Category Archives: Urdu Stories

وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…

Read more

یہ ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ جب بنی اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ بخت نصر نامی ایک ظالم بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کیا، بے شمار لوگوں کو قتل کیا، بہت سوں کو جلا وطن کیا اور ہزاروں کو قید کر لیا۔ شہر کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور وہ ویران ہو کر رہ گیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب آپ قید سے آزاد ہوئے تو ایک دن اپنے گدھے پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے۔ شہر کی بربادی اور سنسانی دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا۔ ویرانی کا یہ عالم تھا کہ درختوں پر پکے پھل موجود تھے مگر توڑنے والا کوئی نہ تھا۔ اسی…

Read more

خشک سالی کی ماری ہوئی ایک وادی میں، جانوروں نے ایک بکرے کو قحط سے بچاؤ کی امداد کا نگران مقرر کیا۔ وہ بہت محنتی نظر آتا تھا، ہمیشہ سوچ سمجھ کر جگالی کرتا اور اس نے وعدہ کیا کہ جب تک بارشیں نہیں ہوتیں، وہ خوراک کے ذخیرے کی حفاظت کرے گا۔جانوروں نے اس پر بھروسہ کیا۔ گدھے نے اناج کی بوریاں گودام تک پہنچائیں، مرغیوں نے انڈے دیے اور گایوں نے دودھ فراہم کیا۔ بکرے کی ذمہ داری تھی کہ وہ یہ سامان بھوکے جانوروں میں برابری سے تقسیم کرے۔لیکن بکرے کی اپنی بھوک مٹتی نہیں تھی۔ ہر رات وہ دبے پاؤں گودام میں جاتا، اناج کھاتا، دودھ پیتا اور انڈے ہڑپ کر جاتا۔ جلد ہی اس کا پیٹ پھول کر بڑا ہو گیا جبکہ باقی جانور دبلے ہوتے گئے۔جب جانور اپنا حصہ لینے آئے تو بکرے نے بہانے بنانا شروع کر دیے:“چوہے چرا کر لے گئے۔”“ہوا اسے…

Read more

بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بھیڑیوں کے ایک غول اور بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے درمیان دشمنی طویل ہوتی چلی گئی۔ بھیڑیے مسلسل کسی موقع کی تلاش میں تھے، لیکن بھیڑوں کی حفاظت وفادار اور بہادر رکھوالے کتے (Sheepdogs) کر رہے تھے۔ جب بھی بھیڑیے حملہ کرتے، کتے شور مچا کر سب کو خبردار کر دیتے اور ان کا راستہ روک لیتے۔ اسی وجہ سے بھیڑیوں کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے تھے۔ 🐺چنانچہ بھیڑیوں نے ایک میٹنگ کی اور اپنا ایک “سفیر” بھیڑوں کے پاس بھیجا، جس نے بڑے معصومانہ اور نرم انداز میں کہا:“پیاری بھیڑو! ہم ہر وقت اس تناؤ میں کیوں رہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اصل فسادی تو یہ رکھوالے کتے ہیں۔ یہ شور مچاتے ہیں، غصہ دکھاتے ہیں اور ہمیشہ بیچ میں مداخلت کرتے ہیں—اسی وجہ سے ہم ‘جوابی کارروائی’ پر مجبور ہو جاتے ہیں اور…

Read more

ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ عقل، فہم اور تدبر میں مشہور تھا۔اس کے دربار میں خوشامد کی اجازت نہ تھی، چاپلوسی وہاں جرم سمجھی جاتی تھی۔بادشاہ کا یقین تھا کہ خوشامدی دیمک کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک بار اقتدار کے گرد بس جائیں تو سچ، ضمیر اور حقیقت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اس کے گرد صرف وہ لوگ ہوتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔وزیر، مشیر اور اہلِ دربار جانتے تھے کہ یہاں تعریف نہیں، دلیل کام آتی ہے۔ بادشاہ کا ایک اصول تھا:اگر کوئی شخص عقل، ذمہ داری یا فہم میں غیر معمولی سمجھا جاتا، تو بادشاہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔جو اس امتحان میں پورا اترتا، اسے ریاست کا اہم عہدہ سونپ دیا جاتا، تاکہ اس کی صلاحیتیں ریاست کے کام آ سکیں۔ ایک دن بادشاہ نے وزیروں سے سوال کیا:“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو عقل…

