Category Archives: Urdu Stories

بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز تھا۔ وہ ایک نہایت ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اس سے دن رات سخت مشقت کرواتا اور معمولی سی غلطی پر بھی سخت سزا دیتا۔ آخر ایک دن ظلم سے تنگ آ کر اینڈروکلیز وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ جنگلوں میں بھٹکتا رہا…کبھی بھوک سے لڑتا…کبھی خوف سے… مگر کم از کم اب وہ آزاد تھا۔ ایک دن وہ ایک درخت کے نیچے تھکا ہارا بیٹھا تھا کہ اچانک اسے درد سے بھری ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ وہ گھبرا گیا۔ مگر اُس آواز میں ایسا درد تھا کہ وہ ہمت کر کے آہستہ آہستہ اُس طرف بڑھنے لگا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا… بہت بڑا…خوفناک…لیکن شدید تکلیف میں مبتلا۔ اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے خوفزدہ ہوا، مگر پھر اس…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ  ایک گاؤں میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔وہ اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے، ایک بار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکہ ڈالنے جا رہا تھا۔راستے میں ہم ایک جگہ کچھ دیر آرام کرنے بیٹھے تو وہاں ہم نے دیکھا کہ کھجور کے تین درخت ہیں۔جن میں سے دو پر تو خوب پھل لگے ہے جبکہ تیسرا بالکل خشک ہے۔ ایک چڑیا بار بار آتی ہے اور پھل دار درختوں پر سے تر و تازہ کھجور اپنی چونچ میں لے کر خشک درخت پر چلی جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا، میں نے دس مرتبہ چڑیا کو کھجور لے جاتے ہوئے دیکھا تو مجھے جاننے کا تجسس ہوا کہ آخر اس خشک درخت پر ایسا کیا ہے جو یہ چڑیا بار بار پھل اُتار کر وہاں پہنچاتی ہے۔یہی سوچ کر میں نے ارادہ کیا کہ کیوں نہ اس درخت پر چڑھ…

Read more

ایک جاگیردار کے پاس ایک غریب فیملی بطور ملازم مقیم تھی وہ لوگ ساڑھے چار لاکھ روپے کے مقروض تھے ان کا قرض تقریبا ادا ہونے والا تھا جاگیردار کی خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ مزید مقروض ہو جائے کیونکہ وہ لوگ محنتی تھے اور شریف بھی تھے ان میں کسی قسم کی کوئی برائی یا عیب نہیں تھا لہذا وہ وڈیرا چاہتا تھا کہ یہ لوگ یہاں ہی رہیں پہلے پہلے اس نے اس بات کے لیے ان کو طرح طرح کے لالچ دئیے مگر ان لوگوں نے کہا کہ ہم اپنا قرض ادا کرنے کے بعد اپنے وطن (آبائی علاقے) واپس جانا چاہتے ہیں اس کے بعد اس جاگیردار نے ان پر تھوڑی بہت سختی بھی کی یہاں تک کہ عید ا گئی عید تک تقریبا وہ لوگ اپنا قرض اتار چکے تھے انہوں نے جاگیردار سے کہا کہ ہمارا حساب کتاب کر دو جاگیردار…

Read more

ایک یونیورسٹی میںریسرچ ہو رہی تھی کہ“مرد کو دوسری شادی کی خواہش کب تک رہتی ہے؟” پروفیسر صاحب نے کہا،“60 سال سے نیچے والوں سے پوچھنا وقت کا ضیاع ہے۔ ایسا کریں 60 سال سے اوپر والے مردوں سے پوچھیں۔”چناچہ طالبعلم ایک 60 سالا بزرگ نظام دین سے سوال کیا تو بزرگ نے کہا، “کیا تمہارے پاس کوئی رشتہ ہے؟” طلبا جان گئے کہ بابا جی تیار بیٹھے ہیں۔پھر طلبا نے ایک 70 سالہ بزرگ چراغ دین سے پوچھا اس نے کچھ ایسا ہی جواب دیا۔ ایسے ہی ایک 80 سالا بزرگ سے پوچھا تو بھی ایسا ہی جواب ملا۔اس کے بعد ایک 90 سالا بزرگ امام دین سے سوال کیا تو بزرگ بولے،“آہستہ بات کرو، تمہاری چاچی کے کان بہت باریک ہیں، سن لے گی۔”یعنی جواب ہاں میں تھا۔اب طلبا علاقے کے سب سے بڈھے کھوسٹ نیک محمد عرف نصر عثمانی کے پاس گئے، جس کے ہاتھ اور سر…

