Category Archives: Urdu Stories

ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔” سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔ سٹائل مارتے ہوئے بولے:“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!” سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔ ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔ سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔ کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ…

Read more

ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…

Read more

شہر کے پرانے حصے میں ایک وسیع قبرستان تھا۔ دن میں وہاں فاتحہ پڑھنے والے آتے، مگر رات کو سناٹا اتر آتا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشی پیدا کرتی۔ اسی قبرستان میں ایک رات ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر لوگ کانپ اٹھے۔کہتے ہیں ایک شخص، جس کا نام فرید تھا، اپنی خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔ اس کے دل میں نہ خوفِ خدا رہا تھا نہ حیا کی رمق۔ شیطان نے اسے اس حد تک بہکایا کہ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان پہنچا اور ایک تازہ قبر کے قریب ایسا گناہ کیا جسے زبان بیان کرتے ہوئے بھی شرمائے۔رات گزر گئی، مگر زمین و آسمان اس گناہ کے گواہ بن گئے۔اُسی شہر کا بادشاہ نہایت نیک سیرت تھا۔ عدل و انصاف اس کی پہچان تھا۔ اسی رات اسے خواب آیا کہ ایک سفید پوش بزرگ اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ چہرہ نور…

Read more

ہلاکو خان شہر سے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بغداد کا دھواں اٹھ رہا تھا، اور وہ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر تھا، غرور تھا، اور اس غرور میں وہ اندھا تھا جو صرف طاقت کو دیکھتا ہے، حکمت کو نہیں۔ اس نے شہر میں پیغام بھیجا: “شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔ اگر نہ آیا، تو کل صبح جو زندہ بچے گا، وہ اپنی موت کو دعائیں دے گا۔” شہر میں خاموشی تھی۔ کوئی عالم آگے نہیں آ رہا تھا۔ کیوں آتا؟ جو آج تک علم کی روشنی بانٹتا رہا، وہ اب اس آگ کے سامنے کیسے جائے جو روشنی کو بجھا دیتی ہے؟ جو آج تک لوگوں کو عزت کا سبق پڑھاتا رہا، وہ اب اس بےعزتی کے سامنے کیسے جائے جو انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتی ہے؟ مگر…

Read more

بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے، ایک طاقتور بادشاہ رہتا تھا جسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہے۔ اس کے پاس ہزاروں کتابیں اور سینکڑوں استاد تھے۔ لیکن اتنی معلومات کے باوجود، وہ زندگی کے بارے میں الجھن کا شکار رہتا تھا۔اس نے صحرا میں رہنے والی ایک دانشمند عورت کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ بادشاہ نے کہا، “میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو جاننا ممکن ہے، پھر بھی میں خود کو دانشمند کیوں محسوس نہیں کرتا؟”اس عورت نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، اس نے چائے کی کیتلی اٹھائی اور بادشاہ کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ پیالہ بھر جانے کے بعد بھی وہ چائے ڈالتی رہی۔ چائے پیالے سے چھلک کر میز اور بادشاہ کے کپڑوں پر گرنے لگی۔بادشاہ چلایا، “رک جائیں! کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پیالہ بھر…

Read more

ایک عظیم الشان بادشاہ کے محل میں ایک قابلِ اعتماد ساقی رہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری سادہ مگر بہت اہم تھی: بادشاہ کے لیے جام بھرنا اور شراب کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا۔ ہر جشن، ہر معاہدہ اور ہر تقریب اسی کے ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ شروع میں وہ بہت وفادار تھا۔ مے خالص اور بھرپور ہوتی تھی، اور بادشاہ کے مہمان اس کی طاقت اور مٹھاس کی تعریف کرتے تھے۔مگر لالچ ایک خاموش سرگوشی ہے۔ایک رات ساقی نے مٹکوں کی طرف دیکھا اور سوچا، “اگر میں اس میں تھوڑا سا پانی ملا دوں تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ میں فالتو شراب بیچ کر امیر ہو سکتا ہوں۔” اس نے بڑی احتیاط سے شاہی مشروب میں پانی ملا دیا۔ رنگ گہرا ہی رہا، خوشبو اب بھی میٹھی تھی۔ وہ اپنی اس “ہوشیاری” پر مسکرایا۔اگلی ضیافت میں اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ اور پھر بار بار۔ہر ملاوٹ…

Read more

چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”سائیں بخش کی…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے۔ وہ مکڑا جس نے رازوں کے ذریعے حکومت کیایک وسیع و عریض جنگل کے بیچوں بیچ “اروکُو” کا ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی شاخوں میں زارتھ نامی ایک مکڑا رہتا تھا۔ وہ قد میں چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں پورے جنگل پر حکومت کرنے کی خواہش تھی۔زارتھ کے پاس نہ تو شیر جیسی طاقت تھی اور نہ ہی ہرن جیسی رفتار۔ اس کے پاس نہ مینڈھے جیسے سینگ تھے اور نہ عقاب جیسے تیز ناخن۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا— راز۔ہر رات، وہ ان شاخوں کے درمیان بڑی احتیاط سے جالا بنتا جہاں دوسرے اسے صاف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے دھاگے باریک اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن وہ بہت مضبوط تھے۔ زارتھ بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے بندر کو کچھوے کی شکایت کرتے سنا، اس نے…

Read more

حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن   خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو دوستی کے اصل مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ دو پڑوسی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ہی گلی میں ایک نانبائی (روٹی بنانے والا) اور ایک درزی رہتے تھے۔ وہ آپس میں کافی دوستانہ تھے اور ہر صبح ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا کرتے تھے۔ایک دن درزی سنجیدہ چہرہ لیے نانبائی کی دکان پر آیا اور کہنے لگا: “آج میں بازار میں تھا، وہاں ایک آدمی چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری روٹی سڑی ہوئی ہوتی ہے اور تم گندا آٹا استعمال کرتے ہو۔ اس نے سب کو بتایا کہ تم دھوکے باز ہو! وہ تمہارا دشمن ہے!”نانبائی یہ سن کر اداس ہو گیا اور بولا: “میں سمجھ گیا، وہ میرا دشمن ہے۔”اگلے دن درزی پھر آیا اور کہنے لگا: “آج میں پارک میں تھا، وہاں ایک اور شخص سب کو بتا رہا تھا کہ تم…

Read more

یہ ایک پرانے شہر کی بات ہے جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر دل کشادہ۔ ایک مسلمان شخص رہتا تھا جس کی سب سے نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد محبت اور یقین سے کہتا:“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔”وہ یہ جملہ دکھاوے کے لیے نہیں کہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی اور دل میں کامل یقین ہوتا تھا۔ وہ دکان پر ہو، گھر میں ہو یا راستے میں چل رہا ہو — زبان پر درودِ پاک جاری رہتا۔اسی کے ساتھ والی دیوار کے پار ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ وہ ذہین تھا مگر دل میں حسد کی آگ رکھتا تھا۔ اسے اپنے مسلمان پڑوسی کی یہ باتیں کھٹکتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ شخص لوگوں کو سادہ لوح بنا رہا ہے۔ایک دن اس نے دل میں سوچا:“میں اس کے یقین کو…

Read more

تصور کریں: آپ کی عمر چھبیس سال ہے۔ صرف چند دن پہلے آپ نے اپنے شوہر کو اپنے شہر کا دفاع کرتے ہوئے مرتے دیکھا۔ اب آپ اپنے جلے ہوئے گھر کی راکھ میں کھڑی ہیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائے، خود کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ مسلح آدمی بچ جانے والوں کے درمیان گھوم رہے ہیں ایک سپاہی آپ کے سامنے رک کر آپ کی عمر پوچھتا ہے۔ وہ آپ کے بچوں کو دیکھتا ہے۔ وہ تختی پر کچھ نشان لگاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ آپ کو ابھی معلوم نہیں کہ اس نشان کا کیا مطلب ہے—لیکن جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ اسی رات آپ کے بچوں کو آپ سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ آپ کا سب سے چھوٹا بچہ آپ کا نام پکارتا ہے جب اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہوتا ہے۔ آپ اسے پکڑنے کی…

Read more

پپو میاں کی بارات روانہ ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ اچانک گھر میں کہرام مچ گیا۔ پتہ چلا کہ پپو کا وہ شاہی سہرا جو خاص طور پر آرڈر دے کر بنوایا گیا تھا وہ بشیر صاحب کی پالتو بکری چبا گئی ہے۔ بشیر صاحب غصے میں بکری کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور پپو کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ بغیر سہرے کے وہ دولہا کم اور ویٹر زیادہ لگ رہا تھا۔وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا اور بینڈ والے دروازے پر دھمال ڈال رہے تھے۔ بشیر صاحب نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور پپو کے چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے بازار سے نیا سہرا لاؤ۔ مگر افسوس کہ اس دن شہر میں ہڑتال تھی اور تمام دکانیں بند تھیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پپو کا ماتھا اتنا چوڑا تھا کہ بغیر سہرے کے وہ کسی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر…

Read more

تاریخ اور داستانوں میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف بہادری نہیں بلکہ زندگی کا گہرا سبق بھی سکھا جاتے ہیں۔ رستم پہلوان کی موت بھی انہی میں سے ایک ہے۔ رستم، جو میدانِ جنگ کا بے مثال سورما تھا، جس کے نام سے دشمن کانپتے تھے، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں گرا… بلکہ اپنوں کے دھوکے کا شکار ہوا۔ اس کا سوتیلا بھائی شغاد، جو دل میں حسد اور کینہ چھپائے بیٹھا تھا، اس کی عظمت اور شہرت برداشت نہ کر سکا۔ اس نے دشمنوں سے ساز باز کر کے ایک مکروہ منصوبہ بنایا۔ شکار کے بہانے ایک ایسی جگہ گڑھے کھدوائے گئے جن میں نوکیلے نیزے گاڑ دیے گئے تھے اور اوپر سے زمین ہموار کر دی گئی تھی۔ رستم اپنے وفادار گھوڑے رخش کے ساتھ بے خبری میں اس جال میں جا گرا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کی بہادری متاثر نہ ہوئی…

Read more

*ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک بادشاہ کی انگلی کٹ گئی۔وزیر نے کہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”بادشاہ بہت غصے میں آ گیا اور وزیر کو جیل میں ڈال دیا۔لیکن وزیر پھر بھی کہتا رہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”چند دن بعد، بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں گیا،جہاں ایسے لوگ رہتے تھے جو سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے۔جب بادشاہ کو پکڑ کر قربان کرنے لگے،انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کی انگلی کٹی ہوئی ہے،تو چھوڑ دیا کیونکہ وہ عیب دار کو قربان نہیں کرتے تھے۔بادشاہ واپس آیا، وزیر کو بلایا اور کہا:“واقعی، اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔میری انگلی کٹی، میری جان بچ گئی۔اور تم جیل میں ہو کر بھی یہی کہہ رہے تھے۔”وزیر نے جواب دیا:“اگر میں جیل میں نہ ہوتا، آپ شکار پر مجھے لے کر جاتے،اور آپ کی جگہ مجھے قربان کرتے۔اب آپ سمجھ…

Read more

ٹیپو سلطان (1751-1799)، جو میسور کے حکمران تھے، کی اولاد کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زیادہ تر نسل آج بھی بھارت میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر کولکتہ (کلکتہ) میں۔ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانویوں نے ان کی فیملی کو جلاوطن کر کے ویلور اور پھر کولکتہ منتقل کیا تھا۔ آج کل ان کی اولاد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اور وہ مختلف پیشوں میں مصروف ہیں۔کولکتہ میں اولاد:تقریباً 45 براہ راست اولاد کولکتہ میں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام کاموں میں مصروف ہیں، جیسے رکشہ چلانا، سائیکل مرمت کرنا، الیکٹریشن کا کام، یا درزی کا کام کرنا۔22af2c کچھ خاندان پرنس انور شاہ روڈ اور ٹولی گنج جیسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کی مالی حالت عام ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں۔2018 میں، انہوں نے کولکتہ…

Read more

سن 1204 چوتھی صلیبی جنگ جب مغربی ممالک کے کیتھولک عیسائیوں نے آرتھوڈوکس شہر قسطنطنیہ فتح کر لیا اور خوب لوٹ مار کی انہوں نے پرانے بازنطینی بادشاہوں کی قبروں تک کو کھود ڈالا جن میں ہرقل کی قبر بھی شامل تھی اس کے سر سے انہوں نے تاج بھی اکھاڑ لیا یہ وہی ہرقل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کی صورت میں اسلام کی دعوت دی تھی اس نے خط مبارک کو عزت دی لیکن تخت جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہ کیا صلیبیوں ہرقل بادشاہ کو سب سے پہلا صلیبی سمجھتے تھے کیتھولک عیسائیوں کے خیال میں جو عیسائی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکا ہو وہ صلیبی ہی ہے اس کے علاوہ ان لٹیروں نے عظیم بازنطینی بادشاہ جسٹینین کی قبر بھی کھودی اور حیران رہ گئے کہ 639 سال بعد بھی لاش تازہ حالت میں موجود ہے…

Read more

520/800
NZ's Corner