ناخوش آدمی ایک خستہ حال جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی گھر کی حالت بھی اس کے مزاج جیسی تھی—ہر طرف گندگی، مکڑی کے جالے اور چوہوں کا بسیرا تھا۔ لوگ اس کے گھر جانے سے کتراتے تھے، کیونکہ کوئی بھلا دوسرے کی پریشانی اور گندگی میں کیوں قدم رکھتا؟وہ آدمی سمجھتا تھا کہ اس کی تمام تر بدبختی کی وجہ اس کی غربت ہے۔ وہ اکثر سوچتا، “یہ میری قسمت ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”ایک دن اس کی ملاقات ایک پُراسرار مسافر سے ہوئی، جس کی شخصیت سے دانائی چھلکتی تھی۔ غریب آدمی نے اس کے سامنے اپنی زندگی کا رونا رویا۔ مسافر نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور اسے ایک نہایت خوبصورت گلدان تحفے میں دیا۔مسافر نے کہا: “یہ گلدان تمہیں غربت سے نجات دلائے گا۔”آدمی گلدان گھر لے آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
کنویں کے مینڈک۔۔۔!
دنیا جتنی بڑی ہوتی جائے گی، انا غرور اتنا ہی چھوٹا ہوتا جائے گا۔”وضاحت:اس تصویر میں “کنویں کے مینڈک” والی مشہور تمثیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب مینڈک صرف کنویں میں رہتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہے اور یہ کنواں ہی کل کائنات ہے۔ لیکن جب وہ باہر نکل کر بڑی دنیا اور دوسرے بڑے جانوروں (جیسے تصویر میں بیل) کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت اور اپنی چھوٹی سی حیثیت کا احساس ہوتا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:علم اور تجربہ: ہم جتنا زیادہ سیکھتے ہیں، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔عاجزی: وسعتِ ظرفی انسان کے اندر سے تکبر کو ختم کر کے عاجزی پیدا کرتی ہے۔کیا آپ کو کبھی 100% یقین رہا ہے… اور پھر بھی آپ مکمل غلط ثابت ہوئے؟بہت پہلے کی بات ہے، ایک مینڈک کئی سالوں تک ایک پرانے اور متروک کنویں کی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
تین کنویں
ایک پیاسا مسافر خشک ریگستان میں راستہ بھٹک گیا۔ اس کے پاس پانی ختم ہو چکا تھا اور وہ شدید کمزوری محسوس کر رہا تھا۔ اپنے سفر کے دوران اسے تین مختلف کنویں ملے، جن میں سے ہر ایک کی دیکھ بھال ایک الگ شخص کر رہا تھا۔پہلا کنواں: جولاہیمسافر کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو کپڑا بن رہی تھی۔ اس نے پانی مانگا تو خاتون نے بڑی ہمدردی سے اسے ٹھنڈے پانی کی بالٹی مفت میں دے دی۔ اس نے کوئی دکھاوا نہیں کیا اور خاموشی سے اپنے کام پر واپس چلی گئی۔ مسافر وہاں سے خود کو توانا اور معزز محسوس کرتے ہوئے رخصت ہوا۔دوسرا کنواں: سنگ تراشاگلے دن مسافر ایک سنگ تراش سے ملا جو پتھر تراش رہا تھا۔ سنگ تراش کچھ نہ بولا، لیکن اس نے پانی کا ایک بھاری گھڑا کھینچ کر نکالا اور مسافر کو پلایا۔ اس نے مسافر کی کمزوری کو ایک…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار سردار جی بازار گئے تو انہیں ایک دکان پر ایک چمکتا ہوا “تھرماس” (Thermos Flask) نظر آیا۔سردار جی نے حیرت سے اسے اٹھایا اور دکاندار سے پوچھا:“یار! یہ چمکتی ہوئی بوتل کیا چیز ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟” دکاندار نے بڑے فخر سے بتایا:“سردار جی! یہ کوئی عام بوتل نہیں ہے، یہ ایک کمال کی ایجاد ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ‘گرم چیز گرم’ رہتی ہے اور ‘ٹھنڈی چیز ٹھنڈی’ رہتی ہے۔” سردار جی یہ سن کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے سوچا کہ یہ تو واقعی کوئی جادوئی مشین ہے۔ انہوں نے فوراً پیسے دیے، تھرماس خریدا اور اگلے دن بڑی شان سے اسے لٹکا کر اپنے دفتر (Office) پہنچ گئے۔ دفتر میں ان کے ایک دوست نے نئی بوتل دیکھی تو پوچھا:“سردار جی! یہ نیا تھرماس لیا ہے؟ بڑا زبردست لگ رہا ہے۔” سردار جی نے سینہ…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دانا شخص کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں والوں سے مدد طلب کی جائے۔ وہ جیسے ہی بستی میں داخل ہوا تو اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں۔ ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی تھا جو بالکل ان ہی کی طرح زمین سے دانہ چن رہا تھا۔دانا شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اپنی گاڑی کی خرابی بھول کر اس بوڑھے سے پوچھنے لگا: “یہ قدرت کے خلاف کیسے ممکن ہوا کہ ایک شاہین کا بچہ مرغیوں کے ساتھ زمین پر دانہ چگ رہا ہے؟”بوڑھے نے جواب دیا: “دراصل یہ بچہ جب صرف ایک دن کا تھا، تب مجھے پہاڑ سے گرا ہوا ملا۔ میں اسے اٹھا لایا، یہ زخمی تھا۔ میں نے اس کی مرہم پٹی کی اور اسے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
