Category Archives: Urdu Stories

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

یورپی ادب سے ماخوذ  کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…

Read more

دیہاتی اپنے خچر (گدھے جیسا جانور) سے بہت پریشان تھا۔ وہ خچر اتنا سست تھا کہ ایک قدم چلتا اور دس منٹ رک جاتا۔دیہاتی اسے کھینچ کھینچ کر تھک گیا، آخر کار وہ اسے لے کر گاؤں کے ایک مشہور “حکیم” کے پاس گیا۔ دیہاتی نے کہا:“حکیم صاحب! میرا یہ جانور بہت کام چور اور سست ہو گیا ہے۔ یہ بالکل نہیں چلتا۔ کوئی ایسی دوا دیں کہ اس میں بجلی جیسی پھرتی آ جائے۔” حکیم بہت تجربہ کار تھا۔ اس نے اپنی پڑیا میں سے تھوڑی سی “لال مرچ” نکالی، خچر کی دم اٹھائی اور وہ مرچ وہاں لگا دی جہاں نہیں لگانی چاہیے تھی۔ 🌶️🔥 مرچ لگتے ہی خچر نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ہوا سے باتیں کرتا ہوا، گولی کی رفتار سے سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دیہاتی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سر پکڑ…

Read more

ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ “غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔” وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا…

Read more

ایک جنگل تھا جہاں تمام جانور امن و سکون سے رہتے تھے۔ اچانک وہاں ایک بندر اور لومڑی کی جوڑی نے “معاشی اصلاحات” کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑی منڈی بنائی اور اعلان کیا کہ اب سے کوئی جانور براہِ راست درخت سے پھل نہیں توڑ سکے گا، بلکہ سب کچھ منڈی سے ملے گا۔منڈی کا ٹھیکہ ایک طاقتور ہاتھی کو دیا گیا جو ذخیرہ اندوزی کا ماہر تھا۔ایک صبح جب خرگوش گاجریں خریدنے گیا تو اسے معلوم ہوا کہ گاجر کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ خرگوش نے حیرت سے پوچھا: “کل تو یہ سستی تھیں، آج کیا ہوا؟”ہاتھی نے اپنی سونڈ ہلاتے ہوئے جواب دیا: “دیکھو بھائی! دوسرے جنگل میں خشک سالی آ گئی ہے، اس لیے یہاں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔” حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہاتھی نے گاجروں کا سارا اسٹاک اپنے بڑے گودام میں چھپا دیا تھا تاکہ مصنوعی قلت…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں…

Read more

مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔لوگ حیران تھے۔دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”مگر نوجوان خاموش رہتا۔نہ تعریف قبول کرتا،نہ اپنا نام…

Read more

ایک کوا ایک ہنس کو جھیل میں سکون سے تیرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ہنس کی طرح پانی میں رہے گا تو اس کے پر بھی سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔ کوے نے ہنس کی طرح پانی میں غوطے لگانا اور مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوا نہ تو اپنی سیاہی بدل سکا اور نہ ہی اسے کائیں کائیں والی خوراک ملی۔ سردی اور پانی کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔سبق: اللہ نے ہر جاندار کو الگ خصوصیات دی ہیں، اپنی اصلیت بدلنے کی کوشش جان لیوا ہو سکتی ہے۔

ایک بار کا ذکر ہے…تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی…

Read more

قریش کے نامی گرامی سردار ولید بن مغیرہ کا ایک بیٹا غیر معمولی اوصاف کا حامل تھا۔ لمبے قد، مضبوط جسم، عقابی نگاہ، جنگی و سیاسی چالوں کا ماہر، تلوار کا دھنی، لڑائی کے داؤ پیچ کا گرو، نڈر، بے خوف، فنِ حرب کا جادو گر، شعلہ بیان خطیب، شریف النفس اور ذہین و فطین اس انسان کو دنیا خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کا بچپن، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی تک کی زندگی کا اکثر حصہ لڑنے بھڑنے، جنگی مہارت حاصل کرنے اور سیکھنے سکھانے میں گزرا۔ جاہلیت میں اسلام کا مخالف ہوکر بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں مگر سوائے احد کے اور کسی میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ خود فرمایا کرتے تھے: “اسلام قبول کرنے سے پہلے میں تقریباً ہر معرکے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آتا، لیکن…

Read more

ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﻪ ﺁﺝ ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﻫﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ : “ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺟﺲ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ, ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ, ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﮐﻪ ﺍُﺱ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ۔۔”!ﯾﻪ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯽ, ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩِﻥ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﯾﺴﺎ ﻫﯽ ﻫﻮﺍ, ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﯾﺎ, ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻫﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺰ ﺩﮬﺎﺭ ﻭﺍﻻ ﺁﻟﻪ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮐﻪ ﺁﺝ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻫﻮﺍ ﮐﻪ ﻣﺎﻟﮏ ﺍُﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﻧﻬﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﻫﺎ ﺑﻠﮑﻪ ﺻﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻭﻥ ﺍُﺗﺎﺭ ﺭﻫﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﻪ ﻧﻪ ﺭﻫﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﻪ ﺳﻠﺴﻠﻪ ﻫﺮ ﺩﻭ,…

Read more

ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف…

Read more

ایک بہت پرانے جنگل پر ایک بوڑھا شیر حکومت کرتا تھا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھا، لیکن اس نے تخت چھوڑنے کے بجائے یہ طے کیا کہ اب اس کا بیٹا (شہزادہ شیر) تخت سنبھالے گا۔مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہزادہ شیر پیدا تو جنگل میں ہوا تھا، لیکن اس کی پرورش اور تعلیم ایک دوسرے دور دراز کے پرتعیش جزیرے پر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگل کی زمین کیسی ہوتی ہے یا جانوروں کے دکھ درد کیا ہیں۔جب شہزادے کی واپسی ہوئی، تو پورے جنگل کو سجایا گیا۔ لومڑیوں نے (جو خوشامدی وزراء تھیں) ہر طرف یہ اشتہار لگوا دیے کہ: “آ رہا ہے وہ، جو جنگل کی قسمت بدلے گا! وہی خون، وہی نسل!”ایک دن ایک دبلا پتلا گدھا شہزادے کے پاس آیا اور بولا: “حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں، گھاس ختم ہو گئی ہے اور دریا کا پانی گدلا ہو…

Read more

ایک مرتبہ ایک شکاری کو جنگل میں عقاب کا ایک بچہ ملا جو اپنے گھونسلے سے گر گیا تھا۔ شکاری نے اسے لا کر اپنی مرغیوں کے ساتھ باڑے میں چھوڑ دیا۔ وہ بچہ مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، وہی کچھ کھاتا جو مرغیاں کھاتی تھیں اور زمین کھود کر دانے تلاش کرتا۔ وہ مرغیوں کی طرح ہی تھوڑا سا اڑتا اور واپس زمین پر آ گرتا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ ایک مرغی ہے اور اس کی بساط بس اتنی ہی ہے۔ایک دن ایک ماہرِ پرندہ شناس وہاں سے گزرا اور اس نے عقاب کو مرغیوں میں چرتے دیکھا۔ اس نے کسان سے کہا کہ یہ پرندوں کا بادشاہ ہے، یہ زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنا۔ کسان نے ہنس کر کہا کہ اب یہ مرغی بن چکا ہے، یہ کبھی نہیں اڑے گا۔ ماہر نے اسے ہاتھ پر اٹھا کر بلندی کی طرف اچھالا اور کہا…

Read more

ایک جنگل میں ایک بہت بڑا ریچھ قاضی (جج) مقرر کیا گیا۔ اس ریچھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قانون کی کتاب کا بہت ماہر ہے، لیکن اس کی ایک آنکھ پر “پٹی” بندھی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتا اور بند کرتا تھا۔ایک دن ایک غریب بکری روتی ہوئی عدالت میں آئی۔ اس کا الزام یہ تھا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے بچوں کا راشن چھین لیا ہے اور اسے زخمی کر دیا ہے۔ریچھ نے بھیڑیے کو طلب کیا۔ بھیڑیا بہت آرام سے عدالت میں آیا، اس کے ساتھ دو لومڑیاں بطور وکیل تھیں۔ لومڑیوں نے عدالت میں ایسی ایسی بحث کی کہ قانون کی کتابیں کانپ اٹھیں۔ انہوں نے کہا:“حضور! بھیڑیے نے جو کیا وہ تو ‘ضرورتِ وقت’ (Doctrine of Necessity) کے تحت تھا۔ اور ویسے بھی، بکری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ راشن اس کا تھا؟ کیا اس نے راشن کارڈ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت آگئی۔ ان بندروں کا سردار بہت خوش اخلاق اور اچھا تقریر باز تھا۔ اس نے جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغ ہوں گے۔لیکن بندر سردار کا ایک مسئلہ تھا؛ وہ محنت کرنے کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے پھل اگانے کے بجائے دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔گدھوں نے بندر کو پیشکش کی: “تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں بنے بنائے پھل دیں گے، بس تم بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام لکھ دو اور ہم سے ‘قرضہ’ لے لو۔”بندر نے یہ سوچے بغیر کہ واپسی کیسے ہوگی، بہت سارا قرضہ لے لیا۔ اس نے کچھ پیسہ تو جنگل کی سجاوٹ (دکھاوے کے منصوبوں) پر خرچ کیا اور باقی سارا پیسہ اپنی…

Read more

ایک بادشاہ کے پاس دو تلواریں تھیں۔ ایک تلوار خالص سونے کی میان میں تھی جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ دوسری ایک معمولی لوہے کی تلوار تھی جو پرانے لکڑی کے خول میں پڑی رہتی تھی۔سونے کی میان والی تلوار ہمیشہ اتراتی اور کہتی: “دیکھو! میں بادشاہ کی زینت ہوں، جب دربار سجتا ہے تو سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں۔ تم تو اتنی بدصورت اور زنگ آلود ہو کہ تمہیں کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔” لوہے کی تلوار خاموش رہتی کیونکہ اسے اپنی اوقات معلوم تھی۔ایک دن اچانک ریاست پر دشمن نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے فوراً اپنی چمکدار سونے کی تلوار اٹھائی، لیکن جیسے ہی میدانِ جنگ میں اس سے وار کیا، وہ سونا نرم ہونے کی وجہ سے مڑ گئی اور کسی کام نہ آئی۔ بادشاہ نے گھبرا کر وہ پرانی لوہے کی تلوار نکالی۔ اس کی دھار اتنی تیز تھی…

Read more

لارنس آف عربیہ: سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں، جاسوسی، دھوکہ دہی، عرب بغاوت اور مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری کی مکمل داستان مشاہیر عالم میں بعض اوقات نیک نام کے ساتھ بدنام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: “ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟” انہی بدنام کرداروں میں تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے “لارنس آف عربیہ” کہا جاتا ہے، ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک انگریز جاسوس تھا جس نے بہروپ بدل کر عربوں اور ترکوں (عثمانی مسلمانوں) کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کر کے چھوڑ دیا۔ یہ داستان نہ صرف تاریخی حقائق پر مبنی ہے بلکہ برطانوی سامراج کی “divide and rule” پالیسی، جھوٹے وعدوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون لارنس کی زندگی،…

Read more

ایک سبق آموز اور دلچسپ واقعہکہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقل، انصاف پسندی اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ مظلوموں کے حقوق کا تحفظ اور ظالموں کو سزا دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ایک دن انہیں ایک نہایت کھٹن مقدمہ حل کرنا پڑا:دو پڑوسی ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے۔ ایک نیک دل اور دوسرا چالاک و مکار۔ نیک دل پڑوسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اس کا پڑوسی دھوکے باز ہے۔ایک دن چالاک پڑوسی سخت مصیبت میں پھنس گیا۔ اس کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ وہ مدد کے لیے اپنے نیک دل پڑوسی کے پاس گیا، لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا کیونکہ نیک پڑوسی صبح سے کام پر گیا ہوا تھا۔جب وہ باہر گیا تو راستے میں اپنے پڑوسی کو کام سے لوٹتے ہوئے دیکھ…

Read more

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ…

Read more

1140/1291
NZ's Corner