Tag Archives: urdu blog

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اسی لیے اس کی ماں کا خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بن جاتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔” صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے…

Read more

ہلدی، تیل اور مرچیں بیچنے والے ایک پنساری کے پاس نہایت خوبصورت اور طرح طرح کی بولیاں بولنے والا ایک طوطا تھا۔ سارا دن وہ پنساری کی دکان پر بیٹھا رہتا اور گاہکوں سے مزے مزے کی باتیں کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ پنساری کسی کام سے اپنے گھر گیا اور طوطے کو دکان کی نگہبانی کے لیے چھوڑ گیا۔ اچانک ایک بلی چوہے پر جھپٹی تو طوطا اپنی جان بچانے کے لیے ایک طرف اڑا، جس سے تیل کی کپیاں گر گئیں اور دکان میں ہر طرف تیل ہی تیل پھیل گیا۔ جب پنساری واپس آیا تو دیکھا کہ فرش پر تیل کی کپیاں گری ہوئی ہیں اور بہت سا تیل ضائع ہو چکا ہے۔ وہ غصے میں آگیا اور طوطے کی کھوپڑی پر ایسا ہاتھ مارا کہ اس کے سر کے سارے بال جھڑ گئے اور وہ گنجا ہو گیا۔ اپنے بال جھڑ جانے کا طوطے کو…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایا شام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان…

Read more

ایک دفعہ ایک آدمی گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا، اتنے میں ایک عابد کا وہاں سے گزر ھوا، عابد نے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری سنے گا۔ بس تم بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ میری چند دعائیں الله کے پاس پہنچا دیں۔پھر اس نے آرزوئیں گنوانا شروع کر دیں۔ کہ مجھے یہ چاہیے، وہ چاہیے، فلاں چاہیے وغیرہ عابد بولا بس بس میں سمجھ گیا ہوں۔ وہ بولا کہ کیا سمجھ گئے ہو۔؟ میری بات تو ابھی مکمل ھی نہیں ھوئی۔ عابد نے کہا کہ میں الله تعالٰی سے کہہ دوں گا کہ تیرا فلاں بندہ کہہ رھا تھا کہ اے مالک! مجھے اپنے علاوہ سب کچھ دے دو۔ بات اتنی ہے کہ ہم اس مالک، اس پالنے والے رازق سے اس کے قرب کے سوا…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” 😅😅😅#منقول

خشک سالی کے دنوں میں جب پورا جنگل بھوک سے تڑپ رہا تھا، جنگلی چوہے کو گاؤں کے کنارے ایک عجیب و غریب جھونپڑی ملی۔ اس جھونپڑی کے پیچھے پتوں میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ ہر رات، جب چاند نکلتا، وہ دروازہ خود بخود کھل جاتا اور اس میں سے شکرقندی (yam)، تاڑ کے تیل (palm oil) اور بھنے ہوئے مکئی کی سوندھی خوشبوئیں آتی تھیں۔جنگلی چوہا بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایک شام، جب آس پاس کوئی نہ تھا، وہ دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر ایک ایسا گودام تھا جو صبح ہوتے ہی خود بخود دوبارہ بھر جاتا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھایا، اپنے گالوں میں خوراک بھری اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے نکل گیا۔ وہ راتوں رات وہاں اکیلا اور خاموشی سے جاتا رہا۔لیکن لالچ نے اس کی احتیاط ختم کر دی۔ایک رات، جنگلی چوہے نے چھپکلی اور گلہری…

Read more

🤣جب لفٹ میں پھنسے لوگوں نے ایک دوسرے کو بھوت           سمجھ لیا 🤣 آفس کی عمارت پرانی تھی اور لفٹ اکثر نخرے دکھاتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب تین لوگ لفٹ میں سوار ہوئے جن میں ایک پپو میاں، دوسرے ایک صاحب جو سفید کفن نما لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے، اور تیسری ایک خاتون تھیں جن کے سر پر بہت زیادہ ٹیلکم پاؤڈر گرا ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے ہو کر آئی تھیں۔اچانک ایک زوردار جھٹکا لگا، لائٹ چلی گئی اور لفٹ آدھے راستے میں پھنس گئی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا اور لفٹ کے اندر ہوا کا گزر بھی بند ہو گیا۔ خاموشی ایسی کہ دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔ پپو نے ڈر کے مارے موبائل کی ٹارچ جلائی، لیکن ٹارچ کی روشنی نیچے سے اوپر کی طرف پڑی۔ سفید کرتے والے صاحب کا چہرہ روشنی میں ایسا خوفناک لگا کہ…

Read more

جب مرغے نے آدھی رات کو اذان دے کر پورے محلے کو جگا دیاپپو کو پرندے پالنے کا بہت شوق تھا، اسی شوق میں وہ ایک ایسا مرغہ لے آیا جو شکل سے جتنا معصوم تھا، عقل سے اتنا ہی پیدل۔ اس مرغے کا بائیولوجیکل کلاک بالکل الٹا تھا۔ وہ صبح صادق کے بجائے تب اذان دیتا تھا جب اس کا موڈ ہوتا۔ایک رات محلے میں بڑی خاموشی تھی، سب گہری نیند سو رہے تھے۔ پپو کے کمرے کی کھڑکی کے پاس مرغے نے دیکھا کہ گلی کی اسٹریٹ لائٹ اچانک تیز چمکی ہے۔ مرغے نے سمجھا شاید سورج نکل آیا ہے اور ڈیوٹی کا وقت ہو گیا ہے۔ اس نے سینہ تان کر ایک ایسی زوردار اور لمبی ککڑوں کڑوں ماری کہ پورے محلے کے کتے ایک ساتھ بھونکنے لگے۔مرغے کی آواز سن کر محلے کے سب سے ضعیف بزرگ، چچا شکور، ہڑبڑا کر اٹھے۔ انہوں نے گھڑی دیکھے…

Read more

جب پپو نے اسکول کی چھٹی کے لیے اپنی ہی وفات کا جھوٹا لیٹر لکھ دیاپپو کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ صبح اٹھتے ہی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو پپو نے پینترا بدلا۔ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ہونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم پپو آج صبح اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ…

Read more

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا“تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا” یہ سن کر سب کے دل کانپ گئےوقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئےصرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہاحتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے مگر نبی…

Read more

ایک گاؤں میں روٹی کھاتے ہوئے ایک میراثی کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا:“امّاں! اگر چوہدری مر جائے تو گاؤں کا نیا چوہدری کون بنے گا؟”ماں نے جواب دیا: “بیٹا! اس کا بیٹا بنے گا۔”بیٹے نے پھر سوال کیا: “اگر وہ بھی مر گیا تو؟”ماں بولی: “پھر چوہدری کا بھتیجا یا اس کے چاچے کا پتر (بیٹا) کرسی سنبھالے گا۔”بیٹے نے اشتیاق سے دوبارہ پوچھا: “اچھا امّاں! اگر وہ بھی نہ رہا… تو پھر؟”اب ماں بیٹے کے دل میں چھپی مراد اور ذہن میں پلنے والی ‘کھچڑی’ سمجھ گئی تھی۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور غصے سے کہا:“پتر! جے سارا پنڈ (گاؤں) وی مر جائے، تیکوں چوہدری فیر وی کسے نئیں بنانڑاں۔ چپ کر تے ٹُکر کھا!”(ترجمہ: بیٹا! اگر سارا گاؤں بھی مر جائے، تب بھی تمہیں کسی نے چوہدری نہیں بنانا۔ خاموشی سے اپنی روٹی توڑو!)حاصلِ کلامسچ تو یہ ہے کہ اس کہانی کا وہ بچہ…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

