Category Archives: Urdu Stories

‏کسی جنگل میں ایک “خرگوش” کے لئے اسامی نکلی۔  عرصے سے بے روزگار ایک ریچھ  ہر جگہ عرضی بھیجتا رہتا تھا،  اُس نے اِس اسامی کیلئے بھی درخواست جمع کرا دی۔ ‏اتفاق سے  کسی خرگوش نے  درخواست نہیں دی  تو اسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دیدی گئی۔ ‏ ایک دن ریچھ کو پتہ چلا  کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش  ریچھ بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس  زیادتی کا ذکر کیا، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ…

Read more

جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”ملا نے حیرت سے پوچھا،“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد…

Read more

غلہ منڈی کے چند آڑھتیوں نے حج کا ارادە کیا۔ سفر طویل اور دشوار تھا لہٰذاطے ہوا کہ ایک خدمتگار کو بھی ہمراە لے لیا جائے۔ سامنے کھڑی گاڑی سے پانڈی اناج کی بوریاں اتار کر گودام میں پہنچا رہے تھے۔ ان میں دین محمد بھی تھاجو ادھیڑ عمر باریش اور جفا کش تھا۔ نظر انتخاب اس پر پڑی۔اسے بلا کر دریافت کیا کہ آیا وە حج کے لئے ان کے ساتھ جانے کو تیار تھا۔اس غیر متوقع پیشکش پر پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا پھر بولا کہ وە حج کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ آڑھتیوں نے کہا کہ تھوڑا بہت انتظام وە کر لے باقی رقم سب حضرات مل کر ادا کر دیں گے۔یوں دین محمد کا بلاوە آ گیا۔قصہ مختصر کہ ان لوگوں کا قافلہ حجاز مقدس پہنچ گیا۔ دین محمد سیدھا سادھا اور صاف دل آدمی تھا۔ سارا دن ہمراہیوں کی خدمت…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس کے فیصلوں کے چرچے دور دراز ریاستوں تک پھیلے ہوئے تھے۔کہا جاتا تھا کہ وہ جو فیصلہ کرتا، وقت خود اس کی گواہی دیتا۔نہ کوئی فیصلہ پلٹتا، نہ کسی فیصلے پر پچھتاوا ہوتا۔ قریب ہی ایک اور ریاست تھی۔وہاں کا بادشاہ اختیارات میں کسی سے کم نہ تھا، مگر اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے فیصلے اکثر الٹ پڑتے تھے۔حکم جاری ہوتے، مگر نتیجہ بغاوت نکلتا۔اصلاح کی نیت ہوتی، مگر نقصان ہو جاتا۔ ایک دن اس بادشاہ نے اپنے بیٹے، شہزادے، کو بلا کر کہا:“جا کر اس بادشاہ کے دربار میں رہو۔دیکھو، سیکھو، سمجھو۔آخر وہ کون سا عمل ہے جو اس کے فیصلوں کو درست بنا دیتا ہے، اور مجھے ہر بار غلطی کی طرف لے جاتا ہے؟” شہزادہ روانہ ہوا۔ جب وہ اس مشہور بادشاہ کے دربار میں پہنچا تو منظر اس کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔دربار لگی ہوئی تھی، مگر وہاں…

Read more

ستمبر 1991 میں، آسٹریا اور اٹلی کی سرحد کے قریب اؤٹزتال الپس میں ہائیکرز نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔گلیشیئر سے ایک انسان کی لاش آدھی باہر نکلی ہوئی تھی۔ جلد سیاہی مائل، کپڑے بوسیدہ، اور ایک بازو آگے کو بڑھا ہوا — جیسے وہ آخری لمحوں میں زندگی کی ڈور تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ابتدا میں سب نے یہی سمجھا کہ یہ کسی جدید دور کا پہاڑی حادثہ ہے۔لیکن جلد ہی اندازہ ہوا کہ یہ اندازہ پورے 5,300 سال غلط تھا۔ لاش کے قریب موجود اوزار فولاد کے نہیں تھے۔کپڑے کسی جدید کپڑے سے نہیں بنے تھے۔اور ایک کلہاڑی — جو تقریباً خالص تانبے کی بنی تھی — ایسی دنیا کی گواہی دے رہی تھی جو تحریر سے بھی پہلے کی تھی۔ اس شخص کو بعد میں “اؤٹزی” (Ötzi) کا نام دیا گیا، اؤٹزتال پہاڑوں کے نام پر جہاں وہ ملا تھا۔ جب کاربن ڈیٹنگ کی گئی…

