جیفری ایپسٹین کون تھا؟
اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
ایک دن ایک بطخ اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ بچے بہت خوش تھے اور اپنی ماں کے پیچھے پیچھے کواک کواک کرتے ہوئے مزے سے چل رہے تھے کہ اچانک ماں بطخ کی نظر دور کھڑی ایک لومڑی پر پڑی۔ وہ سہم گئی اور فوراً چلائی، “بچوں! جلدی سے جھیل کی طرف بھاگو، وہاں لومڑی ہے!” جب بچے جھیل کی طرف بھاگے تو ماں بطخ نے انہیں بچانے کے لیے ایک انوکھی چالاکی سوچی؛ اس نے زمین پر اپنے پر گھسیٹنے شروع کر دیے جیسے وہ زخمی ہو اور اڑ نہ سکتی ہو۔ لومڑی یہ دیکھ کر نہال ہو گئی کہ آج تو آسان شکار ہاتھ لگا ہے اور وہ تیزی سے بطخ کی طرف لپکی۔ ماں بطخ نے لومڑی کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور اسے جھیل سے بہت دور لے گئی تاکہ اس کے بچے محفوظ ہو جائیں۔ جیسے ہی اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”ملا نے حیرت سے پوچھا،“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
جنگ چیرمن 1371
رات گہری ہو چکی تھی۔دریائے ماریسا کا پانی سیاہی مائل اندھیرے میں خاموشی سے بہہ رہا تھا، جیسے آنے والے طوفان سے بے خبر ہو۔ سرد ہوا خیموں کے پردوں سے ٹکراتی تو شعلوں کی روشنی لرز جاتی۔ سربیائی لشکر کے خیمے دور تک پھیلے تھے—ایک ایسا سمندر جو اپنی کثرت پر نازاں تھا۔بادشاہ وکاشین اپنے خیمے میں نقشے پر جھکا کھڑا تھا۔“عثمانی؟” وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا،“چند ہزار سپاہی… کل صبح سورج نکلنے سے پہلے سب قصہ تمام ہو جائے گا۔”اس کے برابر کھڑا یووان اوگلیشا لمحہ بھر کو خاموش رہا۔ باہر سپاہیوں کی ہنسی اور شراب کے جاموں کی آوازیں آ رہی تھیں۔“بھائی، دشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھو…”وکاشین نے ہاتھ جھٹک دیا۔“ہم پچاس ہزار ہیں۔ وہ کیا کر لیں گے؟”دوسری طرف…کچھ ہی فاصلے پر، اندھیرے میں لپٹی عثمانی فوج خاموش کھڑی تھی۔کوئی شور نہیں، کوئی ہنسی نہیں۔صرف گھوڑوں کی مدھم سانسیں اور فولاد کی سرسراہٹ۔کمانڈر لالا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog
قوم لوط۔۔۔🙂!
قوم لوط جنہوں نے ایسی برائی کو ایجاد کیا۔ جو ان سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے نہ کی تھی۔ ایسی بدکاری جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس قوم نے ایسا کیا کام کیا تھا اور ان کا کیا انجام ھوا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے ایک برگزیدہ نبی تھے آپ کے والد کا نام حاران تھا جو تابش کے بیٹے تھے آپ کی پیدائش عراق کے قدیم شہر “عر” میں ہوئی تھی اس شہر میں ابراہیم علیہ السلام کا مسکن تھا۔ دراصل لوط علیہ السلام کے والد حاران حضرت ابراہیم کے سگے بھائی تھے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کے والد حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے چونکہ حضرت لوط علیہ السلام کے والد ان کے بچپن میں ہی انتقال کر چکے تھے لہذا حضرت لوط کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا بنا کر پالا تھا آپ حضرت ابراہیم پر سب سے پہلے ایمان…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔!🙂
ایک دن مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے۔باہر موجود مینڈکوں نے دیکھا کہ یہ گڑھا ان دونوں کے قابو سے باہر ہے تو انہوں نے اوپر سے چیخنا شروع کر دیا:“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل پاؤ گے، بس ہلکان ہو جاؤ، ہار مان لو اور موت کا انتظار کرو!”ایک مینڈک یہ سب سن کر دل ہی دل میں ہار مان گیا، چند کوششیں کیں مگر دل برداشت نہ کر سکا، اور واقعی مر گیا۔دوسرا مینڈک مسلسل اپنی پوری طاقت لگا کر گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، جگہ بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے۔اوپر والے مینڈک پوری طاقت سے چیخ رہے تھے، سیٹیاں بجا رہے تھے، روک رہے تھے کہ “مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر ہے!”لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے کوشش جاری رکھی اور آخر کار کامیاب ہو گیا۔جب سب مینڈک اس کے…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
رستم اور سہراب
قدیم فارس میں، جہاں ریت اور پہاڑ تقدیر کی لکیر کھینچتے تھے، ایک سپاہی پیدا ہوا رُستم جس کی طاقت داستانوں میں زندہ تھی۔ ایک مہم کے دوران وہ سمنگان کے دربار میں ٹھہرا، جہاں ایک رات اس کی ملاقات تہمنہ سے ہوئی۔ صبح ہونے سے پہلے راستے جدا ہو گئے، اور رُستم کو خبر نہ ہوئی کہ اس رات کی یاد ایک جان بن کر دنیا میں آنے والی ہے۔ برسوں بعد، اسی سرزمین پر ایک نوجوان جنگجو ابھرا سُہراب جس کی تلوار بجلی اور دل سوال تھا۔ اس نے سنا کہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو اسے شکست دے سکتا ہے: رُستم۔ مگر کسی نے یہ نہ بتایا کہ وہی اس کا باپ ہے۔ سُہراب نے جنگ اس نیت سے چھیڑی کہ رُستم کو ڈھونڈ کر پہچان لے یا شکست دے کر نام حاصل کرے۔ میدان سجا۔ دونوں آمنے سامنے آئے۔ طاقت طاقت سے ٹکرائی، مگر…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
جنگِ الارک 1195ء
اندلس کی فضاؤں میں اُس شام ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔سرخ آسمان، جیسے کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہا ہو۔ قرطبہ کی گلیوں میں لوگ خاموش تھے، مسجدوں میں دعائیں تھیں، اور دلوں میں ایک ہی سوال:کیا اسلام کی یہ سرزمین محفوظ رہ پائے گی؟شمال میں کاسٹائل کا بادشاہ الفانسو ہشتم اپنی فوجیں جمع کر چکا تھا۔ صلیبوں سے سجے جھنڈے، فولادی زرہیں، اور تکبر سے بھری آنکھیں—وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ اندلس پر آخری وار ہوگا۔مگر وہ یہ بھول چکا تھا کہ جب زمین پر مومن سجدے میں گر جائیں، تو آسمان فیصلہ بدل دیتا ہے۔مراکش میں، ایک خیمے کے اندر، چراغ کی مدھم روشنی میں ایک شخص خاموش بیٹھا تھا۔یہ خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور تھے—موحدین کے امیر، مگر دل سے ایک عاجز بندۂ خدا۔وہ نقشے نہیں دیکھ رہے تھے وہ امت کا حال دیکھ رہے تھے۔انہوں نے سر اٹھایا، آسمان کی طرف…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ واقعہ ایک ایسے صاحب کا ہے جنہیں نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری تھی، لیکن ان کی اس بیماری نے پورے محلے کو ایک رات “توبہ” کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا نام کریم بخش تھا، مگر محلے والے انہیں “کریموں مراقبہ” کہتے تھے کیونکہ وہ اکثر چلتے چلتے کہیں بھی کھڑے کھڑے سو جاتے تھے۔ایک دفعہ گرمیوں کی رات تھی، کریم صاحب اپنی چھت پر سو رہے تھے۔ اچانک ان کا “خوابوں والا انجن” اسٹارٹ ہوا اور وہ نیند ہی میں اٹھ کر چل دیے۔ اتفاق سے اس رات محلے کے چوہدری صاحب کے گھر چوری کی واردات ہوئی تھی اور پورے محلے کے مرد لاٹھیاں لے کر گلیوں میں پہرہ دے رہے تھے۔کریم صاحب سفید لٹھا پہن کر، آنکھیں بند کیے، ہاتھ لہراتے ہوئے گلی میں آئے تو پہرہ دینے والے نوجوانوں کی جان نکل گئی۔ ایک تو آدھی رات کا وقت، اوپر سے کریم…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
جنگ المنصوریہ:
فروری 1250ء کی ایک ٹھنڈی صبح کے وقت، مصر کا شہر منصورہ ابھی نیند کے دھندلکے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دریائے نیل کے پانی پر ہلکی سی کہر چھائی ہوئی تھی، مگر اس صبح کی خاموشی پر ایک عجیب بے چینی سوار تھی۔ شہر کی دیواروں پر مصری سپاہی نظریں جما کر دور دریا کے پار دیکھ رہے تھے، جہاں صلیبیوں کے کیمپ میں مشعلیں ٹمٹما رہی تھیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تاریخ کے دھارے موڑ پر آ کر کھڑے تھے۔ایک عرصے سے مصر ایوبی سلطنت کے سیاسی طوفانوں میں گھرا ہوا تھا۔ سلطان الصالح ایوب کی اچانک موت نے اقتدار کی کرسی خالی کر دی تھی، مگر ان کی اہلیہ شجرۃ الدر نے حالات کو مضبوطی سے سنبھالا۔ وہ پردے کے پیچھے رہ کر فوج کو منظم کر رہی تھیں، خاص طور پر مملوک غلام سپاہیوں کو، جو تربیت اور جنگی مہارت میں بے مثل تھے۔دوسری طرف، فرانس…
urdu blog urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
Peto khan🙂
Once, there was a party at the house of Peto Khan’s neighbor, but Peto Khan was not invited there. He was very sad about this and started looking for some way to eat. He wore an old sherwani, tied a big turban on his head and held a tasbeeh in his hand and pretended to be a Hakeem Sahib. He went straight to the neighbor’s house where the guests were gathered.When the people saw a strange old man, they thought that he was a great-grandfather. Peto Khan camped on a sofa and loudly announced that I am the famous Hakeem of the city and I treat only those people who consult me before eating.The host asked fearfully, what should be in the food today, Hakeem Sahib, which is beneficial for health. Peto Khan replied seriously, “Look, Mian, roasted meat and hot naan are the best medicine for the human stomach.…
پیٹو خان
ایک دفعہ پیٹو خان کے پڑوسی کے ہاں دعوت تھی مگر پیٹو خان کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت اداس ہوئے اور کھانا کھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ایک پرانی شیروانی پہنی، سر پر بڑی سی پگڑی باندھی اور ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ کر حکیم صاحب کا روپ دھار لیا۔ وہ سیدھے پڑوسی کے گھر پہنچ گئے جہاں مہمان جمع تھے۔لوگوں نے جب ایک اجنبی بزرگ کو دیکھا تو سمجھے کہ کوئی بڑے پہنچے ہوئے حکیم صاحب ہیں۔ پیٹو خان نے ایک صوفے پر ڈیرہ جمایا اور زور سے اعلان کیا کہ میں شہر کا مشہور حکیم ہوں اور میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔میزبان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حکیم صاحب آج کھانے میں کیا ہونا چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو۔ پیٹو خان…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
قدیم یونان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر، ایک بوڑھا فلسفی رہتا تھا جس کا نام تھیوفراسٹوس تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی تحقیق اور مراقبے میں گزاری تھی۔ جزیرے کے لوگ اکثر اسے پاگل سمجھتے، کیونکہ وہ بازار یا جشن میں شریک نہیں ہوتا، اور کبھی کبھار دنوں تک دریا کے کنارے بیٹھا رہتا۔ ایک دن، جزیرے پر ایک طوفان آیا۔ دریا کا پانی بلند ہوا، ہوا نے گھروں کی چھتیں اُڑائیں، اور لوگ خوف سے چیخنے لگے۔ سب لوگ پناہ کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگے، مگر تھیوفراسٹوس دریا کے کنارے بیٹھا رہا۔ لوگ حیران ہوئے کہ وہ کیوں نہیں بھاگ رہا۔ ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا:“بوڑھے، تمہیں نہیں ڈر لگ رہا؟ پانی سب کچھ لے جائے گا!” تھیوفراسٹوس نے آہستہ سے کہا:“پانی اور طوفان باہر کی حقیقت ہیں۔ اصل امتحان انسان کے اندر ہے۔ تم ڈر کی لہروں سے لڑو گے یا ان میں غرق…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog
بلاعنوان
ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر ایک نہایت خوفناک اور ظالم دیو رہا کرتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ آس پاس کی بستیوں پر دھاوا بولتا، وہاں سے انسانوں کو پکڑ کر لاتا اور اپنی خوراک بنا لیتا۔ گرد و نواح کے لوگ دیو کے ان لرزہ خیز مظالم سے عاجز آ چکے تھے اور ہر قیمت پر اس عذاب سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ مگر دیو کی ہیبت ان کے دلوں پر اس قدر مسلط تھی کہ وہ کبھی آزادی کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہ کر سکے۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور دیو کا ظلم و ستم حد سے بڑھا، تو رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں دبی چنگاری شعلہ بننے لگی اور نفرت پروان چڑھنے لگی۔ آخرکار، یہی نفرت علمِ بغاوت بلند کرنے کا پیش خیمہ بنی۔ بستیوں کے…
ایک طاقتور ترین بادشاہ اور
مچھر.
وہ سب سے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا.. اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا اس کے ایک طرف مشرق تھا جہاں سے سورج نکلتا تھا.. افق سے جہاں سے سورج نکلتا تھا وہاں تک اس کی بادشاھت تھی.. اس دوسری جانب مغرب تھا جہاں سورج غروب ھوتا تھا. زمین کے اس کنارے تک جہاں تک سورج ڈوبتا دکھائی دیتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی.. اس کے تیسری طرف سمندر دکھائی دیتا تھا.. سمندر کا پانی جہاں تک نظر آتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. اس کے چوتھی جانب پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا. یہ سلسلہ کوہ جہاں تک دکھائی پڑتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا صحرا تھا. اس صحرا کے ریت کے ذرے ذرے پر اس کی بادشاھت تھی.. دنیا بھر کے جنگلوں صحراؤں سمندروں پہاڑوں خشکی کے میدانوں وادیوں اور دریاؤں پر اس کی…
urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory urdupoetry
بلاعنوان۔۔۔🙂!
