Tag Archives: urdu blog

حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن   خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو دوستی کے اصل مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ دو پڑوسی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ہی گلی میں ایک نانبائی (روٹی بنانے والا) اور ایک درزی رہتے تھے۔ وہ آپس میں کافی دوستانہ تھے اور ہر صبح ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا کرتے تھے۔ایک دن درزی سنجیدہ چہرہ لیے نانبائی کی دکان پر آیا اور کہنے لگا: “آج میں بازار میں تھا، وہاں ایک آدمی چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری روٹی سڑی ہوئی ہوتی ہے اور تم گندا آٹا استعمال کرتے ہو۔ اس نے سب کو بتایا کہ تم دھوکے باز ہو! وہ تمہارا دشمن ہے!”نانبائی یہ سن کر اداس ہو گیا اور بولا: “میں سمجھ گیا، وہ میرا دشمن ہے۔”اگلے دن درزی پھر آیا اور کہنے لگا: “آج میں پارک میں تھا، وہاں ایک اور شخص سب کو بتا رہا تھا کہ تم…

Read more

یہ ایک پرانے شہر کی بات ہے جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر دل کشادہ۔ ایک مسلمان شخص رہتا تھا جس کی سب سے نمایاں عادت یہ تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد محبت اور یقین سے کہتا:“حضرت محمد ﷺ پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔”وہ یہ جملہ دکھاوے کے لیے نہیں کہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی اور دل میں کامل یقین ہوتا تھا۔ وہ دکان پر ہو، گھر میں ہو یا راستے میں چل رہا ہو — زبان پر درودِ پاک جاری رہتا۔اسی کے ساتھ والی دیوار کے پار ایک یہودی تاجر رہتا تھا۔ وہ ذہین تھا مگر دل میں حسد کی آگ رکھتا تھا۔ اسے اپنے مسلمان پڑوسی کی یہ باتیں کھٹکتی تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ یہ شخص لوگوں کو سادہ لوح بنا رہا ہے۔ایک دن اس نے دل میں سوچا:“میں اس کے یقین کو…

Read more

تصور کریں: آپ کی عمر چھبیس سال ہے۔ صرف چند دن پہلے آپ نے اپنے شوہر کو اپنے شہر کا دفاع کرتے ہوئے مرتے دیکھا۔ اب آپ اپنے جلے ہوئے گھر کی راکھ میں کھڑی ہیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائے، خود کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ مسلح آدمی بچ جانے والوں کے درمیان گھوم رہے ہیں ایک سپاہی آپ کے سامنے رک کر آپ کی عمر پوچھتا ہے۔ وہ آپ کے بچوں کو دیکھتا ہے۔ وہ تختی پر کچھ نشان لگاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ آپ کو ابھی معلوم نہیں کہ اس نشان کا کیا مطلب ہے—لیکن جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ اسی رات آپ کے بچوں کو آپ سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ آپ کا سب سے چھوٹا بچہ آپ کا نام پکارتا ہے جب اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہوتا ہے۔ آپ اسے پکڑنے کی…

Read more

پپو میاں کی بارات روانہ ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ اچانک گھر میں کہرام مچ گیا۔ پتہ چلا کہ پپو کا وہ شاہی سہرا جو خاص طور پر آرڈر دے کر بنوایا گیا تھا وہ بشیر صاحب کی پالتو بکری چبا گئی ہے۔ بشیر صاحب غصے میں بکری کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور پپو کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ بغیر سہرے کے وہ دولہا کم اور ویٹر زیادہ لگ رہا تھا۔وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا اور بینڈ والے دروازے پر دھمال ڈال رہے تھے۔ بشیر صاحب نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور پپو کے چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے بازار سے نیا سہرا لاؤ۔ مگر افسوس کہ اس دن شہر میں ہڑتال تھی اور تمام دکانیں بند تھیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پپو کا ماتھا اتنا چوڑا تھا کہ بغیر سہرے کے وہ کسی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر…

Read more

تاریخ اور داستانوں میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف بہادری نہیں بلکہ زندگی کا گہرا سبق بھی سکھا جاتے ہیں۔ رستم پہلوان کی موت بھی انہی میں سے ایک ہے۔ رستم، جو میدانِ جنگ کا بے مثال سورما تھا، جس کے نام سے دشمن کانپتے تھے، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں گرا… بلکہ اپنوں کے دھوکے کا شکار ہوا۔ اس کا سوتیلا بھائی شغاد، جو دل میں حسد اور کینہ چھپائے بیٹھا تھا، اس کی عظمت اور شہرت برداشت نہ کر سکا۔ اس نے دشمنوں سے ساز باز کر کے ایک مکروہ منصوبہ بنایا۔ شکار کے بہانے ایک ایسی جگہ گڑھے کھدوائے گئے جن میں نوکیلے نیزے گاڑ دیے گئے تھے اور اوپر سے زمین ہموار کر دی گئی تھی۔ رستم اپنے وفادار گھوڑے رخش کے ساتھ بے خبری میں اس جال میں جا گرا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کی بہادری متاثر نہ ہوئی…

Read more

*ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک بادشاہ کی انگلی کٹ گئی۔وزیر نے کہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”بادشاہ بہت غصے میں آ گیا اور وزیر کو جیل میں ڈال دیا۔لیکن وزیر پھر بھی کہتا رہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”چند دن بعد، بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں گیا،جہاں ایسے لوگ رہتے تھے جو سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے۔جب بادشاہ کو پکڑ کر قربان کرنے لگے،انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کی انگلی کٹی ہوئی ہے،تو چھوڑ دیا کیونکہ وہ عیب دار کو قربان نہیں کرتے تھے۔بادشاہ واپس آیا، وزیر کو بلایا اور کہا:“واقعی، اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔میری انگلی کٹی، میری جان بچ گئی۔اور تم جیل میں ہو کر بھی یہی کہہ رہے تھے۔”وزیر نے جواب دیا:“اگر میں جیل میں نہ ہوتا، آپ شکار پر مجھے لے کر جاتے،اور آپ کی جگہ مجھے قربان کرتے۔اب آپ سمجھ…

Read more

ٹیپو سلطان (1751-1799)، جو میسور کے حکمران تھے، کی اولاد کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زیادہ تر نسل آج بھی بھارت میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر کولکتہ (کلکتہ) میں۔ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانویوں نے ان کی فیملی کو جلاوطن کر کے ویلور اور پھر کولکتہ منتقل کیا تھا۔ آج کل ان کی اولاد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اور وہ مختلف پیشوں میں مصروف ہیں۔کولکتہ میں اولاد:تقریباً 45 براہ راست اولاد کولکتہ میں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام کاموں میں مصروف ہیں، جیسے رکشہ چلانا، سائیکل مرمت کرنا، الیکٹریشن کا کام، یا درزی کا کام کرنا۔22af2c کچھ خاندان پرنس انور شاہ روڈ اور ٹولی گنج جیسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کی مالی حالت عام ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں۔2018 میں، انہوں نے کولکتہ…

Read more

سن 1204 چوتھی صلیبی جنگ جب مغربی ممالک کے کیتھولک عیسائیوں نے آرتھوڈوکس شہر قسطنطنیہ فتح کر لیا اور خوب لوٹ مار کی انہوں نے پرانے بازنطینی بادشاہوں کی قبروں تک کو کھود ڈالا جن میں ہرقل کی قبر بھی شامل تھی اس کے سر سے انہوں نے تاج بھی اکھاڑ لیا یہ وہی ہرقل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کی صورت میں اسلام کی دعوت دی تھی اس نے خط مبارک کو عزت دی لیکن تخت جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہ کیا صلیبیوں ہرقل بادشاہ کو سب سے پہلا صلیبی سمجھتے تھے کیتھولک عیسائیوں کے خیال میں جو عیسائی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکا ہو وہ صلیبی ہی ہے اس کے علاوہ ان لٹیروں نے عظیم بازنطینی بادشاہ جسٹینین کی قبر بھی کھودی اور حیران رہ گئے کہ 639 سال بعد بھی لاش تازہ حالت میں موجود ہے…

