Category Archives: NZ’s Blogs

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا “شیوانا” (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. “میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں..” شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی…

Read more

ایک مشرقی سلطنت میں ایک بادشاہ تھا جسے سچ سننے سے شدید الرجی تھی۔اگر کوئی سچ بول دیتا تو بادشاہ کو فوراً بخار آ جاتا، اور بولنے والے کو جیل۔اس لیے دربار میں سب لوگ صرف ایک ہی جملہ بولتے تھے“جہاں پناہ! آپ جیسا عقل مند بادشاہ تاریخ میں کبھی نہیں آیا۔” ایک دن بادشاہ نے حکم دیا“ایک ایسا آئینہ بنوایا جائے جو مجھے حقیقت دکھائے۔” وزیروں کے چہروں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو امتحان میں فیل طالب علم کے آتے ہی آتی ہے۔آخرکار شہر کے ایک درزی کو بلایا گیا۔سادہ آدمی، سیدھی بات، اور زبان ایسی جیسے قینچی —بغیر مروّت۔درزی نے آئینہ تیار کر دیا۔ بادشاہ نے آئینے میں دیکھااور چیخ اٹھا۔“یہ کیا ہے؟ یہ تو میں نہیں ہوں درزی بولا“جہاں پناہ، یہ وہی ہے جو آپ دوسروں کو دکھاتے ہیںبس آج خود دیکھ لیا ہے۔” دربار میں خاموشی چھا گئی۔بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:“اس درزی کو…

Read more

بخت نصر نے بنی اسرائیل کے قتل و غارت کے بعد ایک نہایت ڈراؤنا خواب دیکھا لیکن اسے بھول گیا۔ کاہنوں اور ساحروں کو بلا کر خواب اور تعبیر دریافت کی۔ انہوں نے کہا تم اپنا خواب بتاؤ تا کہ اس کی تعبیر بتائیں۔ وہ غصہ میں آ کر کہنے لگا میں نے تمھاری مدت تک اس لئے تربیت کی ہے کہ تم خواب اور اس کی تعبیر سے عاجز رہو۔ میں تمھیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں تا کہ تم میرے خواب کی تعبیر بیان کرو ورنہ تمھیں قتل کر دوں گا۔کاہنوں اور ساحروں کے قتل کی خبر مشہور ہو گئی ۔ ان دنوں حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کی قید میں تھے انھوں نے ایک کہنے والے کو کہا کیا تو مجھے بادشاہ کے سامنے لے جا سکتا ہے میں اس کے خواب اور تعبیر کو جانتا ہوں۔اس نے بخت نصر کو بتایا تو بخت نصر…

Read more

قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا…

Read more

پرانے دمشق میں ایک تاجر رہتا تھا جس کی کنجوسی مشہور تھی۔وہ اگر خواب میں بھی سکہ خرچ کر دیتا تو صبح اٹھ کر صدقہ دے دیتا کہ خواب ٹوٹ جائے۔ ایک دن ایک فقیر اس کی دکان کے باہر آ بیٹھا۔نہ مانگ رہا تھا، نہ آہ و زاری بس بیٹھا ہنس رہا تھا۔ تاجر کو غصہ آ گیا۔“لوگ یہاں رو کر مانگتے ہیں، تم ہنس کیوں رہے ہو؟” فقیر بولا“میں تمہیں دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔” تاجر بھڑک اٹھا“میں تمہیں مضحکہ خیز لگتا ہوں؟” فقیر نے سر ہلایا“ہاں، تمہارے پاس سب کچھ ہے،اور میرے پاس کچھ نہیںمگر نیند مجھے آتی ہے، تمہیں نہیں۔” تاجر نے طنزیہ ہنسی ہنسی“نیند تو خریدی جا سکتی ہے۔” فقیر بولا:“ہاں، مگر صرف سکون کے بدلے،اور وہ تم فروخت نہیں کرتے۔” رات کو تاجر نے واقعی نیند کی کوشش کی۔سونا، گنا، حساب لگایامگر آنکھ نہ لگی۔ صبح اس نے فقیر کو تلاش کیا۔فقیر وہیں بیٹھا…

Read more

یونان کے ایک پرانے شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔وہ اتنا بڑا فلسفی تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح بخیر” کہہ دیتا تو وہ جواب میں کہتا “صبح کا تصور دراصل وقت کی غلامی ہے۔”لوگ سر ہلا دیتے، حالانکہ کسی کو کچھ سمجھ نہ آتا۔ اسی شہر کے بازار میں ایک طوطا تھا۔سادہ سا، سبز رنگ کا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی جملہ بولتا تھا “کم بولنے والا زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔” فلسفی کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔وہ بولا“ایک پرندہ مجھے دانائی سکھائے گا؟” اس نے طوطے کو خرید لیا اور گھر لے آیا، ارادہ یہ تھا کہ اسے اپنی فلسفیانہ گفتگو سے خاموش کرا دے۔ روز وہ طوطے کے سامنے لیکچر دیتا،روح، کائنات، وجود، عدمگھنٹوں بولتا رہتا۔ طوطا خاموش رہتا۔ ایک دن فلسفی تھک کر بولا“کیا تم مان گئے کہ اصل دانا میں ہوں؟” طوطا پہلی بار مسکرایا (کم ازکم فلسفی کو…

Read more

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک بڑے میاں اور ان کی بدمزاج، ناشکری بوڑھی بیوی رہتی تھی۔ غربت کے مارے انہیں ایک پرانی پن چکی میں رہنا پڑا،عمارت خستہ حال تھی، بارش ہوتی یا برف پڑتی تو چھت ٹپکنے لگتی۔ ایک دن بوڑھے میاں نے ایک سنہری پرندہ پکڑ کر گھر لایا ۔اتنے میں اس نے سنا کہ وہی سنہری پرندہ انسانی زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ پرندے نے کہا، ’’بڑے میاں! مجھے معلوم ہے کہ آپ برسوں سے مجھے پکڑنے کے چکر میں تھے،آج کامیاب ہوگئے، لیکن میرے چھوٹے بچے ہیں، انہیں چوگا کھلاتا ہوں، مہربانی کرکے مجھے چھوڑ دیجئے، آپ کی جو بھی خواہش ہوگی، وہ میں پوری کر دوں گا، میں آپ کو ایک ایسا تحفہ دوں گا، جو چاہیں گے وہ ہوجائے گا۔‘‘ بڑے میاں کی یہ سن کر بانچھیں کھل گئیں، انہوں نے سنہری پرندے کو آزاد کرتے ہوئے کہا، میں اپنی تکلیف دہ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

“ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش چال — سچ تین دن میں کیسے بے نقاب ہوا؟”“جب قاضی نے امانت میں خیانت کی، اور سلطان محمود غزنوی نے قالین کاٹ کر انصاف قائم کر دیا!”محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے لئے دوسرے ملک چلا گیا۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی۔ تاجر تسلی کرکے تھیلی لے گیا۔ گھر جا کر اس نے تھیلی کھولی تو اشرفیوں کی بجائے اس میں تانبے کے سکے تھے۔اس نے قاضی کے پاس آکر کہا اس میں جواشرفیاں تھیں وہ کہاں گئیں ؟ قاضی نے جواب دیا ” بھئی جس طرح تم بند تھیلی دے گئے تھے میں نے اسی طرح تمہارے حوالے کردی۔ اب مجھے کیا معلوم کہ اس…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر بہانہ سوچا۔کہنے لگا:“کل سے تم نے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا!”مرغے نے عاجزی سے کہا:“آقا! جو آپ کی مرضی…”صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے اذان تو نہ دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔مالک نے نیا حکم صادر کیا:“کل سے پر بھی نہیں مارنے!”اگلی صبح مرغے نے پر تو نہ ہلائے، مگر لاشعوری طور پر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔مالک کو یہ بھی پسند نہ آیا۔فرمان آیا:“کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے!”اب کی بار اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش بیٹھا رہا، جیسے مرغا نہیں… مرغی ہو۔مالک نے سوچا:یہ تو بات نہیں بنی…اب اس نے ایسا حکم دیا جو مرغے کے بس سے باہر تھا:“کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح!”یہ سن کر مرغے کو اپنی موت…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

ایک استاد تھا۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا : اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔استاد بھی عقل مند تھے۔ طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو،میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا: اس موتی کی…

Read more

دوسری صدی ہجری میں معن بن زائدہ شیبانی ایک مشہور امیر گزرا ہے۔وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔سارے عرب میں اس کی سخاوت کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ایک دفعہ عباسی خلیفہ ابو جعفر اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ معن بن زائدہ کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ معن بن زائدہ کو خلیفہ کے حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا،لیکن ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ڈھونڈ ضرور لیں گے۔ آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک سیاہ رنگ کے آدمی نے یکا یک ایک طرف سے نکل کر اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور اونٹ کو بیٹھا دیا۔پھر اس نے معن بن زائدہ…

Read more

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے۔ یہ باتیں فرشتوں کے درمیان لوگوں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں، جیسے کسی شخص کی موت رزق کی تقسیم اور دیگر غیبی امور شیاطین یہ باتیں سن کر نیچے اترتے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں (جادوگروں) کو یہ خبریں پہنچاتے تھے۔ اس دور میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شیاطین غیب جانتے ہیں اور بنی اسرائیل کے کاہن ان خبروں کو لوگوں میں پھیلاتے تھے، اور جو کچھ کہا جاتا وہ بعینہ پورا ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے لوگوں کا ان باتوں پر ایمان اللہ کی نازل کرده کتاب زبور پر ایمان سے بھی زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے زبور کو چھوڑ دیا اور شیاطین کی باتوں کو اختیار کرلیا۔ لوگوں نے شیاطین کی باتوں کو جمع کرکے کتابوں کی صورت دے دی…

Read more

ایک دوست اپنے دوسرے دوست سے کامیاب شادی کا راز پوچھ رہا تھا۔ دوست نے کہا: “بھائی، سیدھا سا فارمولا ہے کہ ہم نے اپنے اپنے فیصلے کے اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔” “اچھا؟” پہلے دوست نے پوچھا، “وہ کیسے؟” “بات یہ ہے کہ بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں، اور چھوٹے موٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے۔” “واہ! کچھ وضاحت تو کر دو،” پہلا دوست ملتجی ہوا۔ “دیکھو یار، چھوٹے موٹے فیصلے مثلاً گاڑی کون سی خریدنی ہے، بچے کون سے سکول میں داخل کروانے ہیں، گھر کا رنگ روغن، فرنیچر کب اور کیسا ہونا چاہیے، میری تنخواہ کہاں کہاں خرچ ہونی چاہیے، مجھے برتن پہلے دھونے چاہییں یا کپڑے وغیرہ وغیرہ یہ سارے چھوٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے، اور میں بالکل اعتراض نہیں کرتا۔” “اوکے، اور بڑے فیصلے کون سے ہیں جو تم کرتے ہو؟” پہلے دوست نے پھر استفسار کیا۔ “بڑے فیصلے مثلاً… امریکہ کو عراق…

Read more

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر…

Read more

بہلول مجذوب ہارون الرشید کے زمانے میں ایک مجذوب صفت بزرگ تھے۔ ہارون الرشید ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے۔ بہلول اور ہارون الرشید کے کافی واقعات کتب میں ملتے ہیں بہلول کبھی کبھی جذب کے عالم میں بڑے پتے کی باتیں بھی کہہ جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بہلول مجذوب ہارون الرشید کے پاس پہنچے۔ ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھا کردی۔ مزاحاً کہا کہ بہلول یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں۔ جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا۔ بہلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی۔ اور واپس چلے آئے۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہوں گے۔ عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی۔ بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ اطبا نے جواب دے دیا ۔ بہلول مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اور سلام کے بعد…

Read more

“جب ایک چوہا خود کو اونٹ کا رہبر سمجھ بیٹھا… مگر ایک ندی نے لمحوں میں اسے اس کی اصل اوقات یاد دلا دی!” ایک اونٹ کسی جگہ پرکھڑا تھا۔ اور اس کی مہار زمین پر گری ہوئی تھی۔ چوہے نے اونٹ کی مہار کو منہ میں لے کر کھنچا . .. . اونٹ چلنے لگا۔ چوہے نے دل میں خیال کیا ، کہ میں تو بڑا شہ زور ہوں، میرے کھینچنے پر اونٹ میرے پیچھے چل پڑا ہے۔ اونٹ نے چوہے کی جب یہ حرکت دیکھی تواسے مزید بے وقوف بنانے کی خاطر اپنے آپ کو اس کے تابع کر دیا۔ چوہے نے اونٹ کی نکیل کو اپنے منہ میں مضبوطی سے پکڑ لیا،اور آگے آگے غرور کے ساتھ اکڑتا ہواچلنے لگا۔ پیچھے پیچھے یہ اونٹ مثل تابعدارغلام کے چل رہا تھا ۔چوہے نے دل میں کہا،” آج مجھے پتہ چلا میں کون ہوں!اور میرے اندر اتنی جان ہے…

Read more

60/1081
NZ's Corner