Category Archives: NZ’s Blogs

ایک چمڑا رنگنے والا اتفاق سے عطاروں کے بازار میں پہنچا تو یکا یک گر کر بے ہوش ہوگیا اور ہاتھ ٹیڑھے ہوگئے۔ عطروں کی خوشبو جو اس کے دماغ میں گھسی تو چکرا کر گر پڑا۔ اسی وقت لوگ جمع ہوگئے۔ کسی نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا اور کسی نے عرقِ گلاب لاکر چھڑکا۔ اور یہ نہ سمجھے کہ اسی خوشبو نے یہ آفت ڈھائی ہے ۔کوئی سر اور ہتھیلیوں کو سہلاتا اور سوندھی مٹی بھگو کر سنگھاتا۔ ایک لوبان کی دھونی دیتا تو دوسرا اس کے کپڑے اتار کر ہوا دیتاتھا۔ آخر جب کسی تدبیر سے ہوش میں نہ آیا تو دوڑ کر اس کے بھائی بندوں کو خبر کی کہ تمہاری قوم کا آدمی فلاں بازار میں بے ہوش پڑا ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ یہ مرگی کا دورہ اس پر کیوں کر پڑ گیا یا کیا بات ہوئی کہ وہ سرِ بازار چلتے چلتے…

Read more

ایک اونٹ کسی جگہ پرکھڑا تھا۔ اور اس کی مہار زمین پر گرئی ہوئی تھی۔ چوہے نے اونٹ کی مہار کو منہ میں لے کر کھنچا . .. . اونٹ چلنے لگا۔ چوہے نے دل میں خیال کیا ، کہ میں تو بڑا شہ زور ہوں، میرے کھینچنے پر اونٹ میرے پیچھے چل پڑا ہے۔اونٹ نے چوہے کی جب یہ حرکت دیکھی تواسے مزید بے وقوف بنانے کی خاطر اپنے آپ کو اس کے تابع کر دیا۔ چوہے نے اونٹ کی نکیل کو اپنے منہ میں مضبوطی سے پکڑ لیا،اور آگے آگے غرور کے ساتھ اکڑتا ہواچلنے لگا۔ پیچھے پیچھے یہ اونٹ مثل تابعدارغلام کے چل رہا تھا ۔چوہے نے دل میں کہا،” آج مجھے پتہ چلا میں کون ہوں!اور میرے اندر اتنی جان ہے کہ اونٹ بھی میری پیروی کرنے پر مجبور ہے‘‘۔ اونٹ دل میں یہ کہہ رہا تھا کہ بچو! کوئی بات نہیں، ابھی تھوڑی دیر بعد…

Read more

ایک دفعہ دو بیوقوف بھائیوں نے دو گھوڑے لیے۔اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی نشانی رکھی جائے تاکہ گھوڑوں کی پہچان ہو سکے۔ بڑے بھائی نے کہا، “میں اپنے گھوڑے کا ایک کان کاٹ دیتا ہوں۔ کان کٹا میرا، اور دوسرا تیرا۔”صبح جب وہ آئے تو دوسرے گھوڑے کا کان بھی کٹا ہوا تھا۔وہ بڑے پریشان ہوئے۔ اب پھر بڑے بھائی نے کہا، “میں اپنے گھوڑے کا دوسرا کان بھی کاٹ دیتا ہوں۔ دونوں کان کٹے والا میرا، اور ایک کان والا تیرا۔” صبح دیکھا تو دوسرے گھوڑے کے دونوں کان بھی کٹے ہوئے تھے!وہ پھر پریشان ہو گئے۔ اب بڑے بھائی نے اپنے گھوڑے کی دُم کاٹ دی۔صبح دیکھا تو دوسرے کی بھی دُم کٹی ہوئی تھی۔اب غصے میں آ کر بڑے بھائی نے کہا، “یار، پتہ نہیں کون حسد کا مارا ہمیں فیصلہ نہیں کرنے دے رہا!ایسا کر، کالے والا تو لے لے اور سفید مجھے دے…

Read more

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے۔یہ باتیں فرشتوں کے درمیان لوگوں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں، جیسے کسی شخص کی موت، رزق کی تقسیم اور دیگر غیبی امور۔ شیاطین یہ باتیں سن کر نیچے اترتے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں (جادوگروں) کو یہ خبریں پہنچاتے تھے۔ ⚪️ اس دور میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شیاطین غیب جانتے ہیں، اور بنی اسرائیل کے کاہن ان خبروں کو لوگوں میں پھیلاتے تھے، اور جو کچھ کہا جاتا وہ بعینہٖ پورا ہوجاتا تھا۔اس وجہ سے لوگوں کا ان باتوں پر ایمان، اللہ کی نازل کردہ کتاب زبور پر ایمان سے بھی زیادہ ہوگیا۔یہاں تک کہ لوگوں نے زبور کو چھوڑ دیا اور شیاطین کی باتوں کو اختیار کرلیا۔ لوگوں نے شیاطین کی باتوں کو جمع کرکے کتابوں کی صورت دے دی، اور وہی…

