Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages

ایران کے ایک سرسبز گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام سلمان۔ آگ کی پرستش اُس کے قبیلے کا دین تھی اور وہ برسوں سے معبد کی آگ کی نگہبانی کرتا آیا تھا، مگر اس کے دل میں ایک سوال جلتا رہتا: کیا یہ آگ سن سکتی ہے؟ کیا یہ مجھے جواب دے سکتی ہے؟ایک دن راستے سے گزرتے ہوئے اس نے ایک گرجا سے دعاؤں کی آواز سنی۔ خاموشی، سجدہ اور عاجزی نے اس کے دل کو چھو لیا۔ وہ ایک راہب کے پاس گیا، پھر دوسرے، پھر تیسرے۔ ہر ایک نے اسے سچ کے ایک اور دروازے تک پہنچایا۔ آخرکار ایک بوڑھے راہب نے کہا: اے سلمان! وہ زمانہ قریب ہے جب آخری نبی عرب کی سرزمین میں ظاہر ہوں گے۔ وہ صدقہ نہیں کھائیں گے، تحفہ قبول کریں گے اور ان کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر ہوگی۔ سلمانؓ نے سب کچھ چھوڑ دیا، گھر، وطن…

Read more

ایک دن بغداد کے قریب دریائے دجلہ کے کنارے ایک نوجوان بیٹھا رو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ کوفہ سے آیا تھا اور اس نے ایک بہت بڑا گناہ کر لیا تھا۔ اس نے شراب پی تھی اور زنا کیا تھا۔ اب اسے اپنی موت کا ڈر تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کیا منہ دکھائے گا۔اچانک اس نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آ رہا ہے۔ سادہ کپڑے، چہرے پر نور، آنکھوں میں رحمت۔ وہ امام ابوحنیفہؒ تھے۔ نوجوان نے انہیں پہچان لیا اور شرم سے زمین میں گھس جانا چاہا، مگر امام صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور بڑی نرمی سے پوچھا:”اے نوجوان! کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟“نوجوان نے سر اٹھایا اور روتے ہوئے کہا:”یا امام! میں نے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شدید سردی میں ملانصرالدین کی اپنے دوستوں کے ساتھ ایک انوکھی شرط لگ گئی۔ مُلا کے دوستوں نے کہا:“ملا! اگر تم ایک پوری رات پہاڑی پر بغیر آگ جلائے گزار لو، تو ہم تمہیں ایک سونے کا سکہ دیں گے، اور اگر نہ گزار سکے تو تم ہمیں ایک دن کا کھانا کھلاؤ گے۔” ملا نصرالدین نے یہ شرط قبول کر لی۔انہوں نے ایک کتاب اور موم بتی لی اور پہاڑی پر رات گزارنے چلے گئے۔ موم بتی جلا کر ساری رات کتاب پڑھتے رہے اور کتاب میں یوں کھو گئے کہ رات گزرنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ صبح جب واپس آئے تو دوستوں سے کہا:“میں جیت گیا ہوں، اب مجھے میرا سونے کا سکہ دو۔” دوست بولے:“ملا! کیا تم نے واقعی آگ استعمال نہیں کی؟” ملا نے جواب دیا:“نہیں، میں کتاب اور موم بتی لے گیا تھا۔ اس موم بتی کی روشنی…

Read more

ایک بھینس 🐃 جنگل میں گھبرائی ہوئ بھاگ رہی تھی ۔جب چوہے 🐀 نے دیکھا تو بولا،“تو کیوں بھاگ رہی ہے؟” بھینس 🐃 بولی:“پولیس 👮‍♂️ جنگل میں ہاتھی 🐘 کا پیچھا کر رہی ہے۔” چوہا 🐀 بولا،“لیکن تُو تو بھینس 🐃 ہے۔” بھینس بولی:“ہاں لیکن یہ پاکستان ہے، یہاں کورٹ میں یہ ثابت کرنے میں برسوں لگ جائیں گے کہ میں ہاتھی نہیں بھینس ہوں۔” یہ سن کر چوہا بھی جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔#منقول 😅😅😅 سن 2018ء میں ایک زرعی رقبہ کا فیصلہ سنایا گیا اور زمین ورثاء میں تقسیم کی گئی تھی۔ اندازہ کریں کہ یہ کیس پچھلے 100 سال سے چل رہا تھا، تقسیمِ ہند سے بھی 29 سال پہلے سے۔ہمارے بھی عدالت میں زمین کے چار کیس چل رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے پوتے اپنے بچوں کو وہ زمین دینے میں کامیاب رہیں گے۔ 😅 پاکستان میں اوّل تو انصاف نہیں ملتا،اگر بنا رشوت کے…

Read more

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

168/168
NZ's Corner