بلاعنوان۔۔😄!
سردار جی ایک لوکل بس میں سفر کر رہے تھے۔ بس میں بہت رش تھا، سردار جی کو بڑی مشکل سے کھڑے ہونے کی جگہ ملی تھی۔ کچھ دیر بعد کنڈکٹر ٹکٹ کاٹنے کے لیے ان کے پاس آیا۔کنڈکٹر: “سردار جی! ٹکٹ دکھائیں۔” سردار جی نے اپنی جیبوں میں ہاتھ مارا اور بڑی پریشانی سے بولے:“یار کنڈکٹر! میرا تو پرس ہی کسی نے نکال لیا ہے۔” کنڈکٹر (تھوڑا سخت لہجے میں): “سردار جی! یہ پرانے بہانے چھوڑیں۔ ٹکٹ کے پیسے نکالیں ورنہ اگلے سٹاپ پر اتر جائیں۔” سردار جی (منت کرتے ہوئے): “اوئے خدا کا خوف کر! سچ میں میرا پرس چوری ہو گیا ہے۔ میں تجھے جھوٹ کیوں بولوں گا؟” کنڈکٹر نہیں مانا اور بحث کرنے لگا۔ آخر کار سردار جی کو غصہ آ گیا۔ سردار جی نے اپنے گلے میں مفلر (Muffler) ٹھیک کیا، ایک گہرا سانس لیا اور اچانک بس میں زور سے چیخے: “اوئے! جس کسی…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
قسمت کے بغیر رزق نہیں ملتا
ایک کمزور ماہی گیر کے جال میں ایک طاقتور مچھلی پھنس گئی۔ ماہی گیر کے بس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ جال کو پانی سے کھینچ سکے۔ جب مچھلی نے زور لگایا تو جال اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔شعر:دام ہر بار ماہی آوردےماہی ایں بار رفت و دام ببردترجمہ:جال ہر بار مچھلی پکڑتا ہے، لیکن اس بار مچھلی گئی تو جال کو ہی لے گئی۔دوسرے ماہی گیر اس واقعے پر اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے اس کمزور ماہی گیر کو ملامت کرنا شروع کر دیا، کہ ایسا بڑا شکار تیرا جال میں پھنس گیا اور تو اسے تھام نہ سکا۔ماہی گیر نے جواب دیا:“اے بھائیو، میں کیا کر سکتا تھا؟ یہ مچھلی میرا رزق نہیں تھی، اور میرا رزق ابھی باقی تھا۔ دانا کہتے ہیں کہ شکاری قسمت کے بغیر دریا سے مچھلی نہیں پکڑ سکتا، اور مچھلی بغیر وقت کے خشکی پر نہیں مرتی۔” سبق: ہر…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
دانشمند بادشاہ کی کہانی — اصل کامیابی کی تیاری
ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
مجانین۔۔۔☠️!
کیا آپ نے عثمانی سلطنت کے “مجانین” دستے کے بارے میں سنا ہے؟عثمانی سلطنت کی تاریخ میں کئی ایسے فوجی دستے تھے جنہوں نے اپنی بہادری اور منفرد انداز کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انہی میں سے ایک مشہور دستہ “المجانین” یا دیلی (Deli) سپاہی تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس طرح کے غیر معمولی جری سپاہیوں کو باقاعدہ طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ سلطان محمد فاتحؒ (سلطان محمد ثانی) کے دور میں 1453ء کے بعد زیادہ منظم شکل میں سامنے آیا، جب قسطنطنیہ کی فتح کے بعد عثمانی فوج کو مزید طاقتور اور نفسیاتی جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔یہ دراصل عثمانی سلطنت کی ایک خاص قسم کی فوجی یونٹ یا اسپیشل فورس تھی، جو ینی چری (Janissaries) اور سپاہی گھڑ سواروں (Sipahi cavalry) کے ساتھ میدانِ جنگ میں شامل ہوتی تھی۔ اس زمانے میں انہیں دنیا کی طاقتور اور خوفناک جنگی جماعتوں میں شمار کیا جاتا…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
فرعون کی ممی
یہ واقعہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیش آیا تھا، فرعون کے ڈوب کر مرنے کے بعد سمندر نے اس کی لاش کو اللہ کے حکم سے باہر پھینک دیا جبکہ باقی لشکر کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔مصریوں میں سے کسی شخص نے ساحل پر پڑی اس کی لاش پہچان کر اہل دربار کو بتایا۔ فرعون کی لاش کو محل پہنچایا گیا، درباریوں نے مسالے لگا کر اسے پوری شان اور احترام سے تابوت میں رکھ کر محفوظ کر دیا۔حنوط کرنے کے عمل کے دوران ان سے ایک غلطی ہو گئی تھی، فرعون کیوں کہ سمندر میں ڈوب کر مرا تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصہ تک پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے جسم پر سمندری نمکیات کی ایک تہہ جمی رہ گئی تھی، مصریوں نے اس کی لاش پر نمکیات کی وہ تہہ اسی طرح رہنے دی اور اسے اسی طرح حنوط…
محبوب۔۔۔🙂!
ایک ملنگ درویش بارش کے پانی میں عشق و مستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اُبال رہا تھا تُو موسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا ملنگ کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔ ملنگ حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور سے دیکھنے لَگا ملنگ کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہُوتے ۔ ملنگ چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردِیں ملنگ نے گرما گَرم جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نُوش کی اور پھر ہاتھوں کو اُوپر کی جانب اُٹھا کر حَلوائی کو دُعا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory urdupoetry
کتیا کی گواہی
“جج صاحب بیوی کو پہچاننے سے قاصر، تاجر مسکرا رہا تھا، گواہ ثابت قدم تھے، پھر سلطان نے کتے اور کتیا کو عدالت میں بٹھایا، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے انصاف کی نئی تعریف لکھ دیشادی کے دوسرے مہینے شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا، سلطان کے سامنے پیشی پر قاضی اور تین گواہ جھوٹی گواہی دے گئے، لیکن کتے نے عدالت میں ایسا کیا کہ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ بصرہ شہر کی گلیاں اس وقت سلطان عبدالعزیز کے نام سے آشنا تھیں جب عدالتی فیصلے تلوار سے نہیں، دانائی سے ہوا کرتے تھے۔ سلطان کی عدالت میں انصاف کی ایسی دھاک تھی کہ امیر سے امیر تاجر اور غریب سے غریب مسافر دونوں برابر کھڑے نظر آتے تھے۔ مگر انصاف کی اس دیوار میں بھی شاید ایک شگاف تھا—وہ شگاف جسے رشوت کی انگلیاں بڑی خاموشی سے چوڑا کر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
موسیٰ علیہ السّلام کا اللّہ سے سوال
حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللّہ سے سوال کِیا: “اے خدا.! تُو لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر مار دیتا ہے اِس میں کیا حکمت ہے؟ “حق تعالیٰ نے فرمایا: “چونکہ تیرا سوال انکار اور غفلت پر مبنی نہیں ہے اِس لیے میں دَرگُزر کرتا ہوں ورنہ سزا دیتا۔ تُو اِس لیے معلوم کر رہا ہے تاکہ عوام کو ہماری حِکمتوں سے آگاہ کر دے, ورنہ تجھے مخلوق کے پیدا کرنے میں ہماری حِکمتیں معلوم ہیں۔تیرا سوال علم کے منافی نہیں ہے۔ کسی چیز کے بارے میں سوال آدھا عِلم ہوتا ہے۔ اگرچہ تُو تو اِس سے واقف ہے لیکن تُو چاہتا ہے کہ عوام بھی آگاہ ہو جائیں۔ کسی چیز کا علم ہو جانے کے بعد ہی اُس کے بارے میں سوال جواب ہو سکتا ہے۔ عِلم ہی گُمراہی اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ نمی اور تَری ہی پھل میں شیرینی کے علاوہ تلخی بھی…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