قسطنطنیہ کی سرحدوں سے آیا ہوا طبیب، جس کا نام ڈاکٹر لیو تھا، دمشق کی گلیوں میں اپنے علم کا ڈنکا بجا رہا تھا۔ وہ کہتا پھرتا تھا کہ اسلامی طبیب صرف کتابوں کے غلام ہیں، جبکہ وہ خود تجربات کا علم رکھتا ہے۔ ایک دن وہ سلطان صلاح الدین کے دربار میں پہنچا، اور اس نے زعم میں کہا: “سلطان! آپ کے طبیب بیماروں کو جڑی بوٹیاں کھلاتے ہیں اور دعائیں پڑھتے ہیں۔ میں سائنس لے کر آیا ہوں۔ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ زہر کو بھی دوائی بنا سکتے ہیں، اگر مقدار صحیح ہو۔” سلطان مسکرائے اور بولے: “اچھا! تو تم مقدار کا علم رکھتے ہو؟” ڈاکٹر لیو نے گردن اکڑائی: “جی ہاں! میں سانپ کے زہر کو بھی قطرہ قطرہ پی سکتا ہوں اور بچ سکتا ہوں۔” دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ کچھ نے اسے دیوانہ کہا، کچھ نے جھوٹا۔ لیکن سلطان نے خاموشی سے اپنے…
urdu blog urdustory urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بھوکا مسافر ایک کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔دکاندار بڑا کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا: “تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!”مسافر بے چارہ پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سمجھنے کے بعد بولے: “فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔”جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے اور انہیں مٹھی میں…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
لندن کے مضافات میں ایک پرسکون دوپہر تھی، لیکن برٹی ووسٹر کے دل میں طوفان بپا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک ایسی چیز پڑی تھی جسے دیکھ کر اچھے بھلوں کے پسینے چھوٹ جائیں: آنٹی اگاتھا کی تیار کردہ “خصوصی” فروٹ پڈنگ۔برٹی نے اپنے وفادار نوکر، جِیوز (Jeeves) کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔“جیوز! کیا تمہیں لگتا ہے کہ اگر میں اسے کھڑکی سے باہر پھینک دوں، تو یہ زمین سے ٹکرا کر واپس اچھلے گی؟” برٹی نے کراہتے ہوئے پوچھا۔“جناب، میرا خیال ہے کہ اس کی کثافت اتنی زیادہ ہے کہ یہ شاید زمین میں سوراخ کر کے سیدھی آسٹریلیا جا نکلے،” جیوز نے اپنی مخصوص سنجیدگی سے جواب دیا۔مسئلہ یہ تھا کہ آنٹی اگاتھا—جو برٹی کے مطابق ایک ایسی خاتون تھیں جو شارک مچھلیوں کے ساتھ ناشتہ کر سکتی تھیں—کمرے میں داخل ہونے والی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ برٹی کو “صحت مند” غذا…
urdu blog urdustory urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔❤️!
حضرت علی علیہ السلام نے پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ ایک بادشاہ شاہی کھانے کے ساتھ ایک فقیر کے پاس آیا اور کھانے کی اجازت چاہی۔ فقیر نے ایک آئینہ منگوایا اور شاہی کھانے میں سے ایک لقمہ آئینے پر مَل دیا۔ پورا آئینہ دھندلا ہو گیا۔ پھر فقیر نے جو کی روٹی لی اور اسے آئینے پر پھیرا، تو آئینہ دوبارہ شفاف ہو گیا۔ فقیر نے کہا:“آپ کا کھانا دل کے آئینے کو سیاہ کر دیتا ہے، جبکہ نانِ جوئیں اسے جِلا بخشتا ہے۔ اس لیے مجھے معاف کیجیے۔” بادشاہ نے کہا:“اگر میرے لیے کوئی خدمت کرنی ہو تو بتائیں۔” فقیر نے جواب دیا:“مکھیاں اور مچھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، انہیں حکم دے دیجیے کہ مجھے نہ ستائیں۔” بادشاہ نے کہا:“یہ تو میرے حکم سے بھی ممکن نہیں۔” فقیر نے مسکرا کر کہا:“جب ایسے حقیر جانور بھی آپ کی اطاعت سے باہر ہیں اور آپ کو ان کے ختم کرنے کی قدرت نہیں، تو پھر میں…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے اور اتفاق سے تینوں کا نام “طیب” تھا۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر وصیت کی: “میری جائیداد میں سے ایک طیب کو حصہ نہیں ملے گا۔” یہ کہہ کر وہ فوت ہو گیا۔باپ کے انتقال کے بعد تینوں طیب پریشان ہو گئے کہ آخر وہ کون سا طیب ہے جسے وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے انہوں نے دور دراز کے ایک بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو اپنے دانشمندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھا۔اگلے دن جب وہ سفر پر تھے تو راستے میں انہیں ایک شخص ملا جس کا اونٹ گم ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟”پہلا طیب بولا: “کیا تمہارا اونٹ لنگڑا تھا؟” مالک نے کہا: “جی ہاں!”…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔ وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:“یہ رئیس زادے کون ہیں؟” کسی نے جواب دیا:“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔” یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:“اے اللہ!…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔ زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔ دن گزرتے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: “کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!” بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: “کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟” چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: “کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!” بوڑھا کسان پھر مسکرایا: “کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟” اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: “کتنی بدقسمتی ہے!” کسان نے پھر وہی جواب دیا: “کیا معلوم؟” کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory