Category Archives: Urdu Stories

کئی جہاز بحرِ اوقیانوس کو چاقو کی طرح چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے اگلے حصوں پر بنے ڈریگن ایسے لگتے تھے جیسے افق کو ہی کاٹ لینا چاہتے ہوں۔ چار ہزار نارویجن حملہ آور—جو طوفانوں، بھوک اور جنگ میں سخت ہو چکے تھے—اپنے لوگوں سے کہیں زیادہ دور جنوب کی طرف جا رہے تھے جتنا کسی نے پہلے کبھی ہمت نہیں کی تھی۔ وہ سفارتکار بن کر نہیں آئے تھے۔ وہ شکاری بن کر آئے تھے۔ اور وہ سمجھتے تھے کہ بحیرۂ روم ان کے لیے ایک دعوت ثابت ہوگا۔ اس مہم کی قیادت دو ایسے نام کر رہے تھے جو خود ان کی دنیا میں بھی افسانہ لگتے تھے: ہاستین، ایک تجربہ کار حکمت عملی بنانے والا، اور بیورن آئرن سائیڈ—جوان، بے رحم، اور ایک عظیم وراثت کے بوجھ تلے دبا ہوا۔ کہا جاتا تھا کہ وہ راگنار کا بیٹا تھا، اور یہ اس کے لیے…

Read more

یہ واقعہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان…

Read more

قدیم یونان کے ساحلوں کے قریب، پہاڑوں کے دامن میں ایک شہر تھا جہاں سوال کا درخت اُگا ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ درخت ہر اس شخص سے ایک سوال پوچھتا ہے جو اس کے سائے میں رکتا، اور جو جواب دے دیتا، وہ آگے بڑھ جاتاجو جواب نہ دے پاتا، وہ وہیں ٹھہر جاتا۔ ایک نوجوان فلسفی، لیون، شہر میں آیا۔ اس نے بہت کتابیں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے اسے یقین تھا کہ درخت اسے روک نہیں سکے گا۔ وہ سائے میں آیا تو پتے سرسرائے اور سوال گونجا:“تو کیا جانتا ہے؟” لیون نے لمبا جواب دیا تعریفیں، دلیلیں، مثالیں۔ درخت خاموش رہا۔وہ اگلے دن پھر آیا۔ اس بار اس نے مختصر بات کی، مگر پھر بھی جواب ہی تھا۔ درخت پھر خاموش۔ تیسرے دن لیون خالی ہاتھ آیا۔ اس نے کہا:“میں نہیں جانتا۔” درخت کی شاخیں ہلیں، راستہ کھل گیا۔ آگے ایک تنگ گزرگاہ تھی…

Read more

   خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔ “آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔”انہوں نے کہا؛” تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔” اس نے کہا؛“اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔”“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔” اس نے جواب دیا؛“موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی…

Read more

ایک شیر شکار پر نکلا اور اپنے ساتھ ریچھ اور لومڑی کو لے گیا۔ تین شکار ہوئے ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔ واپسی پر ریچھ اپنے حصے پر فخر کرنے لگا۔ شیر نے کہا بتاؤ کیسے تقسیم کرو گے؟ریچھ بولا گائے آپ کی کیونکہ آپ بادشاہ ہیں، ہرن میرا کیونکہ میں درمیانہ ہوں اور خرگوش لومڑی کا۔ شیر نے فوراً پنجہ مار کر ریچھ کو ختم کر دیا۔ اب شیر نے لومڑی سے پوچھا تم کیسے حصہ کرو گی؟لومڑی نے کہا حضور خرگوش صبح کے ناشتے میں، گائے دوپہر کے کھانے میں اور ہرن رات کے کھانے میں تناول فرمائیں۔ شیر خوش ہوا اور پوچھا یہ تقسیم کہاں سے سیکھی؟لومڑی نے جواب دیا ریچھ کی موت سے۔ سبقعقلمند وہ نہیں جو صرف بولنا جانتا ہوعقلمند وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق سیکھ لے ہم روز جنازے دیکھتے ہیںقبرستان جاتے ہیںاپنوں کو مٹی میں اترتے دیکھتے ہیںلیکن…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

2 جولائی 1839 کو ہسپانوی کالونی کیوبا کے ساحل پر ایک تاریک رات میں، سینگبے نامی ایک سیاہ فام شخص نے ہسپانوی بحری جہاز، لا امسٹاد پر سوار اپنی زنجیروں پر لگے تالے کو کھولنے کے لیے ایک ڈھیلے کیل کا استعمال کیا۔ اس نے اور 52 دیگر غیر قانونی طور پر پکڑے گئے افریقیوں نے پھر جہاز پر قبضہ کر لیا، انہوں نے کپتان اور باورچی کو قتل کر دیا، لیکن عملے کے دو اہم افراد کو کچھ نہ کہا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سیرا لیون (افریقی ملک) کے لیے اپنے گھر روانہ ہو سکتے ہیں۔ عملے کے دونوں ہسپانوی افراد نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چپکے سے جہاز کو شمال کی طرف موڑ دیا دو مہینوں تک، بحری جہاز امریکی ساحلوں پر گھومتا رہا آخرکار اسے لانگ آئی لینڈ، نیویارک سے دریافت کر لیا گیا جہاں افریقیوں کو حراست میں لے…

Read more

ایک شخص ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور طرح طرح کے لذیذ کھانوں کا آرڈر دیا۔ بیرا فوراً حکم کی تعمیل میں جت گیا۔ جب وہ شخص سیر ہو کر کھانا کھا چکا، تو پانی پی کر اور ڈکاریں لیتا ہوا اطمینان سے باہر نکلنے لگا۔ اچانک دو بیروں نے اسے روک لیا اور کہا: “جناب! بل تو ادا کرتے جائیے!”“بل…؟ کیسا بل؟ میرے پاس تو ایک ٹکا بھی نہیں ہے، میں بل کہاں سے ادا کروں؟” اس نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔آخرکار بیرے اسے پکڑ کر مینیجر کے پاس لے گئے۔ مینیجر نے غصہ کرنے کے بجائے ایک عجیب شرط رکھی: “دیکھو، میں تمہیں ایک صورت میں چھوڑ سکتا ہوں؛ اگر تم سامنے والے ہوٹل جا کر بھی یہی حرکت کرو۔ ہمارا بل ایک ہزار روپے بنا ہے، اگر تم وہاں جا کر دو ہزار روپے کا کھانا کھاؤ گے، تب ہی تمہاری جان بخشی ہوگی۔”“نہیں… نہیں… ہرگز…

Read more

جب طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسپین فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو وہ سو گئے اور انہیں خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے طارق! ہمت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، تم وہی حاصل کرو گے جس کے لیے تمہیں مقدر کیا گیا ہے!” پھر انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اندلس میں داخل ہو رہے ہیں۔ وہ نہایت خوشی اور سرور کی حالت میں بیدار ہوئے، کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ انہیں اس ہستی کی طرف سے بشارت دی گئی ہے جسے اللہ نے بشارت دینے کے لیے بھیجا تھا ﷺ۔ پھر وہ اپنی فوج کے ساتھ جبل الطارق میں داخل ہوئے، مگر انہوں نے انہیں کیا حکم دیا؟ انہوں نے حکم دیا کہ اپنی کشتیاں جلا دو اور فرمایا: “دشمن…

Read more

حرام تو حرام ہی ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی ۔بیٹا پیدا ہوا مگر ایک پیدائشی معذوری کے ساتھ یعنی وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اسی لیے اس کی ماں کا خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بن جاتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔” صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے…

Read more

ہلدی، تیل اور مرچیں بیچنے والے ایک پنساری کے پاس نہایت خوبصورت اور طرح طرح کی بولیاں بولنے والا ایک طوطا تھا۔ سارا دن وہ پنساری کی دکان پر بیٹھا رہتا اور گاہکوں سے مزے مزے کی باتیں کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پنساری کسی کام سے اپنے گھر گیا اور طوطے کو دکان کی نگہبانی کے لیے چھوڑ گیا۔ اچانک ایک بلی چوہے پر جھپٹی تو طوطا اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف اڑا، جس سے تیل کی کپیاں گر گئیں اور دکان میں ہر طرف تیل ہی تیل پھیل گیا۔ جب پنساری واپس آیا تو دیکھا کہ فرش پر تیل کی کپیاں گری ہوئی ہیں اور بہت سا تیل ضائع ہو چکا ہے۔ وہ غصے میں آگیا اور طوطے کی کھوپڑی پر ایسا ہاتھ مارا کہ اس کے سر کے سارے بال جھڑ گئے اور وہ گنجا ہو گیا۔ اپنے بال جھڑ جانے کا طوطے کو…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایا شام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان…

Read more

ایک دفعہ ایک آدمی گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا، اتنے میں ایک عابد کا وہاں سے گزر ھوا، عابد نے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری سنے گا۔ بس تم بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ میری چند دعائیں الله کے پاس پہنچا دیں۔پھر اس نے آرزوئیں گنوانا شروع کر دیں۔ کہ مجھے یہ چاہیے، وہ چاہیے، فلاں چاہیے وغیرہ عابد بولا بس بس میں سمجھ گیا ہوں۔ وہ بولا کہ کیا سمجھ گئے ہو۔؟ میری بات تو ابھی مکمل ھی نہیں ھوئی۔ عابد نے کہا کہ میں الله تعالٰی سے کہہ دوں گا کہ تیرا فلاں بندہ کہہ رھا تھا کہ اے مالک! مجھے اپنے علاوہ سب کچھ دے دو۔ بات اتنی ہے کہ ہم اس مالک، اس پالنے والے رازق سے اس کے قرب کے سوا…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” 😅😅😅#منقول

خشک سالی کے دنوں میں جب پورا جنگل بھوک سے تڑپ رہا تھا، جنگلی چوہے کو گاؤں کے کنارے ایک عجیب و غریب جھونپڑی ملی۔ اس جھونپڑی کے پیچھے پتوں میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ ہر رات، جب چاند نکلتا، وہ دروازہ خود بخود کھل جاتا اور اس میں سے شکرقندی (yam)، تاڑ کے تیل (palm oil) اور بھنے ہوئے مکئی کی سوندھی خوشبوئیں آتی تھیں۔جنگلی چوہا بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایک شام، جب آس پاس کوئی نہ تھا، وہ دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر ایک ایسا گودام تھا جو صبح ہوتے ہی خود بخود دوبارہ بھر جاتا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھایا، اپنے گالوں میں خوراک بھری اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے نکل گیا۔ وہ راتوں رات وہاں اکیلا اور خاموشی سے جاتا رہا۔لیکن لالچ نے اس کی احتیاط ختم کر دی۔ایک رات، جنگلی چوہے نے چھپکلی اور گلہری…

Read more

🤣جب لفٹ میں پھنسے لوگوں نے ایک دوسرے کو بھوت           سمجھ لیا 🤣 آفس کی عمارت پرانی تھی اور لفٹ اکثر نخرے دکھاتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب تین لوگ لفٹ میں سوار ہوئے جن میں ایک پپو میاں، دوسرے ایک صاحب جو سفید کفن نما لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے، اور تیسری ایک خاتون تھیں جن کے سر پر بہت زیادہ ٹیلکم پاؤڈر گرا ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے ہو کر آئی تھیں۔اچانک ایک زوردار جھٹکا لگا، لائٹ چلی گئی اور لفٹ آدھے راستے میں پھنس گئی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا اور لفٹ کے اندر ہوا کا گزر بھی بند ہو گیا۔ خاموشی ایسی کہ دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔ پپو نے ڈر کے مارے موبائل کی ٹارچ جلائی، لیکن ٹارچ کی روشنی نیچے سے اوپر کی طرف پڑی۔ سفید کرتے والے صاحب کا چہرہ روشنی میں ایسا خوفناک لگا کہ…

Read more

جب مرغے نے آدھی رات کو اذان دے کر پورے محلے کو جگا دیاپپو کو پرندے پالنے کا بہت شوق تھا، اسی شوق میں وہ ایک ایسا مرغہ لے آیا جو شکل سے جتنا معصوم تھا، عقل سے اتنا ہی پیدل۔ اس مرغے کا بائیولوجیکل کلاک بالکل الٹا تھا۔ وہ صبح صادق کے بجائے تب اذان دیتا تھا جب اس کا موڈ ہوتا۔ایک رات محلے میں بڑی خاموشی تھی، سب گہری نیند سو رہے تھے۔ پپو کے کمرے کی کھڑکی کے پاس مرغے نے دیکھا کہ گلی کی اسٹریٹ لائٹ اچانک تیز چمکی ہے۔ مرغے نے سمجھا شاید سورج نکل آیا ہے اور ڈیوٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ اس نے سینہ تان کر ایک ایسی زوردار اور لمبی ککڑوں کڑوں ماری کہ پورے محلے کے کتے ایک ساتھ بھونکنے لگے۔مرغے کی آواز سن کر محلے کے سب سے ضعیف بزرگ، چچا شکور، ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہوں نے گھڑی دیکھے…

Read more

جب پپو نے اسکول کی چھٹی کے لیے اپنی ہی وفات کا جھوٹا لیٹر لکھ دیاپپو کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ صبح اٹھتے ہی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو پپو نے پینترا بدلا۔ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ہونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم پپو آج صبح اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ…

Read more

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا“تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا” یہ سن کر سب کے دل کانپ گئےوقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئےصرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہاحتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے مگر نبی…

Read more

540/800
NZ's Corner