Read more

کئی جہاز بحرِ اوقیانوس کو چاقو کی طرح چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے اگلے حصوں پر بنے ڈریگن ایسے لگتے تھے جیسے افق کو ہی کاٹ لینا چاہتے ہوں۔ چار ہزار نارویجن حملہ آور—جو طوفانوں، بھوک اور جنگ میں سخت ہو چکے تھے—اپنے لوگوں سے کہیں زیادہ دور جنوب کی طرف جا رہے تھے جتنا کسی نے پہلے کبھی ہمت نہیں کی تھی۔ وہ سفارتکار بن کر نہیں آئے تھے۔ وہ شکاری بن کر آئے تھے۔ اور وہ سمجھتے تھے کہ بحیرۂ روم ان کے لیے ایک دعوت ثابت ہوگا۔ اس مہم کی قیادت دو ایسے نام کر رہے تھے جو خود ان کی دنیا میں بھی افسانہ لگتے تھے: ہاستین، ایک تجربہ کار حکمت عملی بنانے والا، اور بیورن آئرن سائیڈ—جوان، بے رحم، اور ایک عظیم وراثت کے بوجھ تلے دبا ہوا۔ کہا جاتا تھا کہ وہ راگنار کا بیٹا تھا، اور یہ اس کے لیے…

Read more

یہ واقعہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان…

Read more

قدیم یونان کے ساحلوں کے قریب، پہاڑوں کے دامن میں ایک شہر تھا جہاں سوال کا درخت اُگا ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ درخت ہر اس شخص سے ایک سوال پوچھتا ہے جو اس کے سائے میں رکتا، اور جو جواب دے دیتا، وہ آگے بڑھ جاتاجو جواب نہ دے پاتا، وہ وہیں ٹھہر جاتا۔ ایک نوجوان فلسفی، لیون، شہر میں آیا۔ اس نے بہت کتابیں پڑھ رکھی تھیں، اس لیے اسے یقین تھا کہ درخت اسے روک نہیں سکے گا۔ وہ سائے میں آیا تو پتے سرسرائے اور سوال گونجا:“تو کیا جانتا ہے؟” لیون نے لمبا جواب دیا تعریفیں، دلیلیں، مثالیں۔ درخت خاموش رہا۔وہ اگلے دن پھر آیا۔ اس بار اس نے مختصر بات کی، مگر پھر بھی جواب ہی تھا۔ درخت پھر خاموش۔ تیسرے دن لیون خالی ہاتھ آیا۔ اس نے کہا:“میں نہیں جانتا۔” درخت کی شاخیں ہلیں، راستہ کھل گیا۔ آگے ایک تنگ گزرگاہ تھی…

Read more

   خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔ “آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔”انہوں نے کہا؛” تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔” اس نے کہا؛“اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔”“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔” اس نے جواب دیا؛“موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی…

Read more

ایک شیر شکار پر نکلا اور اپنے ساتھ ریچھ اور لومڑی کو لے گیا۔ تین شکار ہوئے ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔ واپسی پر ریچھ اپنے حصے پر فخر کرنے لگا۔ شیر نے کہا بتاؤ کیسے تقسیم کرو گے؟ریچھ بولا گائے آپ کی کیونکہ آپ بادشاہ ہیں، ہرن میرا کیونکہ میں درمیانہ ہوں اور خرگوش لومڑی کا۔ شیر نے فوراً پنجہ مار کر ریچھ کو ختم کر دیا۔ اب شیر نے لومڑی سے پوچھا تم کیسے حصہ کرو گی؟لومڑی نے کہا حضور خرگوش صبح کے ناشتے میں، گائے دوپہر کے کھانے میں اور ہرن رات کے کھانے میں تناول فرمائیں۔ شیر خوش ہوا اور پوچھا یہ تقسیم کہاں سے سیکھی؟لومڑی نے جواب دیا ریچھ کی موت سے۔ سبقعقلمند وہ نہیں جو صرف بولنا جانتا ہوعقلمند وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق سیکھ لے ہم روز جنازے دیکھتے ہیںقبرستان جاتے ہیںاپنوں کو مٹی میں اترتے دیکھتے ہیںلیکن…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

2 جولائی 1839 کو ہسپانوی کالونی کیوبا کے ساحل پر ایک تاریک رات میں، سینگبے نامی ایک سیاہ فام شخص نے ہسپانوی بحری جہاز، لا امسٹاد پر سوار اپنی زنجیروں پر لگے تالے کو کھولنے کے لیے ایک ڈھیلے کیل کا استعمال کیا۔ اس نے اور 52 دیگر غیر قانونی طور پر پکڑے گئے افریقیوں نے پھر جہاز پر قبضہ کر لیا، انہوں نے کپتان اور باورچی کو قتل کر دیا، لیکن عملے کے دو اہم افراد کو کچھ نہ کہا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سیرا لیون (افریقی ملک) کے لیے اپنے گھر روانہ ہو سکتے ہیں۔ عملے کے دونوں ہسپانوی افراد نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چپکے سے جہاز کو شمال کی طرف موڑ دیا دو مہینوں تک، بحری جہاز امریکی ساحلوں پر گھومتا رہا آخرکار اسے لانگ آئی لینڈ، نیویارک سے دریافت کر لیا گیا جہاں افریقیوں کو حراست میں لے…

Read more

ایک شخص ایک ہوٹل میں داخل ہوا اور طرح طرح کے لذیذ کھانوں کا آرڈر دیا۔ بیرا فوراً حکم کی تعمیل میں جت گیا۔ جب وہ شخص سیر ہو کر کھانا کھا چکا، تو پانی پی کر اور ڈکاریں لیتا ہوا اطمینان سے باہر نکلنے لگا۔ اچانک دو بیروں نے اسے روک لیا اور کہا: “جناب! بل تو ادا کرتے جائیے!”“بل…؟ کیسا بل؟ میرے پاس تو ایک ٹکا بھی نہیں ہے، میں بل کہاں سے ادا کروں؟” اس نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔آخرکار بیرے اسے پکڑ کر مینیجر کے پاس لے گئے۔ مینیجر نے غصہ کرنے کے بجائے ایک عجیب شرط رکھی: “دیکھو، میں تمہیں ایک صورت میں چھوڑ سکتا ہوں؛ اگر تم سامنے والے ہوٹل جا کر بھی یہی حرکت کرو۔ ہمارا بل ایک ہزار روپے بنا ہے، اگر تم وہاں جا کر دو ہزار روپے کا کھانا کھاؤ گے، تب ہی تمہاری جان بخشی ہوگی۔”“نہیں… نہیں… ہرگز…

Read more

جب طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسپین فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو وہ سو گئے اور انہیں خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے طارق! ہمت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، تم وہی حاصل کرو گے جس کے لیے تمہیں مقدر کیا گیا ہے!” پھر انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اندلس میں داخل ہو رہے ہیں۔ وہ نہایت خوشی اور سرور کی حالت میں بیدار ہوئے، کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ انہیں اس ہستی کی طرف سے بشارت دی گئی ہے جسے اللہ نے بشارت دینے کے لیے بھیجا تھا ﷺ۔ پھر وہ اپنی فوج کے ساتھ جبل الطارق میں داخل ہوئے، مگر انہوں نے انہیں کیا حکم دیا؟ انہوں نے حکم دیا کہ اپنی کشتیاں جلا دو اور فرمایا: “دشمن…

Read more

حرام تو حرام ہی ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی ۔بیٹا پیدا ہوا مگر ایک پیدائشی معذوری کے ساتھ یعنی وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔…

Read more

300/423
NZ's Corner