Read more

ستمبر 1991 میں، آسٹریا اور اٹلی کی سرحد کے قریب اؤٹزتال الپس میں ہائیکرز نے ایک حیران کن منظر دیکھا۔گلیشیئر سے ایک انسان کی لاش آدھی باہر نکلی ہوئی تھی۔ جلد سیاہی مائل، کپڑے بوسیدہ، اور ایک بازو آگے کو بڑھا ہوا — جیسے وہ آخری لمحوں میں زندگی کی ڈور تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ابتدا میں سب نے یہی سمجھا کہ یہ کسی جدید دور کا پہاڑی حادثہ ہے۔لیکن جلد ہی اندازہ ہوا کہ یہ اندازہ پورے 5,300 سال غلط تھا۔ لاش کے قریب موجود اوزار فولاد کے نہیں تھے۔کپڑے کسی جدید کپڑے سے نہیں بنے تھے۔اور ایک کلہاڑی — جو تقریباً خالص تانبے کی بنی تھی — ایسی دنیا کی گواہی دے رہی تھی جو تحریر سے بھی پہلے کی تھی۔ اس شخص کو بعد میں “اؤٹزی” (Ötzi) کا نام دیا گیا، اؤٹزتال پہاڑوں کے نام پر جہاں وہ ملا تھا۔ جب کاربن ڈیٹنگ کی گئی…

Read more

قرونِ وسطیٰ کے جرمنی میں، جہاں قانون اور انصاف کے فیصلے اکثر انسانی طاقت اور قسمت پر چھوڑ دیے جاتے تھے، ایک ایسی روایت موجود تھی جو آج کے انسان کے لیے ناقابلِ یقین لگتی ہے۔ یہ روایت تھی ازدواجی جنگ — ایک ایسا مقابلہ جس میں شوہر اور بیوی اپنے تنازع کا فیصلہ عدالت کے بجائے میدانِ جنگ میں کرتے تھے۔ اس رسم کو جرمن زبان میں Trial by Combat کہا جاتا تھا، اور یہ صرف دشمنوں کے درمیان نہیں، بلکہ میاں بیوی کے درمیان بھی استعمال ہوتی یہ کوئی عام لڑائی نہیں ہوتی تھی۔اس کے اصول عجیب بھی تھے اور خوفناک بھی۔ شوہر کو ایک گہرے گڑھے میں کھڑا کیا جاتا تھا، اتنا گہرا کہ وہ باہر نہ نکل سکے۔ اس کا ایک ہاتھ اس کی پشت کے پیچھے باندھ دیا جاتا تھا، تاکہ وہ مکمل طاقت استعمال نہ کر سکے۔ دوسری طرف، بیوی میدان میں آزاد کھڑی…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

آج ایک دودھ والا ملا۔۔۔ کہنے لگا، “میں رزقِ حلال میں خوش ہوں۔”میں نے پوچھا، “کیسے؟ میں نے تو دیکھا ہے کہ اکثر دودھ والے روتے دھوتے رہتے ہیں، ریٹ صحیح نہیں ملتا، لوگ پیسے روک لیتے ہیں۔” وہ ہنس کر بولا، “بھائی، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے خالص دودھ ملے، ہم پیچھے سے بھی خالص ہی دودھ لیتے ہیں، ہمیں پتہ ہوتا ہے کون ہیرا پھیری کر رہا ہے۔” “ہمارے محلے میں کئی دودھ والے ہیں جو شہر کو دودھ دیتے ہیں، ان کے گھر دیکھ لیں، پلاٹ دیکھ لیں، لیکن جب وہ ملتے ہیں تو روتے دھوتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ دودھ سے کریم نکلوائیں گے یا پانی ملا کر خالص دودھ کو نا خالص کریں گے، تو برکت کہاں سے آئے گی؟” “پیسے کی فراوانی تو ہو سکتی ہے، لیکن جو زندگی میں برکت ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ میں…

Read more

جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے.. بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھّے سے خیال رکھا حَتّیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا.. ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے.. شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہےکیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے.. گدھوں نے فورًا اس گدھے کو اپنا *سردار* مان لیا اور شیروں کی حمایت حاصل…

Read more

اک پیر صاحب اپنے ایک مرید کے گھر سے بکرے کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے۔ سامنے والے گھر سے ایک دوسرا مرید آیا کہنے لگا: پیر صاحب کبھی ہمیں بھی شرف میزبانی بخشیں ، ہماری دال روٹی بھی کھا لیا کریں ۔ پیر صاحب نے بکرے کا سالن چھوڑا اور اس امید پر دوسرے مرید کے ساتھ ہو لیۓ شاید وہاں کوئی اس سے بھی اچھا بھنا ہوا گوشت یا روسٹ ہو ۔۔ پیر صاب مرید کے گھر پہنچے تو مرید نے سچ مچ دال روٹی آگے رکھ دی ۔ اب دال میں نا نمک مرچ ٹھیک نا ہی گھی پورا ڈالا ہوا۔ پیر صاحب کافی پہلے مرید کے بکرے والا سالن چھوٹنے پر بہت بدمزہ ہوئے اور مرید سے پوچھنے لگے : کاکا تم نے سن رکھا ہو گا جھوٹے پر خدا کی لعنت ۔ مرید نے کہا: جی سرکار سن رکھا ہے۔پیر صاحب بولے: پتر تیرے ورگے…

Read more

ایک بار جحا اپنے بیٹے کے ساتھ بازار جا رہا تھا۔ جحا اپنے گدھے پر سوار تھا اور اس کا بیٹا ساتھ ساتھ پیدل چل رہا تھا۔راستے میں کچھ لوگوں نے انہیں دیکھ کر کہا: “دیکھو تو سہی! کتنا بے رحم باپ ہے، خود آرام سے سوار ہے اور ننھا بچہ پیدل چل رہا ہے۔”جحا کو یہ سن کر تھوڑی شرمندگی ہوئی، وہ نیچے اترا اور بیٹے کو گدھے پر بٹھا دیا اور خود پیدل چلنے لگا۔ تھوڑی دور چلے تو کچھ بوڑھوں نے دیکھ کر تبصرہ کیا: “آج کل کے بچے کتنے گستاخ ہو گئے ہیں! بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے اور تندرست بیٹا اوپر بیٹھا عیش کر رہا ہے۔”یہ سن کر جحا نے سوچا کہ شاید دونوں کا سوار ہونا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ وہ بھی بیٹے کے پیچھے گدھے پر بیٹھ گیا۔ اب دونوں گدھے پر سوار تھے۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے سالے کی سفارش پر ایک آدمی کو محکمۂ موسمیات کا سربراہ بنا دیا۔ دربار میں سب سمجھ گئے کہ قابلیت سے زیادہ سفارش کام آئی ہے، مگر کسی میں ہمت نہ تھی کہ کچھ کہہ سکے۔ 😏 ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے نکلا۔ حسبِ عادت اُس نے نئے وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے پورے اعتماد سے سینہ تان کر عرض کیا:“حضور! آج موسم نہایت خوشگوار ہے، بارش کا کوئی خدشہ نہیں۔” بادشاہ مطمئن ہو کر لشکر سمیت روانہ ہو گیا۔ راستے میں ایک کمہار ملا۔ اُس نے ادب سے جھک کر کہا:“جہاں پناہ! میرا خیال ہے کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو جائے گی، بہتر ہے آج شکار ملتوی کر دیں۔” بادشاہ نے اسے معمولی آدمی سمجھ کر ڈانٹا۔ غصے میں آ کر دو جوتے بھی رسید کر دیے اور بولا، “ہمیں اپنے وزیر پر زیادہ بھروسہ ہے!” مگر ابھی…

Read more

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…

Read more

جب طوفان حد سے بڑھ جائے، تو تجربہ ہی کام آتا ہے۔ یان نے پیٹر کو تو بچا لیا، مگر خود سمندر کی ایک ابدی کہانی بن گیا۔ ⚓️✨ضرور پڑھیں ہالینڈ کے پس منظر میں لکھی گئی یہ دل چھو لینے والی تحریر۔ ہالینڈ کے ایک دور افتادہ ساحلی گاؤں میں، جہاں ہوا کے دوش پر چلتی پرانی چکیاں آج بھی وقت کا پہیہ تھامے ہوئے محسوس ہوتی تھیں، “یان” نامی ایک معمر ملاح اپنی زندگی کی شامیں گزار رہا تھا۔ اس کے چہرے کی گہری لکیریں شمالی سمندر کی تند و تیز لہروں اور نمکین ہواؤں کے ساتھ عشروں کی رفاقت کا پتہ دیتی تھیں۔ یان کے پاس ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی تھی جس کا نام اس نے ‘ایلسا’ رکھا تھا۔ گاؤں کے نوجوان ملاح اب جدید انجنوں اور مشینی جالوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑتے تھے اور اکثر یان کی پرانی کشتی دیکھ کر مسکراتے، لیکن…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک انگریز، ایک ہندو اور ایک مسلمان چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ معاملہ چونکہ شاہی دربار کا تھا، اس لیے بادشاہ سلامت نے فیصلہ کیا کہ مثال قائم کی جائے۔ وزیروں کو حکم ملا کہ تینوں کو میدان میں لایا جائے اور شہر کے سب لوگوں کو بھی بلایا جائے تاکہ سب دیکھ لیں کہ دربار میں چوری کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔اعلان ہوا:“تینوں کو ڈیڑھ سو ڈیڑھ سو کوڑے مارے جائیں گے، اور سزا سے پہلے ہر ایک کی ایک خواہش بھی پوری کی جائے گی!” سب سے پہلے انگریز کو بلایا گیا۔ جلاد نے کوڑے سنبھالے تو بادشاہ نے پوچھا:“تمہاری خواہش؟”انگریز فوراً بولا:“میرے جسم پر نرم روئی باندھ دی جائے۔”بادشاہ نے اجازت دی۔ روئی باندھی گئی، کوڑے پڑے… مگر پھر بھی انگریز چیخنے چلانے لگا۔ اب باری آئی ہندو کی۔ اس نے انگریز کا حال دیکھ رکھا تھا، فوراً بولا:“میرے اوپر ڈبل…

Read more

عربی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے بدنام تھے۔ اسی بستی کے ایک مرد اور عورت نے خفیہ طور پر، مگر شرعی تقاضوں کے مطابق قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا۔کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی۔ شوہر نے نہ صرف بیوی کو گھر سے نکال دیا، بلکہ اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ خاتون انصاف کے لیے شہر کے قاضی کی عدالت میں پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔قاضی نے کہا: “تمہارے اس نکاح کی تو کسی کو خبر ہی نہیں۔”خاتون نے اصرار کیا: “جناب! ہمارا نکاح عین شریعت کے مطابق ہوا تھا۔”قاضی نے پوچھا: “کیا کوئی گواہ ہے؟”خاتون نے جواب دیا: “جی قاضی صاحب! دو گواہ تھے، جن کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا گیا تھا۔”قاضی نے شوہر اور گواہوں کو طلب کر لیا، مگر انہوں نے بھری عدالت…

Read more

پنجاب کے ایک مشہور تاجر کی آخری وصیت تھی کہ اس کی قبر صرف رات کے وقت بنائی جائے۔ قبر تیار ہوئی تو قبر کنے سے ایک عجیب آواز آئی، جس نے سارے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ واقعہ فیصل آباد شہر کے نواحی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع “غازی آباد” نامی چھوٹے سے قصبے کا ہے۔ غازی آباد اپنی کپڑے کی ملیں اور دیہاتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس قصبے کے دل میں آباد تھے حاجی اللہ وسایا۔ حاجی صاحب کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ان کا شمار ضلع بھر کے بڑے کپڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ان کی “اللہ وسایا ٹیکسٹائلز” کی دکان اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک ہی بار میں بیس گاہک آسانی سے کپڑے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن حاجی صاحب کی شہرت ان کی دولت سے نہیں، بلکہ ان کی بے پناہ سخاوت اور عجیب و غریب عادات سے تھی۔حاجی صاحب…

Read more

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ، اسے توحید کی دعوت دو اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرو، تو وہ بے خوف ہو کر فرعون کے دربار میں پہنچے۔ حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:“میں رب العالمین کا رسول ہوں، بنی اسرائیل کو میرے ساتھ آزاد کر دو۔” فرعون نے غرور سے کہا:“تمہارا رب کون ہے؟ اور تم اپنی سچائی کی کیا نشانی لائے ہو؟” اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰؑ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، اور وہ ایک زندہ اور خوفناک سانپ بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو وہ روشن اور چمکتا ہوا سفید تھا۔ مگر تکبر میں ڈوبا ہوا فرعون ان واضح معجزات کو بھی جادو کہہ کر ٹال گیا۔ اس نے پورے مصر سے بڑے بڑے جادوگر جمع کر لیے۔ ایک عظیم تہوار کے دن، جب ہزاروں لوگ میدان میں جمع تھے، مقابلہ…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایاشام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان نے…

Read more

440/800
NZ's Corner