Category Archives: Urdu Stories

دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…

Read more

ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟” سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔” لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں…

Read more

شیبہ بن عثمان ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین پر تشریف لے گئے تو میرے سینے میں وہ زخم ہرا ہوگیا جو حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ نے میرے باپ اور چچا کو قتل کر کے لگایا تھا۔❣️میں نے کہا آج میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے خون کا بدلا لوں گا۔میں (جنگ کے دوران)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا اور آپ کے قریب ہوتے چلا گیا۔یہاں تک کہ صرف اتنا فاصلہ رہ گیا کہ میں تلوار اٹھا کر آپ کو مار ڈالوں۔مگر اچانک بجلی کی طرح چمکتا ہوا آگ کا ایک شعلہ میری طرف لپکا میں نے سمجھا کہ یہ مجھے بھسم کردے گا۔تو میں الٹے پاٶں بھاگ کھڑا ہوا۔❣️نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:او شیبہ!اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھ گیا۔اللہ نے فورًا میرے سینے…

Read more

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…

Read more

ایک جنگل میں ایک شیر اور ایک بانس کا درخت ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ شیر بہت طاقتور اور اپنی طاقت پر بہت مغرور تھا، جبکہ بانس کا درخت لمبا اور لچکدار تھا۔شیر ہر روز بانس کے درخت کے پاس آتا اور اسے طعنہ دیتا: “تم کتنے کمزور ہو، معمولی سی ہوا چلتی ہے اور تم جھک جاتے ہو۔ ذرا مجھے دیکھو، میں کتنا مضبوط ہوں، کوئی آندھی یا طوفان مجھے ہلا نہیں سکتا! بانس کا درخت خاموشی سے اس کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔ایک دن جنگل میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔ آسمان گرجنے لگا، بجلی چمکنے لگی اور تیز ہواؤں نے ہر چیز کو اکھاڑنا شروع کر دیا۔ شیر اپنی طاقت پر بھروسہ کیے اکڑا کھڑا رہا، اس نے سوچا کہ کوئی طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔لیکن طوفان اتنا شدید تھا کہ شیر کی تمام طاقت بے کار ہو گئی۔ تیز ہواؤں نے اسے جڑوں سے…

Read more

کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی برسوں سے سب استعمال کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ کنواں پرانا ہو گیا، پانی کم ہوتا گیا، مگر لوگ عادت کے ہاتھوں وہی پانی پیتے رہے۔ایک دن ایک نوجوان نے کہا:“کنواں صاف کرنا چاہیے، دیواریں مضبوط کرنی چاہئیں، ورنہ ایک دن یہ خشک ہو جائے گا۔” بوڑھوں نے ہنس کر جواب دیا:“ہم نے تو ساری عمر یہی پانی پیا ہے، ہمیں کچھ نہیں ہوا۔”نوجوان خاموش ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد کنواں واقعی بیٹھ گیا۔ پانی کی جگہ کیچڑ رہ گیا۔ اب گاؤں والے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے۔اسی نوجوان نے کہا:“مسئلہ کنویں کا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے وقت پر سچ سننے سے انکار کیا۔” گاؤں والے خاموش تھے، کیونکہ اب سچ دیر سے آیا تھا۔ سبقجو بات وقت پر نہ مانی جائے، وہ بعد میں سزا بن کر سامنے آتی ہے۔عادت کی…

Read more

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نہیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ، ہاں بول کیا کہنا ہے وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیاایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت  جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ، ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے…

Read more

ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑی والے سے پوچھا:” انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟”بوڑھے نے ادب سے جواب دیا:“بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔”عورت بولی:“میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔”بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا:“بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔”عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی،لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے…

Read more

ایک اونچے درخت پر ایک نوجوان باز رہتا تھا۔تیز، طاقتور، اور خود پر نازاں۔ درخت کی جڑوں میں ایک بوڑھا سانپ رہتا تھا۔زہر کمزور، جسم تھکا ہوا، مگر آنکھیں زندہ۔ باز روز نیچے دیکھ کر ہنستا:“تم زمین سے بندھے ہو، میں آسمان کا مالک ہوں۔” سانپ کچھ نہ کہتا۔ ایک دن شکاری جنگل میں آئے۔انہوں نے جال بچھائے—آسمان میں بھی، زمین پر بھی۔ باز اپنی رفتار کے غرور میں جال نہ دیکھ سکا۔پھڑپھڑاتا رہا… چیختا رہا۔ سانپ جال کے نیچے سے خاموشی سے نکل گیا۔ سبق:طاقت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے،مگر سمجھ وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل میں…

Read more

ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جس سے پورا گاؤں پانی لیتا تھا۔ کنویں کے پاس ایک مینڈک رہتا تھا جو ہر آنے جانے والے کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن مینڈک نے دیکھا کہ کنویں کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی ہے اور پانی آہستہ آہستہ رس رہا ہے۔ اسے خطرہ محسوس ہوا۔ وہ سب سے پہلے ہرن کے پاس گیا اور بولا،“کنویں میں دراڑ پڑ گئی ہے، اگر مرمت نہ ہوئی تو پانی ختم ہو جائے گا۔” ہرن نے لاپرواہی سے کہا،“میں تو جنگل کے چشموں سے پانی پی لیتا ہوں، یہ میرا مسئلہ نہیں۔” مایوس مینڈک پھر گائے کے پاس گیا۔گائے نے کہا،“میرے مالک کے پاس الگ کنواں ہے، مجھے کیا فکر؟” آخر وہ مرغابی کے پاس گیا جو روز کنویں میں تیرتی تھی۔مرغابی ہنس کر بولی،“پانی تو ابھی بہت ہے، فکر کی کیا بات ہے؟” کچھ دن بعد شدید بارش ہوئی۔ دراڑ اور پھیل گئی،…

Read more

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

MCB بینک میں نوکریوں کا اعلان کیا گیا ہے پورے پاکستان سے مرد و خواتین اپلائی کر سکتے ہیں Post: Customer Services Officer andRelationship Officer تعلیمی قابلیت: 14 یا 16 سالہ تعلیم (بی اے، بی کام، ماسٹرز یا بی ایس ) کم از کم 2.5 CGPA یا %60 نمبر ہوںFresh Graduates Encouraged to apply Post: RelationShip Executive تعلیمی قابلیت: انٹرمیڈیٹ عمر کی حد:18 سے 26 سال(درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ کے مطابق) آخری تاریخ: 31 دسمبر ، 2025 https://www.mcb.com.pk/careers/drop-your-cv

✅ آسامی : OG-III / MCO 📍 ڈومیسائل : آل پاکستان، تعلیمی قابلیت: 16 سالہ تعلیم (ماسٹرز یا بی ایس آنرز) ✅ عمر کی حد:28 سال ( زیادہ سے زیادہ)(درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ کے مطابق) 🚨 آخری تاریخ: 31 دسمبر ، 2025

📍 آسامی : ڈسٹرکٹ ڈیٹا آفیسر ✅ آسامیوں کی تعداد : 250 ✅ تعلیمی قابلیت: کم از کم 12 سالہ تعلیم (انٹرمیڈیٹ) ۔ سرویئر کا تجربہ رکھنے والوں کو ترجیح دی جائیگی ۔ ✅ عمر کی حد : 18 سال سے 45 سال تک ✅ ڈومیسائل: آل پنجاب اضلاع ✅ شارلسٹڈ امیدواراں کے صرف انٹرویوز ہوں گے, کوئی ٹیسٹ نہیں ہوگا. 🚨 آخری تاریخ: 22 دسمبر 2025

پاکستان کی کسی بھی گورنمنٹ یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں لاء میں داخلہ لینے سے پہلے لیٹ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہے۔ _`Education Required: Intermediate Pass_اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 29 دسمبر 2025 ہے اور ٹیسٹ 25 جنوری کو ہوگا۔آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ اشتہار میں دیا گیا ہے پہلے ٹیسٹ پاس ہوگا پھر پاکستان بھر میں کسی بھی یونیورسٹی یا پرائیویٹ کالج میں داخلہ ممکن ہو گا

خوشخبری! وزارت مذہبی امور (MORA)، اسلام آباد میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر نوکریوں کے سنہری مواقع دستیاب ہیں۔ کل آسامیاں: 36پوسٹس: ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ اور ڈیٹا انٹری آپریٹر ✅ تعلیمی قابلیت: انٹرمیڈیٹ یا بیچلرز✅ عمر کی حد: 18 سے 28 سال آن لائن درخواست دینے کی آخری تاریخ: 20 دسمبر 2025 For online apply www.mora.gov.pk واک اِن انٹرویوز:آن لائن اپلائی کرنے کے بعد اپنی رول نمبر سلپ ڈاؤنلوڈ کریں اور 22 دسمبر 2025 صبح 9 بجے انٹرویوز کے لیے اپنے تمام اصلی کاغذات، تصدیق شدہ فوٹو کاپیز اور 2 پاسپورٹ سائز تصاویر ساتھ لے کر دیے گئے ایڈریس پر پہنچ جائیں۔

1180/1291
NZ's Corner