Category Archives: Urdu Stories

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا-ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ“جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا”اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے…؟غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے…؟غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.حضرت…

Read more

میں نے اپنے 87 سالہ والد کو کچن میں پایا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ پتیلی سے براہِ راست جما ہوا دلیا کھرچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے چولہا نہیں جلایا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گیس بند کرنا نہ بھول جائیں—اور مجھے انہیں “شہر” کے کسی اولڈ ہوم  میں منتقل کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔میں نے ان کے ہاتھ سے پتیلی لے لی۔میں نے ضرورت سے زیادہ سختی سے کہا، “ابو، آپ نے اسے گرم کیوں نہیں کر لیا؟ میں نے آپ کو مائیکرو ویو خرید کر دیا تھا!”شہر سے یہاں تک کا سفر ٹریفک کی وجہ سے چار گھنٹے طویل ہو گیا تھا، اور میرا صبر پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس فرش کی اس پرانی لینولیم (شیٹ) کو گھورتے رہے جو انہوں نے اس وقت خود بچھائی تھی جب میں پرائمری…

Read more

جب آپ کو کنویں کی تہہ میں “پنیر کا ٹکڑا” نظر آئے تو فوراً خوشی نہ منائیں۔ آپ کو اس ‘سودے’ پر نہیں، بلکہ اس پلّی (چرخی) کے جال پر نظر رکھنی چاہیے جو کسی کے اس “خالی جگہ” کو بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ 🧀ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لومڑی پھسل کر گہرے کنویں میں گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس کنویں میں دو بالٹیوں والا پلّی کا نظام تھا: جب ایک بالٹی نیچے جاتی تو دوسری اوپر آتی۔لومڑی اس بالٹی میں بیٹھ گئی جو اوپر کے قریب تھی۔ اس کے وزن نے بالٹی کو سیدھا نیچے تہہ میں پہنچا دیا۔ جب وہ گھبراہٹ میں وہاں سے نکلنے کا راستہ سوچ رہی تھی، تو وہاں سے ایک بھیڑیے کا گزر ہوا۔ بھیڑیے نے کنویں کے کنارے سے جھانکا اور پوچھا:“اے لومڑی! تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہو؟”لومڑی نے تیزی سے سوچا اور کہا:“اوہ میرے دوست!…

Read more

شیخ چلی کا شمار گاؤں کے سب سے زیادہ خواب دیکھنے والے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ دن رات کچھ نہ کچھ انوکھا سوچتے رہتے، اور اُس سوچ کی بنیاد پر بڑے بڑے منصوبے بناتے۔ گاؤں والوں کو اُن کے خوابوں پر ہنسی آتی، لیکن شیخ چلی کو اپنے ہر خواب پر کامل یقین ہوتا۔ ایک دن وہ منڈی سے آٹے کی بوری خرید کر گدھے پر لاد کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ان کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا۔ “اگر میں یہ آٹا بیچ دوں، تو اس سے جو پیسے آئیں گے اُن سے دو بکریاں خرید لوں گا۔ پھر ان بکریوں کے بچے ہوں گے۔ بچے بڑے ہوں گے، دودھ دیں گے، اور میں دودھ بیچ کر گائے خرید لوں گا۔ پھر گائے سے دودھ، دہی، مکھن، گھی۔۔۔ واہ واہ! میں تو امیر ہو جاؤں گا!” وہ خود کلامی کر رہے تھے۔اسی خواب میں…

Read more

ایک کمہار کی بیگم حد درجہ لڑاکا تھی، ذرا سی بات ہوتی اور وہ روٹھ کر میکے سدھار جاتی۔ غریب کمہار ہر بار شرافت اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے منا لاتا۔ ایک بار پھر بیگم صاحبہ روٹھیں اور میکے جا بیٹھیں۔ اس بار کمہار نے بھی منانے نہ جانے کی ٹھان لی۔ جب کئی دن بیت گئے اور شوہر نہ پہنچا تو بیگم کی ہمت جواب دے گئی اور وہ خود ہی گھر کی طرف چل دیں۔اب مسئلہ انا کا تھا کہ بغیر منائے واپس جانے پر جگ ہنسائی ہوگی۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر پہنچی ہی تھیں کہ سامنے سے کمہار کا گدھا آتا دکھائی دیا۔ بیگم کو فوراً ایک ترکیب سوجھی؛ انہوں نے لپک کر گدھے کی دم تھام لی اور اس کے پیچھے کھنچی چلی آئیں۔ گھر پہنچ کر شوہر کو جتاتے ہوئے بولیں: “اجی شکریہ ادا کرو اس گدھے کا جو مجھے…

