Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages

9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں: ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔ سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: “حکم صرف اللہ کا ہے!”۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔…

Read more

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی…

Read more

وہ زمانہ جب پہاڑ، ریگزار اور عظمت کی گونج تھی… ایک دور تھا، ہزاروں سال پہلے، جب زمین پر ایسے لوگ بستے تھے جن کی کہانیاں آج بھی ہواؤں میں سرگوشیوں کی مانند گردش کرتی ہیں۔ ان میں دو قومیں ایسی تھیں جن کی شان و شوکت، طاقت اور ثقافت نے اپنے وقت کے لاکھوں دلوں کو حیرت میں ڈال دیا — قومِ عاد اور قومِ ثمود۔ قومِ عاد: عظمت کی وہ مثال جب دنیا ابھی نئی نئی تشکیل پا رہی تھی، ایک عظیم قوم نے اپنے قدم مضبوطی سے زمین پر جما لیے تھے۔ یہ تھے قومِ عاد — ایک ایسا قبیلہ جو اپنی قوت، ہمت، اور پیداواری صلاحیتوں کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔ ان کے بارے میں لوگ کیا کہتے تھے؟لوگ کہتے تھے کہ عاد کے لوگ پہاڑوں جیسے مضبوط، اونچے قد، چوڑے کندھوں اور شاندار جسموں کے مالک تھے۔ ان کے گھوڑے تیز، اونٹ طاقتور…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا…

Read more

یونان کے ایک پرانے شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔وہ اتنا بڑا فلسفی تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح بخیر” کہہ دیتا تو وہ جواب میں کہتا “صبح کا تصور دراصل وقت کی غلامی ہے۔”لوگ سر ہلا دیتے، حالانکہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آتا۔ اسی شہر کے بازار میں ایک طوطا تھا۔سادہ سا، سبز رنگ کا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی جملہ بولتا تھا “کم بولنے والا زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔” فلسفی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔وہ بولا“ایک پرندہ مجھے دانائی سکھائے گا؟” اس نے طوطے کو خرید لیا اور گھر لے آیا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اپنی فلسفیانہ گفتگو سے خاموش کرا دے۔ روز وہ طوطے کے سامنے لیکچر دیتا،روح، کائنات، وجود، عدمگھنٹوں بولتا رہتا۔ طوطا خاموش رہتا۔ ایک دن فلسفی تھک کر بولا“کیا تم مان گئے کہ اصل دانا میں ہوں؟” طوطا پہلی بار مسکرایا (کم ازکم فلسفی کو…

Read more

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک بڑے میاں اور ان کی بدمزاج، ناشکری بوڑھی بیوی رہتی تھی۔ غربت کے مارے انہیں ایک پرانی پن چکی میں رہنا پڑا،عمارت خستہ حال تھی، بارش ہوتی یا برف پڑتی تو چھت ٹپکنے لگتی۔ ایک دن بوڑھے میاں نے ایک سنہری پرندہ پکڑ کر گھر لایا ۔اتنے میں اس نے سنا کہ وہی سنہری پرندہ انسانی زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ پرندے نے کہا، ’’بڑے میاں! مجھے معلوم ہے کہ آپ برسوں سے مجھے پکڑنے کے چکر میں تھے،آج کامیاب ہوگئے، لیکن میرے چھوٹے بچے ہیں، انہیں چوگا کھلاتا ہوں، مہربانی کرکے مجھے چھوڑ دیجئے، آپ کی جو بھی خواہش ہوگی، وہ میں پوری کر دوں گا، میں آپ کو ایک ایسا تحفہ دوں گا، جو چاہیں گے وہ ہوجائے گا۔‘‘ بڑے میاں کی یہ سن کر بانچھیں کھل گئیں، انہوں نے سنہری پرندے کو آزاد کرتے ہوئے کہا، میں اپنی تکلیف دہ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر بہانہ سوچا۔کہنے لگا:“کل سے تم نے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا!”مرغے نے عاجزی سے کہا:“آقا! جو آپ کی مرضی…”صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے اذان تو نہ دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔مالک نے نیا حکم صادر کیا:“کل سے پر بھی نہیں مارنے!”اگلی صبح مرغے نے پر تو نہ ہلائے، مگر لاشعوری طور پر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔مالک کو یہ بھی پسند نہ آیا۔فرمان آیا:“کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے!”اب کی بار اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش بیٹھا رہا، جیسے مرغا نہیں… مرغی ہو۔مالک نے سوچا:یہ تو بات نہیں بنی…اب اس نے ایسا حکم دیا جو مرغے کے بس سے باہر تھا:“کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح!”یہ سن کر مرغے کو اپنی موت…

Read more

ایک استاد تھا۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا : اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔استاد بھی عقل مند تھے۔ طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو،میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا: اس موتی کی…

Read more

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے۔ یہ باتیں فرشتوں کے درمیان لوگوں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں، جیسے کسی شخص کی موت رزق کی تقسیم اور دیگر غیبی امور شیاطین یہ باتیں سن کر نیچے اترتے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں (جادوگروں) کو یہ خبریں پہنچاتے تھے۔ اس دور میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شیاطین غیب جانتے ہیں اور بنی اسرائیل کے کاہن ان خبروں کو لوگوں میں پھیلاتے تھے، اور جو کچھ کہا جاتا وہ بعینہ پورا ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے لوگوں کا ان باتوں پر ایمان اللہ کی نازل کرده کتاب زبور پر ایمان سے بھی زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے زبور کو چھوڑ دیا اور شیاطین کی باتوں کو اختیار کرلیا۔ لوگوں نے شیاطین کی باتوں کو جمع کرکے کتابوں کی صورت دے دی…

Read more

ایک دوست اپنے دوسرے دوست سے کامیاب شادی کا راز پوچھ رہا تھا۔ دوست نے کہا: “بھائی، سیدھا سا فارمولا ہے کہ ہم نے اپنے اپنے فیصلے کے اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔” “اچھا؟” پہلے دوست نے پوچھا، “وہ کیسے؟” “بات یہ ہے کہ بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں، اور چھوٹے موٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے۔” “واہ! کچھ وضاحت تو کر دو،” پہلا دوست ملتجی ہوا۔ “دیکھو یار، چھوٹے موٹے فیصلے مثلاً گاڑی کون سی خریدنی ہے، بچے کون سے سکول میں داخل کروانے ہیں، گھر کا رنگ روغن، فرنیچر کب اور کیسا ہونا چاہیے، میری تنخواہ کہاں کہاں خرچ ہونی چاہیے، مجھے برتن پہلے دھونے چاہییں یا کپڑے وغیرہ وغیرہ یہ سارے چھوٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے، اور میں بالکل اعتراض نہیں کرتا۔” “اوکے، اور بڑے فیصلے کون سے ہیں جو تم کرتے ہو؟” پہلے دوست نے پھر استفسار کیا۔ “بڑے فیصلے مثلاً… امریکہ کو عراق…

Read more

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر…

Read more

“جب ایک چوہا خود کو اونٹ کا رہبر سمجھ بیٹھا… مگر ایک ندی نے لمحوں میں اسے اس کی اصل اوقات یاد دلا دی!” ایک اونٹ کسی جگہ پرکھڑا تھا۔ اور اس کی مہار زمین پر گری ہوئی تھی۔ چوہے نے اونٹ کی مہار کو منہ میں لے کر کھنچا . .. . اونٹ چلنے لگا۔ چوہے نے دل میں خیال کیا ، کہ میں تو بڑا شہ زور ہوں، میرے کھینچنے پر اونٹ میرے پیچھے چل پڑا ہے۔ اونٹ نے چوہے کی جب یہ حرکت دیکھی تواسے مزید بے وقوف بنانے کی خاطر اپنے آپ کو اس کے تابع کر دیا۔ چوہے نے اونٹ کی نکیل کو اپنے منہ میں مضبوطی سے پکڑ لیا،اور آگے آگے غرور کے ساتھ اکڑتا ہواچلنے لگا۔ پیچھے پیچھے یہ اونٹ مثل تابعدارغلام کے چل رہا تھا ۔چوہے نے دل میں کہا،” آج مجھے پتہ چلا میں کون ہوں!اور میرے اندر اتنی جان ہے…

Read more

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالاتحضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

ایک مولوی صاحب نے چرسی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھا تو پوچھا:“اوئے چرسی تو یہاں کیا کر رہا ہے؟” چرسی جھٹ سے بولا:“مرچیں تو تجھے تب لگیں گی جب جنت میں دیکھو گے۔” بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن اس نے ایک لمحے کو ہوش اڑا دیئے۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے حقیر جانا، جنہیں ہم گناہ گار کہتے رہے، جن پر ہم عمر بھر لعن طعن کرتے رہے، طرح طرح کے فتویٰ لگاتے رہے۔کیا ہو اگر کل بروزِ حشر وہ خدا کے مقبول بندوں میں نکل آئے؟ کیا ہو اگر کہ ہم اسے خوش فہمی میں مارے گئے کہ ہم نے خدا کو راضی کیا اور خدا کو ہماری نیت ہی بھلی نہ لگی ہو۔کیا ہو اگر کہ جنہیں ہم جہنمی اور بدکار کہتے رہے ہوں اور وہ جنت کے دروازے پر مسکراتے ملیں اور ہمیں جنت کی ہوا بھی نصیب نہ ہو۔خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا…

Read more

‏ایک تخیلاتی کہانی ہے کہ ایک نیک بزرگ پہاڑوں میں نکل گئے، پیچھے دیکھا ایک مفلس شخص آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“کیا چاہیے؟” اس شخص نے کہا،“غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔” بزرگ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ بزرگ چل پڑے، دیکھا وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“اب کیا چاہیے؟” وہ شخص بولا،“یہ کافی نہیں۔” بزرگ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی۔ وہ بھی سونے کا ہو گیا اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔ بزرگ دوبارہ آگے بڑھ گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“اب کیا چاہیے؟” اس شخص نے عرض کیا،“بزرگو…! آپ کی انگلی۔” 😅😅😅 منقول سچ ہے کہ دولت اور مال و متاع کی لالچ ایسی چیز ہے کہ جوں جوں ملتا جاتا ہے، لالچ بڑھتا ہی جاتا…

Read more

140/168
NZ's Corner