Tag Archives: ” “daily inspiration

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

عربی حکایت ہے، کہ ایک بادشاہ اپنی جوان سالہ بیٹی کی شادی کو لیکر بہت فکر مند رہتا تھا ۔ وہ برسوں سے نیک اور عبادت گزار داماد کی تلاش میں تھا۔ ایک دن اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ کسی طرح میری بیٹی کیلئے میری رعایا میں سے عبادت گزار انسان کو تلاش کرکے سامنے پیش کرو ۔ وزیر نے اپنی فوج کو شہر کی جامع مسجد کے گرد تعینات کر دیا اور کہا چھپ کر دیکھتے رہو جو شخص آدھی رات کو مسجد میں داخل ہوگا اسے نکلنے مت دینا جب تک میں نہ آجاؤں..۔ عین اسی وقت ایک چور چوری کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا! اور دل ہی دل میں سوچا کیوں نہ آج شہر کی جامع مسجد میں جا کر چوری کی جائے وہاں مسجد کا قیمتی سامان چرایا جائے۔ چور جیسے ہی جامع مسجد میں داخل ہوا مسجد کی انتظامیہ نے…

Read more

*۔ایک آدمی پہلی دفعہ سسرال گیا۔ سسرال والے بڑے بخیل تھے۔* جب کھانے کا وقت ہوا تو وہ آپس میں بیٹھ کر بات شروع ہوگئے۔ ساس: مسور کی دال بناتے ہیں، ہاضمے کے لیے اچھی ہوتی ہے۔سالی: نہیں نہیں، ساگ پکا لیتے ہیں، کھیتوں سے آرام سے مل جاتا ہے۔ساس: چھوڑو، آلو پکا لو۔سالا: آلو مہنگے ہیں، بینگن بنا لیتے ہیں۔دولہا جو کافی دیر سے “ہاں ہاں” کر رہا تھا اچانک بولا:“آپ لوگ میرا گھوڑا ذبح کرکے وہ پکا لیں۔”سالا: تو دولہا بھائی! آپ واپس کیسے جائیں گے؟؟؟دولہا: کوئی بات نہیں، میں اس مرغے پر بیٹھ کر چلا جاؤں گا جو سامنے پھر رہا ہے۔

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

کُتا یا بکرا۔۔۔🤔پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا اور پروگرام کے مطابق…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ: جاہلیت کے ڈاکو سے اسلام کے عظیم مجاہد تک ۔۔کِسریٰ اور شاہِ ایران کی شکستدوستو قصہ لمبا ہونے کے لیے معزرت  لیکن میں چاہتا تھا کے عظیم شاہ سوار کے کارنامے ہمارے لوگوں کو پتا چل سکیں آپ پڑھیں انشا اللّہ آپ کا وقت ضائع نہیں جائے گا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ کا شمار اسلامی تاریخ کے نامور بہادروں اور شہسواروں (گھوڑے پر سواری کے ماہروں) میں ہوتا ہے۔ (عمرو میں “ع” پر زبر ہے، “م” اور “و” ساکن ہیں۔ واؤ نہیں پڑھی جاتی) وہ یمن میں آباد عرب قبیلے مذحج کی ایک شاخ بنی زبید سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے زبیدی کہلاتے تھے۔ وہ بڑے ڈیل ڈول اور قد کاٹھ کے آدمی تھے۔ تلوار چلانے میں مہارت رکھتے تھے اور نیزہ بازی میں بہت کم لوگ ان کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ اتنے طاقتور اور شہسوار تھے کہ لوگ…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ریگستان کا وعدہ پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔” نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔” نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”نعمان…

Read more

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔ لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص دنیا، زندگی اور غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کے ارادے سے جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی ملاقات ایک جِن سے ہو گئی۔ جِن نے اس شخص سے کہا:“اگر تم خودکشی کا ارادہ ترک کر دو تو میں تمہیں امیر بنا دوں گا۔” پھر جِن نے اسے ایک ترکیب بتائی اور کہا:“تم واپس جاؤ اور حکیم بن جاؤ۔ جب کسی مریض کے پیروں کی طرف مجھے کھڑا دیکھو تو اُسے دوا مت دینا اور اس کے لواحقین کو بتا دینا کہ یہ مریض نہیں بچے گا۔ اور جس مریض کے سرہانے مجھے کھڑا دیکھو، اُسے دوا دے دینا اور کہہ دینا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔” اس شخص نے جِن کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ جسے وہ دوا دیتا، وہ بچ جاتا، اور جسے دوا نہ دیتا، وہ مر جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ شخص…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

خوشخبری! وزارت مذہبی امور (MORA)، اسلام آباد میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر نوکریوں کے سنہری مواقع دستیاب ہیں۔ کل آسامیاں: 36پوسٹس: ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ اور ڈیٹا انٹری آپریٹر ✅ تعلیمی قابلیت: انٹرمیڈیٹ یا بیچلرز✅ عمر کی حد: 18 سے 28 سال آن لائن درخواست دینے کی آخری تاریخ: 20 دسمبر 2025 For online apply www.mora.gov.pk واک اِن انٹرویوز:آن لائن اپلائی کرنے کے بعد اپنی رول نمبر سلپ ڈاؤنلوڈ کریں اور 22 دسمبر 2025 صبح 9 بجے انٹرویوز کے لیے اپنے تمام اصلی کاغذات، تصدیق شدہ فوٹو کاپیز اور 2 پاسپورٹ سائز تصاویر ساتھ لے کر دیے گئے ایڈریس پر پہنچ جائیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو اپنے شاگرد سکندرِ اعظم کو ہمیشہ عورتوں کی صحبت سے دور رہنے کی نصیحت کرتا تھا۔ اسی وجہ سے حرم کی عورتیں اس سے بہت خفا رہتی تھیں۔ایک دن انہوں نے مل کر ایک چال چلی۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت، شوخ اور دلکش کنیز کو ارسطو کی خدمت میں بھیج دیا۔ اس کنیز نے اپنے انداز و اشاروں کے جال میں ارسطو کو پھانس لیا اور ایک دن اچانک شرط رکھ دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس کی پیٹھ پر سوار ہو۔ — جب یہ مشہورِ زمانہ واقعہ ہو رہا تھا، ٹھیک اسی وقت حرم کی تمام عورتیں سکندر کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئیں۔ سکندر نے اپنے استاد کو ایک کنیز کے لیے واقعی “گھوڑا” بنے دیکھا تو حیران ہو کر بولا:“اے استاد! یہ کیا استادی ہے؟ ہمیں عورتوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں اور خود یہ…؟”…

Read more

ایران کے صاف آسمان تلے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں میں علم نہیں، آگ تھی۔ وہ دوسروں کے بچوں کی طرح نرم نہیں تھا۔ وہ چپ بیٹھ کر نہیں سنتا تھا۔ اس کے ذہن میں شروع سے ہی ایک عجب سوال تھا — دنیا پر اصل حکومت کس کی ہے؟ وہ جانتا تھا کہ تلوار کے پاس طاقت ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا تھا کہ انسان کے دماغ پر قبضہ کرنا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہتھیار ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو بچپن سے اس کے دل میں جم گیا تھا: ذہن پکڑ لو… پھر جسم خود چلتا ہے۔ نوجوان ہوا تو اس کی شخصیت میں وہ ضد پیدا ہوئی جو بعد میں پوری دنیا کے لیے عذاب بن گئی۔ اس نے مذہب، فلسفے، سیاست، منطق — سب کچھ پڑھا، مگر پڑھنے کا انداز اس کا عام نہیں تھا۔ لوگ کتاب سے نور لیتے ہیں، اس…

Read more

60/116
NZ's Corner