Tag Archives: urdu blog

ایک دن کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر تنہا صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک انسان پر پڑی جو ریت میں دھنسا ہوا تھا۔ سردار فوراً گھوڑا روکا، نیچے اترا اور اس شخص سے ریت ہٹائی۔ وہ بے ہوش تھا، مگر جب سردار نے اسے ہلایا، تو وہ نیم ہوش میں بولا: “میری پیاس اتنی شدید ہے کہ میری زبان اور حلق خشک چمڑے کی طرح اکڑ چکے ہیں۔ اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔” سردار نے جلدی سے اپنی زین سے لٹکی ہوئی چھاگل نکالی اور اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھائی۔ اجنبی نے سیر ہو کر پانی پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “اے مہربان انسان، میرا گھوڑا کہیں بھاگ گیا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی قریبی جگہ لے جا سکتے ہیں تاکہ میں اپنی سواری کا بندوبست کر سکوں؟” سردار نے خوش دلی…

Read more

وہ رات جب حجاج بن یوسف نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تو پہلی بار آنکھوں سے آنسو نہیں، ہنسی نکل رہی تھی۔ کوفہ کی راتیں گرم تھیں۔ فرات کی نمی فضا میں پھیلی ہوئی تھی، اور حجاج بن یوسف اپنے محل کی چھت پر کھڑے دریائے فرات کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی عمر اب ساٹھ کے قریب تھی۔ داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، لیکن آنکھوں میں وہی تیزی تھی، وہی چمک جو لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دیتی تھی۔ آج وہ عجیب بے چین تھے۔ ان کے سامنے فرات کا پانی بہہ رہا تھا، اور اس پانی میں انہیں ابن اشعث کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو سولی پر بھی مسکراتا رہا تھا۔ وہ آنکھیں جو موت کے وقت بھی نہیں جھکی تھیں۔ حجاج نے آہ بھری۔ پھر پیچھے مڑے تو شبیب بن عامر کھڑے تھے۔ شبیب نے کہا: “حجاج، تم پریشان ہو؟”…

Read more

ایک صحابیِ رسول رضیَ اللہُ عنہ ایک رات قرآنِ پاک کی تلاوت کررہے تھے۔قریب ہی گھوڑا بندھا ہوا تھا اورگھوڑے کے قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ سورہا تھا۔ قراءت جاری تھی کہ اچانک گھوڑا بِدکنے لگا صحابیِ رسول نے پڑھنابند کیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر کُودنے لگا ، دوبارہ چپ ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا تیسری مرتبہ پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اُچھلنےلگا، کہیں گھوڑا بچے کو کُچَل نہ دے اس لئے بچے کے قریب آکر اسے اٹھایاتو نظر آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھا کہ سائبان کی مانند کوئی چیز ہےجس میں بہت سے چراغ روشن ہیں۔ پھر صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تمہاری قراءت (سننے) کی وجہ سے قریب آگئی تھی…

Read more

ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…

Read more

ایک دن ملا نصر الدین اپنے گھر کے باہر دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کا ایک پڑوسی ہانپتا کانپتا آیا اور کہنے لگا:“ملا صاحب! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ آج کے لیے اپنا گدھا مجھے ادھار دے دیں، مجھے شہر سے کچھ ضروری سامان لانا ہے۔”ملا نصر الدین کا اس دن گدھا دینے کا بالکل موڈ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:“بھائی، میں تو خوشی سے دے دیتا لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں، میرا بیٹا اسے لے کر دوسرے گاؤں گیا ہوا ہے۔”پول کھل گیاابھی ملا کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ گھر کے پچھواڑے سے گدھے کے زور زور سے ہینگنے (ریں ریں) کی آواز آنے لگی۔ پڑوسی حیرت سے ملا کی طرف دیکھنے لگا اور بولا:“ملا صاحب! آپ تو کہہ رہے تھے کہ گدھا گھر پر نہیں ہے، لیکن یہ آواز تو صاف بتا رہی ہے کہ گدھا اندر…

