Category Archives: NZ’s Blogs

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالاتحضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: “میں سیاسی ہوں”۔ (یاد رہے، عربی زبان میں “سیاسی” اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو۔) چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے، اس نے اجنبی کو شاہی اصطبل کا انچارج بنا دیا، کیونکہ اس عہدے پر مامور شخص حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: “یہ نسلی نہیں ہے۔” بادشاہ کو حیرت ہوئی، اس نے فوری طور پر اصطبل کے پُرانے سائیس کو جنگل سے بلوایا۔ سائیس نے بتایا کہ گھوڑا تو اصیل ہے، مگر اس کی ماں پیدائش کے فوراً بعد مر گئی تھی، جس کے بعد…

Read more

ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔ وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب وہ آخر کار اپنی زندگی بغیر کسی پریشانی اور کوشش کے گزار سکتا ہے۔ چند دنوں کے مزے لینے کے بعد جب چاول ختم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مرتبان کے نیچے پاتا ہے۔ اس وقت، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پھنس گیا ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ اب زندہ رہنے کے لیے وہ مکمل طور پر کسی پر منحصر ہے کہ وہ گھڑے میں دانہ ڈالے۔ اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اسے جو دیا جائے، اگر اسے دیا جائے تو کھا لے۔ اس طرح غلام پیدا ہوتا ہے۔ ایک غلام جس نے ہمیشہ رضامندی دی۔ سبق 1) قلیل مدتی لذتیں طویل مدتی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک اجنبی شخص یونہی بھٹکتا ہوا ایک ایسی جگہ آ نکلا جہاں سے کئی راستے مختلف سمتوں میں بکھرتے تھے۔وہ لمحہ بھر کو ٹھٹک گیا، جیسے راستے نہیں بلکہ سوال اس کے سامنے کھڑے ہوں۔وہیں ایک بزرگ لکڑیاں چن رہے تھے۔ اجنبی نے آگے بڑھ کر ایک راستے کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا،“بابا جی، یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” بزرگ نے سر اٹھائے بغیر کہا،“دولت پور کی طرف۔” “اور یہ؟”“یہ دین گاہ کو جاتا ہے۔” “یہ والا؟”“شہرت آباد کی سمت۔” “اور یہ چوتھا راستہ؟”“یہ مقصد نامی گاؤں تک پہنچاتا ہے۔” اجنبی ذرا رکا، پھر پانچویں راستے کی طرف اشارہ کرنے ہی والا تھا کہ بزرگ نے لکڑیاں رکھ دیں اور اس کی طرف دیکھ کر پوچھا،“یہ بتاؤ، تم نے جانا کہاں ہے؟” اجنبی چونکا، پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا،“کہیں نہیں… بس یونہی سوال کر رہا تھا۔” بزرگ مسکرائے اور بولے،“پھر تمہیں راستوں سے…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔ ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔” پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔ بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔” وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔ 11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔…

Read more

ایک مسافر ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا،بزرگ نے فرمایا..” کھانے کا وقت ھے آؤ کھانا کھالو.. “مسافر ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا..جب کھانے سے فارغ ھوئے تومسافر نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ جاکر دسترخوان جھاڑدے توبزرگ نے فرمایا..” کیا کر رھے ھو..؟ “مسافر نے کہا..” حضرت دسترخوان جھاڑنے جارھا ھوں.. “بزرگ نے پوچھا..” دسترخوان جھاڑنا آتا ھے..؟مسافر نے کہا..” حضرت !! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ھے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ھو.. باہر جا کر جھاڑ دوں گا.. “بزرگ نے فرمایا..” اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہدسترخوان جھاڑنا آتا ھے یا نہیں..؟معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا..! “مسافر نے کہا..” پھر آپ سکھا دیں.. “فرمایا..” ہاں..! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ھے.. “بزرگ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا اور اس پرجو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے ‘ ان کو ایک طرف…

Read more

عربی حکایت ہے، کہ ایک بادشاہ اپنی جوان سالہ بیٹی کی شادی کو لیکر بہت فکر مند رہتا تھا ۔ وہ برسوں سے نیک اور عبادت گزار داماد کی تلاش میں تھا۔ ایک دن اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ کسی طرح میری بیٹی کیلئے میری رعایا میں سے عبادت گزار انسان کو تلاش کرکے سامنے پیش کرو ۔ وزیر نے اپنی فوج کو شہر کی جامع مسجد کے گرد تعینات کر دیا اور کہا چھپ کر دیکھتے رہو جو شخص آدھی رات کو مسجد میں داخل ہوگا اسے نکلنے مت دینا جب تک میں نہ آجاؤں..۔ عین اسی وقت ایک چور چوری کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا! اور دل ہی دل میں سوچا کیوں نہ آج شہر کی جامع مسجد میں جا کر چوری کی جائے وہاں مسجد کا قیمتی سامان چرایا جائے۔ چور جیسے ہی جامع مسجد میں داخل ہوا مسجد کی انتظامیہ نے…

Read more

چنگیز خان جلال الدین خوارزمی کی عزت کرتا تھا اس نے اس میں ایک بہادر اور دلیر دشمن دیکھا اس پر قدم رکھتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا سب سے سنگین اعتراف کیا کہ “وہ ابھرتے ہوئے سورج کی طرح ہے”  منگولوں کے ایک بڑے لشکر کو جلال الدین نے Battle of Parwan میں شکست دی اس جنگ میں منگولوں کا کمانڈر Shigi Qutuqu تھا لیکن سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی رہی ہے کہ جلال الدین نے چنگیز خان کو شکست دی لوگوں نے تحقیق کے بغیر بہت شیئر کی لیکن میں نے اس وقت بھی ایک الگ سے پوسٹ میں واضح کیا تھا کہ Battle of Parwan میں جلال الدین کو جو فتح حاصل ہوئی اس میں مدمقابل منگول کمانڈر Shigi Qutuqu تھا  منگولوں کی ابتدائی فتوحات کے دور میں یہ واحد ایک بڑی شکست تھی جس سے آپ جلال الدین الخوارزم…

Read more

*۔ایک آدمی پہلی دفعہ سسرال گیا۔ سسرال والے بڑے بخیل تھے۔* جب کھانے کا وقت ہوا تو وہ آپس میں بیٹھ کر بات شروع ہوگئے۔ ساس: مسور کی دال بناتے ہیں، ہاضمے کے لیے اچھی ہوتی ہے۔سالی: نہیں نہیں، ساگ پکا لیتے ہیں، کھیتوں سے آرام سے مل جاتا ہے۔ساس: چھوڑو، آلو پکا لو۔سالا: آلو مہنگے ہیں، بینگن بنا لیتے ہیں۔دولہا جو کافی دیر سے “ہاں ہاں” کر رہا تھا اچانک بولا:“آپ لوگ میرا گھوڑا ذبح کرکے وہ پکا لیں۔”سالا: تو دولہا بھائی! آپ واپس کیسے جائیں گے؟؟؟دولہا: کوئی بات نہیں، میں اس مرغے پر بیٹھ کر چلا جاؤں گا جو سامنے پھر رہا ہے۔

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

سن 1922 میں مصر کی خاموش ریت نے ایک ایسا راز اُگلا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ راز تھا فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ، جو تقریباً تین ہزار سال سے زمین کے اندر خاموشی سے سو رہا تھا۔ جب ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے اس مقبرے کا دروازہ کھولا، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ دریافت تاریخ کے ساتھ ساتھ خوف کی نئی داستان بھی لکھ دے گی۔ کمرے کے اندر سونا، زیورات، نایاب مجسمے اور دیواروں پر کندہ تحریریں موجود تھیں۔ سب کچھ اتنا محفوظ تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو انسانی آنکھ سے چھپا ہوا تھا، مگر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ مقبرہ کھلنے کے صرف چند ہفتوں بعد، اس مہم کے سرپرست لارڈ کارناروَن (Lord Carnarvon) اچانک بیمار…

Read more

ایک مولوی صاحب نے چرسی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھا تو پوچھا:“اوئے چرسی تو یہاں کیا کر رہا ہے؟” چرسی جھٹ سے بولا:“مرچیں تو تجھے تب لگیں گی جب جنت میں دیکھو گے۔” بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن اس نے ایک لمحے کو ہوش اڑا دیئے۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے حقیر جانا، جنہیں ہم گناہ گار کہتے رہے، جن پر ہم عمر بھر لعن طعن کرتے رہے، طرح طرح کے فتویٰ لگاتے رہے۔کیا ہو اگر کل بروزِ حشر وہ خدا کے مقبول بندوں میں نکل آئے؟ کیا ہو اگر کہ ہم اسے خوش فہمی میں مارے گئے کہ ہم نے خدا کو راضی کیا اور خدا کو ہماری نیت ہی بھلی نہ لگی ہو۔کیا ہو اگر کہ جنہیں ہم جہنمی اور بدکار کہتے رہے ہوں اور وہ جنت کے دروازے پر مسکراتے ملیں اور ہمیں جنت کی ہوا بھی نصیب نہ ہو۔خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا…

Read more

”گھوڑا اور گدھا دونوں اپنے مالک کا سامان اٹھاۓ جا رہے تھے۔ گدھے نے درد ناک آواز میں کہا: ” بھائ گھوڑے ! میرا کچھ بوجھ اٹھا لو ورنہ میں اس بوجھ تلے دب کر مرم جاؤں گا” گھوڑے نے حقارت اور نفرت سے گدھے کی طرف دیکھا اور کوئ جواب دیئۓ بغیر خاموشی سے چلتا رہا، تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد گدھا واقعی زمین پر گرا اور مر گیا۔ مالک نے جب دیکھا کہ گدھا مر گیا ہے تو اس نے وہ سارا بوجھ گھوڑے پر لاد دیا۔ اب گھوڑے کو پچھتاوا ہوا اور سوچنے لگا کہ میں گدھے کی بات مان لیتا تو نہ گدھا مرتا اور نہ ممجھے سارا بوجھ اٹھانا پڑتا۔“

دو دوست تھے ۔ ایک کا نام تھا “کچھ بھی نہیں” اور دوسرے کا نام تھا “خودبخود” ۔کچھ بھی نہیں کائنات بننے سے پہلے سے موجود تھا ۔ مگرخودبخود کی پیدائش بگ بینگ کے وقت ہوئی جب وقت نے جگہ کو زور سے ٹکر ماری ۔ ایکزوردار دھماکہ ہوا اور خودبخود پیدا ہوا ۔ خودبخود پیدا ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں سے جھگڑنے لگا ۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں سے بڑا ہے ۔ جبکہ کچھ بھی نہیں کا کہناتھا کہ وہ خودبخود سے بڑا ہے ۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر ایک بندر کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ بندر نے کچھ دیر سر کھجاتے ہوئے سوچا اور پھر بولا ۔“میں تم دونوں سے کچھ سوالات پوچھوں گا ۔ تم دونوں نے ان کے سچ سچ جوابات دینے ہیں ۔”“کچھ بھی نہیں” اور “خودبخود” نے یک زبان ہو کر جواب دیا ۔“جو…

Read more

‏ایک تخیلاتی کہانی ہے کہ ایک نیک بزرگ پہاڑوں میں نکل گئے، پیچھے دیکھا ایک مفلس شخص آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“کیا چاہیے؟” اس شخص نے کہا،“غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔” بزرگ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ بزرگ چل پڑے، دیکھا وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“اب کیا چاہیے؟” وہ شخص بولا،“یہ کافی نہیں۔” بزرگ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی۔ وہ بھی سونے کا ہو گیا اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔ بزرگ دوبارہ آگے بڑھ گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ شخص پھر پیچھے آرہا تھا۔ بزرگ نے پوچھا،“اب کیا چاہیے؟” اس شخص نے عرض کیا،“بزرگو…! آپ کی انگلی۔” 😅😅😅 منقول سچ ہے کہ دولت اور مال و متاع کی لالچ ایسی چیز ہے کہ جوں جوں ملتا جاتا ہے، لالچ بڑھتا ہی جاتا…

Read more

کُتا یا بکرا۔۔۔🤔پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا اور پروگرام کے مطابق…

Read more

اایک کنجوس کی حکایت ہے۔اس کے گھر کوئی مہمان آیا… 😅😅😅کنجوس نے اپنے بیٹے سے کہا،“بیٹا، آدھا کلو عمدہ گوشت لے آؤ۔” بیٹا باہر گیا، اور کافی دیر بعد خالی ہاتھ واپس لوٹا… 😊😊 باپ نے حیرت سے پوچھا،“گوشت کہاں ہے؟” بیٹے نے جواب دیا،“میں قصائی کے پاس گیا اور کہا، جو سب سے عمدہ گوشت ہے تمہارے پاس، وہ دے دو۔قصائی نے کہا، میں تمہیں ایسا گوشت دوں گا گویا کہ مکھن ہو۔تو میں نے سوچا، اگر ایسا ہی ہے تو مکھن ہی لے لوں۔” “پھر میں بقال کے پاس گیا اور کہا، جو سب سے عمدہ مکھن ہے، وہ دے دو۔بقال نے کہا، میں تمہیں ایسا مکھن دوں گا گویا کہ شہد ہو۔تو میں نے سوچا، اگر ایسا ہی ہے تو شہد ہی لے لوں۔” “پھر میں شہد والے کے پاس گیا اور کہا، جو سب سے عمدہ شہد ہے، وہ دے دو۔شہد والے نے کہا، میں تمہیں…

Read more

ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایکہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہاکہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے…

Read more

80/1081
NZ's Corner