Read more

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﮈﺍﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺗﻞ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺟﺮﺍﺋﻢ ﮐﯿﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﻠﯽ ﺑﮭﮕﺖ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺰﺍ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﮞ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﻗﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ” ﻣﺎﮞ ایک ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺳﻨﺎﺋﯽ۔ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ، “ﺟﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﮮ، ﺑﮭﯿﻨﺲ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔” ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﯿﻞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻗﺼﮧ ﮨﮯ؟؟ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ، “ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﻨﺲ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﻧﮯ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺭﮨﺎ…

Read more

آدھی رات کو اچانک بیوی کی آنکھ کھلی۔اس نے دیکھا کہ شوہر بستر پر نہیں ہے۔ وہ تشویش کے مارے اٹھی، سیڑھیاں اتر کر کچن میں آئی، تو شوہر کو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گہری سوچوں میں گم دیوار کو گھورتے پایا۔ بیوی نے جب شوہر کو آنسو پونچھ کر کافی کا گھونٹ لیتے دیکھا تو پریشانی سے بولی:”کیا ہوا ڈئیر؟ رات کے اس پہر یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟“ شوہر نے سر اٹھایا، آہ بھری اور دھیرے سے بولا:”تمہیں یاد ہے بیس سال پہلے، جب تم اٹھارہ سال کی تھی اور ہم چوری چوری ملنے گئے تھے؟“ بیوی مسکرا کر بولی:”ہاں ڈئیر، وہ لمحہ کیسے بھول سکتی ہوں؟“ شوہر نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا:”اور تمہیں یاد ہے جب تمہارے باپ نے ہمیں پکڑ لیا تھا؟ شاٹ گن تان کر کہا تھا… یا تو میری بیٹی سے شادی کر لو، یا میں تمہیں بیس سال کے لیے…

Read more

ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس کے پاس دولت، شہرت اور آسائش کی ہر چیز موجود تھی۔ شہر کے لوگ اس کی کامیابی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی: سکون۔وہ راتوں کو جاگتا رہتا، بے چینی سے کروٹیں بدلتا اور ہمیشہ کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت کم نہ ہو جائے، کاروبار نقصان میں نہ چلا جائے یا لوگ اس سے آگے نہ نکل جائیں۔ایک دن سفر کے دوران اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے ایک کچے گھر کے سامنے پہنچا جہاں ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔تاجر نے پانی مانگا۔ بوڑھے نے خوش دلی سے پانی پلایا اور کھانے کی دعوت بھی دی۔کھانے کے بعد تاجر نے پوچھا، “آپ کے پاس نہ بڑی زمین ہے، نہ دولت، نہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک چڑیا گھر تھا۔ ایک دن نہ جانے کیسے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ گیا اور ایک شیر وہاں سے نکل بھاگا۔ جونہی یہ خبر گاؤں میں پہنچی کہ “شیر آ گیا! شیر آ گیا!” تو پورے گاؤں میں قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ لگا دی۔ کوئی چھت پر چڑھ گیا، کوئی چارپائی کے نیچے گھس گیا، کوئی دروازے بند کرنے لگا اور کچھ ایسے بھی تھے جو خوف کے مارے یہ بھول گئے کہ آخر دوڑ کس طرف رہے ہیں۔ اسی بستی میں ایک چرسی رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اداکاری کرنا تھا۔ نہ اسے دنیا کی خبر تھی اور نہ زمانے کی۔ اس کی کل کائنات ایک بڑا سا آئینہ تھا جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ باقی جو کچھ اس کے پاس ہوتا، وقت کے ساتھ بیچ…

Read more

ایک شخص کُشتی لڑنے کے فن میں مشہور تھا۔ وہ تین سو ساٹھ داؤ پیچ جانتا اور ہر روز ان میں سے ایک داؤ کے ساتھ کشتی لڑاتا تھا۔ ایک شاگرد سے وہ بہت زیادہ مہربان تھا اور اس پر خصوصی توجہ دیتا تھا۔ وہ شاگرد کچھ عرصہ میں زبردست پہلوان بن گیا اور روز بروز اس کی شہرت پھیلتی چلی گئی ملک بھر میں۔ کسی پہلوان میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ ایک دفعہ اس نوجوان نے اپنی طاقت کے زعم میں بادشاہ وقت سے کہا کہ استاد کو مجھ پر جو فوقیت حاصل ہے، وہ اس کی بزرگی اور تربیت کے حق کی وجہ سے ہے ورنہ قوت اور فن میں اس سے کم نہیں ہوں۔ بادشاہ کو اس کا یہ متکبرانہ انداز پسند نہ آیا۔ اس نے استاد اور شاگرد میں کُشتی کرانے کا حکم دے دیا۔ مقررہ دن کو اس دنگل کے…

Read more

بہت زمانہ پہلے چین کی ایک وسیع و عریض سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجیب و غریب خواہشات پالنے کا شوق تھا۔ کبھی وہ موسیقاروں سے ایسا راگ سننے کا مطالبہ کرتا جو بادلوں کو رُلا دے، اور کبھی شاعروں سے ایسی نظم لکھوانا چاہتا جو پتھروں کو ہنسا دے۔ایک روز صبح دربار لگا تو بادشاہ کا موڈ بھی حسبِ معمول غیر معمولی تھا۔اس نے شاہی باورچی کو طلب کیا، جو اپنی حاضر جوابی اور پاک فن میں کمال رکھتا تھا۔باورچی ادب سے جھکا۔“حکم فرمائیے، حضور!”بادشاہ نے سنجیدگی سے کہا:“آج ہمارے لیے ایسا پکوان تیار کرو جو ہمیں رُلا دے۔”درباری ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔کسی نے سوچا شاید کوئی غمگین داستان پر مبنی کھانا ہوگا۔کسی نے خیال کیا شاید مرچوں کا کوئی نادر نسخہ تیار ہوگا۔مگر باورچی نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور محل کے باورچی خانے کی طرف روانہ ہو گیا۔چند گھنٹوں بعد شاہی…

Read more

ایک بڑے بادشاہ کا شاندار دربار لگا ہوا تھا۔وزیر، سپاہی، خادم سب ادب سے کھڑے تھے۔ سونے کے ستون، چمکتے قالین اور قیمتی زیورات دیکھ کر ہر کوئی یہی سوچتا تھا کہ اس بادشاہ سے زیادہ خوش قسمت انسان دنیا میں کوئی نہیں۔اسی دوران دربار کے دروازے پر ایک فقیر آیا۔اس کے کپڑے پرانے تھے، ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی تھی، مگر چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔فقیر نے بلند آواز میں کہا:“بادشاہ سلامت! میں دنیا کا سب سے امیر آدمی ہوں!”یہ سن کر پورا دربار ہنس پڑا۔بادشاہ مسکرایا اور بولا:“تم؟ امیر؟ تمہارے پاس تو نہ محل ہے، نہ خزانہ، نہ نوکر۔ پھر امیری کیسی؟”فقیر سکون سے بولا:“میرے پاس ایسے خزانے ہیں جو آپ کے پاس بھی نہیں۔”بادشاہ حیران ہوا:“اچھا؟ ذرا ہم بھی سنیں۔”فقیر بولا:“پہلا خزانہ… میں رات کو سکون سے سوتا ہوں۔مجھے یہ خوف نہیں ہوتا کہ کوئی میرا تخت چھین لے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔“دوسرا خزانہ… میرے…