Read more

  کچھ لوگ آپ کو اپنی جان بچانے کا موقع دیں گے… اور پھر پلٹ کر آپ ہی کو سبق سکھانے کی کوشش کریں گے۔ ایک دن ایک شیر جلدی جلدی اپنا کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک اس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی۔ وہ گھبرا گیا، سانس لینا مشکل ہو گیا اور دھاڑا:“جو بھی اس ہڈی کو نکالنے میں میری مدد کرے گا، میں اسے بہت بڑا انعام دوں گا!” اسی دوران ایک بگلا آگے بڑھا۔ نہ کوئی ڈرامہ کیا، نہ تقریر۔اپنی لمبی چونچ سے اس نے احتیاط کے ساتھ شیر کے حلق میں ہاتھ ڈالا اور سکون سے ہڈی باہر نکال دی۔ شیر دوبارہ سانس لینے کے قابل ہو گیا۔بگلے نے انعام کا تقاضا کیا جس کا وعدہ ہوا تھا۔شیر مسکرا کر بولا:“تم نے خطرے کے اتنے قریب آ کر اپنا کام کیا اور صحیح سلامت واپس چلے گئے۔کیا یہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا انعام…

Read more

بہت عرصہ پہلے، ایک چھوٹا لڑکا اپنے دوست سے بہت ناراض تھا کیونکہ اس نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ وہ اپنے دادا کے پاس گیا، جو اپنے سکون اور دانائی کے لیے مشہور تھے۔ لڑکے نے کہا،“دادا جان، میرے اندر ایک جنگ چل رہی ہے۔ میرا ایک حصہ مہربان بننا چاہتا ہے، لیکن دوسرا حصہ بدلہ لینے اور لڑائی کرنے پر تلا ہوا ہے۔” دادا نے دھیرے سے سر ہلایا اور کہا،“میں سمجھ سکتا ہوں۔ ہر انسان کے دل میں یہی جنگ چلتی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے ہمارے اندر دو بھیڑیے رہتے ہوں۔” انہوں نے وضاحت کی: ایک بھیڑیا برا ہے، وہ غصے، حسد، لالچ اور جھوٹ سے بھرا ہوتا ہے۔ دوسرا بھیڑیا نیک ہے، وہ خوشی، امن، محبت اور ہمدردی سے لبریز ہوتا ہے۔ لڑکے نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر پوچھا،“لیکن دادا جان، جیت کس بھیڑیے کی ہوتی ہے؟” بوڑھے شخص نے مسکرا…

Read more

ایک بادشاہ کے دور میں ایک شخص نے اپنی دیوار کے نیچے خزانہ چھپا ہوا پایا۔جب بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے اسے بلا کر کہا:“میں نے سنا ہے کہ تمہیں خزانہ ملا ہے! مجھے کیوں نہ بتایا؟”اس شخص نے جواب دیا:“یہ مکان اور اس کا مال میری ملکیت اور میراث ہے، اور آپ عادل ہیں، زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں۔”بادشاہ نے کہا:“اچھا، اسے ہمارے سامنے لے آؤ، دیکھیں کس قدر ہے۔”وہ شخص تھوڑا سا خزانہ لے آیا، بادشاہ نے دیکھا اور اسے بخش دیا۔کچھ درباریوں نے کہا:“حضور، یہ تو اس کا چند حصہ بھی نہیں لایا، باقی سب چھپا رکھا ہے!”بادشاہ نے فرمایا:“خاموش رہو! مال اس کا ہے، چاہے چھپائے یا ظاہر کرے۔”اسی بادشاہ کے دور میں ایک اور شخص نے حویلی خریدی، اور مرمت کے دوران وہاں خزانہ ملا۔اس نے اسے مالکِ حویلی کے پاس واپس کرنے کی کوشش کی، لیکن مالک نے کہا:“میں نے حویلی بیچی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیخ صاحب اپنے دس گدھوں کو لے کر شہر کے بازار میں بیچنے جا رہے تھے۔ راستہ لمبا تھا اور دھوپ تیز تھی، اس لیے شیخ صاحب تھک گئے اور اپنے ایک گدھے پر سوار ہو گئے۔ باقی نو (9) گدھے ان کے آگے آگے چل رہے تھے۔چلتے چلتے شیخ صاحب کو خیال آیا کہ کہیں کوئی گدھا ادھر ادھر نہ ہو گیا ہو، تو انہوں نے گدھے گننے کا فیصلہ کیا۔گدھے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے گنتی شروع کی: “ایک، دو، تین، چار… آٹھ، نو۔”شیخ صاحب پریشان ہو گئے! “ارے! یہ کیا؟ میرے تو دس گدھے تھے، یہ نو کیسے رہ گئے؟”وہ گھبرا کر فوراً گدھے سے نیچے اترے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا، جھاڑیوں کے پیچھے جھانکا، مگر کوئی گدھا نظر نہیں آیا۔ پھر انہوں نے اطمینان کے لیے کھڑے ہو کر دوبارہ گنتی کی:…