Read more

ایک دفعہ ملا نصر الدین کو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آدمی نے کھانے کی دعوت دی۔ ملا اس وقت اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اسی پرانے اور پیوند لگے ہوئے لباس میں سیدھے دعوت پر چلے گئے۔جب وہ امیر آدمی کے دروازے پر پہنچے، تو دربان نے ان کے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور بڑی بدتمیزی سے دھکے دے کر باہر نکال دیا کہ “تم جیسے فقیروں کا یہاں کیا کام؟”ملا خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، گھر پہنچے، غسل کیا اور اپنا بہترین زرق برق ریشمی جبہ پہنا، سر پر بڑی سی پگڑی سجائی اور دوبارہ اسی محفل میں پہنچے۔ اس بار دربانوں نے انہیں جھک کر سلام کیا اور بڑی عزت کے ساتھ اندر لے گئے۔جب ملا نے کھانے کو مخاطب کیامیزبان نے ملا کو سب سے اونچی نشست پر بٹھایا اور ان کے…

Read more

ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔”یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا کہ: “جی ہاں، طلاق ہو چکی ہے اور اب ملکہ آپ کی زوجہ نہیں رہیں۔”لیکن اس مجلس میں ایک نوجوان مفتی بھی موجود تھا، جو ایک طرف خاموش بیٹھا رہا۔ بادشاہ نے…

Read more

مکّہ کی پرانی گلیوں میں، جہاں صحرائی ریت عہدِ جاہلیت کے قصّے سنایا کرتی تھی، ایک شخص رہتا تھا جس کا نام عبد اللہ بن جدعان تھا۔ وہ بنو تیم کا سردار اور ابو بکر صدیق کے والد کا چچازاد تھا۔ عبد اللہ اپنی زندگی کے آغاز میں ایک نہایت غریب اور بے سہارا آدمی تھا۔ وہ بدحالی، برائیوں اور جرائم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، یہاں تک کہ اس کی قوم اور قبیلہ اس سے متنفر ہوگئے؛ بلکہ اس کے اپنے باپ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔ عبد اللہ تنہا، بھٹکتا ہوا، مایوسی سے بوجھل دل کے ساتھ مکّہ کی گھاٹیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ ایک دن جب وہ مکّہ کے گرد و نواح کے پہاڑوں میں چل رہا تھا تو اسے ایک پہاڑ میں ایک پراسرار دراڑ نظر آئی۔ تجسس کے باعث—یا شاید اپنی تکلیفوں کے خاتمے کی خواہش میں—وہ اس کے قریب گیا۔ اچانک…

Read more

سلطان سارنگ خان گکھڑ کے بعد، اب باری ہے پنجاب کے اس “باغی” ہیرو کی جس کا نام پنجاب کے لوک گیتوں، واروں اور داستانوں کا لازمی حصہ ہے پنجاب کے سورمے سیریز کی پانچویں قسط کے لیے سب سے موزوں اور مقبول ترین شخصیت دُلاَ بھٹی ہیں عبداللہ بھٹی پنجاب کا وہ رابن ہڈ ہے جس نے شہنشاہِ وقت کو للکارا اور اگر سارنگ خان نے شیر شاہ سوری کی مخالفت کی تھی، تو دُلا بھٹی نے مغل سلطنت کے سب سے طاقتور دور (شہنشاہ اکبر کے عہد) میں بغاوت کا علم بلند کیا دُلا بھٹی حقیقتاً عوامی ہیرو تھا  سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ کسانوں اور مظلوموں کا مسیحا بھی تھا مغل شہنشاہ اکبر کے لگائے گئے نئے زرعی ٹیکسوں کے خلاف اس کی مزاحمت نے تختِ اکبر کو ہلا کر رکھ دیا تھا آج بھی پنجاب میں “لوہڑی” کا تہوار…