Read more

وہ شخص شہر کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی کئی فیکٹریاں تھیں، عالی شان بنگلے تھے، قیمتی گاڑیاں تھیں، اور بینک اکاؤنٹس میں اتنا سرمایہ تھا کہ آنے والی کئی نسلیں بھی آرام سے زندگی گزار سکتیں۔ اب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھا۔ وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہتا: “بس چند ماہ اور… پھر میں سکون سے زندگی گزاروں گا۔ دنیا گھوموں گا، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزاروں گا، پرانے دوستوں سے ملوں گا، اور زندگی کے اصل مزے لوں گا۔” مگر زندگی کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں… ایک رات، جب وہ اپنے خوابوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا، اچانک کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ اس نے سر اٹھایا تو سامنے موت کا فرشتہ کھڑا تھا۔ اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ “ک… کون ہو تم؟” فرشتے نے پرسکون لہجے میں جواب دیا: “میں تمہاری روح لینے…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک غلام تھا جو نہایت کم عقل اور حد سے زیادہ لالچی تھا۔ وہ اپنے فرائض میں بھی غفلت برتتا تھا۔ بادشاہ نے اس کی کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ کم کر دیا جائے، اور اگر وہ جھگڑا کرے تو اسے غلاموں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔جیسے ہی اس کا وظیفہ کم ہوا، غلام ناراض اور گستاخ ہو گیا۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو اپنی غلطیوں پر غور کرتا، اپنے قصور کو پہچانتا اور معافی مانگ لیتا، لیکن اس کے غرور نے اسے اندھا کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کے نام شکایت بھری عرضی لکھنے کا ارادہ کیا۔یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا اپنا وجود ہی ایک ایسی عرضی ہے جو ہر وقت ربِ حقیقی کے حضور پیش ہوتی رہتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنے اعمال اور کردار کو دیکھے، پھر کوئی شکایت کرے۔غلام…

Read more

تم نے نہیں سنا کہ کوئی شیریں گفتار ایک رات یاروں میں بیٹھا درزیوں کی شکایت کر رہاتھا اور لوگوں کو اس گروہ کی چوریوں کے قصّے سنا رہاتھا۔ اس نے اچھا خاصا درزی نامہ پڑھ ڈالا اور خلقت اس کے اطراف جمع ہوکر سنتی رہی۔ سننے والوں کو جس قدر دلچسپی ہو رہی تھی اسی قدر وہ بھی مزے لے لے کر بیان کر رہا تھا بلکہ سراپا حکایت بن گیا تھا۔ جب اس نے درزیوں کی بہت سی چوریوں کے حالات سنائے کہ یہ مکّار کس کس طرح لوگوں کو ٹھگتے اور نقصان پہنچاتے ہیں تو سننے والوں میں سے ملکِ خطا کا ایک ترک ان کی بدمعاشیوں پر بالکل آپے سے باہر ہوگیا۔اس نے پوچھا کہ اے داستان گو! یہ تو بتا کہ تمہارے شہر میں کون سا درزی مکر و دغا میں سب کا استاد ہے؟ اس نے کہا کہ ایک درزی پورشش نامی بڑا زہر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کئی دنوں سے مسلسل جنگل میں بارش ہو رہی تھی۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل کی زمین جگہ جگہ پانی سے بھر چکی تھی۔ایک مکوڑا بارش سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک اسے زمین میں ایک سرنگ نظر آئی۔ وہ جلدی سے اس میں گھس گیا۔کچھ دور جانے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ تو چیونٹیوں کی بستی ہے۔چیونٹیاں پہلے تو چونکیں، مگر جب مکوڑے نے ادب سے کہا: “معاف کیجیے گا، میں آپ کی اجازت کے بغیر اندر آ گیا ہوں۔ باہر بارش بہت شدید ہے، اس لیے پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔” تو چیونٹیوں نے اسے مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ اتفاق سے کھانے کا وقت تھا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا، بہترین خوراک پیش کی اور اپنی بستی بھی دکھائی۔ مکوڑا حیران رہ گیا۔جہاں تک اس کی نظر…