انیسویں صدی کے روس کے ایک برفانی قصبے میں، ایوان نام کا ایک معمولی کلرک رہتا تھا۔ اس کی زندگی فائلوں، مہروں اور سرد دفتری کمروں میں گزر جاتی تھی۔ اس کی تنخواہ کم تھی، کمرہ تنگ، اور کوٹ اتنا پرانا کہ سردی اس کے اندر تک اتر جاتی۔ مگر ایوان کی سب سے بڑی خواہش ایک نیا اوورکوٹ تھا ایسا کوٹ جو اسے سردی ہی نہیں، بے قدری سے بھی بچا لے۔ وہ برسوں پیسے جوڑتا رہا۔ چائے کم، موم بتی آدھی، اور جوتے بار بار سلواتا رہا۔ آخرکار درزی پیٹرووچ نے کوٹ تیار کر دیا۔ جب ایوان نے وہ کوٹ پہنا تو اسے یوں لگا جیسے وہ پہلی بار واقعی انسان بنا ہو۔ دفتر میں لوگوں نے اسے دیکھا، مسکرائے، حتیٰ کہ افسر نے بھی سر ہلایا۔ اس ایک کوٹ نے ایوان کو وہ پہچان دے دی جو برسوں کی محنت نہ دے سکی تھی۔ مگر خوشی مختصر…
urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
قدیم بغداد کی گلیوں میں، جہاں چراغوں کی روشنی اور سایوں کی سرگوشیاں ساتھ چلتی تھیں، ایک کاتب رہتا تھا جس کا نام یونس تھا۔ اس کا کام بادشاہ کے دربار میں فیصلوں اور احکامات کو صاف خط میں نقل کرنا تھا۔ یونس کی تحریر بے عیب تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں—کسی کو بچا بھی سکتے ہیں اور کسی کو مٹا بھی۔ ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری، یونس کو ایک بند لفافہ ملا۔ اس پر نہ مہر تھی، نہ نام۔ اندر ایک حکم تھا—ایسا حکم جو ایک بے گناہ خاندان کی جلاوطنی کا باعث بنتا۔ یونس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ حکم لکھنا اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی سچائی اس کے ضمیر پر بوجھ بن گئی۔ اسی رات اسے خواب آیا۔ اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
یہ قصہ ہے چاچا نتھو کا جن کے خراٹے مشہور تھے کہ اگر وہ سو جائیں تو آس پاس کے پرندے درختوں سے گر جاتے تھے۔ ان کے خراٹوں کی گونج ایسی تھی جیسے کوئی پرانا ٹریکٹر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بار گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ ایک آدم خور بلا علاقے میں گھوم رہی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے شام ہوتے ہی گھروں میں دبک جاتے۔ اسی دوران گاؤں کے چوکیدار نے ہمت کی اور رات کو پہرہ دینے نکلا۔ اتفاق سے چاچا نتھو اس رات اپنی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑ کر وہیں سو گئے تھے۔جیسے ہی چاچا نتھو گہری نیند میں گئے، ان کے نتھنوں سے وہ مخصوص آواز برآمد ہوئی یعنی گھڑڑڑڑ پُھسسس۔ باہر گلی سے گزرنے والے چوکیدار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ وہ آدم خور بلا یہیں کہیں دیوار کے پیچھے چھپی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایرانی بادشاہ قاچار جس نے اپنے ملازموں کی موت سزا ایک دن لیٹ کی اور انہی ملازموں نے اسے خیمہ میں گھس کر موت کے گھاٹ اتار دیا آغا محمد خان قاجار، قاجار سلطنت کے بانی، ۱۸ویں صدی کے آخر میں فارس پر سختی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ حکمرانی کرتے تھے۔ان کا بادشاہ کے مقام تک آنا بذات خود جنگوں، مخالفین کی purge، اور ذاتی صدموں سے بھری ہوئی تھی، جن میں بچپن میں ایک مخالف گروہ کی جانب سے ان کا خصیہ تلف کر دینا بھی شامل ہے۔ ان کی حکومت میں بھی سختی جاری رہی، جہاں معمولی خلاف ورزی پر بھی سخت سزا دی جاتی تھی۔یہی انداز ان دو نوکروں کی کہانی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے؛جب ملازم کسی بات پٹ شور مچا رہے تھے تو بادشاہ نے فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ چونکہ وہ دن مذہبی لحاظ سے مقدس تھا، اس لیے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog