Category Archives: Urdu Stories

ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف…

Read more

ایک بہت پرانے جنگل پر ایک بوڑھا شیر حکومت کرتا تھا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھا، لیکن اس نے تخت چھوڑنے کے بجائے یہ طے کیا کہ اب اس کا بیٹا (شہزادہ شیر) تخت سنبھالے گا۔مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہزادہ شیر پیدا تو جنگل میں ہوا تھا، لیکن اس کی پرورش اور تعلیم ایک دوسرے دور دراز کے پرتعیش جزیرے پر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگل کی زمین کیسی ہوتی ہے یا جانوروں کے دکھ درد کیا ہیں۔جب شہزادے کی واپسی ہوئی، تو پورے جنگل کو سجایا گیا۔ لومڑیوں نے (جو خوشامدی وزراء تھیں) ہر طرف یہ اشتہار لگوا دیے کہ: “آ رہا ہے وہ، جو جنگل کی قسمت بدلے گا! وہی خون، وہی نسل!”ایک دن ایک دبلا پتلا گدھا شہزادے کے پاس آیا اور بولا: “حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں، گھاس ختم ہو گئی ہے اور دریا کا پانی گدلا ہو…

Read more

ایک مرتبہ ایک شکاری کو جنگل میں عقاب کا ایک بچہ ملا جو اپنے گھونسلے سے گر گیا تھا۔ شکاری نے اسے لا کر اپنی مرغیوں کے ساتھ باڑے میں چھوڑ دیا۔ وہ بچہ مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، وہی کچھ کھاتا جو مرغیاں کھاتی تھیں اور زمین کھود کر دانے تلاش کرتا۔ وہ مرغیوں کی طرح ہی تھوڑا سا اڑتا اور واپس زمین پر آ گرتا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ ایک مرغی ہے اور اس کی بساط بس اتنی ہی ہے۔ایک دن ایک ماہرِ پرندہ شناس وہاں سے گزرا اور اس نے عقاب کو مرغیوں میں چرتے دیکھا۔ اس نے کسان سے کہا کہ یہ پرندوں کا بادشاہ ہے، یہ زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنا۔ کسان نے ہنس کر کہا کہ اب یہ مرغی بن چکا ہے، یہ کبھی نہیں اڑے گا۔ ماہر نے اسے ہاتھ پر اٹھا کر بلندی کی طرف اچھالا اور کہا…

Read more

ایک جنگل میں ایک بہت بڑا ریچھ قاضی (جج) مقرر کیا گیا۔ اس ریچھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قانون کی کتاب کا بہت ماہر ہے، لیکن اس کی ایک آنکھ پر “پٹی” بندھی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتا اور بند کرتا تھا۔ایک دن ایک غریب بکری روتی ہوئی عدالت میں آئی۔ اس کا الزام یہ تھا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے بچوں کا راشن چھین لیا ہے اور اسے زخمی کر دیا ہے۔ریچھ نے بھیڑیے کو طلب کیا۔ بھیڑیا بہت آرام سے عدالت میں آیا، اس کے ساتھ دو لومڑیاں بطور وکیل تھیں۔ لومڑیوں نے عدالت میں ایسی ایسی بحث کی کہ قانون کی کتابیں کانپ اٹھیں۔ انہوں نے کہا:“حضور! بھیڑیے نے جو کیا وہ تو ‘ضرورتِ وقت’ (Doctrine of Necessity) کے تحت تھا۔ اور ویسے بھی، بکری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ راشن اس کا تھا؟ کیا اس نے راشن کارڈ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت آگئی۔ ان بندروں کا سردار بہت خوش اخلاق اور اچھا تقریر باز تھا۔ اس نے جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغ ہوں گے۔لیکن بندر سردار کا ایک مسئلہ تھا؛ وہ محنت کرنے کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے پھل اگانے کے بجائے دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔گدھوں نے بندر کو پیشکش کی: “تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں بنے بنائے پھل دیں گے، بس تم بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام لکھ دو اور ہم سے ‘قرضہ’ لے لو۔”بندر نے یہ سوچے بغیر کہ واپسی کیسے ہوگی، بہت سارا قرضہ لے لیا۔ اس نے کچھ پیسہ تو جنگل کی سجاوٹ (دکھاوے کے منصوبوں) پر خرچ کیا اور باقی سارا پیسہ اپنی…

