Category Archives: NZ’s Blogs

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں ایک مشہور چور رہتا تھا۔ایک دن اس چور نے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا:”اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم چور بننا ہی پسند کروں گے۔“اس کام میں تمہیں بہت فائدہ ہو گا۔ بیٹے نے جواب دیا۔”ابا جان!اگر میں آپ کی نصیحت پر عمل کروں گا تو کوئی میری عزت نہیں کرے گا اور میں لوگوں کی نظروں میں گر جاؤں گا۔میرا دل کہتا ہے کہ میں محنت کرکے اپنے لئے روزی روٹی کماؤں اور عزت کی زندگی بسر کروں۔ چور یہ سن کر بہت خفا ہوا اور بیٹے سے کہا:”کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ اپنے باپ کا حکم ضرور ماننا چاہئے،تو میرے حکم سے انکار کیوں کرتا ہے؟ تمہیں چور بننا ہی پڑے گا ورنہ میں تمہیں گھر سے نکال دوں گا۔ لڑکا دوسرے دن ایک کسان کے گھر گیا اور اس سے ایک گائے…

Read more

مدینہ کی گلیوں میں اُس دن ایک خاص سی خاموشی تھی، جیسے ہوا بھی آنے والے فیصلے کا بوجھ محسوس کر رہی ہو۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھے تھے، نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر دل میں ایک سمندر موجزن تھا۔ وہی سعدؓ جن کے ہاتھوں سے اسلام کے لیے پہلی بار تیر چلایا گیا، وہی سعدؓ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ “میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں”۔ آج اُن کے کاندھوں پر صرف ایک لشکر کی نہیں بلکہ پوری اُمت کی امیدوں کا بوجھ تھا۔ فارس کی عظیم سلطنت، جس کے گھوڑوں کی ٹاپ سے زمین کانپتی تھی، جس کے سپاہی زرہوں میں لوہے کی دیوار نظر آتے تھے، اُس سلطنت کے مقابل ایک ایسا لشکر کھڑا تھا جس کے پاس ساز و سامان کم مگر ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔حضرت سعدؓ نے روانگی سے پہلے…

Read more

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے…

Read more

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا، خود تو دال پر گزارا کرتا، ساتھ میں بیوی کو بھی اسی ایک سالن پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنگ آکر جب کبھی بیوی دال کے علاوہ کچھ اور سبزی، گوشت لانے کا کہتی تو جوابا بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتا اور دال کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا۔ ایک دن بیوی اپنے مائیکے گئی تو اس کے بھائیوں نے بہن کے اترے چہرے، پھیکی پڑتی رنگت اور نقاہت زدہ جسم کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ بہن خوش نہیں ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر پہلے پہل تو بہن نے بات ٹالنا چاہی، مگر بھائیوں کے اصرار پر شوہر کی کنجوسی اور…

Read more

کیا آپ یقین کریں گے کہ دو طاقتور قبیلے، جو آپس میں بھائی بھائی تھے، صرف اس بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے کہ “ریس میں میرا گھوڑا آگے تھا یا تمہارا؟” یہ کہانی ہے عرب کی دوسری سب سے بڑی اور مشہور جنگ “جنگِ داحس و غبراء” کی، جس نے ثابت کیا کہ جب انسان کی عقل پر انا کا پردہ پڑ جائے تو وہ جانوروں کی ریس پر انسانوں کی نسلیں قربان کر دیتا ہے۔یہ قصہ ہے دو بڑے عرب قبیلوں “بنو عبس” اور “بنو ذبیان” کا۔ یہ دونوں قبیلے ایک ہی دادا کی اولاد تھے، ان میں گہری رشتہ داریاں تھیں اور یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن عربوں کو اپنی تلواروں کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے گھوڑوں سے تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کا نسب نامہ بھی اپنے بچوں کی طرح یاد رکھتے تھے۔قبیلہ عبس کا سردار…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

حضرت صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں  ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں  بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں  اسے جادو سکھادوں  ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں  ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں  سننے لگا اوراُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں  اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں …

Read more

یہ وہ دور تھا جب جرمنی مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بالکل ایسے ہی جیسے شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کے وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں تقسیم تھا اسی طرح جرمنی میں جاگیرداری ٹائپ نظام تھا مختلف جرمن شہزادے مختلف علاقوں پر حکومت کرتے تھے جو اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے لیکن پھر ایک سرخ داڑھی والا جرمن اس ارادے کے ساتھ اٹھا کہ وہ جرمن کو متحد کرے گا وہ ایک ذہین اور بہادر انسان تھا اس نے ایک ایک کر کے تمام جرمن شہزادوں کو شکست دی اور جرمنی کو ایک جھنڈے تلے متحد کر دیا جرمن لڑنے کے معاملے میں مضبوط تو پہلے ہی تھے لیکن اب متحد ہونے کے بعد وہ یورپ کی ایک بڑی طاقت بن گئے اس کے بعد اس نے پولینڈ پر چڑھائی کر دی اورپولینڈ پر قبضہ کر لیا  اب اس سرخ داڑھی والے نے اپنی سلطنت کو…

Read more

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا وہ رات کے وقت وہ جاکر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچا کرتا تھا جب وہ جانور ذبح کرتا اس کے کپڑوں میں خون لگ جاتا مگر وہ گھر آ کر خون آلودہ کپڑنے بدل لیا کرتا تھا ایک رات جب وہ واپس آ رہا تھا جانور کو ذبح کر کے تو راستے میں ایک جگہ پہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے اس قصاب کو پکڑ لیا جب پکڑ لیا تو قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا ھے اور قصاب حیران ہوا اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم میں ایک چھری تھی جو کسی نے اس کو کھونپ دی تھی اب جو قتل کرنے والا تھا وہ باگ گیا اور مقتول نے اندھیرے میں یہ…

Read more

سلطان سیف الدین قطزؒ کی شہادت کی یاد میں: تاریخ کا وہ ہیرو جس نے تاتاری طوفان کو روکا تاریخ انسانی کا دھارا اکثر چند عظیم شخصیات کے ہاتھوں موڑ کھاتا ہے۔ ایسی ہی ایک نادر و نایاب ہستی سلطان سیف الدین قطزؒ کی ہے، جنہوں نے محض چند ماہ کی حکمرانی میں وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف عالم اسلام کو تباہی و بربادی سے بچایا بلکہ دنیا کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔ ان کی شہادت محض ایک حکمران کی موت نہیں، بلکہ ایک ایسے مجاہد کی آخری قربانی ہے جس نے اپنی جان دے کر امت کو زندگی بخشی۔ بندگی سے سلطنت تک: ایک عظیم سفر قطزؒ کا اصل نام مظفر الدین محمود تھا۔ وہ شاہی خون رکھتے تھے مگر تقدیر نے انہیں بچپن میں ہی منگولوں کے ہاتھوں غلام بنا دیا۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجود، ان کی…

Read more

ایک شہری بابو اپنی چمچماتی کار اور چھمچھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر جارہا تھا۔ آس پاس کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئی اور ایک ٹوٹا ہوا کچا راستہ شروع ہوگیا۔ اس کچے راستے پر بے پناہ کیچڑ تھا اور کار کیچڑ میں پھنس گئی۔ شہری بابو نے بہت زور لگایا مگر کار اندر ہی دھنستی چلی گئی۔ اتنے میں زلیخا اپنے ٹریکٹر کے ساتھ ادھر سے گزری۔ شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔ زلیخا نے کہا،“میں مدد تو کر دوں گی، لیکن اس کے لیے پانچ سو روپے لگیں گے۔” بابو نے کہا،“ٹھیک ہے، یہ لو پیسے۔” زلیخا نے رسہ ڈال کر ٹریکٹر کی مدد سے کار کو کیچڑ سے باہر نکال دیا۔ زلیخا نے کہا،“آج یہ دسویں کار ہے جسے ہم نے دھکا لگایا ہے۔” بابو بولا،“سارا دن تو تم یہ دھکا لگانے میں گزار دیتی…

Read more

حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب”نوح” اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔…

Read more

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

جنگل کے شیروں نے ایک گدھے کو یقین دلایا تم ہم میں سے ہو. جیسے ہم جنگل کے بادشاہ ہیں ایسے ہی تم بھی بادشاہ ہو. گدھا واپس اپنی برادری میں آیا اور اعلان کیا وہ گدھوں کا بادشاہ ہے. شیروں کے ڈر سے گدھوں نے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا. لیکن اب ہر چند دن بعد شیر اس گدھے کے مہمان بنتے اور بادشاہ سلامت صحت مند گدھے ان کی ضیافت میں پیش کر دیتے. کچھ عرصے میں ہی گدھے پریشان ہو گئے. بادشاہ سلامت سے دور دور رہنے لگے. اگلی دفعہ جب شیر آئے تو بادشاہ سلامت تو موجود تھے گدھوں کا ریوڑ لیکن غائب تھا. شیروں نے پوچھا دوست یہ کیا ماجرا ہے.؟ شیر نے اپنی قوم کی جہالت اور بغاوت کا قصہ سنایا. شیروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا اب یہ بادشاہ ہمارے کسی کام کا نہیں. ہمیں دوسرا بادشاہ دیکھنا ہوگا جس پر…

Read more

ایک میراثی کی بھینس کو “مُنہ کُھر” کی بیماری ہو گئی، اس کے جبڑے کے نچلے حصے پر برا سا دانہ نکل آیا، اس نے گاؤں کے ایک سیانے بزرگ کو احوال سنایا تو بزرگ بولے،“کچھ عرصہ پہلے میری بھینس کو بھی ایسی بیماری ہو گئی تھی، میں نے تو اسکا منہ دو درختوں کے درمیان باندھا، ایک طرف قصائی کی گوشت کاٹنے والی لکڑی (مُڈھی) رکھی اور دوسری طرف سے کِلا ٹھوکنے والی لکڑ سے ایک بھرپور ضرب لگائی تھی، منہ کَھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا…” میراثی کو علاج مل گیا تھا اور فوراً مزید کوئی بات کیے گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ جیسے مزید ایک لفظ بھی سننے کو رکا تو بھینس جیسے مر ہی جائے گی۔ اور جاتے ہی بھینس کو اسی طریقے سے باندھا اور ایک بھرپور ضرب بھینس کے گلے پہ لگائی، بدقسمتی سے ضرب اس قدر شدید لگی کہ بھینس مر گئی،…

Read more

ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کی ایک بستی سے ہوااس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیںان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہاتپیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کر دوں بستی میں داخل ہو نے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئییہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کیابتدا کی جائے اور اس چرواہے کے دل و دماغ میںاسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جائے یہودینے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمانمسافر ہوںباتوں ہی باتوں میں یہودی کہنا لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کےلیے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہقرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہےلیکن قرآن میں بےشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں بار بار دہرانے کی کیا ضرورت ہےاگر متشابہات جو نکال دیا جائے تو قرآن…

Read more

ایک سبق آموز مزاحیہ کہانی – ضرور پڑھیے پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں…

Read more

حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ: جاہلیت کے ڈاکو سے اسلام کے عظیم مجاہد تک ۔۔کِسریٰ اور شاہِ ایران کی شکستدوستو قصہ لمبا ہونے کے لیے معزرت  لیکن میں چاہتا تھا کے عظیم شاہ سوار کے کارنامے ہمارے لوگوں کو پتا چل سکیں آپ پڑھیں انشا اللّہ آپ کا وقت ضائع نہیں جائے گا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ کا شمار اسلامی تاریخ کے نامور بہادروں اور شہسواروں (گھوڑے پر سواری کے ماہروں) میں ہوتا ہے۔ (عمرو میں “ع” پر زبر ہے، “م” اور “و” ساکن ہیں۔ واؤ نہیں پڑھی جاتی) وہ یمن میں آباد عرب قبیلے مذحج کی ایک شاخ بنی زبید سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے زبیدی کہلاتے تھے۔ وہ بڑے ڈیل ڈول اور قد کاٹھ کے آدمی تھے۔ تلوار چلانے میں مہارت رکھتے تھے اور نیزہ بازی میں بہت کم لوگ ان کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ اتنے طاقتور اور شہسوار تھے کہ لوگ…

Read more

#شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی، تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے، اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ، پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے، اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل…

Read more

120/1081
NZ's Corner