Read more

محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے لئے دوسرے ملک چلا گیا۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی۔ تاجر تسلی کرکے تھیلی لے گیا۔ گھر جا کر اس نے تھیلی کھولی تو اشرفیوں کی بجائے اس میں تانبے کے سکے تھے۔ اس نے قاضی کے پاس آکر کہا اس میں جواشرفیاں تھیں وہ کہاں گئیں ؟ قاضی نے جواب دیا ” بھئی جس طرح تم بند تھیلی دے گئے تھے میں نے اسی طرح تمہارے حوالے کردی۔ اب مجھے کیا معلوم کہ اس میں اشرفیاں تھیں یاتانبے کے سکے۔ “ تاجر فریاد لے کرسلطان محمود غزنوی کے پاس گیا اور سارا واقعہ سلطان کو سنادیا۔ سلطان سمجھ گیا کہ تاجر سچ کہتا ہے لیکن اس کاکوئی جواب نہ تھا کہ…

Read more

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آغازِ اسلام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔ وہ اسلام کے پھیلنے کو قریش کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ ایک دن قریش کے سرداروں نے ان کے غصے کو ہوا دی اور کہا کہ محمد ﷺ نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے، ہمارے نوجوانوں کو بہکا دیا ہے، قبیلے میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ تلوار لے کر نکل کھڑے ہوئے کہ آج محمد ﷺ کو ( معاذاللہ) قتل کر دوں گا۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبداللہؓ مل گئے۔ انہوں نے پوچھا، “عمر! کس ارادے سے نکلے ہو؟” عمر نے غصے سے کہا، “محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں!” حضرت نعیمؓ نے کہا، “عمر! پہلے اپنے گھر والوں کو دیکھو، تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں!” یہ سن کر حضرت عمرؓ غصے سے آگ بگولہ…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

*ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رھا تھا۔* ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رھا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ھوا جسے دیکھتے ھی ابو نصر نے کہا؛ “اے شیخ میں دکھوں کا مارا ھوں اور غموں سے تھک گیا ھوں”۔شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ ، ھم دونوں سمندر پر چلتے ھیں۔سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا۔ نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ھوئے کہا کہ اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔ جال میں پہلی بار ھی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باھر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے…

Read more

اٹھارہویں صدی کے وسط میں بنگال برصغیر کا سب سے خوشحال، زرخیز اور طاقتور صوبہ تھا۔ اس کی دولت، تجارت، زراعت اور فوجی قوت کی مثال دی جاتی تھی۔ نواب سراج الدولہ ایک نوجوان، باوقار مگر جذباتی حکمران تھا جس نے اپنے بزرگوں سے ایک مضبوط ریاست وراثت میں پائی۔ دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی تھی، جو ابتدا میں تاجر بن کر آئی تھی مگر آہستہ آہستہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ کمپنی کے کارندے بنگال کی دولت پر نظریں جمائے بیٹھے تھے اور وہ کسی بھی قیمت پر اس صوبے کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتے تھے۔میر جعفر علی خان بنگال کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ وہ تجربہ کار، بااثر اور دربار میں خاص مقام رکھتا تھا، مگر اس کے دل میں اقتدار کی شدید خواہش پل رہی تھی۔ وہ خود کو نواب بننے کا حقدار سمجھتا تھا اور سراج الدولہ کی جوانی، تیز…

Read more

تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور عبرت ناک واقعہ ، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ دونوں ،جس جگہ پر  گناہ کرنے لگے تھے وہ روئے زمین کا سب سے زیادہ مقدس مقام تھا. جیسے ہی انہوں نے گناہ کیا، اسی وقت ان کے جسم پتھر ھونے لگے.ان کی روحیں قبض کر لی گئیں اور  گوشت پوست کے جسم پتھر کے بنتے چلے  گئے۔اس  وقت ان کے اریب قریب کوئی بھی نہیں تھا. اس لیے جو  کچھ ان پر گزری اس کے بارے میں خود انہی کے سوا کسی کو پتہ نہیں چلا تھا. یہ تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور خوفناک ترین واقعہ تھا۔ دو زندہ انسان ، جن میں سے ایک مرد تھا اور دوسری عورت تھی عذاب الٰہی کے تحت پتھر کے  بن گئے تھے ۔ کچھ دیر گزری تو ادھر سے کسی کا گزر ہوا ۔ اس نے ان کو…

Read more

ایک دفعہ ضرور پڑھیں!! ایک انگریز پاکستان کی سیر کرنے آیا۔ وہ ایک پاکستانی گائیڈ کو لے کر لاہور کی سیر کر رہا تھاریلوے پھاٹک بند تھا۔ انگریز نے گاڑی کھڑی کی اور دیکھا کہ ایک پاکستانی کندھے پر سائیکل اٹھائے ریلوے پھاٹک کراس کر رہا ہے۔انگریز نے پاکستانی گائیڈ سے پوچھا کہ یہ شخص کیا کر رہا ہے؟گائیڈ نے انگریز کو بتایا کہ اصل میں پاکستانی قوم کے پاس وقت نہیں ہے وہ گاڑی آنے کا انتظار نہیں کر سکتی۔اس لئے یہ شخص سائیکل کندھے پر اٹھائے پھاٹک کراس کر رہا ہے۔ جب گاڑی گزر گئی تو انگریز نے پھاٹک کراس کر کے دیکھا۔..وہی شخص دوسری طرف بندر کا تماشا دیکھنے میں مشغول تھا 😃۔ منقول

آزادی یا تبادلہپارس نے معصومیت سے اپنے بابا کی طرف دیکھا اور پوچھا،“بابا…! کیا انگریز واقعی ظالم تھے؟” بابا نے گہری سانس لی،“ہاں بیٹا…! بہت ظالم تھے۔ ہمارے بڑوں نے بے شمار قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی تھی۔” پارس کچھ لمحے خاموش رہا، پھر الجھن بھری آواز میں بولا،“بابا…! وہ کیا ظلم کرتے تھے؟” بابا نے سمجھانے کے انداز میں کہا،“وہ لالچی تھے بیٹا۔ کسانوں اور عام لوگوں پر ہر سال لگان بڑھا دیتے۔ ایک سال گندم کی دو بوریاں لیتے، اگلے سال چار مانگتے۔ تاجر ہوں یا مزدور، کوئی ان کے ظلم سے بچ نہ پاتا۔ اور سب سے بڑھ کر… لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں تھی۔” پارس فوراً بولا،“کیا وہ لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے تھے؟” بابا ہلکا سا مسکرائے،“نہیں بیٹا…! ظلم کے باوجود وہ اصولوں کے پابند تھے۔ دشمن کی بھی کچھ حد تک عزت رکھتے تھے۔” پارس کی آواز میں اب کرب شامل…

Read more

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے…

Read more

پہلی صدی عیسوی میں بحیرۂ روم میں ڈاکہ زنی ایک بڑا مسئلہ تھا سمندری ڈاکوؤں نے اودھم مچا رکھا تھا سیلیسیا ٹراکیا کے نام سے پکارا جانے والا جنوبی اناطولیہ کا سنگلاخ علاقہ سمندروں میں لوٹ مار کرنے والوں کے سبب مشہور تھا جنہوں نے رومی تاجروں اور سفر کرنے والوں کو خوف زدہ کر رکھا تھا۔ 75 عیسوی میں سیلیسیا کے بحری قزاقوں نے روم کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ایک 25 سالہ غیرمعمولی نوجوان کو پکڑ لیا۔ یہ رومی آمر، سیاست دان اور جرنیل جولیس سیزر تھا جو ابھی زمانہ طالب علمی میں تھا وہ فنِ خطابت کی تعلیم کے لیے جزیرہ روڈس جا رہا تھا جو اب جنوب مشرقی یونان میں واقع ہے۔ دراصل جولیس سیزر کو پکڑ کر بحری قزاقوں نے ایک مصیبت اپنے سر ڈال لی۔ سیزر نے اپنی آن بان قائم رکھی اور خود کو یرغمالی ماننے سے انکار کر دیا۔ بحری قزاقوں…

Read more

بیداریِ شعور اور قوموں کی بے حسی: تاریخ کے دو تلخ سبقتاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایک دردناک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کی تقدیر بدلنے والے اکثر وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں خود وہی قومیں تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔ جب کوئی مسیحا کسی پسے ہوئے طبقے کے لیے اپنی جان کی بازی لگاتا ہے، تو وہ طبقہ اکثر اپنی مصلحتوں، خوف اور وقتی مفادات کے ترازو میں اس قربانی کو تولنے لگتا ہے۔ چی گویرا سے لے کر محمد کریم تک، تاریخ کے یہ ابواب ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ “انقلاب” صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ شعور کی بیداری سے آتا ہے۔چی گویرا اور چرواہے  منطق: جب خوف مقصد پر غالب آ جائےبولیویا کے پہاڑوں میں جب ارنسٹو چی گویرا کو گرفتار کیا گیا، تو دنیا حیران تھی کہ ایک عظیم گوریلا لیڈر، جو گوریلا جنگ کا ماہر تھا، کیسے پکڑا گیا۔ جب…

Read more

⚔️🔥یہ سن 1462ء تھا، قسطنطنیہ کی فتح کو ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہ ہوئی تھی مگر اس ایک کامیابی نے یورپ کی سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ہر دربار میں ایک ہی نام گونج رہا تھا — سلطان محمد فاتحؒ، وہ نوجوان فرمانروا جس نے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کو فتح کر کے تاریخ کا دھارا موڑ دیا تھا، مگر اسی وقت شمال میں ایک ایسی سرکش ریاست موجود تھی جو نہ صرف عثمانی اقتدار کو چیلنج کر رہی تھی بلکہ دانستہ طور پر ایک نفسیاتی اور اخلاقی جنگ بھی مسلط کر چکی تھی، یہ ریاست ولاکیا تھی، موجودہ رومانیہ کا ایک خطہ، اور اس کا حکمران ولاد سوم تھا جسے تاریخ ولاد ڈریکولا یا ولاد دی امپیلر کے نام سے جانتی ہے، ایک ایسا شخص جو عثمانیوں کا سابق اتحادی رہ چکا تھا، جو نوجوانی میں سلطان مراد ثانی کے…

Read more

🚩 جب جولیس سیزر کو بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا: ایک ناقابلِ یقین تاریخی واقعہ!آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے، پہلی صدی عیسوی میں بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کوئی پرامن جگہ نہیں تھی۔ یہ دور سمندری ڈاکوؤں (Pirates) کا تھا، جنہوں نے پورے سمندر میں اودھم مچا رکھا تھا۔ خاص طور پر جنوبی اناطولیہ (موجودہ ترکی) کا سنگلاخ علاقہ، جسے سیلیسیا ٹراکیا کہا جاتا تھا، ان خطرناک لٹیروں کا گڑھ تھا۔لیکن 75 قبل مسیح (75 BC) میں ان قزاقوں نے ایک ایسی غلطی کر دی جس نے ان کی پوری نسل کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک 25 سالہ نوجوان کو اغوا کیا، جس کا نام تھا: جولیس سیزر۔🚢 سفر جو قید میں بدل گیااس وقت جولیس سیزر کوئی ڈکٹیٹر یا عظیم فاتح نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی ذہین طالب علم تھا۔ وہ فنِ خطابت (Public Speaking) سیکھنے کے لیے جزیرہ روڈس جا…

Read more

ابلیس، جسے شیطان بھی کہا جاتا ہے، اسلامی عقائد کے مطابق ایک جن تھا جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کئی بار آیا ہے، اور اس کی سرکشی اور نافرمانی کو انسانیت کے لیے ایک سبق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اللہ نے تمام فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں، کیونکہ آدم کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی۔ اس وقت ابلیس، جو جنات میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، نے غرور اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آگ سے بنا ہے جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس نافرمانی کی وجہ…

Read more

ساس کی کھانسی کی وجہ سے بہو کی نیند ڈسٹرب ہو رہی تھی شوہر کے سامنے خود تو ساس کو برا بھلا کہہ نہیں سکتی تھیلہذا بہو نے فوراً اپنے چند ماہ کے بیٹے کو چٹکی کاٹی تھی جو رونے لگا تھا اور پھر اپنے بیٹے کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا تھا ماں کی وجہ سے چھوٹا بار بار اٹھ جاتا ہے اگر بچے کی نیند پوری نہ ہوئی تو اس شدید ٹھنڈ میں بچہ ویسے ہی بیمار پڑ جائے گا شوہر نے اٹھ کر بیوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماں کو جھڑکا تھا مگر کھانسی جھڑکنے سے کہاں رکتی ہے اور پھر بوڑھی ماں تو ٹی بی کی مریضہ تھی لہذا اس کے بیٹے نے اٹھ کر اس کا بستر صحن میں لگا دیا تھا۔ بوڑھی ناتواں ماں اپنے جوان پتر کی مضبوط گرفت میں گھسٹتے ہوئے صحن میں پڑھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی…

Read more

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ ” ایک ٹانگ اٹھاؤ “ وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے ” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “ وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے ” گھڑی پوری ہوئی “ تو وہ…

Read more

100/1081
NZ's Corner