Tag Archives: ” “daily inspiration

زبردستی کا ولی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی…

Read more

ایک خاتون حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے خدا کے نبی! کیا اللہ ظالم ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : رب تعالیٰ تو سراسر عدل و انصاف ہے وہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس نے کہا اللہ نے مجھ پر ظلم کیا ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا کون سا ظلم کیا ہے؟ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے تو حکمت نظر نہیں آتی مجھے تو ظلم لگتا ہے پھر اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا اے خدا کے نبی! میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری تین یتیم بچیاں ہیں، جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں میں دن بھر اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔ گزشتہ روز میں اپنا کاٹا ہوا سوت ایک سرخ کپڑے میں…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺮ ﺗﮭﮯ – ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺪ ﺗﮭﮯ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻘﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ۔۔ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﮐﯿﺴﮯﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭨﯿﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾک ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﻨﻮﺍﺩﯾﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ…

Read more

ایک بادشاہ تھاجسے ہر فیصلہ کرنے سے پہلےدل میں ایک ہی بےچینی رہتی تھی۔ وہ سوچتا کون سا وقت سب سے اہم ہے؟ کون سا انسان سب سے زیادہ ضروری ہے؟ کون سا کام سب سے افضل ہے؟ اس نے علماء کو بلایافلاسفروں سے پوچھامگر ہر ایک کا جواب مختلف تھا۔آخرکاروہ ایک گوشہ نشین بزرگ کے پاس پہنچا۔راستے میںبادشاہ نے دیکھاکہ ایک شخص زخمی پڑا ہےخون بہہ رہا ہے۔ بادشاہ نے تاج اتارازخم صاف کیےاور اس کے پاس بیٹھ گیا۔رات ڈھل گئی۔ صبح بزرگ نے کہا“اب تمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔سب سے اہم وقتوہ ہے جو اس لمحے تمہارے پاس ہے۔ سب سے اہم انسانوہ ہے جو اس وقت تمہارے سامنے ہے۔اور سب سے افضل کامیہ ہے کہ اس انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے۔”بادشاہ خاموش ہو گیااس کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ حاصلِ سبق زندگیماضی یا مستقبل میں نہیںبلکہ اسی لمحے میں فیصلہ مانگتی ہے۔جو سامنے…

Read more

کہتے ہیں افلاطون ایک دن کھانا کھا رہے تھے کہ ایک مچھر بار بار آ کر انہیں تنگ کرنے لگا۔کبھی کھانے پر بیٹھتا، کبھی اُڑ جاتا۔ افلاطون نے نرمی سے اپنا تھوڑا سا کھانا مچھر کے سامنے رکھا۔مچھر نے اس میں سے کچھ چوسا… مگر زیادہ دیر نہ رکا۔ افلاطون نے شاگردوں کو غور سے دیکھنے کا کہا۔ایک شاگرد کے ہاتھ پر ہلکا سا زخم تھا، اس نے ہتھیلی آگے کی۔مچھر فوراً کھانے کو چھوڑ کر زخم پر آ بیٹھا اور خون چوسنے لگا۔ پھر افلاطون نے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا۔مچھر نے خون بھی چھوڑ دیا اور سیب کے کٹے حصے پر جا بیٹھا۔ اسی لمحے قریب ایک درخت پر مکڑی کا جالا تھا۔مچھر اُڑا… اور جال میں پھنس گیا۔جال ہلا تو مکڑی آئی اور خاموشی سے اپنے شکار کو مضبوطی سے قابو میں کر لیا۔ افلاطون نے فرمایا: “دیکھو! مکڑی کمزور ہے مگر صبر والی ہے۔وہ…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

خواجے دا گواہ ڈڈو ۔ آپ اکثر یہ کہاوت سنتے ہیں تو چلیں آپ کو اس کہاوت کی تاریخ اور پس منظر بتاتے ہیں۔کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ خواجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ خواجہ صاحب اپنی چالاکیوں اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک بار خواجہ کا اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ پنچایت بلانی پڑ گئی۔پنچایت کا منظرگاؤں کے چوپال میں پنچایت لگی، بڑے بوڑھے حقے پی رہے تھے اور سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں خواجہ اپنے دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ پنچایت کے مکھیا نے خواجہ سے پوچھا:“خواجہ جی! آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے پڑوسی کو رقم دی تھی، لیکن اس کے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جس نے رقم دیتے ہوئے…

Read more

ایک ریٹائرڈ پولیس کمشنر، جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب کالونی کے اپنے ذاتی مکان میں آ کر رہنے لگے۔ اُنہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔ روز شام کو وہ کالونی کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آتے، لیکن وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ ہی کسی کی طرف دیکھتے۔ اُنہیں لگتا تھا: “یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں!” ایک دن وہ بینچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص آ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔ لیکن کمشنر صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے – کہ وہ کتنے بڑے عہدے پر تھے، ان کی کتنی عزت تھی، اور وہ کتنے اہم شخص ہیں…وہ کہنے لگے، “میں یہاں اس لیے رہتا ہوں کیونکہ یہ میرا ذاتی گھر ہے!” کچھ دن یہی ہوتا رہا۔…

Read more

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے 🔥❤️آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخصحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جوجہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔ اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ…

Read more

عام خیال کے مطابق 1517 میں خلافتِ عثمانیہ کا آغاز ہوا تھا۔ اس بات کے 500 سال مکمل ہونے کےموقعے پر یہ خصوصی تحریر لکھی گئی تھی) ظہیر الدین بابر کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کی فوج دشمن کے مقابلے پر آٹھ گنا کم ہے، اس لیے اس نے ایک ایسی چال چلی جو ابراہیم لودھی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ اس نے پانی پت کے میدان میں عثمانی ترکوں کا جنگی حربہ استعمال کرتے ہوئے چمڑے کے رسوں سے سات سو بیل گاڑیاں ایک ساتھ باندھ دیں۔ ان کے پیچھے اس کے توپچی اور بندوق بردار آڑ لیے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں توپوں کا نشانہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا کرتا تھا لیکن جب انھوں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کی تو کان پھاڑ دینے والے دھماکوں اور بدبودار دھویں نے افغان فوج کو حواس باختہ کر دیا اور اس ناگہانی آفت…

Read more

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا: “آؤ میرے ساتھ کھیلو۔” نو جوان نے اس سے کہا” اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں…

Read more

838ء کا وہ بھولا ہوا موسمِ گرما…ہوا میں تلخی تھی۔ زبطرة کے ملبے کی خاک ابھی تک اڑ رہی تھی، اور خلافت عباسیہ کے سینے پر بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلوس کا وہ طعنہ تازہ تھا جس نے بغداد کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خلیفہ المعتصم باللہ کے چہرے پر وہ غصہ تھا جو صرف عزت کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب خبر پہنچی کہ بازنطینیوں نے سرحدی قلعہ زبطرة کو زمین بوس کر دیا، مسلمان قیدیوں کو ذبح کیا، اور عورتوں کی بے حرمتی کی، تو المعتصم نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی۔ “عموریہ! میں عموریہ کو فتح کروں گا!” یہ نعرہ محض اعلانِ جنگ نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کی بے عزتی کا حساب چکانے کا عہد تھا۔ المعتصم، ہارون الرشید کا بیٹا، اپنے بھائی المأمون کی طرح عالم تو نہ تھا، لیکن اس کی رگوں میں جنگجوئوں کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس نے…

Read more

ایک صاحب کے حالات بہت خراب تھے۔ نہ روزگار تھا، نہ جمع پونجی۔ زندگی جیسے مشکلوں میں الجھ گئی تھی۔ایسے میں ان کے ذہن میں شیطانی خیال آیا،“کیوں نہ کوئی جن قابو کیا جائے، اور اس کی مدد سے دولت کمائی جائے؟” انہیں کسی بابا جی کا پتا ملا جو عملیات میں کمال رکھتے تھے۔ بابا جی نے چالیس دن کا ایک مجرّب عمل بتایا۔رات کے وقت اُن صاحب نے اپنے گھر کے ایک کمرے کا انتخاب کیا اور عمل شروع کر دیا۔ وہ بتاتے ہیں:“تین دن تک عمل جاری رہا۔ اس دوران کئی ڈراؤنی شکلیں نظر آئیں، مگر میں ڈٹا رہا۔ چوتھی رات عمل کے دوران، جب میں حصار کے اندر بیٹھا تھا، اچانک ایک خوفناک نسوانی آواز گونجی… “منّے کے ابّا… منّے کا فیڈر فریج سے نکال لائیں!” میں چونک گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ کوئی ہوائی مخلوق میرے عمل کو بگاڑنے آئی ہے۔بابا جی نے سختی سے…

Read more

قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ھاتھ…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

پرانے دمشق میں ایک تاجر رہتا تھا جس کی کنجوسی مشہور تھی۔وہ اگر خواب میں بھی سکہ خرچ کر دیتا تو صبح اٹھ کر صدقہ دے دیتا کہ خواب ٹوٹ جائے۔ ایک دن ایک فقیر اس کی دکان کے باہر آ بیٹھا۔نہ مانگ رہا تھا، نہ آہ و زاری بس بیٹھا ہنس رہا تھا۔ تاجر کو غصہ آ گیا۔“لوگ یہاں رو کر مانگتے ہیں، تم ہنس کیوں رہے ہو؟” فقیر بولا“میں تمہیں دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔” تاجر بھڑک اٹھا“میں تمہیں مضحکہ خیز لگتا ہوں؟” فقیر نے سر ہلایا“ہاں، تمہارے پاس سب کچھ ہے،اور میرے پاس کچھ نہیںمگر نیند مجھے آتی ہے، تمہیں نہیں۔” تاجر نے طنزیہ ہنسی ہنسی“نیند تو خریدی جا سکتی ہے۔” فقیر بولا:“ہاں، مگر صرف سکون کے بدلے،اور وہ تم فروخت نہیں کرتے۔” رات کو تاجر نے واقعی نیند کی کوشش کی۔سونا، گنا، حساب لگایامگر آنکھ نہ لگی۔ صبح اس نے فقیر کو تلاش کیا۔فقیر وہیں بیٹھا…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالاتحضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔…

Read more

40/116
NZ's Corner