Read more

ایک بادشاہ کے پاس دو تلواریں تھیں۔ ایک تلوار خالص سونے کی میان میں تھی جس پر ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ دوسری ایک معمولی لوہے کی تلوار تھی جو پرانے لکڑی کے خول میں پڑی رہتی تھی۔سونے کی میان والی تلوار ہمیشہ اتراتی اور کہتی: “دیکھو! میں بادشاہ کی زینت ہوں، جب دربار سجتا ہے تو سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں۔ تم تو اتنی بدصورت اور زنگ آلود ہو کہ تمہیں کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔” لوہے کی تلوار خاموش رہتی کیونکہ اسے اپنی اوقات معلوم تھی۔ایک دن اچانک ریاست پر دشمن نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے فوراً اپنی چمکدار سونے کی تلوار اٹھائی، لیکن جیسے ہی میدانِ جنگ میں اس سے وار کیا، وہ سونا نرم ہونے کی وجہ سے مڑ گئی اور کسی کام نہ آئی۔ بادشاہ نے گھبرا کر وہ پرانی لوہے کی تلوار نکالی۔ اس کی دھار اتنی تیز تھی…

Read more

لارنس آف عربیہ: سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں، جاسوسی، دھوکہ دہی، عرب بغاوت اور مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری کی مکمل داستان مشاہیر عالم میں بعض اوقات نیک نام کے ساتھ بدنام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: “ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟” انہی بدنام کرداروں میں تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے “لارنس آف عربیہ” کہا جاتا ہے، ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک انگریز جاسوس تھا جس نے بہروپ بدل کر عربوں اور ترکوں (عثمانی مسلمانوں) کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کر کے چھوڑ دیا۔ یہ داستان نہ صرف تاریخی حقائق پر مبنی ہے بلکہ برطانوی سامراج کی “divide and rule” پالیسی، جھوٹے وعدوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون لارنس کی زندگی،…

Read more

ایک سبق آموز اور دلچسپ واقعہکہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقل، انصاف پسندی اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ مظلوموں کے حقوق کا تحفظ اور ظالموں کو سزا دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ایک دن انہیں ایک نہایت کھٹن مقدمہ حل کرنا پڑا:دو پڑوسی ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے۔ ایک نیک دل اور دوسرا چالاک و مکار۔ نیک دل پڑوسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اس کا پڑوسی دھوکے باز ہے۔ایک دن چالاک پڑوسی سخت مصیبت میں پھنس گیا۔ اس کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ وہ مدد کے لیے اپنے نیک دل پڑوسی کے پاس گیا، لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا کیونکہ نیک پڑوسی صبح سے کام پر گیا ہوا تھا۔جب وہ باہر گیا تو راستے میں اپنے پڑوسی کو کام سے لوٹتے ہوئے دیکھ…