Read more

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا-ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ“جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا”اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے…؟غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے…؟غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.حضرت…

Read more

I found my 87-year-old father in the kitchen, his hands shaking as he tried to scrape the frozen porridge straight from the pan. He hadn’t turned on the stove. He was afraid he’d forget to turn off the gas—and I’d have another excuse to move him to some old home in “the city.”I took the pan from his hand.I said, more forcefully than necessary, “Abu, why didn’t you heat it up? I bought you a microwave!”The drive from the city had been four hours long because of traffic, and my patience had already paid off.He didn’t look at me. He just stared at the old linoleum floor he had laid when I was in elementary school.“Son, the buttons on it… they’re so small. The numbers are blurred now.”Something inside me snapped.In the past few months, I hadn’t seen them much. I kept telling myself that I was too busy with…

Read more

میں نے اپنے 87 سالہ والد کو کچن میں پایا، ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ پتیلی سے براہِ راست جما ہوا دلیا کھرچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے چولہا نہیں جلایا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گیس بند کرنا نہ بھول جائیں—اور مجھے انہیں “شہر” کے کسی اولڈ ہوم  میں منتقل کرنے کا ایک اور بہانہ مل جائے۔میں نے ان کے ہاتھ سے پتیلی لے لی۔میں نے ضرورت سے زیادہ سختی سے کہا، “ابو، آپ نے اسے گرم کیوں نہیں کر لیا؟ میں نے آپ کو مائیکرو ویو خرید کر دیا تھا!”شہر سے یہاں تک کا سفر ٹریفک کی وجہ سے چار گھنٹے طویل ہو گیا تھا، اور میرا صبر پہلے ہی جواب دے چکا تھا۔انہوں نے میری طرف نہیں دیکھا۔ وہ بس فرش کی اس پرانی لینولیم (شیٹ) کو گھورتے رہے جو انہوں نے اس وقت خود بچھائی تھی جب میں پرائمری…

Read more

جب آپ کو کنویں کی تہہ میں “پنیر کا ٹکڑا” نظر آئے تو فوراً خوشی نہ منائیں۔ آپ کو اس ‘سودے’ پر نہیں، بلکہ اس پلّی (چرخی) کے جال پر نظر رکھنی چاہیے جو کسی کے اس “خالی جگہ” کو بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ 🧀ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لومڑی پھسل کر گہرے کنویں میں گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس کنویں میں دو بالٹیوں والا پلّی کا نظام تھا: جب ایک بالٹی نیچے جاتی تو دوسری اوپر آتی۔لومڑی اس بالٹی میں بیٹھ گئی جو اوپر کے قریب تھی۔ اس کے وزن نے بالٹی کو سیدھا نیچے تہہ میں پہنچا دیا۔ جب وہ گھبراہٹ میں وہاں سے نکلنے کا راستہ سوچ رہی تھی، تو وہاں سے ایک بھیڑیے کا گزر ہوا۔ بھیڑیے نے کنویں کے کنارے سے جھانکا اور پوچھا:“اے لومڑی! تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہو؟”لومڑی نے تیزی سے سوچا اور کہا:“اوہ میرے دوست!…

Read more

شیخ چلی کا شمار گاؤں کے سب سے زیادہ خواب دیکھنے والے انسانوں میں ہوتا تھا۔ وہ دن رات کچھ نہ کچھ انوکھا سوچتے رہتے، اور اُس سوچ کی بنیاد پر بڑے بڑے منصوبے بناتے۔ گاؤں والوں کو اُن کے خوابوں پر ہنسی آتی، لیکن شیخ چلی کو اپنے ہر خواب پر کامل یقین ہوتا۔ ایک دن وہ منڈی سے آٹے کی بوری خرید کر گدھے پر لاد کر گھر واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ان کے ذہن میں ایک زبردست خیال آیا۔ “اگر میں یہ آٹا بیچ دوں، تو اس سے جو پیسے آئیں گے اُن سے دو بکریاں خرید لوں گا۔ پھر ان بکریوں کے بچے ہوں گے۔ بچے بڑے ہوں گے، دودھ دیں گے، اور میں دودھ بیچ کر گائے خرید لوں گا۔ پھر گائے سے دودھ، دہی، مکھن، گھی۔۔۔ واہ واہ! میں تو امیر ہو جاؤں گا!” وہ خود کلامی کر رہے تھے۔اسی خواب میں…

Read more

ایک کمہار کی بیگم حد درجہ لڑاکا تھی، ذرا سی بات ہوتی اور وہ روٹھ کر میکے سدھار جاتی۔ غریب کمہار ہر بار شرافت اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے منا لاتا۔ ایک بار پھر بیگم صاحبہ روٹھیں اور میکے جا بیٹھیں۔ اس بار کمہار نے بھی منانے نہ جانے کی ٹھان لی۔ جب کئی دن بیت گئے اور شوہر نہ پہنچا تو بیگم کی ہمت جواب دے گئی اور وہ خود ہی گھر کی طرف چل دیں۔اب مسئلہ انا کا تھا کہ بغیر منائے واپس جانے پر جگ ہنسائی ہوگی۔ ابھی وہ گلی کی نکڑ پر پہنچی ہی تھیں کہ سامنے سے کمہار کا گدھا آتا دکھائی دیا۔ بیگم کو فوراً ایک ترکیب سوجھی؛ انہوں نے لپک کر گدھے کی دم تھام لی اور اس کے پیچھے کھنچی چلی آئیں۔ گھر پہنچ کر شوہر کو جتاتے ہوئے بولیں: “اجی شکریہ ادا کرو اس گدھے کا جو مجھے…

Read more

شیر، جو کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، اب بوڑھا ہو چکا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ تیز رفتار شکار کا پیچھا کر سکے۔ اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی: وہ اپنی غار کے اندر لیٹ گیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے۔جنگل کے جانوروں نے یہ افواہ سنی۔ اس کی پرانی ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ ایک ایک کر کے اس کی عیادت (خیریت دریافت کرنے) کے لیے آنے لگے۔ لیکن ایک بات عجیب تھی:جو بھی جانور غار کے اندر جاتا… وہ کبھی باہر آتا ہوا دکھائی نہ دیتا۔پھر لومڑی کی باری آئی۔ لومڑی بھی آئی، لیکن وہ غار سے باہر ہی رک گئی اور وہیں سے شیر کی خیریت دریافت کی۔اندر سے شیر ایک کمزور آواز میں بولا:“اوہ، تو یہ تم ہو لومڑی؟ تم اتنی دور کیوں کھڑی ہو؟ اندر آؤ—قریب آؤ—تاکہ میں تمہارا چہرہ…

Read more

“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟”دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہے تھے، جو حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کے بعد موصول ہوا تھا۔ “اگر میں تمہاری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تمہاری گردن اتار دیتا۔”یہ الفاظ سن کر دروان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ خوف کے باوجود اس نے اپنا سامانِ جنگ تیار کیا اور ساتھیوں کے ساتھ اجنادین روانہ ہو گیا۔ اجنادین پہنچ کر اس نے دیکھا کہ پورا علاقہ سپاہیوں سے بھرا ہوا ہے۔ شہنشاہ روم نے اسے تمام افواج کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔ دروان نے سب سپاہیوں کو ہتھیار تیار کرنے کا حکم دیا اور لشکر لڑائی کے لیے تیار ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کے سپاہیوں کو خبر ملی کہ نوے ہزار رومی لشکر اجنادین کی…

Read more

پیرس کے ایک چھوٹے سے محلے میں ایک مصور رہتا تھا جس کا نام مونیئے تھا۔ مونیئے خود کو دنیا کا عظیم ترین فنکار سمجھتا تھا، حالانکہ اس کی پینٹنگز مشکل سے ہی کوئی خریدتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی مشکل اس کا پڑوسی مسٹر پونشارڈ تھا، جو ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر تھا اور ہر چیز میں نقص نکالنے کا ماہر تھا۔ ایک دن مونیئے نے تنگ آکر اعلان کیا: “میں ایک ایسا شاہکار بناؤں گا جسے دیکھ کر پونشارڈ کی زبان گنگ ہو جائے گی!”تین مہینے تک مونیئے نے خود کو کمرے میں بند رکھا۔ محلے میں چرچا ہو گیا کہ کوئی بہت ہی عظیم فن پارہ تیار ہو رہا ہے۔ آخر کار، نمائش کا دن آ گیا۔ مونیئے نے ایک بڑی کینوس کو مخملی پردے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ پونشارڈ اپنی عینک درست کرتے ہوئے سامنے آیا۔ مونیئے نے بڑے فخر سے پردہ ہٹایا۔سامنے کینوس بالکل خالی…

Read more

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا۔ وہ رات کے وقت جا کر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچتا تھا۔ جب وہ جانور ذبح کرتا تو اس کے کپڑوں پر خون لگ جاتا، مگر وہ گھر آ کر خون آلود کپڑے بدل لیا کرتا تھا۔ ایک رات جب وہ جانور ذبح کر کے واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک جگہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے قصاب کو پکڑ لیا۔ جب قصاب نے اسے دیکھا تو اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ قصاب حیران ہوا، اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی۔ قصاب نے دیکھا کہ اس کے جسم میں ایک چھری پیوست تھی جو کسی نے اسے مار دی تھی۔ اصل قاتل تو بھاگ چکا تھا، مگر مقتول نے اندھیرے میں یہی سمجھا کہ قصاب نے اسے قتل کیا ہے، اور وہ…

Read more

صاحبزادے جب انگلستان کی یونیورسٹی سے “علمِ منطق” (Logic) کی ڈگری لے کر وطن لوٹے، تو ان کے اندازِ گفتگو میں ارسطو کی جھلک اور چال ڈھال میں افلاطون کی شان تھی۔ ابھی گھر پہنچے ایک دن ہی ہوا تھا کہ ناشتے کی میز پر علمی مباحثے کا بازار گرم ہو گیا۔والد صاحب نے سادگی سے پوچھا، “بیٹا! اتنے سال ولایت میں رہے، وہاں سے آخر سیکھ کر کیا آئے ہو؟”بیٹے نے عینک کے پیچھے سے ایک پراسرار نظر اپنے والد پر ڈالی اور بڑے فخر سے کہا، “قبلہ والد صاحب! میں نے وہ علم حاصل کیا ہے جو عقل کو دنگ کر دے۔ میں نے ‘علمِ منطق’ پڑھا ہے، جس کے ذریعے انسان ناممکن کو ممکن اور ایک کو دو ثابت کر سکتا ہے۔”والد صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرا اور حیرت سے پوچھا، “بھئی، اس کا عملی زندگی میں فائدہ کیا ہے؟”بیٹے کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا…

Read more

240/423
NZ's Corner