ایک سادہ دل اور ذرا سی وہمی تائی ایک دن شہر جانے کا ارادہ کرتی ہے۔ صبح سویرے دوپٹہ سنبھالتی، تھیلا اٹھاتی اور بس میں بیٹھ کر شہر روانہ ہو جاتی ہے۔ دل مضبوط کر کے بازار میں داخل ہوتی ہے۔ کافی دکانیں دیکھنے کے بعد اُسے ایک مضبوط سی لکڑی کی چارپائی پسند آ جاتی ہے۔ دکاندار بڑی تعریفیں کرتا ہے:“تائی جی! ایسی چارپائی پورے شہر میں نہیں ملے گی، خالص لکڑی، مضبوط بُنائی!” تائی بھی تھوڑا بھاؤ تاؤ کرتی ہے، مگر آخرکار پانچ سو روپے میں سودا طے ہو جاتا ہے۔ وہ خوش خوش چارپائی رکشے پر رکھوا کر گاؤں واپس آ جاتی ہے۔ جیسے ہی محلے میں داخل ہوتی ہے، لوگ حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ایک پڑوسی نے پوچھ ہی لیا:“او تائی! یہ چارپائی کتنے کی لی ہے؟” تائی نے فخر سے جواب دیا:“پانچ سو روپے کی لی ہے!” یہ سن کر پڑوسی نے آنکھیں بڑی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے شہر میں ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کروایا اور پورے شہر میں یہ منادی (اعلان) کروا دی کہ ہر شہری اس تالاب میں روزانہ ایک گلاس دودھ ڈالے گا، تاکہ بعد میں اسے غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جا سکے۔جب رات ہوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا:“یہ شہر اتنا بڑا ہے اور اس کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ اگر ہر شخص ایک ایک گلاس دودھ ڈالے گا تو تالاب تو بھر ہی جائے گا۔ ایسے میں اگر صرف میں ایک گلاس نہیں ڈالوں گا، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔”حیرت انگیز طور پر، اس رات شہر کے ہر فرد نے بالکل یہی سوچا اور اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی۔اگلی صبح جب بادشاہ تالاب کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران…

Read more

شادی کے پہلے مہینے کے اختتام پر ماں نے اپنی بہو سے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر کہا:“بیٹی! تم نے میرے بیٹے کو مسجد میں نماز کا پابند بنا دیا۔ تم نے تیس دنوں میں وہ کر دکھایا جس میں میں تیس سال کامیاب نہ ہو سکی۔” بہو نے ادب سے جواب دیا:“ماں جی! کیا آپ نے پتھر اور خزانے کی کہانی سنی ہے؟” کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا پتھر لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس نے پتھر پر 99 وار کیے، مگر وہ نہ ٹوٹا اور وہ تھک کر چلا گیا۔کچھ دیر بعد دوسرا شخص آیا۔ اس نے کلہاڑی اٹھائی اور ایک ہی ضرب میں پتھر ٹوٹ گیا۔ حیرت انگیز طور پر پتھر کے نیچے سونے سے بھری تھیلی موجود تھی۔ دوسرے شخص نے کہا: “یہ خزانہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا ہے!”پہلا شخص…

Read more

ایک لڑکے کا اپنی کلاس فیلو لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا تھا جس کا اس لڑکے کے گھر والوں کو بھی پتہ چل گیا۔ گھر والوں نے اسے سمجھایا کہ اس کام سے باز آجاؤ کل کلاں اگر لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو تمھارے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔گھر والے لڑکے کو بار بار سمجھاتے رہے مگر چونکہ لڑکی بھی لڑکے کیساتھ ملی ہوئی تھی اس لیے وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا عشق کا بھوت سوار تھا قصہ مختصر لڑکی کےگھر والوں کو بھی پتہ چل گیا اور ایک دن انھوں نے لڑکے کو پکڑکر خوب درگت بنائی ٹانگیں بازو توڑ دئیے اور اس کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ اپنے لاڈلے کو اٹھا لے جاؤ۔ گھر والوں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور ہسپتال لے گئے اور علاج شروع کرایا۔ کئی دن ٹکوریں…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک شخص ریلوے میں ملازمت کے لیے انٹرویو دے رہا تھا۔افسر نے سوال کیا: “فرض کرو، دو ٹرینیں ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے سے آ رہی ہوں، تو تم کیا کرو گے؟”امیدوار نے جواب دیا: “جناب! میں فوراً کانٹا بدل دوں گا۔”افسر بولا: “اگر کانٹا خراب ہو، تب کیا کرو گے؟”امیدوار: “میں پٹری پر کھڑا ہو کر لال کپڑا ہلاؤں گا۔”افسر: “اور اگر ڈرائیور نہ دیکھ رہا ہو، تو؟”امیدوار: “میں مسافروں پر چیخوں گا کہ زنجیر کھینچ کر گاڑی روک دیں۔”افسر نے مسکراتے ہوئے کہا: “اگر مسافر بہرے ہوں، تب کیا ہو گا؟”امیدوار (اطمینان سے): “پھر میں اپنی پھوپھو کو بلا لاؤں گا۔”افسر حیران ہو کر بولا: “پھوپھو؟ وہ کیوں؟ کیا تمہاری پھوپھی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ٹرین روک لیں گی؟”امیدوار نے جواب دیا: “نہیں جناب! انہیں ٹرینوں کی ٹکر دیکھنے کا بہت شوق ہے۔” 😅😅😅 #photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralchallenge #photographychallengeraphychallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #motivation…

Read more

قدیم زمانے میں، پہاڑوں اور نمکین ہواؤں کے درمیان ایک خاموش بستی تھی جسے لوگ خاموش در کہتے تھے۔ اس بستی میں ایک جوان کمہار رہتا تھا، نام تھا نَویر۔ وہ مٹی کو برتن بناتے وقت گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے مٹی اس سے کوئی راز کہہ رہی ہو۔ لوگ کہتے تھے کہ نَویر کی خاموشی عام نہیں، وہ سن سکتا ہے ہوا کی باتیں، آگ کی سرگوشیاں، اور مٹی کے دل کی دھڑکن۔ ایک سال قحط آیا۔ کنویں خشک ہونے لگے۔ بزرگوں نے کہا کہ پہاڑ کے پیچھے ایک پرانا چشمہ ہے، مگر اس تک جانے والا راستہ “بولتی رات” سے گزرتا ہے، وہ رات جس میں ہر سایہ سوال کرتا ہے، اور ہر سوال کا جواب دل سے دینا پڑتا ہے۔ جو جھوٹ بولے، راستہ گم ہو جائے۔ نَویر نے برتنوں کا پہیہ روکا اور تنہا روانہ ہوا۔ رات اتری تو سائے قریب آئے۔ پہلا سایہ بولا:“تم پانی کیوں…

Read more

دو سادہ لوح دیہاتی دوست شہر گھومنے آئے۔ رات کو وہ ایک “مسافر خانے” (سرائے) میں ٹھہرے۔جیسے ہی انہوں نے بتی بجھائی اور سونے کے لیے لیٹے، مچھروں نے حملہ کر دیا۔مچھروں نے کاٹ کاٹ کر ان کا برا حال کر دیا۔ پہلا دوست تنگ آ کر اٹھ بیٹھا اور بولا:“یار! یہ مچھر تو بہت ظالم ہیں، یہ تو ہمیں سونے نہیں دیں گے۔ کوئی ترکیب نکالو۔” دوسرے دوست نے دماغ لڑایا اور بولا:“بھائی! ایسا کرتے ہیں کہ کمرے کا ‘چراغ’ (بتی) بجھا دیتے ہیں۔ جب اندھیرا ہو جائے گا تو مچھروں کو ہم نظر ہی نہیں آئیں گے اور وہ ہمیں کاٹ نہیں سکیں گے۔” پہلے دوست کو بات پسند آئی۔ اس نے پھونک مار کر چراغ بجھا دیا۔کمرے میں گھپ اندھیرا ہو گیا۔ دونوں اطمینان سے لیٹ گئے۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کھلی کھڑکی سے ایک “جگنو” (وہ کیڑا جس کی دم میں روشنی ہوتی…

Read more

ایک نوجوان نہایت بدکار تھا لیکن جب وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا اسکو کاپی میں نوٹ کر لیتا تھا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک عورت نہایت غریب اس کے بچے تین دن سے بھوکے تھے وہ اپنے بچوں کی پریشانی برداشت نہ کر سکی تو اس نے اپنے پڑوسی سے ایک عمدہ ریشم کا جوڑا ادھار لے لیا وہ اسے پہن کر نکلی تو اس نوجوان نے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا جب اسکے ساتھ بدکاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت روتے ہوئے تڑپنے لگی اور کہا میں فاحشہ یا زانیہ نہیں ہوں میں بچوں کی پریشانی کی وجہ سے اس طرح نکلی ہوں۔ جب تم نے مجھے بلایا تو خیر کی امید ہوئی۔اس نوجوان نے اسے کافی درہم دئے اور رونے لگا اور گھر آ کر اپنی والدہ کو پورا واقعہ سنایا۔ اسکی والدہ اسکو ہمیشہ معصیت “برائی” سے روکتی منع کرتی تھی آج یہ…

Read more

320/423
NZ's Corner