Read more

ایک جعلی پیر صاحب کا معمول تھا کہ وہ صرف جمعرات کے دن اپنے مریدوں یا دیگر حاجت مندوں کو تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ جب فاؤنٹین پین نئے نئے ایجاد ہوئے تو پیر صاحب نے اسے بھی اپنی جملہ کرامات میں شامل کر لیا۔ وہ اس طرح کہ جمعرات کو وہ اپنے قلمدان کی روشنائی پھنکوا کر خالی دوات اپنے سامنے رکھ لیتے تھے۔ البتہ فاؤنٹین پین کو سیاہی سے بھر کر قلمد ان میں سجا لیتے تھے۔ غرض مند لوگ دور دور سے پاپیادہ تعویذ لینے آتے تھے۔ پیر صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کر کے اپنی حاجت بیان کرتے تھے۔ پیر صاحب تعویذ لکھنے کے لیے فاؤنٹین چین کو دوات میں ڈبوتے تھے۔ اسے خالی پا کر قلم واپس رکھ دیتے تھے اور سرد آہ بھر کر افسوس کرتے تھے۔ ”او ہو آج تو سیاہی ختم ہے۔ خیر اگلی جمعرات کو آنا۔ تعویذ لکھ دوں…

Read more

ایک دن کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر تنہا صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک انسان پر پڑی جو ریت میں دھنسا ہوا تھا۔ سردار فوراً گھوڑا روکا، نیچے اترا اور اس شخص سے ریت ہٹائی۔ وہ بے ہوش تھا، مگر جب سردار نے اسے ہلایا، تو وہ نیم ہوش میں بولا: “میری پیاس اتنی شدید ہے کہ میری زبان اور حلق خشک چمڑے کی طرح اکڑ چکے ہیں۔ اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔” سردار نے جلدی سے اپنی زین سے لٹکی ہوئی چھاگل نکالی اور اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھائی۔ اجنبی نے سیر ہو کر پانی پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “اے مہربان انسان، میرا گھوڑا کہیں بھاگ گیا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی قریبی جگہ لے جا سکتے ہیں تاکہ میں اپنی سواری کا بندوبست کر سکوں؟” سردار نے خوش دلی…

Read more

وہ رات جب حجاج بن یوسف نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تو پہلی بار آنکھوں سے آنسو نہیں، ہنسی نکل رہی تھی۔ کوفہ کی راتیں گرم تھیں۔ فرات کی نمی فضا میں پھیلی ہوئی تھی، اور حجاج بن یوسف اپنے محل کی چھت پر کھڑے دریائے فرات کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی عمر اب ساٹھ کے قریب تھی۔ داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، لیکن آنکھوں میں وہی تیزی تھی، وہی چمک جو لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دیتی تھی۔ آج وہ عجیب بے چین تھے۔ ان کے سامنے فرات کا پانی بہہ رہا تھا، اور اس پانی میں انہیں ابن اشعث کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو سولی پر بھی مسکراتا رہا تھا۔ وہ آنکھیں جو موت کے وقت بھی نہیں جھکی تھیں۔ حجاج نے آہ بھری۔ پھر پیچھے مڑے تو شبیب بن عامر کھڑے تھے۔ شبیب نے کہا: “حجاج، تم پریشان ہو؟”…

Read more

ایک صحابیِ رسول رضیَ اللہُ عنہ ایک رات قرآنِ پاک کی تلاوت کررہے تھے۔قریب ہی گھوڑا بندھا ہوا تھا اورگھوڑے کے قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ سورہا تھا۔ قراءت جاری تھی کہ اچانک گھوڑا بِدکنے لگا صحابیِ رسول نے پڑھنابند کیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر کُودنے لگا ، دوبارہ چپ ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا تیسری مرتبہ پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اُچھلنےلگا، کہیں گھوڑا بچے کو کُچَل نہ دے اس لئے بچے کے قریب آکر اسے اٹھایاتو نظر آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھا کہ سائبان کی مانند کوئی چیز ہےجس میں بہت سے چراغ روشن ہیں۔ پھر صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تمہاری قراءت (سننے) کی وجہ سے قریب آگئی تھی…

Read more

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…

Read more

ایک دن ملا نصر الدین اپنے گھر کے باہر دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کا ایک پڑوسی ہانپتا کانپتا آیا اور کہنے لگا:“ملا صاحب! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ آج کے لیے اپنا گدھا مجھے ادھار دے دیں، مجھے شہر سے کچھ ضروری سامان لانا ہے۔”ملا نصر الدین کا اس دن گدھا دینے کا بالکل موڈ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:“بھائی، میں تو خوشی سے دے دیتا لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں، میرا بیٹا اسے لے کر دوسرے گاؤں گیا ہوا ہے۔”پول کھل گیاابھی ملا کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ گھر کے پچھواڑے سے گدھے کے زور زور سے ہینگنے (ریں ریں) کی آواز آنے لگی۔ پڑوسی حیرت سے ملا کی طرف دیکھنے لگا اور بولا:“ملا صاحب! آپ تو کہہ رہے تھے کہ گدھا گھر پر نہیں ہے، لیکن یہ آواز تو صاف بتا رہی ہے کہ گدھا اندر…

Read more

  کچھ لوگ آپ کو اپنی جان بچانے کا موقع دیں گے… اور پھر پلٹ کر آپ ہی کو سبق سکھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک دن ایک شیر جلدی جلدی اپنا کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی۔ وہ گھبرا گیا، سانس لینا مشکل ہو گیا اور دھاڑا:“جو بھی اس ہڈی کو نکالنے میں میری مدد کرے گا، میں اسے بہت بڑا انعام دوں گا!” اسی دوران ایک بگلا آگے بڑھا۔ نہ کوئی ڈرامہ کیا، نہ تقریر۔اپنی لمبی چونچ سے اس نے احتیاط کے ساتھ شیر کے حلق میں ہاتھ ڈالا اور سکون سے ہڈی باہر نکال دی۔ شیر دوبارہ سانس لینے کے قابل ہو گیا۔بگلے نے انعام کا تقاضا کیا جس کا وعدہ ہوا تھا۔شیر مسکرا کر بولا:“تم نے خطرے کے اتنے قریب آ کر اپنا کام کیا اور صحیح سلامت واپس چلے گئے۔کیا یہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا انعام…

Read more

بہت عرصہ پہلے، ایک چھوٹا لڑکا اپنے دوست سے بہت ناراض تھا کیونکہ اس نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ وہ اپنے دادا کے پاس گیا، جو اپنے سکون اور دانائی کے لیے مشہور تھے۔ لڑکے نے کہا،“دادا جان، میرے اندر ایک جنگ چل رہی ہے۔ میرا ایک حصہ مہربان بننا چاہتا ہے، لیکن دوسرا حصہ بدلہ لینے اور لڑائی کرنے پر تلا ہوا ہے۔” دادا نے دھیرے سے سر ہلایا اور کہا،“میں سمجھ سکتا ہوں۔ ہر انسان کے دل میں یہی جنگ چلتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے ہمارے اندر دو بھیڑیے رہتے ہوں۔” انہوں نے وضاحت کی: ایک بھیڑیا برا ہے، وہ غصے، حسد، لالچ اور جھوٹ سے بھرا ہوتا ہے۔ دوسرا بھیڑیا نیک ہے، وہ خوشی، امن، محبت اور ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے۔ لڑکے نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر پوچھا،“لیکن دادا جان، جیت کس بھیڑیے کی ہوتی ہے؟” بوڑھے شخص نے مسکرا…

Read more

ایک بادشاہ کے دور میں ایک شخص نے اپنی دیوار کے نیچے خزانہ چھپا ہوا پایا۔جب بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے بلا کر کہا:“میں نے سنا ہے کہ تمہیں خزانہ ملا ہے! مجھے کیوں نہ بتایا؟”اس شخص نے جواب دیا:“یہ مکان اور اس کا مال میری ملکیت اور میراث ہے، اور آپ عادل ہیں، زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔”بادشاہ نے کہا:“اچھا، اسے ہمارے سامنے لے آؤ، دیکھیں کس قدر ہے۔”وہ شخص تھوڑا سا خزانہ لے آیا، بادشاہ نے دیکھا اور اسے بخش دیا۔کچھ درباریوں نے کہا:“حضور، یہ تو اس کا چند حصہ بھی نہیں لایا، باقی سب چھپا رکھا ہے!”بادشاہ نے فرمایا:“خاموش رہو! مال اس کا ہے، چاہے چھپائے یا ظاہر کرے۔”اسی بادشاہ کے دور میں ایک اور شخص نے حویلی خریدی، اور مرمت کے دوران وہاں خزانہ ملا۔اس نے اسے مالکِ حویلی کے پاس واپس کرنے کی کوشش کی، لیکن مالک نے کہا:“میں نے حویلی بیچی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی:…

Read more

460/800
NZ's Corner