وہ کتا جو راستہ جانتا تھا
یہ ایک خوبصورت افریقی لوک کہانی ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے، ایک ایسے گاؤں میں جہاں کی سرخ مٹی پاؤں کو گرما دیتی تھی اور کھجور کے اونچے درخت ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے، وہاں کوکورو (Kòkòrò) نامی ایک خاموش طبع شکاری کتا رہتا تھا۔کوکورو زیادہ بھونکتا نہیں تھا۔ وہ خوراک کے ٹکڑوں کے لیے دوسرے کتوں سے لڑتا بھی نہیں تھا۔ جب دوسرے کتے سائے کا پیچھا کرتے اور دھول میں ایک دوسرے سے جھگڑتے، تو وہ بس خاموشی سے دیکھتا… اور یاد رکھتا۔اسی وجہ سے گاؤں کے بہت سے لوگ اسے سست اور ناسمجھ سمجھتے تھے۔نوجوان شکاری ہنستے ہوئے کہتے، “اسے دیکھو! یہ کتا گھورنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔”لیکن بوڑھی ماما سادے، جن کی آنکھوں نے زندگی کے بہت سے موسم دیکھے تھے، صرف دھیرے سے سر ہلاتیں۔ وہ کہتیں: “خاموش آنکھ بہت دور تک دیکھتی ہے۔”ایک بار خشک سالی کے موسم میں مصیبت آ…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان
ایک دفعہ ملانصیرالدین بازار سے جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔ ملا صاحب نے غصے سے پیچھے دیکھا،وہ شخص گھبرا کربولا۔“معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے”ملا صاحب نے کہا. “نہیں،انصاف ہو گا ۔۔۔چلو عدالت چلتے ہیں۔ “جج صاحب کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا۔جج نے اس شخص کا خوف دیکھ کر کہا :“کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دو گے یا ملاصاحب آپ کو بھی تھپڑ لگائیں؟”اس شخص نے کہا۔ “جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گالیکن ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میری بیوی کے پاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔ “جج نے کہا : “ٹھیک ہے، جلدی لے کر آؤ۔ “ ملا صاحب انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا،ملا صاحب اٹھے اور ایک زور کا “تھپڑ” جج کو مارا اور کہا :“اگر وہ زیور لاۓ تو تم لے لینا۔ “😛😛😛😄😅😅😅ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدل کی عظمت اور نیکی کی فطرت
ایک بادشاہ نے حج کا ارادہ کیا۔ جب اس نے ارکانِ سلطنت سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کیا:بادشاہ کی مثال جان کی اور سلطنت جسم کی مانند ہے۔ جس وقت بادشاہ کا سایہ ملک سے اٹھ جائے گا تو بہت سی خرابیاں جنم لیں گی۔ بادشاہ نے کہا: پھر میں حج کا ثواب کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟انہوں نے جواب دیا: اس سلطنت میں ایک درویش رہتا ہے جو سات حج کر چکا ہے اور گوشۂ تنہائی اختیار کیے ہوئے ہے، ممکن ہے وہ ایک حج کا ثواب آپ کو فروخت کر دے۔ بادشاہ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:میرا ارادہ حج کا ہے، مگر سلطنت کے امور کے باعث مجھے منع کیا جا رہا ہے، کیا آپ ایک حج کا ثواب مجھے دے سکتے ہیں؟ درویش نے فرمایا: میں اپنے تمام حجوں کا ثواب فروخت کرتا ہوں۔بادشاہ نے پوچھا: ہر حج کی کیا قیمت…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
محض رحم کھا کر سانپوں کو پالنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک تلخ پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک رحم دل اور کھلے دل والی مرغی جو بلا پوچھے دوسروں کی مدد کرنے کی عادی تھی—اسے ایک بار گھاس میں ایک ننھا سا زخمی سانپ ملا۔ وہ مرنے کے قریب تھا، اکیلا اور کانپ رہا تھا۔ سب کو یہی توقع تھی کہ مرغی اسے اپنی چونچ مار مار کر ختم کر دے گی۔لیکن اس نے اس کے برعکس کیا۔اس نے اسے نرمی سے اٹھایا۔اپنے گھونسلے میں لے آئی۔اسے اپنے چوزوں کے ساتھ لٹایا۔اسے گرم رکھنے کے لیے اپنے پروں میں چھپا لیا۔اور اسے کھانا کھلایا—تب بھی جب خوراک کی کمی تھی۔دوسرے جانوروں نے اسے خبردار کیا:“یاد رکھو، یہ ایک سانپ ہے!”مگر اس نے جواب دیا:“اگر میں اسے محبت سے پالوں گی، تو یہ محبت کرنا سیکھ جائے گا۔”اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔کیونکہ آپ کسی کو تپش…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory urdu blog
اور نیل بہتا رہا۔۔۔🙂!
ہزاروں سال پہلے مصر کے لوگ کہتے تھے کہ اگر دریائے نیل کو راضی نہ رکھا جائے تو وہ نہیں بہے گا، اور اسے راضی رکھنے کے لیے ہر سال ایک لڑکی کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یعنی ہر سال ایک غیر فطری قربانی، پھر ایک دن ایک خط پانی میں ڈالا گیا، اور روایت ہے کہ سب کچھ بدل گیا۔ساتویں صدی میں جب مصر اسلامی خلافت کے زیرِ اثر آیا اور حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے گورنر مقرر ہوئے، تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ نیل کے سالانہ بہاؤ کے لیے یہ رسم ضروری ہے ورنہ تباہی ہو گی، یہ بات مدینہ بھیجی گئی۔ جواب میں خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک تحریر بھیجی جس میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ، اور اگر اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو پھر اسی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
اندھے اور ہاتھی: ایک اخلاقی کہانی
ایک قدیم گاؤں میں چھ اندھے آدمی رہتے تھے جو اپنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی لایا گیا۔ چونکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا جانور نہیں دیکھا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہاتھی کے پاس جائیں گے اور اسے چھو کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔پہلے آدمی نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھی کے پہلو (پیٹ) کو چھوا۔ وہ پکار اٹھا: “کتنا ہموار اور سپاٹ ہے! ہاتھی تو بالکل ایک دیوار کی طرح ہے۔”دوسرے آدمی نے ہاتھی کے دانت کو محسوس کیا۔ اسے ایک نوکیلی اور ہموار چیز ملی۔ اس نے بحث کرتے ہوئے کہا: “نہیں، نہیں، ہاتھی بہت تیز دھار اور خطرناک ہے۔ یہ تو بالکل ایک نیزے جیسا ہے۔”تیسرے آدمی کے ہاتھ میں ہاتھی کی سونڈ آئی، جو ہل جل رہی تھی۔ اس نے کہا: “تم دونوں غلط ہو۔ ہاتھی لمبا…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
*خوفِ خدا — نجات کا راستہ*
امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو ایک عجیب انداز میں طلاق دے دی، اور یہ واقعہ بعد میں فقہ کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔” یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
تبدیلی۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب اور ناخوش آدمی ایک خستہ حال جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی گھر کی حالت بھی اس کے مزاج جیسی تھی—ہر طرف گندگی، مکڑی کے جالے اور چوہوں کا بسیرا تھا۔ لوگ اس کے گھر جانے سے کتراتے تھے، کیونکہ کوئی بھلا دوسرے کی پریشانی اور گندگی میں کیوں قدم رکھتا؟وہ آدمی سمجھتا تھا کہ اس کی تمام تر بدبختی کی وجہ اس کی غربت ہے۔ وہ اکثر سوچتا، “یہ میری قسمت ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”ایک دن اس کی ملاقات ایک پُراسرار مسافر سے ہوئی، جس کی شخصیت سے دانائی چھلکتی تھی۔ غریب آدمی نے اس کے سامنے اپنی زندگی کا رونا رویا۔ مسافر نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور اسے ایک نہایت خوبصورت گلدان تحفے میں دیا۔مسافر نے کہا: “یہ گلدان تمہیں غربت سے نجات دلائے گا۔”آدمی گلدان گھر لے آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
کنویں کے مینڈک۔۔۔!
دنیا جتنی بڑی ہوتی جائے گی، انا غرور اتنا ہی چھوٹا ہوتا جائے گا۔”وضاحت:اس تصویر میں “کنویں کے مینڈک” والی مشہور تمثیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب مینڈک صرف کنویں میں رہتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہے اور یہ کنواں ہی کل کائنات ہے۔ لیکن جب وہ باہر نکل کر بڑی دنیا اور دوسرے بڑے جانوروں (جیسے تصویر میں بیل) کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت اور اپنی چھوٹی سی حیثیت کا احساس ہوتا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:علم اور تجربہ: ہم جتنا زیادہ سیکھتے ہیں، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔عاجزی: وسعتِ ظرفی انسان کے اندر سے تکبر کو ختم کر کے عاجزی پیدا کرتی ہے۔کیا آپ کو کبھی 100% یقین رہا ہے… اور پھر بھی آپ مکمل غلط ثابت ہوئے؟بہت پہلے کی بات ہے، ایک مینڈک کئی سالوں تک ایک پرانے اور متروک کنویں کی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
تین کنویں
ایک پیاسا مسافر خشک ریگستان میں راستہ بھٹک گیا۔ اس کے پاس پانی ختم ہو چکا تھا اور وہ شدید کمزوری محسوس کر رہا تھا۔ اپنے سفر کے دوران اسے تین مختلف کنویں ملے، جن میں سے ہر ایک کی دیکھ بھال ایک الگ شخص کر رہا تھا۔پہلا کنواں: جولاہیمسافر کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو کپڑا بن رہی تھی۔ اس نے پانی مانگا تو خاتون نے بڑی ہمدردی سے اسے ٹھنڈے پانی کی بالٹی مفت میں دے دی۔ اس نے کوئی دکھاوا نہیں کیا اور خاموشی سے اپنے کام پر واپس چلی گئی۔ مسافر وہاں سے خود کو توانا اور معزز محسوس کرتے ہوئے رخصت ہوا۔دوسرا کنواں: سنگ تراشاگلے دن مسافر ایک سنگ تراش سے ملا جو پتھر تراش رہا تھا۔ سنگ تراش کچھ نہ بولا، لیکن اس نے پانی کا ایک بھاری گھڑا کھینچ کر نکالا اور مسافر کو پلایا۔ اس نے مسافر کی کمزوری کو ایک…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار سردار جی بازار گئے تو انہیں ایک دکان پر ایک چمکتا ہوا “تھرماس” (Thermos Flask) نظر آیا۔سردار جی نے حیرت سے اسے اٹھایا اور دکاندار سے پوچھا:“یار! یہ چمکتی ہوئی بوتل کیا چیز ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟” دکاندار نے بڑے فخر سے بتایا:“سردار جی! یہ کوئی عام بوتل نہیں ہے، یہ ایک کمال کی ایجاد ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ‘گرم چیز گرم’ رہتی ہے اور ‘ٹھنڈی چیز ٹھنڈی’ رہتی ہے۔” سردار جی یہ سن کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے سوچا کہ یہ تو واقعی کوئی جادوئی مشین ہے۔ انہوں نے فوراً پیسے دیے، تھرماس خریدا اور اگلے دن بڑی شان سے اسے لٹکا کر اپنے دفتر (Office) پہنچ گئے۔ دفتر میں ان کے ایک دوست نے نئی بوتل دیکھی تو پوچھا:“سردار جی! یہ نیا تھرماس لیا ہے؟ بڑا زبردست لگ رہا ہے۔” سردار جی نے سینہ…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory