بلاعنوان۔۔۔😁!
ایک بادشاہ نے اپنے سالے کی سفارش پر ایک آدمی کو محکمۂ موسمیات کا سربراہ بنا دیا۔ دربار میں سب سمجھ گئے کہ قابلیت سے زیادہ سفارش کام آئی ہے، مگر کسی میں ہمت نہ تھی کہ کچھ کہہ سکے۔ 😏 ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے نکلا۔ حسبِ عادت اُس نے نئے وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے پورے اعتماد سے سینہ تان کر عرض کیا:“حضور! آج موسم نہایت خوشگوار ہے، بارش کا کوئی خدشہ نہیں۔” بادشاہ مطمئن ہو کر لشکر سمیت روانہ ہو گیا۔ راستے میں ایک کمہار ملا۔ اُس نے ادب سے جھک کر کہا:“جہاں پناہ! میرا خیال ہے کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو جائے گی، بہتر ہے آج شکار ملتوی کر دیں۔” بادشاہ نے اسے معمولی آدمی سمجھ کر ڈانٹا۔ غصے میں آ کر دو جوتے بھی رسید کر دیے اور بولا، “ہمیں اپنے وزیر پر زیادہ بھروسہ ہے!” مگر ابھی…
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک قدیم شہر میں بادشاہ نے اعلان کیا کہ محل کے نیچے ایک خفیہ کمرہ ہے جہاں بے پناہ خزانہ رکھا ہے، مگر دروازہ صرف اسی پر کھلے گا جو دھوکے کے بغیر اندر داخل ہو سکے۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ایک اندھا تھا، دوسرا بہرا۔ نگہبانوں نے ہنسی میں کہا:“یہ تو خود ہی ناکام ہیں۔” اندھا بولا:“میں راستہ نہیں دیکھ سکتا، مگر قدموں کی نیت جانچ سکتا ہوں۔”بہرا بولا:“میں آواز نہیں سنتا، مگر آنکھوں کے فریب پہچان لیتا ہوں۔” دونوں نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں دیواروں سے آوازیں آئیں:“ادھر آؤ، خزانہ یہیں ہے!”بہرا نہ رکا۔آگے زمین پر سنہری روشنی تھی اندھا ٹھٹھک گیا:“یہ چمک سچی نہیں، یہ جلدی کی آزمائش ہے۔” آخر وہ کمرے تک پہنچے۔ دروازہ بند تھا۔اندر سے آواز آئی:“اپنی کمزوری بتاؤ!” اندھا بولا:“میں دیکھ نہیں سکتا، اس لیے میں فریب سے محفوظ ہوں۔”بہرا بولا:“میں سن نہیں سکتا، اس لیے میں جھوٹ سے محفوظ ہوں۔”…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
جب طوفان حد سے بڑھ جائے، تو تجربہ ہی کام آتا ہے۔ یان نے پیٹر کو تو بچا لیا، مگر خود سمندر کی ایک ابدی کہانی بن گیا۔ ⚓️✨ضرور پڑھیں ہالینڈ کے پس منظر میں لکھی گئی یہ دل چھو لینے والی تحریر۔ ہالینڈ کے ایک دور افتادہ ساحلی گاؤں میں، جہاں ہوا کے دوش پر چلتی پرانی چکیاں آج بھی وقت کا پہیہ تھامے ہوئے محسوس ہوتی تھیں، “یان” نامی ایک معمر ملاح اپنی زندگی کی شامیں گزار رہا تھا۔ اس کے چہرے کی گہری لکیریں شمالی سمندر کی تند و تیز لہروں اور نمکین ہواؤں کے ساتھ عشروں کی رفاقت کا پتہ دیتی تھیں۔ یان کے پاس ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی تھی جس کا نام اس نے ‘ایلسا’ رکھا تھا۔ گاؤں کے نوجوان ملاح اب جدید انجنوں اور مشینی جالوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑتے تھے اور اکثر یان کی پرانی کشتی دیکھ کر مسکراتے، لیکن…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک انگریز، ایک ہندو اور ایک مسلمان چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ معاملہ چونکہ شاہی دربار کا تھا، اس لیے بادشاہ سلامت نے فیصلہ کیا کہ مثال قائم کی جائے۔ وزیروں کو حکم ملا کہ تینوں کو میدان میں لایا جائے اور شہر کے سب لوگوں کو بھی بلایا جائے تاکہ سب دیکھ لیں کہ دربار میں چوری کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔اعلان ہوا:“تینوں کو ڈیڑھ سو ڈیڑھ سو کوڑے مارے جائیں گے، اور سزا سے پہلے ہر ایک کی ایک خواہش بھی پوری کی جائے گی!” سب سے پہلے انگریز کو بلایا گیا۔ جلاد نے کوڑے سنبھالے تو بادشاہ نے پوچھا:“تمہاری خواہش؟”انگریز فوراً بولا:“میرے جسم پر نرم روئی باندھ دی جائے۔”بادشاہ نے اجازت دی۔ روئی باندھی گئی، کوڑے پڑے… مگر پھر بھی انگریز چیخنے چلانے لگا۔ اب باری آئی ہندو کی۔ اس نے انگریز کا حال دیکھ رکھا تھا، فوراً بولا:“میرے اوپر ڈبل…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
عربی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے بدنام تھے۔ اسی بستی کے ایک مرد اور عورت نے خفیہ طور پر، مگر شرعی تقاضوں کے مطابق قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا۔کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی۔ شوہر نے نہ صرف بیوی کو گھر سے نکال دیا، بلکہ اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ خاتون انصاف کے لیے شہر کے قاضی کی عدالت میں پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔قاضی نے کہا: “تمہارے اس نکاح کی تو کسی کو خبر ہی نہیں۔”خاتون نے اصرار کیا: “جناب! ہمارا نکاح عین شریعت کے مطابق ہوا تھا۔”قاضی نے پوچھا: “کیا کوئی گواہ ہے؟”خاتون نے جواب دیا: “جی قاضی صاحب! دو گواہ تھے، جن کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا گیا تھا۔”قاضی نے شوہر اور گواہوں کو طلب کر لیا، مگر انہوں نے بھری عدالت…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
پنجاب کے ایک مشہور تاجر کی آخری وصیت تھی کہ اس کی قبر صرف رات کے وقت بنائی جائے۔ قبر تیار ہوئی تو قبر کنے سے ایک عجیب آواز آئی، جس نے سارے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔یہ واقعہ فیصل آباد شہر کے نواحی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع “غازی آباد” نامی چھوٹے سے قصبے کا ہے۔ غازی آباد اپنی کپڑے کی ملیں اور دیہاتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس قصبے کے دل میں آباد تھے حاجی اللہ وسایا۔ حاجی صاحب کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ان کا شمار ضلع بھر کے بڑے کپڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ان کی “اللہ وسایا ٹیکسٹائلز” کی دکان اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک ہی بار میں بیس گاہک آسانی سے کپڑے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن حاجی صاحب کی شہرت ان کی دولت سے نہیں، بلکہ ان کی بے پناہ سخاوت اور عجیب و غریب عادات سے تھی۔حاجی صاحب…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔۔🙂!
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ، اسے توحید کی دعوت دو اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرو، تو وہ بے خوف ہو کر فرعون کے دربار میں پہنچے۔ حضرت موسیٰؑ نے فرمایا:“میں رب العالمین کا رسول ہوں، بنی اسرائیل کو میرے ساتھ آزاد کر دو۔” فرعون نے غرور سے کہا:“تمہارا رب کون ہے؟ اور تم اپنی سچائی کی کیا نشانی لائے ہو؟” اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰؑ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، اور وہ ایک زندہ اور خوفناک سانپ بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو وہ روشن اور چمکتا ہوا سفید تھا۔ مگر تکبر میں ڈوبا ہوا فرعون ان واضح معجزات کو بھی جادو کہہ کر ٹال گیا۔ اس نے پورے مصر سے بڑے بڑے جادوگر جمع کر لیے۔ ایک عظیم تہوار کے دن، جب ہزاروں لوگ میدان میں جمع تھے، مقابلہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایاشام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان نے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
Intitulado ۔۔۔🙂!
El joven león que desobedeció a los ancianosHace mucho tiempo, cuando la hierba crecía larga y dorada en las praderas bajo el sol abrasador, vivía un joven león llamado Kiron. El pelo de su cuello apenas comenzaba a crecer y su pecho era orgulloso y ancho.Kiron era poderoso, más poderoso que muchos otros leones de su edad, y lo sabía.Todas las tardes, los leones viejos se reunían bajo la ancha acacia y hablaban de las viejas costumbres: cuándo cazar, cuándo descansar y qué senderos eran peligrosos. Todos los leones jóvenes escuchaban atentamente.Pero Kiron no escuchaba.Movía la cola y decía: “¿Por qué debería escuchar estas viejas historias? Tengo las piernas rápidas, mis dientes afilados. Haré mi propio camino”.Los viejos leones se miraron en silencio, pero no dijeron nada. Una vez, durante una sequía, cuando la presa escaseaba, el león más viejo advirtió a la tribu:“No cacen cerca del barranco rocoso. El…
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ جوان شیر جس نے بزرگوں کی بات نہ مانیبہت عرصہ پہلے کی بات ہے، جب تپتے سورج تلے گھاس کے میدانوں میں لمبی اور سنہری گھاس اگی ہوئی تھی، وہاں کیرون نامی ایک جوان شیر رہتا تھا۔ اس کی گردن کے بال ابھی گھنے ہونا شروع ہوئے تھے اور اس کا سینہ فخر سے چوڑا رہتا تھا۔کیرون طاقتور تھا—اپنی عمر کے بہت سے دوسرے شیروں سے زیادہ طاقتور—اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔ہر شام، بوڑھے شیر ببول کے چوڑے درخت کے نیچے جمع ہوتے اور پرانے طریقوں کی باتیں کرتے: شکار کب کرنا ہے، آرام کب کرنا ہے، اور کون سے راستے خطرناک ہیں۔ تمام چھوٹے شیر بڑے غور سے سنتے تھے۔مگر کیرون نہیں سنتا تھا۔وہ اپنی دم ہلاتا اور کہتا: “میں یہ پرانی کہانیاں کیوں سنوں؟ میری ٹانگیں تیز ہیں، میرے دانت نوکیلے ہیں۔ میں اپنا راستہ خود بناؤں گا۔”بزرگ شیروں نے خاموشی سے ایک دوسرے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ ایمان تازہ کر دینے والا واقعہ حضرت عزیر علیہ السلام کا ہے، جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے تھے۔ جب بنی اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عذاب نازل ہوا۔ بخت نصر نامی ایک ظالم بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کیا، بے شمار لوگوں کو قتل کیا، بہت سوں کو جلا وطن کیا اور ہزاروں کو قید کر لیا۔ شہر کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور وہ ویران ہو کر رہ گیا۔ حضرت عزیر علیہ السلام بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب آپ قید سے آزاد ہوئے تو ایک دن اپنے گدھے پر سوار ہو کر بیت المقدس پہنچے۔ شہر کی بربادی اور سنسانی دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا۔ ویرانی کا یہ عالم تھا کہ درختوں پر پکے پھل موجود تھے مگر توڑنے والا کوئی نہ تھا۔ اسی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
خشک سالی کی ماری ہوئی ایک وادی میں، جانوروں نے ایک بکرے کو قحط سے بچاؤ کی امداد کا نگران مقرر کیا۔ وہ بہت محنتی نظر آتا تھا، ہمیشہ سوچ سمجھ کر جگالی کرتا اور اس نے وعدہ کیا کہ جب تک بارشیں نہیں ہوتیں، وہ خوراک کے ذخیرے کی حفاظت کرے گا۔جانوروں نے اس پر بھروسہ کیا۔ گدھے نے اناج کی بوریاں گودام تک پہنچائیں، مرغیوں نے انڈے دیے اور گایوں نے دودھ فراہم کیا۔ بکرے کی ذمہ داری تھی کہ وہ یہ سامان بھوکے جانوروں میں برابری سے تقسیم کرے۔لیکن بکرے کی اپنی بھوک مٹتی نہیں تھی۔ ہر رات وہ دبے پاؤں گودام میں جاتا، اناج کھاتا، دودھ پیتا اور انڈے ہڑپ کر جاتا۔ جلد ہی اس کا پیٹ پھول کر بڑا ہو گیا جبکہ باقی جانور دبلے ہوتے گئے۔جب جانور اپنا حصہ لینے آئے تو بکرے نے بہانے بنانا شروع کر دیے:“چوہے چرا کر لے گئے۔”“ہوا اسے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔😁!
بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بھیڑیوں کے ایک غول اور بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے درمیان دشمنی طویل ہوتی چلی گئی۔ بھیڑیے مسلسل کسی موقع کی تلاش میں تھے، لیکن بھیڑوں کی حفاظت وفادار اور بہادر رکھوالے کتے (Sheepdogs) کر رہے تھے۔ جب بھی بھیڑیے حملہ کرتے، کتے شور مچا کر سب کو خبردار کر دیتے اور ان کا راستہ روک لیتے۔ اسی وجہ سے بھیڑیوں کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے تھے۔ 🐺چنانچہ بھیڑیوں نے ایک میٹنگ کی اور اپنا ایک “سفیر” بھیڑوں کے پاس بھیجا، جس نے بڑے معصومانہ اور نرم انداز میں کہا:“پیاری بھیڑو! ہم ہر وقت اس تناؤ میں کیوں رہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اصل فسادی تو یہ رکھوالے کتے ہیں۔ یہ شور مچاتے ہیں، غصہ دکھاتے ہیں اور ہمیشہ بیچ میں مداخلت کرتے ہیں—اسی وجہ سے ہم ‘جوابی کارروائی’ پر مجبور ہو جاتے ہیں اور…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک ریاست تھی جس کا بادشاہ عقل، فہم اور تدبر میں مشہور تھا۔اس کے دربار میں خوشامد کی اجازت نہ تھی، چاپلوسی وہاں جرم سمجھی جاتی تھی۔بادشاہ کا یقین تھا کہ خوشامدی دیمک کی طرح ہوتے ہیں، جو ایک بار اقتدار کے گرد بس جائیں تو سچ، ضمیر اور حقیقت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اسی لیے اس کے گرد صرف وہ لوگ ہوتے تھے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے تھے۔وزیر، مشیر اور اہلِ دربار جانتے تھے کہ یہاں تعریف نہیں، دلیل کام آتی ہے۔ بادشاہ کا ایک اصول تھا:اگر کوئی شخص عقل، ذمہ داری یا فہم میں غیر معمولی سمجھا جاتا، تو بادشاہ پہلے اس کا امتحان لیتا۔جو اس امتحان میں پورا اترتا، اسے ریاست کا اہم عہدہ سونپ دیا جاتا، تاکہ اس کی صلاحیتیں ریاست کے کام آ سکیں۔ ایک دن بادشاہ نے وزیروں سے سوال کیا:“کیا اس ریاست میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو عقل…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ ملا نصر الدین کو شہر کے ایک بہت بڑے امیر آدمی نے کھانے کی دعوت دی۔ ملا اس وقت اپنے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، اس لیے وہ اسی پرانے اور پیوند لگے ہوئے لباس میں سیدھے دعوت پر چلے گئے۔جب وہ امیر آدمی کے دروازے پر پہنچے، تو دربان نے ان کے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور بڑی بدتمیزی سے دھکے دے کر باہر نکال دیا کہ “تم جیسے فقیروں کا یہاں کیا کام؟”ملا خاموشی سے وہاں سے چلے گئے، گھر پہنچے، غسل کیا اور اپنا بہترین زرق برق ریشمی جبہ پہنا، سر پر بڑی سی پگڑی سجائی اور دوبارہ اسی محفل میں پہنچے۔ اس بار دربانوں نے انہیں جھک کر سلام کیا اور بڑی عزت کے ساتھ اندر لے گئے۔جب ملا نے کھانے کو مخاطب کیامیزبان نے ملا کو سب سے اونچی نشست پر بٹھایا اور ان کے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔”یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا کہ: “جی ہاں، طلاق ہو چکی ہے اور اب ملکہ آپ کی زوجہ نہیں رہیں۔”لیکن اس مجلس میں ایک نوجوان مفتی بھی موجود تھا، جو ایک طرف خاموش بیٹھا رہا۔ بادشاہ نے…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
مکّہ کی پرانی گلیوں میں، جہاں صحرائی ریت عہدِ جاہلیت کے قصّے سنایا کرتی تھی، ایک شخص رہتا تھا جس کا نام عبد اللہ بن جدعان تھا۔ وہ بنو تیم کا سردار اور ابو بکر صدیق کے والد کا چچازاد تھا۔ عبد اللہ اپنی زندگی کے آغاز میں ایک نہایت غریب اور بے سہارا آدمی تھا۔ وہ بدحالی، برائیوں اور جرائم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، یہاں تک کہ اس کی قوم اور قبیلہ اس سے متنفر ہوگئے؛ بلکہ اس کے اپنے باپ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔ عبد اللہ تنہا، بھٹکتا ہوا، مایوسی سے بوجھل دل کے ساتھ مکّہ کی گھاٹیوں میں آوارہ پھرتا تھا۔ ایک دن جب وہ مکّہ کے گرد و نواح کے پہاڑوں میں چل رہا تھا تو اسے ایک پہاڑ میں ایک پراسرار دراڑ نظر آئی۔ تجسس کے باعث—یا شاید اپنی تکلیفوں کے خاتمے کی خواہش میں—وہ اس کے قریب گیا۔ اچانک…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
دُلا بھٹی۔۔۔⚔️!
سلطان سارنگ خان گکھڑ کے بعد، اب باری ہے پنجاب کے اس “باغی” ہیرو کی جس کا نام پنجاب کے لوک گیتوں، واروں اور داستانوں کا لازمی حصہ ہے پنجاب کے سورمے سیریز کی پانچویں قسط کے لیے سب سے موزوں اور مقبول ترین شخصیت دُلاَ بھٹی ہیں عبداللہ بھٹی پنجاب کا وہ رابن ہڈ ہے جس نے شہنشاہِ وقت کو للکارا اور اگر سارنگ خان نے شیر شاہ سوری کی مخالفت کی تھی، تو دُلا بھٹی نے مغل سلطنت کے سب سے طاقتور دور (شہنشاہ اکبر کے عہد) میں بغاوت کا علم بلند کیا دُلا بھٹی حقیقتاً عوامی ہیرو تھا سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ کسانوں اور مظلوموں کا مسیحا بھی تھا مغل شہنشاہ اکبر کے لگائے گئے نئے زرعی ٹیکسوں کے خلاف اس کی مزاحمت نے تختِ اکبر کو ہلا کر رکھ دیا تھا آج بھی پنجاب میں “لوہڑی” کا تہوار…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جعلی پیر صاحب کا معمول تھا کہ وہ صرف جمعرات کے دن اپنے مریدوں یا دیگر حاجت مندوں کو تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ جب فاؤنٹین پین نئے نئے ایجاد ہوئے تو پیر صاحب نے اسے بھی اپنی جملہ کرامات میں شامل کر لیا۔ وہ اس طرح کہ جمعرات کو وہ اپنے قلمدان کی روشنائی پھنکوا کر خالی دوات اپنے سامنے رکھ لیتے تھے۔ البتہ فاؤنٹین پین کو سیاہی سے بھر کر قلمد ان میں سجا لیتے تھے۔ غرض مند لوگ دور دور سے پاپیادہ تعویذ لینے آتے تھے۔ پیر صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کر کے اپنی حاجت بیان کرتے تھے۔ پیر صاحب تعویذ لکھنے کے لیے فاؤنٹین چین کو دوات میں ڈبوتے تھے۔ اسے خالی پا کر قلم واپس رکھ دیتے تھے اور سرد آہ بھر کر افسوس کرتے تھے۔ ”او ہو آج تو سیاہی ختم ہے۔ خیر اگلی جمعرات کو آنا۔ تعویذ لکھ دوں…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory