Category Archives: Urdu Stories

😂⚖️ عدالت میں ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا… سماعت کے دوران جج صاحب نے اچانک دونوں وکیلوں کو اپنے چیمبر میں بلا لیا۔ 😐 دونوں وکیل سوچ رہے تھے کہ شاید کوئی اہم قانونی نکتہ زیرِ بحث آئے گا… 🤔 مگر اندر جاتے ہی جج صاحب نے ایسا جملہ بولا کہ دونوں کے ہوش اڑ گئے! 😳🤣 جج صاحب بولے: “آپ دونوں نے مقدمے کا فیصلہ اپنے حق میں کروانے کے لیے مجھے رشوت دی ہے…” 💸😅 یہ سنتے ہی دونوں وکیل ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ 👀😂 ایک کے ہاتھ سے فائل گر گئی…اور دوسرے کا گلاس الٹا ہو گیا! 🤣 جج صاحب نے پرسکون انداز میں کہا: “چوہان صاحب نے مجھے 25 ہزار روپے دیے ہیں…” 💵 “اور کیانی صاحب نے 30 ہزار روپے دیے ہیں…” 💰 اب دونوں وکیلوں کی حالت ایسی تھی جیسے امتحان میں نقل سمیت پکڑے گئے ہوں! 📚😂 ایک وکیل ہکلاتے…

Read more

ایک دیہاتی نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر نیا اسمارٹ فون خریدا۔ چند دنوں میں وہ GPS چلانا بھی سیکھ گیا۔ اب اسے لگتا تھا کہ دنیا کا ہر راستہ اس کی جیب میں آگیا ہے۔عید سے ایک دن پہلے وہ شہر سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گدھا نظر آیا، جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدا ہوا تھا۔ گدھا تھکا ہوا کھڑا تھا اور اس کا مالک کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔دیہاتی نے سینہ پھلا کر کہا: “آج ایک نیکی بھی ہو جائے۔”اس نے گدھے کی گردن کے ساتھ اپنا موبائل باندھا، GPS آن کیا اور ہنستے ہوئے بولا: “چل میرے بھائی! اب تو جدید دور کا گدھا بن گیا ہے۔ راستہ خود ہی ڈھونڈ لے گا۔”گدھا خاموشی سے چل پڑا۔موبائل سے آواز آئی: “200 میٹر بعد دائیں مڑیں۔”گدھا دائیں مڑ گیا۔پھر آواز آئی: “500 میٹر بعد بائیں مڑیں۔”گدھا بائیں مڑ گیا۔دیہاتی…

Read more

ایک قدیم شہر کی تنگ و پیچیدہ گلیوں میں ایک دانا شخص رہتا تھا۔ لوگ اس کے پاس  کا حل ڈھونڈنے آتے، مگر وہ اکثر جواب لفظوں میں نہیں بلکہ حکمت بھری مثالوں میں دیتا تھا۔ایک دن اس کا ایک دوست نہایت جوش و خروش سے اس کے گھر آیا۔ گفتگو کے دوران دانا شخص نے میز پر رکھا ہوا ایک عجیب سا آئینہ اٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا:“میں نے ایک ایسا آئینہ خریدا ہے جو انسان کی اصلی شکل دکھاتا ہے۔”دوست کی آنکھوں میں تجسس چمک اٹھا۔“واقعی؟ پھر تو مجھے فوراً دکھاؤ!”دانا شخص نے خاموشی سے آئینہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔دوست نے آئینے میں جھانکا۔ چند لمحے تک خود کو دیکھتا رہا، پھر اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔“کیا خوبصورت چہرہ ہے!” وہ فخر سے بولا۔ “یہ تو یقیناً میرا ہی عکس ہے۔”دانا شخص ہلکا سا مسکرایا اور بولا:“نہیں دوست، آئینہ ٹوٹا ہوا ہے۔…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے مٹی کی دیواروں اور کھپریل کی چھت والا ایک سادہ سا گھر تھا۔ اس گھر میں ایک غریب آدمی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ غربت اگرچہ اس کے دروازے پر مستقل دستک دیتی رہتی تھی، مگر اس کے گھر میں محبت، سکون اور قناعت کی روشنی بھی جلتی رہتی تھی۔ایک رات اس نے عجیب خواب دیکھا۔اسے محسوس ہوا جیسے کوئی پراسرار آواز سرگوشی کر رہی ہو:“تمہارے گھر کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ اسے نکالو، تمہاری قسمت بدل جائے گی۔”صبح ہوتے ہی اس کا دل بے چین ہو گیا۔اس نے کدال اٹھائی اور گھر کے ایک کونے میں کھدائی شروع کر دی۔سارا دن مٹی اڑتی رہی، زمین الٹتی رہی، مگر خزانے کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔رات آئی تو وہ تھکا ہارا سو گیا۔اسی رات خواب پھر آیا۔اس بار آواز نے گھر کے دوسرے حصے کی طرف اشارہ کیا۔صبح ہوتے ہی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جزیرے پر تمام جذبات اور احساسات اکٹھے رہتے تھے۔ وہاں خوشی، غم، امید، خوف، عقلمندی اور محبت سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک دن سمندر میں ایک شدید طوفان آیا جو اس جزیرے کو ڈبو دینے کے قریب تھا۔ سب جذبات بہت گھبرا گئے۔ اسی وقت محبت (Love) نے سب کے لیے ایک بڑی کشتی تیار کی تاکہ سب محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ تمام جذبات جلدی سے کشتی میں سوار ہونے لگے۔ صرف ایک جذبہ پیچھے رہ گیا… انا (Ego)۔ محبت واپس گئی اور اسے کہا:“آؤ، جلدی کرو، کشتی ڈوبنے والی ہے!” لیکن انا نے سر اٹھا کر جواب دیا:“میں کسی کی مدد کی محتاج نہیں ہوں۔ میں خود بچ سکتا ہوں۔” محبت نے بہت کوشش کی، اسے سمجھایا، ہاتھ پکڑا، منتیں کیں… مگر انا اپنی ضد پر قائم رہا۔ کشتی میں موجود دوسرے جذبات چیخنے لگے:“محبت! جلدی آؤ، وقت کم ہے!” لیکن…

Read more

ایک انجینئرنگ کالج کے تمام اساتذہ کو ایک ٹور پر لے جانے کے لیے ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا۔ جب سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو پائلٹ نے اعلان کیا:  “تمام معزز اساتذہ کرام! آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جس جہاز میں آپ بیٹھے ہیں، اسے آپ ہی کے کالج کے ذہین طالبعلموں نے تیار کیا ہے!!!” یہ سنتے ہی جہاز میں ہلچل مچ گئی۔ تمام اساتذہ خوف سے کانپتے ہوئے فوراً اپنی نشستوں سے اٹھے اور جلدی جلدی جہاز سے نیچے اترنے لگے۔ سب کو ڈر تھا کہ کہیں جہاز کا کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ لیکن پرنسپل صاحب اپنی جگہ پر سکون سے بیٹھے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر پائلٹ حیران ہوا۔ وہ پرنسپل کے پاس آیا اور پوچھا:  “سر، تمام اساتذہ اپنے ہی شاگردوں کا نام سن کر ڈر کے مارے اتر گئے، مگر آپ کیوں نہیں اترے؟ کیا آپ کو ڈر نہیں…

Read more

ایک گاؤں میں ایک جولاہا رہتا تھا۔ وہ دل کا بہت صاف تھا، کسی کا برا نہیں سوچتا تھا، لیکن ایک کمزوری تھی… وہ دوسروں کی باتوں پر جلد یقین کر لیتا تھا۔ ایک دن اس نے بڑی محنت سے جمع کی ہوئی رقم سے شہر سے چار مضبوط اور تندرست گدھے خریدے۔ خوشی خوشی ان کی رسیاں ہاتھ میں پکڑے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں تین شاطر چوروں نے اسے دیکھا۔ گدھے اچھے تھے، اور چوروں کی نیت خراب۔ انہوں نے ایک عجیب منصوبہ بنایا۔ پہلا چور آگے بڑھا، جولاہے کو سلام کیا اور حیرت سے بولا: “ارے میاں! یہ چار کتے کہاں لیے جا رہے ہو؟” جولاہا غصے سے بولا: “تمہاری آنکھیں خراب ہیں کیا؟ یہ کتے نہیں، گدھے ہیں!” چور معصوم سا منہ بنا کر بولا: “اچھا! اگر تم کہتے ہو تو ٹھیک ہے۔” اور چل دیا۔ جولاہا دل ہی دل میں ہنسا کہ عجیب…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔ مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔لیکن نوجوان…

Read more

ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں…

Read more

عید میں صرف چند دن باقی تھے۔ ایک سردار جی نے سوچا کہ اس بار ایسی شاندار پوشاک سلوانی ہے کہ پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے۔ وہ شہر گئے، مہنگا ترین کپڑا خریدا اور سیدھے شہر کے مشہور درزی کے پاس پہنچ گئے۔ درزی نے بڑے اعتماد سے ناپ لیا اور کہا: “سردار جی! فکر نہ کریں، چاند رات کو ایسا سوٹ دوں گا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔” یہ سن کر سردار جی خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور روز عید کا انتظار کرنے لگے۔ آخرکار چاند رات آ گئی۔ سردار جی نئے جوتے پہن کر، مونچھوں کو تاؤ دے کر درزی کی دکان پر پہنچے۔ لیکن جیسے ہی سوٹ نکال کر دیکھا، ان کے ہوش اڑ گئے۔ شلوار کا ایک پانچہ اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، جبکہ دوسرا اتنا چھوٹا تھا کہ ٹخنے بھی نہ ڈھانپ رہا تھا۔ سردار جی کا چہرہ لال…

Read more

اایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک پرسکون تالاب تھا، جہاں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔ وہ اکثر تالاب کے کنارے کی نرم کیچڑ میں چھپ کر سکون سے وقت گزارتے تھے۔ ایک دن ایک بھوکا سانپ وہاں آ پہنچا۔ اس کی نظریں تالاب کے مینڈکوں پر تھیں اور وہ انہیں اپنا شکار بنانا چاہتا تھا۔ چالاکی سے اس نے ایک مینڈک کے قریب جا کر نرم لہجے میں کہا: “مینڈک بھائی! گھبراؤ نہیں، میں تمہارا دشمن نہیں ہوں۔ میں تمہیں ایک ایسی جگہ لے جانا چاہتا ہوں جو اس تالاب سے زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔” مینڈک کو سانپ کی بات پر مکمل یقین تو نہ آیا، لیکن وہ سوچنے لگا کہ شاید سانپ سچ کہہ رہا ہو۔ وہ احتیاط سے آہستہ آہستہ کنارے کی طرف بڑھا۔ مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچا، سانپ نے جھپٹ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ مینڈک اگرچہ کمزور تھا، لیکن بے…

Read more

ایک دن شیخ چلی بازار سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بہت بڑا تربوز دیکھا۔ اتنا بڑا تربوز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ چلی نے دکاندار سے پوچھا: “بھائی، یہ تربوز اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟” دکاندار نے مذاق میں کہا: “یہ جادوئی تربوز ہے۔ جو اسے کھاتا ہے، اس کی ایک خواہش پوری ہو جاتی ہے!” شیخ چلی نے فوراً تربوز خرید لیا اور گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے تربوز کے سامنے بیٹھ کر کہا: “میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں!” پھر اس نے تربوز کاٹنے کے لیے چھری اٹھائی، لیکن چھری پھسل گئی اور تربوز زمین پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تربوز کے اندر سے صرف سرخ گودا نکلا، کوئی جادو نہیں! شیخ چلی حیران ہو کر بولا: “ارے! میری دولت کہاں گئی؟” اسی وقت اس کا دوست آ…

Read more

جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا ٹَھگ افسردہ بیٹھا تھا۔۔دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئےقیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہےبس ایک قطار میں سب کھڑے ہیںکوئی اگے تو کوئی پیچھےاور موت سے تو کافر لوگ ڈرتے ہیںہم تو ماشااللہ مسلمان ہیںپھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا  میں موت سے نہیں ڈرتابس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟پھانسی ولا مجرم:  کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیںکل مجھے پھانسی دے دی جائے گیاور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلیگا۔۔قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئےپھانسی والے مجرم نے…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت مشہور مصور (Painter) رہتا تھا۔ اس نے ایک دن ایک ایسی تصویر بنائی جو اس کی زندگی کا سب سے بہترین شاہکار تھی۔ اس تصویر میں زندگی کے رنگ، امید اور خوبصورتی کو اتنے شاندار طریقے سے دکھایا گیا تھا کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔مصور نے سوچا کہ کیوں نہ آج لوگوں کے ذوق کا امتحان لیا جائے۔ اس نے وہ تصویر شہر کے سب سے مصروف چوراہے پر لگا دی اور نیچے ایک بورڈ پر لکھ دیا:“جس کسی کو بھی اس تصویر میں کوئی خامی یا غلطی نظر آئے، وہ وہاں لال رنگ سے ایک نشان (Cross) لگا دے۔” شام کا منظرشام کو جب مصور چوراہے پر اپنی تصویر واپس لینے پہنچا، تو اس کا دل ٹوٹ گیا۔ پوری تصویر لال نشانات سے بھری پڑی تھی، یہاں تک کہ تصویر کا اصل چہرہ اور رنگ بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔ مصور شدید…

Read more

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی،…

Read more

سمندر کے کنارے ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔ وہاں روز سیاح آتے، کھاتے پیتے اور بہت سا کھانا ضائع کر جاتے۔ اسی ہوٹل کے آس پاس ایک کوا رہتا تھا۔ مفت کے کھانے کھا کھا کر وہ خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا۔ جسم بھاری، آواز اونچی اور غرور آسمان سے بھی بلند۔ وہ جہاں بیٹھتا، دوسرے کوؤں کو حقارت سے دیکھتا اور کہتا: “تم لوگ عام کوا ہو… میں پرندوں کا بادشاہ ہوں!” بیچارے دوسرے کوا اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، کیونکہ بحث کرنے سے زیادہ شور وہ کرتا تھا۔ ایک دن دور دراز علاقوں سے ہنسوں کا ایک خوبصورت جوڑا سمندر کے کنارے اترا۔ ان کے پر چاندی کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے چہروں پر عجیب سا وقار تھا۔ کوا فوراً اکڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ گردن ٹیڑھی کی، سینہ پھلایا اور بولا: “سنا ہے تم لوگ بڑے اڑاکے بنتے ہو؟” بوڑھا…

Read more

ایک دن بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں سیدھا چلتے دیکھا۔ وہ حیران ہوا اور کمہار سے پوچھا: “تم انہیں کس طرح سیدھا چلنا سکھاتے ہو؟” کمہار نے جواب دیا: “حضور! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی ڈر سے یہ سب سیدھے چلتے ہیں۔” بادشاہ کو کمہار کی بات پسند آئی۔ اس نے کہا: “کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟” کمہار نے ہامی بھر لی۔ بادشاہ نے اسے بڑا عہدہ دے دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے چوری کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ چور کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں چپکے سے کہا: “جناب، یہ چور وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔” کمہار نے دوبارہ حکم دیا: “چور کے دونوں ہاتھ کاٹو۔” اس کے بعد خود وزیر کمہار کے کان میں آیا اور سرگوشی کی: “جناب…

Read more

کہتے ہیں دور کہیں کسی گاؤں میں کئی لوگوں کی فصلیں چوری ہونے لگی، کسان اپنی فصل میں پہنچتے تو دیکھ کر لگتا کہ کوئی جانور گھاس کھا کر گیاہے لیکن کسی کو بھی جانور کے پیروں کے نشان نہ ملتے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بھینس فصل چر گئی، کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک کہانی عام ہوگئی کہ کوئی جانور نما جن رات گئے آتا ہے، فصل چرتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔ لیکن پھر کسی ایسے شخص نے جسے جن والی کہانی پر یقین نہیں تھا، رات گئے ایک نوجوان کو بھینس کندھے پر اٹھا کر جاتے ہوئے دیکھ لیا، پیچھا کرنے پر معاملہ یوں کھلا کہ نوجوان روز اپنی بھینس کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے، فصلوں میں چھوڑتا ہے اور پھر کندھے پر اٹھا کر واپس لے آتا ہے، تھوڑی تحقیق سے معلوم ہوا بھینس اٹھانے والا نوجوان جانور کو…

Read more

تپتے ہوئے صحرا کے کنارے ایک مسافر چلا جا رہا تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا، ریت کے ذرے انگاروں کی طرح جل رہے تھے، اور اس کے ہونٹ پیاس سے پھٹنے لگے تھے۔اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، مگر منزل کی دھن اس کے سر پر سوار تھی۔کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک صاف و شفاف چشمہ دکھائی دیا۔ پانی دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا، جیسے کسی بانسری سے مدھر دھن نکل رہی ہو۔ اس کے کنارے سبز گھاس تھی اور ہوا میں تازگی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔پانی نے اپنی خاموش زبان میں پکارا:“اے مسافر! رک جا، ایک گھونٹ پی لے۔ تیری تھکن بھی اتر جائے گی اور پیاس بھی بجھ جائے گی۔”مسافر نے چشمے کی طرف دیکھا، مگر پھر اپنی راہ پر نظریں جما لیں۔وہ بولا:“ابھی نہیں۔ میرے پاس وقت نہیں۔ منزل بہت دور ہے، میں رک نہیں سکتا۔”پانی خاموش ہو گیا۔مسافر آگے بڑھتا رہا۔سورج مزید…

Read more

540/1562
NZ's Corner