Read more

ایک شہر کی بلی تھی۔ عمر بھر اس نے گلیوں، محلّوں اور صحنوں میں زندگی گزاری تھی۔ اس کے دن بڑے مزے سے گزرتے تھے۔ کہیں دودھ کا پیالہ مل جاتا، کہیں روٹی کا ٹکڑا، اور اگر قسمت زیادہ مہربان ہوتی تو کوئی موٹا تازہ چوہا بھی ہاتھ آ جاتا۔ مگر ایک دن شہر بھر میں عجیب مصیبت آ گئی۔چوہے جیسے زمین کھا گئی ہو۔نہ کسی گودام میں آواز، نہ کسی دیوار کے سوراخ میں جنبش، نہ رات کے اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی چاپ۔ بلی پریشان ہو گئی۔پہلے ایک دن انتظار کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔آخر اس نے سوچا:“اگر رزق شہر میں ختم ہو گیا ہے تو کیوں نہ جنگل کا رخ کیا جائے؟ سنا ہے وہاں چوہوں کی بھرمار ہے۔” یہ سوچ کر وہ جنگل کی طرف چل پڑی۔ جنگل پہنچ کر اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔واقعی چوہے ہی چوہے تھے۔جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں کے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو اپنی کنجوسی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے گھر سے ایک دانہ گندم بھی کم ہو جائے تو وہ آدھا دن اس کے حساب میں گزار دیتا ہے۔ اس کے گھر میں ایک مرغا تھا جو ہر صبح اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا اور پورے گھر کو جگا دیتا تھا۔ کسان کو اس مرغے سے عجیب قسم کی محبت تھی، مگر گاؤں والے جانتے تھے کہ یہ محبت مرغے سے زیادہ اس فائدے سے تھی جو اسے مفت میں حاصل ہو رہا تھا کہ مرغا ان کو ٹائم سے جگا دیتا تھا۔ایک دن اچانک مرغا مر گیا۔ کسان نے جب اپنے صحن میں مرغے کو بے جان پڑا دیکھا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا، سر جھکا لیا اور گہری…

Read more

بخارا کے ایک بازار میں ایک تاجر رہتا تھا۔اچھا خاصا کاروبار تھا — مصالحے، ریشم، عطر —لیکن اس کے گھر کی سب سے قیمتی چیز —نہ ریشم تھی، نہ عطر —بلکہ —ایک طوطا تھا۔وہ طوطا جیسے کوئی اور نہیں —پنجرے میں بیٹھتا — سبز پروں کو سنوارتا —اور پھر بولتا —اس طرح بولتا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔شعر سناتا —باتیں کرتا —مہمانوں کا نام لے کر سلام کرتا —مزاق کرتا — قہقہہ لگاتا۔تاجر اسے بہت چاہتا تھا —صبح اٹھ کر پہلے طوطے کے پاس جاتا —رات کو سوتے وقت پنجرے کو کپڑے سے ڈھانپتا —“میرا سورج — میری خوشی۔”ایک دن —تاجر کو ہندوستان کا سفر درپیش ہوا —کاروباری معاملہ تھا — جانا ضروری تھا۔اس نے گھر والوں سے پوچھا —“کیا لاؤں تمہارے لیے؟”کسی نے کپڑا مانگا —کسی نے زیور —کسی نے مصالحے۔آخر میں تاجر طوطے کے پنجرے کے پاس آیا —اور پیار سے بولا:“بتاؤ — تمہارے لیے کیا لاؤں؟”طوطے…

Read more

راجستھان کی تپتی ریتوں اور سنہری قلعوں کے زمانے کی بات ہے۔ ایک ریاست کا بادشاہ اپنے علم و دانش پر بڑا ناز کرتا تھا، مگر ساتھ ہی عجائبات اور کرامات سننے کا بھی شوقین تھا۔ اسی کمزوری کی خبر دور دور تک مشہور تھی۔ایک دن دربار میں ایک جوگی آن پہنچا۔ اس کی لمبی جٹائیں کندھوں پر بکھری تھیں، گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالائیں تھیں اور پیشانی پر ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی۔جوگی نے دربار میں داخل ہوتے ہی گرجدار آواز میں کہا:“اے راجَن! عام انسان دو آنکھوں سے دنیا دیکھتے ہیں، مگر میرے پاس تیسری آنکھ ہے، جو پردۂ مستقبل کے پار بھی دیکھ لیتی ہے!”درباری حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کسی نے سبحان اللہ کہا، کسی نے کرامت کا چرچا چھیڑ دیا۔مگر بادشاہ نے غور سے جوگی کی پیشانی دیکھی اور مسکراتے ہوئے بولا:“بابا! یہ تیسری آنکھ کم اور رنگ…

Read more

600/1559
NZ's Corner