Tag Archives: urdu blog

‏ایک دانا شخص کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ گاؤں والوں سے مدد طلب کی جائے۔ وہ جیسے ہی بستی میں داخل ہوا تو اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی جو چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی تھیں۔ ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی تھا جو بالکل ان ہی کی طرح زمین سے دانہ چن رہا تھا۔دانا شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور اپنی گاڑی کی خرابی بھول کر اس بوڑھے سے پوچھنے لگا: “یہ قدرت کے خلاف کیسے ممکن ہوا کہ ایک شاہین کا بچہ مرغیوں کے ساتھ زمین پر دانہ چگ رہا ہے؟”بوڑھے نے جواب دیا: “دراصل یہ بچہ جب صرف ایک دن کا تھا، تب مجھے پہاڑ سے گرا ہوا ملا۔ میں اسے اٹھا لایا، یہ زخمی تھا۔ میں نے اس کی مرہم پٹی کی اور اسے…

Read more

قسطنطنیہ کی سرحدوں سے آیا ہوا طبیب، جس کا نام ڈاکٹر لیو تھا، دمشق کی گلیوں میں اپنے علم کا ڈنکا بجا رہا تھا۔ وہ کہتا پھرتا تھا کہ اسلامی طبیب صرف کتابوں کے غلام ہیں، جبکہ وہ خود تجربات کا علم رکھتا ہے۔ ایک دن وہ سلطان صلاح الدین کے دربار میں پہنچا، اور اس نے زعم میں کہا: “سلطان! آپ کے طبیب بیماروں کو جڑی بوٹیاں کھلاتے ہیں اور دعائیں پڑھتے ہیں۔ میں سائنس لے کر آیا ہوں۔ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ زہر کو بھی دوائی بنا سکتے ہیں، اگر مقدار صحیح ہو۔” سلطان مسکرائے اور بولے: “اچھا! تو تم مقدار کا علم رکھتے ہو؟” ڈاکٹر لیو نے گردن اکڑائی: “جی ہاں! میں سانپ کے زہر کو بھی قطرہ قطرہ پی سکتا ہوں اور بچ سکتا ہوں۔” دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ کچھ نے اسے دیوانہ کہا، کچھ نے جھوٹا۔ لیکن سلطان نے خاموشی سے اپنے…

Read more

ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بھوکا مسافر ایک کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔دکاندار بڑا کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا: “تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!”مسافر بے چارہ پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سمجھنے کے بعد بولے: “فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔”جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے اور انہیں مٹھی میں…

Read more

لندن کے مضافات میں ایک پرسکون دوپہر تھی، لیکن برٹی ووسٹر کے دل میں طوفان بپا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک ایسی چیز پڑی تھی جسے دیکھ کر اچھے بھلوں کے پسینے چھوٹ جائیں: آنٹی اگاتھا کی تیار کردہ “خصوصی” فروٹ پڈنگ۔برٹی نے اپنے وفادار نوکر، جِیوز (Jeeves) کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔“جیوز! کیا تمہیں لگتا ہے کہ اگر میں اسے کھڑکی سے باہر پھینک دوں، تو یہ زمین سے ٹکرا کر واپس اچھلے گی؟” برٹی نے کراہتے ہوئے پوچھا۔“جناب، میرا خیال ہے کہ اس کی کثافت اتنی زیادہ ہے کہ یہ شاید زمین میں سوراخ کر کے سیدھی آسٹریلیا جا نکلے،” جیوز نے اپنی مخصوص سنجیدگی سے جواب دیا۔مسئلہ یہ تھا کہ آنٹی اگاتھا—جو برٹی کے مطابق ایک ایسی خاتون تھیں جو شارک مچھلیوں کے ساتھ ناشتہ کر سکتی تھیں—کمرے میں داخل ہونے والی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ برٹی کو “صحت مند” غذا…

Read more

حضرت علی علیہ السلام نے پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی…

Read more

ایک دفعہ ایک بادشاہ شاہی کھانے کے ساتھ ایک فقیر کے پاس آیا اور کھانے کی اجازت چاہی۔ فقیر نے ایک آئینہ منگوایا اور شاہی کھانے میں سے ایک لقمہ آئینے پر مَل دیا۔ پورا آئینہ دھندلا ہو گیا۔ پھر فقیر نے جو کی روٹی لی اور اسے آئینے پر پھیرا، تو آئینہ دوبارہ شفاف ہو گیا۔ فقیر نے کہا:“آپ کا کھانا دل کے آئینے کو سیاہ کر دیتا ہے، جبکہ نانِ جوئیں اسے جِلا بخشتا ہے۔ اس لیے مجھے معاف کیجیے۔” بادشاہ نے کہا:“اگر میرے لیے کوئی خدمت کرنی ہو تو بتائیں۔” فقیر نے جواب دیا:“مکھیاں اور مچھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، انہیں حکم دے دیجیے کہ مجھے نہ ستائیں۔” بادشاہ نے کہا:“یہ تو میرے حکم سے بھی ممکن نہیں۔” فقیر نے مسکرا کر کہا:“جب ایسے حقیر جانور بھی آپ کی اطاعت سے باہر ہیں اور آپ کو ان کے ختم کرنے کی قدرت نہیں، تو پھر میں…

Read more

کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کے تین بیٹے تھے اور اتفاق سے تینوں کا نام “طیب” تھا۔ جب اس شخص کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر وصیت کی: “میری جائیداد میں سے ایک طیب کو حصہ نہیں ملے گا۔” یہ کہہ کر وہ فوت ہو گیا۔باپ کے انتقال کے بعد تینوں طیب پریشان ہو گئے کہ آخر وہ کون سا طیب ہے جسے وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے انہوں نے دور دراز کے ایک بادشاہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا جو اپنے دانشمندانہ فیصلوں کے لیے مشہور تھا۔اگلے دن جب وہ سفر پر تھے تو راستے میں انہیں ایک شخص ملا جس کا اونٹ گم ہو چکا تھا۔ اس نے پوچھا: “کیا آپ لوگوں نے میرا اونٹ دیکھا ہے؟”پہلا طیب بولا: “کیا تمہارا اونٹ لنگڑا تھا؟” مالک نے کہا: “جی ہاں!”…

Read more

مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔ وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:“یہ رئیس زادے کون ہیں؟” کسی نے جواب دیا:“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔” یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:“اے اللہ!…

Read more

ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔ زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے  موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔ دن گزرتے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: “کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!” بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: “کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟” چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: “کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!” بوڑھا کسان پھر مسکرایا: “کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟” اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: “کتنی بدقسمتی ہے!” کسان نے پھر وہی جواب دیا: “کیا معلوم؟” کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج…

Read more

ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔” سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔ سٹائل مارتے ہوئے بولے:“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!” سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔ ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔ سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔ کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ…

Read more

ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…

Read more

شہر کے پرانے حصے میں ایک وسیع قبرستان تھا۔ دن میں وہاں فاتحہ پڑھنے والے آتے، مگر رات کو سناٹا اتر آتا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشی پیدا کرتی۔ اسی قبرستان میں ایک رات ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر لوگ کانپ اٹھے۔کہتے ہیں ایک شخص، جس کا نام فرید تھا، اپنی خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔ اس کے دل میں نہ خوفِ خدا رہا تھا نہ حیا کی رمق۔ شیطان نے اسے اس حد تک بہکایا کہ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان پہنچا اور ایک تازہ قبر کے قریب ایسا گناہ کیا جسے زبان بیان کرتے ہوئے بھی شرمائے۔رات گزر گئی، مگر زمین و آسمان اس گناہ کے گواہ بن گئے۔اُسی شہر کا بادشاہ نہایت نیک سیرت تھا۔ عدل و انصاف اس کی پہچان تھا۔ اسی رات اسے خواب آیا کہ ایک سفید پوش بزرگ اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ چہرہ نور…

Read more

ہلاکو خان شہر سے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بغداد کا دھواں اٹھ رہا تھا، اور وہ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر تھا، غرور تھا، اور اس غرور میں وہ اندھا تھا جو صرف طاقت کو دیکھتا ہے، حکمت کو نہیں۔ اس نے شہر میں پیغام بھیجا: “شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔ اگر نہ آیا، تو کل صبح جو زندہ بچے گا، وہ اپنی موت کو دعائیں دے گا۔” شہر میں خاموشی تھی۔ کوئی عالم آگے نہیں آ رہا تھا۔ کیوں آتا؟ جو آج تک علم کی روشنی بانٹتا رہا، وہ اب اس آگ کے سامنے کیسے جائے جو روشنی کو بجھا دیتی ہے؟ جو آج تک لوگوں کو عزت کا سبق پڑھاتا رہا، وہ اب اس بےعزتی کے سامنے کیسے جائے جو انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتی ہے؟ مگر…

Read more

بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے، ایک طاقتور بادشاہ رہتا تھا جسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہے۔ اس کے پاس ہزاروں کتابیں اور سینکڑوں استاد تھے۔ لیکن اتنی معلومات کے باوجود، وہ زندگی کے بارے میں الجھن کا شکار رہتا تھا۔اس نے صحرا میں رہنے والی ایک دانشمند عورت کے بارے میں سنا اور اس سے ملنے گیا۔ بادشاہ نے کہا، “میں وہ سب کچھ جانتا ہوں جو جاننا ممکن ہے، پھر بھی میں خود کو دانشمند کیوں محسوس نہیں کرتا؟”اس عورت نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بجائے، اس نے چائے کی کیتلی اٹھائی اور بادشاہ کے پیالے میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ پیالہ بھر جانے کے بعد بھی وہ چائے ڈالتی رہی۔ چائے پیالے سے چھلک کر میز اور بادشاہ کے کپڑوں پر گرنے لگی۔بادشاہ چلایا، “رک جائیں! کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پیالہ بھر…

Read more

ایک عظیم الشان بادشاہ کے محل میں ایک قابلِ اعتماد ساقی رہتا تھا۔ اس کی ذمہ داری سادہ مگر بہت اہم تھی: بادشاہ کے لیے جام بھرنا اور شراب کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا۔ ہر جشن، ہر معاہدہ اور ہر تقریب اسی کے ہاتھوں سے گزرتی تھی۔ شروع میں وہ بہت وفادار تھا۔ مے خالص اور بھرپور ہوتی تھی، اور بادشاہ کے مہمان اس کی طاقت اور مٹھاس کی تعریف کرتے تھے۔مگر لالچ ایک خاموش سرگوشی ہے۔ایک رات ساقی نے مٹکوں کی طرف دیکھا اور سوچا، “اگر میں اس میں تھوڑا سا پانی ملا دوں تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ میں فالتو شراب بیچ کر امیر ہو سکتا ہوں۔” اس نے بڑی احتیاط سے شاہی مشروب میں پانی ملا دیا۔ رنگ گہرا ہی رہا، خوشبو اب بھی میٹھی تھی۔ وہ اپنی اس “ہوشیاری” پر مسکرایا۔اگلی ضیافت میں اس نے پھر ایسا ہی کیا۔ اور پھر بار بار۔ہر ملاوٹ…

Read more

چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”سائیں بخش کی…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے۔ وہ مکڑا جس نے رازوں کے ذریعے حکومت کیایک وسیع و عریض جنگل کے بیچوں بیچ “اروکُو” کا ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی شاخوں میں زارتھ نامی ایک مکڑا رہتا تھا۔ وہ قد میں چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں پورے جنگل پر حکومت کرنے کی خواہش تھی۔زارتھ کے پاس نہ تو شیر جیسی طاقت تھی اور نہ ہی ہرن جیسی رفتار۔ اس کے پاس نہ مینڈھے جیسے سینگ تھے اور نہ عقاب جیسے تیز ناخن۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا— راز۔ہر رات، وہ ان شاخوں کے درمیان بڑی احتیاط سے جالا بنتا جہاں دوسرے اسے صاف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے دھاگے باریک اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن وہ بہت مضبوط تھے۔ زارتھ بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے بندر کو کچھوے کی شکایت کرتے سنا، اس نے…

Read more

280/423
NZ's Corner