Category Archives: Urdu Stories

فروری 1250ء کی ایک ٹھنڈی صبح کے وقت، مصر کا شہر منصورہ ابھی نیند کے دھندلکے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دریائے نیل کے پانی پر ہلکی سی کہر چھائی ہوئی تھی، مگر اس صبح کی خاموشی پر ایک عجیب بے چینی سوار تھی۔ شہر کی دیواروں پر مصری سپاہی نظریں جما کر دور دریا کے پار دیکھ رہے تھے، جہاں صلیبیوں کے کیمپ میں مشعلیں ٹمٹما رہی تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ کے دھارے موڑ پر آ کر کھڑے تھے۔ایک عرصے سے مصر ایوبی سلطنت کے سیاسی طوفانوں میں گھرا ہوا تھا۔ سلطان الصالح ایوب کی اچانک موت نے اقتدار کی کرسی خالی کر دی تھی، مگر ان کی اہلیہ شجرۃ الدر نے حالات کو مضبوطی سے سنبھالا۔ وہ پردے کے پیچھے رہ کر فوج کو منظم کر رہی تھیں، خاص طور پر مملوک غلام سپاہیوں کو، جو تربیت اور جنگی مہارت میں بے مثل تھے۔دوسری طرف، فرانس…

Read more

Once, there was a party at the house of Peto Khan’s neighbor, but Peto Khan was not invited there. He was very sad about this and started looking for some way to eat. He wore an old sherwani, tied a big turban on his head and held a tasbeeh in his hand and pretended to be a Hakeem Sahib. He went straight to the neighbor’s house where the guests were gathered.When the people saw a strange old man, they thought that he was a great-grandfather. Peto Khan camped on a sofa and loudly announced that I am the famous Hakeem of the city and I treat only those people who consult me before eating.The host asked fearfully, what should be in the food today, Hakeem Sahib, which is beneficial for health. Peto Khan replied seriously, “Look, Mian, roasted meat and hot naan are the best medicine for the human stomach.…

Read more

ایک دفعہ پیٹو خان کے پڑوسی کے ہاں دعوت تھی مگر پیٹو خان کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت اداس ہوئے اور کھانا کھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ایک پرانی شیروانی پہنی، سر پر بڑی سی پگڑی باندھی اور ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ کر حکیم صاحب کا روپ دھار لیا۔ وہ سیدھے پڑوسی کے گھر پہنچ گئے جہاں مہمان جمع تھے۔لوگوں نے جب ایک اجنبی بزرگ کو دیکھا تو سمجھے کہ کوئی بڑے پہنچے ہوئے حکیم صاحب ہیں۔ پیٹو خان نے ایک صوفے پر ڈیرہ جمایا اور زور سے اعلان کیا کہ میں شہر کا مشہور حکیم ہوں اور میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔میزبان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حکیم صاحب آج کھانے میں کیا ہونا چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو۔ پیٹو خان…

Read more

قدیم یونان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر، ایک بوڑھا فلسفی رہتا تھا جس کا نام تھیوفراسٹوس تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی تحقیق اور مراقبے میں گزاری تھی۔ جزیرے کے لوگ اکثر اسے پاگل سمجھتے، کیونکہ وہ بازار یا جشن میں شریک نہیں ہوتا، اور کبھی کبھار دنوں تک دریا کے کنارے بیٹھا رہتا۔ ایک دن، جزیرے پر ایک طوفان آیا۔ دریا کا پانی بلند ہوا، ہوا نے گھروں کی چھتیں اُڑائیں، اور لوگ خوف سے چیخنے لگے۔ سب لوگ پناہ کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگے، مگر تھیوفراسٹوس دریا کے کنارے بیٹھا رہا۔ لوگ حیران ہوئے کہ وہ کیوں نہیں بھاگ رہا۔ ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا:“بوڑھے، تمہیں نہیں ڈر لگ رہا؟ پانی سب کچھ لے جائے گا!” تھیوفراسٹوس نے آہستہ سے کہا:“پانی اور طوفان باہر کی حقیقت ہیں۔ اصل امتحان انسان کے اندر ہے۔ تم ڈر کی لہروں سے لڑو گے یا ان میں غرق…

Read more

ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر ایک نہایت خوفناک اور ظالم دیو رہا کرتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ آس پاس کی بستیوں پر دھاوا بولتا، وہاں سے انسانوں کو پکڑ کر لاتا اور اپنی خوراک بنا لیتا۔ گرد و نواح کے لوگ دیو کے ان لرزہ خیز مظالم سے عاجز آ چکے تھے اور ہر قیمت پر اس عذاب سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ مگر دیو کی ہیبت ان کے دلوں پر اس قدر مسلط تھی کہ وہ کبھی آزادی کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہ کر سکے۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور دیو کا ظلم و ستم حد سے بڑھا، تو رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں دبی چنگاری شعلہ بننے لگی اور نفرت پروان چڑھنے لگی۔ آخرکار، یہی نفرت علمِ بغاوت بلند کرنے کا پیش خیمہ بنی۔ بستیوں کے…

Read more

وہ سب سے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا.. اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا اس کے ایک طرف مشرق تھا جہاں سے سورج نکلتا تھا.. افق سے جہاں سے سورج نکلتا تھا وہاں تک اس کی بادشاھت تھی.. اس دوسری جانب مغرب تھا جہاں سورج غروب ھوتا تھا. زمین کے اس کنارے تک جہاں تک سورج ڈوبتا دکھائی دیتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی.. اس کے تیسری طرف سمندر دکھائی دیتا تھا.. سمندر کا پانی جہاں تک نظر آتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. اس کے چوتھی جانب پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا. یہ سلسلہ کوہ جہاں تک دکھائی پڑتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا صحرا تھا. اس صحرا کے ریت کے ذرے ذرے پر اس کی بادشاھت تھی.. دنیا بھر کے جنگلوں صحراؤں سمندروں پہاڑوں خشکی کے میدانوں وادیوں اور دریاؤں پر اس کی…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

انیسویں صدی کے روس کے ایک برفانی قصبے میں، ایوان نام کا ایک معمولی کلرک رہتا تھا۔ اس کی زندگی فائلوں، مہروں اور سرد دفتری کمروں میں گزر جاتی تھی۔ اس کی تنخواہ کم تھی، کمرہ تنگ، اور کوٹ اتنا پرانا کہ سردی اس کے اندر تک اتر جاتی۔ مگر ایوان کی سب سے بڑی خواہش ایک نیا اوورکوٹ تھا ایسا کوٹ جو اسے سردی ہی نہیں، بے قدری سے بھی بچا لے۔ وہ برسوں پیسے جوڑتا رہا۔ چائے کم، موم بتی آدھی، اور جوتے بار بار سلواتا رہا۔ آخرکار درزی پیٹرووچ نے کوٹ تیار کر دیا۔ جب ایوان نے وہ کوٹ پہنا تو اسے یوں لگا جیسے وہ پہلی بار واقعی انسان بنا ہو۔ دفتر میں لوگوں نے اسے دیکھا، مسکرائے، حتیٰ کہ افسر نے بھی سر ہلایا۔ اس ایک کوٹ نے ایوان کو وہ پہچان دے دی جو برسوں کی محنت نہ دے سکی تھی۔ مگر خوشی مختصر…

Read more

قدیم بغداد کی گلیوں میں، جہاں چراغوں کی روشنی اور سایوں کی سرگوشیاں ساتھ چلتی تھیں، ایک کاتب رہتا تھا جس کا نام یونس تھا۔ اس کا کام بادشاہ کے دربار میں فیصلوں اور احکامات کو صاف خط میں نقل کرنا تھا۔ یونس کی تحریر بے عیب تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں—کسی کو بچا بھی سکتے ہیں اور کسی کو مٹا بھی۔ ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری، یونس کو ایک بند لفافہ ملا۔ اس پر نہ مہر تھی، نہ نام۔ اندر ایک حکم تھا—ایسا حکم جو ایک بے گناہ خاندان کی جلاوطنی کا باعث بنتا۔ یونس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ حکم لکھنا اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی سچائی اس کے ضمیر پر بوجھ بن گئی۔ اسی رات اسے خواب آیا۔ اس…

Read more

یہ قصہ ہے چاچا نتھو کا جن کے خراٹے مشہور تھے کہ اگر وہ سو جائیں تو آس پاس کے پرندے درختوں سے گر جاتے تھے۔ ان کے خراٹوں کی گونج ایسی تھی جیسے کوئی پرانا ٹریکٹر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بار گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ ایک آدم خور بلا علاقے میں گھوم رہی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے شام ہوتے ہی گھروں میں دبک جاتے۔ اسی دوران گاؤں کے چوکیدار نے ہمت کی اور رات کو پہرہ دینے نکلا۔ اتفاق سے چاچا نتھو اس رات اپنی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑ کر وہیں سو گئے تھے۔جیسے ہی چاچا نتھو گہری نیند میں گئے، ان کے نتھنوں سے وہ مخصوص آواز برآمد ہوئی یعنی گھڑڑڑڑ پُھسسس۔ باہر گلی سے گزرنے والے چوکیدار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ وہ آدم خور بلا یہیں کہیں دیوار کے پیچھے چھپی…

Read more

ایرانی بادشاہ قاچار جس نے اپنے ملازموں کی موت سزا ایک دن لیٹ کی اور انہی ملازموں نے اسے خیمہ میں گھس کر موت کے گھاٹ اتار دیا آغا محمد خان قاجار، قاجار سلطنت کے بانی، ۱۸ویں صدی کے آخر میں فارس پر سختی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ حکمرانی کرتے تھے۔ان کا بادشاہ کے مقام تک آنا بذات خود جنگوں، مخالفین کی purge، اور ذاتی صدموں سے بھری ہوئی تھی، جن میں بچپن میں ایک مخالف گروہ کی جانب سے ان کا خصیہ تلف کر دینا بھی شامل ہے۔ ان کی حکومت میں بھی سختی جاری رہی، جہاں معمولی خلاف ورزی پر بھی سخت سزا دی جاتی تھی۔یہی انداز ان دو نوکروں کی کہانی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے؛جب ملازم کسی بات پٹ شور مچا رہے تھے تو بادشاہ نے فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ چونکہ وہ دن مذہبی لحاظ سے مقدس تھا، اس لیے…

Read more

قاہرہ کی فضا ان دنوں عجیب سرگوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ بازاروں، حماموں اور محلّوں میں ایک ہی نام زبان زدِ عام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سلطان کی رعایا میں ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ کون پاک دامن ہے، کون حاملہ ہے اور کون اپنے کردار میں لغزش کا شکار رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سادہ لوح لوگ اس پر یقین بھی کر رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ بااثر گھرانے بھی اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو اس کے پاس لے جانے لگے تھے۔یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی تو ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ سلطان نے نہ صرف ایک حکمران کی حیثیت سے بلکہ ایک عادل انسان کے طور پر بھی اس بات کو خطرناک سمجھا۔ انہیں علم تھا کہ ایسے دعوے معاشرے میں بدگمانی، فتنہ اور…

Read more

بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو صرف سائے دیکھ کر فیصلے کرتا تھا۔اس کے محل میںہر رات پردہ لگتا،چراغ جلتے،اور کٹھ پتلیوں کے سائےدیوار پر ناچتے۔ وزیر کہتا:“حضور! حقیقت باہر ہے،لوگوں میں، کھیتوں میں،پسینے اور بھوک میں۔” بادشاہ جواب دیتا:“سایہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،اصل چیزیں تواپنی شکل بدل لیتی ہیں۔” ایک دنایک اندھا سازندہ دربار میں آیا۔اس نے کہا:“مجھے بھی کھیل دکھانے دو۔” بادشاہ ہنسا:“تم دیکھ ہی نہیں سکتے،سائے کیسے نچاؤ گے؟” اندھے نے چراغ بجھا دیا۔پورا ہال اندھیرے میں ڈوب گیا۔پھر اس نے ساز چھیڑا۔آوازیں بلند ہوئیںکبھی رونے جیسی،کبھی ہنسنے جیسی،کبھی ٹوٹتی سانسوں جیسی۔ لوگ کانپنے لگے۔بادشاہ بولا:“یہ کیا جادو ہے؟میں کچھ دیکھ نہیں پا رہا!” اندھا بولا:“آپ نے عمر بھرصرف سائے دیکھے ہیں،آج پہلی بارحقیقت سن رہے ہیں۔” اس نے چراغ دوبارہ جلایا۔دیوار پرکوئی سایہ نہیں تھا۔صرف لوگ تھے—خاموش، شرمندہ،زندہ۔ اندھا سازندہ بولا:“جو صرف آنکھ سے دیکھےوہ دھوکا کھا سکتا ہے؛جو سننا سیکھ لےوہ اندھیرے میں بھیراستہ پا لیتا ہے۔” کہتے…

Read more

ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو جنگل کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا۔ شروع میں وہ انصاف پسند تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ کمزور جانوروں کو بلا وجہ ڈرانے لگا اور ان کی بات سننا چھوڑ دی۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا ہرن بھی رہتا تھا، جو نہایت سمجھدار اور صبر والا تھا۔ ایک دن شیر نے ہرن کو بلا کر کہا:“آج سے تم روز میرے لیے پانی اور خوراک لایا کرو گے، ورنہ انجام برا ہوگا۔” ہرن نے ڈرنے کے بجائے نرمی سے جواب دیا:“اے جنگل کے بادشاہ! طاقت اللہ کی امانت ہے، اسے ظلم کے لیے نہیں بلکہ حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے۔” شیر کو یہ بات بری لگی اور اس نے ہرن کو وہاں سے بھگا دیا۔ کچھ دن بعد جنگل میں شدید خشک سالی پڑ گئی۔ پانی…

Read more

قدیم عرب کے زمانے سے ہی عزی’ کے بت کا ایک شاندار مندر بنایا گیا تھا، اس مندر میں دوبیہ اسوینی نامی ایک پجاری عزیٰ کے بت کی دیکھ بھال اور خدمت کرتا تھا۔ مندر کے سامنے تھوڑے فاصلے پر جھاؤ کے تین درخت تھے۔ ان درختوں پر عزیٰ جننی کا بسیرا تھا۔ اس بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ عزیٰ بت جس کی پوجا کی جاتی ہے ایک شیطانی جناتی طاقت تھی جو ان درختوں پر رہتی تھی اور جو اسی کے مندر کے قریب واقع تھے۔ جب کبھی لوگ عزی کے بت کی پوجا اور چڑھاووں اور منتوں کے لئے آتے تھے تو وہ مندر میں رکھے بت میں داخل ہو کر باتیں کرتی تھی،  اپنی شیطانی قوتوں سے لوگوں کے مسائل حل کرتی تھی اور اس طریقے سے انہیں بھٹکاتی تھی۔ اس کا آقا شیطان اس کی اس کارکردگی پر خوش تھا۔جب مکہ فتح…

Read more

لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ اپنی باتوں، چالاکی اور ذہنی کھیل سے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔ایک دن ایک شخص بکری کا ننھا سا بچہ (میمنا) خرید کر اسے کندھے پر اٹھائے شہر سے باہر جا رہا تھا۔ راستے میں ٹھگوں کے ایک گروہ نے اسے دیکھ لیا۔ سب نے مل کر طے کیا کہ اس بکری کے بچے کو اس شخص سے ٹھگ لیا جائے ۔انہوں نے ایک پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوگئے ۔ پہلا ٹھگ آگے بڑھا اور تعجب سے کہنے لگابھائی! تم کندھے پر کتا کیوں اٹھائے جا رہے ہو؟وہ شخص ہنسا اور بولاارے بھائی! یہ کتا نہیں بکری کا بچہ ہے۔وہ ٹھگ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔تھوڑی دور دوسرا ٹھگ ملا اس نے ناک سکوڑ کر کہااللہ خیر…

Read more

ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔چنانچہ اس نے عرض کیا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ…

Read more

وہ قوم جس کے لیے آسمان سے تیار رزق نازل ہوتا تھا — قرآن و معتبر تفاسیر کی روشنی میں مکمل اور مستند حقیقت یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ یہ وہ قوم تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی احسانات کیے، یہاں تک کہ ان کے لیے آسمان سے تیار غذا نازل فرمائی گئی۔ ذیل میں یہ پورا واقعہ صرف قرآنِ مجید اور معتبر اسلامی تفاسیر کی روشنی میں، بغیر کسی ذاتی رائے، سبق یا اضافی بات کے، مکمل حقیقت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کون تھے؟ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب “اسرائیل” تھا، اسی نسبت سے ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ یہ قوم ایک طویل عرصے تک فرعونِ مصر کے ظلم اور غلامی میں مبتلا رہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

1120/1291
NZ's Corner