Read more

شیر، جو کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، اب بوڑھا ہو چکا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ تیز رفتار شکار کا پیچھا کر سکے۔ اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی: وہ اپنی غار کے اندر لیٹ گیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے۔جنگل کے جانوروں نے یہ افواہ سنی۔ اس کی پرانی ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ ایک ایک کر کے اس کی عیادت (خیریت دریافت کرنے) کے لیے آنے لگے۔ لیکن ایک بات عجیب تھی:جو بھی جانور غار کے اندر جاتا… وہ کبھی باہر آتا ہوا دکھائی نہ دیتا۔پھر لومڑی کی باری آئی۔ لومڑی بھی آئی، لیکن وہ غار سے باہر ہی رک گئی اور وہیں سے شیر کی خیریت دریافت کی۔اندر سے شیر ایک کمزور آواز میں بولا:“اوہ، تو یہ تم ہو لومڑی؟ تم اتنی دور کیوں کھڑی ہو؟ اندر آؤ—قریب آؤ—تاکہ میں تمہارا چہرہ…

Read more

“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟”دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہے تھے، جو حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کے بعد موصول ہوا تھا۔ “اگر میں تمہاری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تمہاری گردن اتار دیتا۔”یہ الفاظ سن کر دروان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ خوف کے باوجود اس نے اپنا سامانِ جنگ تیار کیا اور ساتھیوں کے ساتھ اجنادین روانہ ہو گیا۔ اجنادین پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پورا علاقہ سپاہیوں سے بھرا ہوا ہے۔ شہنشاہ روم نے اسے تمام افواج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ دروان نے سب سپاہیوں کو ہتھیار تیار کرنے کا حکم دیا اور لشکر لڑائی کے لیے تیار ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپاہیوں کو خبر ملی کہ نوے ہزار رومی لشکر اجنادین کی…

Read more

پیرس کے ایک چھوٹے سے محلے میں ایک مصور رہتا تھا جس کا نام مونیئے تھا۔ مونیئے خود کو دنیا کا عظیم ترین فنکار سمجھتا تھا، حالانکہ اس کی پینٹنگز مشکل سے ہی کوئی خریدتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مشکل اس کا پڑوسی مسٹر پونشارڈ تھا، جو ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر تھا اور ہر چیز میں نقص نکالنے کا ماہر تھا۔ ایک دن مونیئے نے تنگ آکر اعلان کیا: “میں ایک ایسا شاہکار بناؤں گا جسے دیکھ کر پونشارڈ کی زبان گنگ ہو جائے گی!”تین مہینے تک مونیئے نے خود کو کمرے میں بند رکھا۔ محلے میں چرچا ہو گیا کہ کوئی بہت ہی عظیم فن پارہ تیار ہو رہا ہے۔ آخر کار، نمائش کا دن آ گیا۔ مونیئے نے ایک بڑی کینوس کو مخملی پردے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پونشارڈ اپنی عینک درست کرتے ہوئے سامنے آیا۔ مونیئے نے بڑے فخر سے پردہ ہٹایا۔سامنے کینوس بالکل خالی…

Read more

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا۔ وہ رات کے وقت جا کر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچتا تھا۔ جب وہ جانور ذبح کرتا تو اس کے کپڑوں پر خون لگ جاتا، مگر وہ گھر آ کر خون آلود کپڑے بدل لیا کرتا تھا۔ ایک رات جب وہ جانور ذبح کر کے واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک جگہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے قصاب کو پکڑ لیا۔ جب قصاب نے اسے دیکھا تو اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ قصاب حیران ہوا، اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی۔ قصاب نے دیکھا کہ اس کے جسم میں ایک چھری پیوست تھی جو کسی نے اسے مار دی تھی۔ اصل قاتل تو بھاگ چکا تھا، مگر مقتول نے اندھیرے میں یہی سمجھا کہ قصاب نے اسے قتل کیا ہے، اور وہ…

Read more

صاحبزادے جب انگلستان کی یونیورسٹی سے “علمِ منطق” (Logic) کی ڈگری لے کر وطن لوٹے، تو ان کے اندازِ گفتگو میں ارسطو کی جھلک اور چال ڈھال میں افلاطون کی شان تھی۔ ابھی گھر پہنچے ایک دن ہی ہوا تھا کہ ناشتے کی میز پر علمی مباحثے کا بازار گرم ہو گیا۔والد صاحب نے سادگی سے پوچھا، “بیٹا! اتنے سال ولایت میں رہے، وہاں سے آخر سیکھ کر کیا آئے ہو؟”بیٹے نے عینک کے پیچھے سے ایک پراسرار نظر اپنے والد پر ڈالی اور بڑے فخر سے کہا، “قبلہ والد صاحب! میں نے وہ علم حاصل کیا ہے جو عقل کو دنگ کر دے۔ میں نے ‘علمِ منطق’ پڑھا ہے، جس کے ذریعے انسان ناممکن کو ممکن اور ایک کو دو ثابت کر سکتا ہے۔”والد صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرا اور حیرت سے پوچھا، “بھئی، اس کا عملی زندگی میں فائدہ کیا ہے؟”بیٹے کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا…

Read more

سردار جی ایک لوکل بس میں سفر کر رہے تھے۔ بس میں بہت رش تھا، سردار جی کو بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کی جگہ ملی تھی۔ کچھ دیر بعد کنڈکٹر ٹکٹ کاٹنے کے لیے ان کے پاس آیا۔کنڈکٹر: “سردار جی! ٹکٹ دکھائیں۔” سردار جی نے اپنی جیبوں میں ہاتھ مارا اور بڑی پریشانی سے بولے:“یار کنڈکٹر! میرا تو پرس ہی کسی نے نکال لیا ہے۔” کنڈکٹر (تھوڑا سخت لہجے میں): “سردار جی! یہ پرانے بہانے چھوڑیں۔ ٹکٹ کے پیسے نکالیں ورنہ اگلے سٹاپ پر اتر جائیں۔” سردار جی (منت کرتے ہوئے): “اوئے خدا کا خوف کر! سچ میں میرا پرس چوری ہو گیا ہے۔ میں تجھے جھوٹ کیوں بولوں گا؟” کنڈکٹر نہیں مانا اور بحث کرنے لگا۔ آخر کار سردار جی کو غصہ آ گیا۔ سردار جی نے اپنے گلے میں مفلر (Muffler) ٹھیک کیا، ایک گہرا سانس لیا اور اچانک بس میں زور سے چیخے: “اوئے! جس کسی…

Read more

ایک کمزور ماہی گیر کے جال میں ایک طاقتور مچھلی پھنس گئی۔ ماہی گیر کے بس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ جال کو پانی سے کھینچ سکے۔ جب مچھلی نے زور لگایا تو جال اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔شعر:دام ہر بار ماہی آوردےماہی ایں بار رفت و دام ببردترجمہ:جال ہر بار مچھلی پکڑتا ہے، لیکن اس بار مچھلی گئی تو جال کو ہی لے گئی۔دوسرے ماہی گیر اس واقعے پر اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے اس کمزور ماہی گیر کو ملامت کرنا شروع کر دیا، کہ ایسا بڑا شکار تیرا جال میں پھنس گیا اور تو اسے تھام نہ سکا۔ماہی گیر نے جواب دیا:“اے بھائیو، میں کیا کر سکتا تھا؟ یہ مچھلی میرا رزق نہیں تھی، اور میرا رزق ابھی باقی تھا۔ دانا کہتے ہیں کہ شکاری قسمت کے بغیر دریا سے مچھلی نہیں پکڑ سکتا، اور مچھلی بغیر وقت کے خشکی پر نہیں مرتی۔” سبق: ہر…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

کیا آپ نے عثمانی سلطنت کے “مجانین” دستے کے بارے میں سنا ہے؟عثمانی سلطنت کی تاریخ میں کئی ایسے فوجی دستے تھے جنہوں نے اپنی بہادری اور منفرد انداز کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انہی میں سے ایک مشہور دستہ “المجانین” یا دیلی (Deli) سپاہی تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس طرح کے غیر معمولی جری سپاہیوں کو باقاعدہ طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ سلطان محمد فاتحؒ (سلطان محمد ثانی) کے دور میں 1453ء کے بعد زیادہ منظم شکل میں سامنے آیا، جب قسطنطنیہ کی فتح کے بعد عثمانی فوج کو مزید طاقتور اور نفسیاتی جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔یہ دراصل عثمانی سلطنت کی ایک خاص قسم کی فوجی یونٹ یا اسپیشل فورس تھی، جو ینی چری (Janissaries) اور سپاہی گھڑ سواروں (Sipahi cavalry) کے ساتھ میدانِ جنگ میں شامل ہوتی تھی۔ اس زمانے میں انہیں دنیا کی طاقتور اور خوفناک جنگی جماعتوں میں شمار کیا جاتا…

Read more

یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو ‏محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ‏جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی طرح حنوط…

Read more

ایک ملنگ درویش بارش کے پانی میں عشق و مستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اُبال رہا تھا تُو موسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا ملنگ کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔ ملنگ حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور سے دیکھنے لَگا ملنگ کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہُوتے ۔ ملنگ چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردِیں ملنگ نے گرما گَرم جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نُوش کی اور پھر ہاتھوں کو اُوپر کی جانب اُٹھا کر حَلوائی کو دُعا…

Read more

“جج صاحب بیوی کو پہچاننے سے قاصر، تاجر مسکرا رہا تھا، گواہ ثابت قدم تھے، پھر سلطان نے کتے اور کتیا کو عدالت میں بٹھایا، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے انصاف کی نئی تعریف لکھ دیشادی کے دوسرے مہینے شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا، سلطان کے سامنے پیشی پر قاضی اور تین گواہ جھوٹی گواہی دے گئے، لیکن کتے نے عدالت میں ایسا کیا کہ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ بصرہ شہر کی گلیاں اس وقت سلطان عبدالعزیز کے نام سے آشنا تھیں جب عدالتی فیصلے تلوار سے نہیں، دانائی سے ہوا کرتے تھے۔ سلطان کی عدالت میں انصاف کی ایسی دھاک تھی کہ امیر سے امیر تاجر اور غریب سے غریب مسافر دونوں برابر کھڑے نظر آتے تھے۔ مگر انصاف کی اس دیوار میں بھی شاید ایک شگاف تھا—وہ شگاف جسے رشوت کی انگلیاں بڑی خاموشی سے چوڑا کر…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللّہ سے سوال کِیا: “اے خدا.! تُو لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر مار دیتا ہے اِس میں کیا حکمت ہے؟ “حق تعالیٰ نے فرمایا: “چونکہ تیرا سوال انکار اور غفلت پر مبنی نہیں ہے اِس لیے میں دَرگُزر کرتا ہوں ورنہ سزا دیتا۔ تُو اِس لیے معلوم کر رہا ہے تاکہ عوام کو ہماری حِکمتوں سے آگاہ کر دے, ورنہ تجھے مخلوق کے پیدا کرنے میں ہماری حِکمتیں معلوم ہیں۔تیرا سوال علم کے منافی نہیں ہے۔ کسی چیز کے بارے میں سوال آدھا عِلم ہوتا ہے۔ اگرچہ تُو تو اِس سے واقف ہے لیکن تُو چاہتا ہے کہ عوام بھی آگاہ ہو جائیں۔ کسی چیز کا علم ہو جانے کے بعد ہی اُس کے بارے میں سوال جواب ہو سکتا ہے۔ عِلم ہی گُمراہی اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ نمی اور تَری ہی پھل میں شیرینی کے علاوہ تلخی بھی…

Read more

یہ ایک خوبصورت افریقی لوک کہانی ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے، ایک ایسے گاؤں میں جہاں کی سرخ مٹی پاؤں کو گرما دیتی تھی اور کھجور کے اونچے درخت ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے، وہاں کوکورو (Kòkòrò) نامی ایک خاموش طبع شکاری کتا رہتا تھا۔کوکورو زیادہ بھونکتا نہیں تھا۔ وہ خوراک کے ٹکڑوں کے لیے دوسرے کتوں سے لڑتا بھی نہیں تھا۔ جب دوسرے کتے سائے کا پیچھا کرتے اور دھول میں ایک دوسرے سے جھگڑتے، تو وہ بس خاموشی سے دیکھتا… اور یاد رکھتا۔اسی وجہ سے گاؤں کے بہت سے لوگ اسے سست اور ناسمجھ سمجھتے تھے۔نوجوان شکاری ہنستے ہوئے کہتے، “اسے دیکھو! یہ کتا گھورنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔”لیکن بوڑھی ماما سادے، جن کی آنکھوں نے زندگی کے بہت سے موسم دیکھے تھے، صرف دھیرے سے سر ہلاتیں۔ وہ کہتیں: “خاموش آنکھ بہت دور تک دیکھتی ہے۔”ایک بار خشک سالی کے موسم میں مصیبت آ…

Read more

ایک دفعہ ملانصیرالدین بازار سے جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔ ملا صاحب نے غصے سے پیچھے دیکھا،وہ شخص گھبرا کربولا۔“معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے”ملا صاحب نے کہا. “نہیں،انصاف ہو گا ۔۔۔چلو عدالت چلتے ہیں۔ “جج صاحب کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا۔جج نے اس شخص کا خوف دیکھ کر کہا :“کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دو گے یا ملاصاحب آپ کو بھی تھپڑ لگائیں؟”اس شخص نے کہا۔ “جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گالیکن ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میری بیوی کے پاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔ “جج نے کہا : “ٹھیک ہے، جلدی لے کر آؤ۔ “ ملا صاحب انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا،ملا صاحب اٹھے اور ایک زور کا “تھپڑ” جج کو مارا اور کہا :“اگر وہ زیور لاۓ تو تم لے لینا۔ “😛😛😛😄😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

480/800
NZ's Corner