Read more

دلچسپ اور سبق آموز واقعہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ…

Read more

ایک جنگل میں ایک شیر بادشاہ تھا۔اس نے شکار اور پانی کی نگرانی ایک لومڑی کے سپرد کی،کیونکہ وہ چالاک اور زبان کی تیز تھی۔ شروع میں لومڑی ایماندار تھی،سب جانور وقت پر پانی پیتے،اور کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہلومڑی نے پانی کے چشمے پر اپنا قبضہ جما لیا۔جو جانور تحفہ دیتا،اسے زیادہ پانی ملتا۔ لومڑی شیر کو رپورٹ دیتی:“حضور! سب جانور برابر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔” شیر یقین کر لیتا۔ ایک دن سخت گرمی پڑی۔چشمہ خشک ہونے لگا۔کمزور جانور پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ ایک ہرن ہمت کر کے شیر کے پاس گیا اور سچ بتا دیا۔شیر نے خود جا کر چشمہ دیکھاتو حقیقت سامنے آ گئی۔ شیر نے لومڑی کو معزول کر دیااور اعلان کیا:“امانت داری کے بغیر عقل خطرناک ہوتی ہے۔” جنگل میں پھر انصاف قائم ہوااور پانی سب کو برابر ملا۔ اخلاقی سبق (Moral): جو امانت میں خیانت کرے،وہ صرف دوسروں کو نہیںآخرکار…

Read more

ایک لالچی آدمی نے اپنا تمام سونا بیچ کر سونے کی ایک بڑی اینٹ خریدی اور اسے ایک باغ میں گڑھا کھود کر چھپا دیا۔ وہ روزانہ وہاں جاتا اور اینٹ کو دیکھ کر خوش ہوتا۔ اس کی یہ حرکت ایک چور نے دیکھ لی اور ایک رات وہ سونے کی اینٹ نکال کر لے گیا۔اگلے دن جب وہ آدمی وہاں پہنچا تو گڑھا خالی پا کر رونے پیٹنے لگا۔ ایک پڑوسی نے پوچھا کہ کیا تم اس سونے کو کبھی استعمال کرتے تھے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں، میں تو بس اسے دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ پڑوسی نے گڑھے میں ایک پتھر ڈالا اور کہا کہ اب اس پتھر کو دیکھ کر خوش ہوتے رہو کیونکہ تمہارے لیے سونا اور پتھر ایک برابر ہیں جب تم نے اسے استعمال ہی نہیں کرنا تھا۔سبق: دولت کا اصل فائدہ اسے صحیح جگہ اور صحیح وقت پر استعمال کرنے میں…

Read more

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے  سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا  نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص آیا اور ایک چکور پیش کیا، جس کا ایک پاٶں نہیں تھا۔جب سلطان نے اس کی قیمت پوچھی، مالک نے اسے بہت مہنگا بتا دیا۔ حیران ہو کر سلطان نے پوچھا:“یہ چکور ایک پاٶں سے محروم ہے، پھر اتنی مہنگی کیوں؟”مالک نے بتایا:“جب ہم شکار پر جاتے ہیں، یہ چکور ساتھ لے جاتا ہوں۔ جال کے پاس پہنچ کر اسے باندھتا ہوں تو یہ عجیب سی آوازیں نکالتا ہے، اور بہت سارے چکور اس کی آواز پر آ جاتے ہیں، جنہیں میں پکڑ لیتا ہوں۔”سلطان محمود نے فوراً چکور کی قیمت ادا کی اور اسے سر تن سے جدا کر دیا۔مالک حیران ہو کر پوچھا:“اتنی قیمت دینے کے باوجود اسے کیوں مارا؟”سلطان محمود نے فرمایا:“جو دوسروں کی دلالی کے لیے اپنے اپنوں اور اپنے وطن کو بھیجتا ہے، اس کا انجام یہی ہونا چاہیے۔”👑 انصاف کی طاقت اور وطن کی حرمت کا سبق

کچھوا اور خرگوش کی نئی دوستیخرگوش اور کچھوے کی پرانی دشمنی اب دوستی میں بدل چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ایک بہت دور والے شہر جائیں گے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور تیز لہروں والی ندی آگئی۔ خرگوش وہاں رک گیا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور کچھوا تیز لہروں میں اکیلا پار نہیں جا سکتا تھا۔دونوں نے ایک ترکیب سوچی۔ خشکی پر خرگوش نے کچھوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتا رہا۔ جب ندی آئی تو خرگوش کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوے نے اسے باآسانی ندی پار کرا دی۔ اس طرح دونوں نے مل کر اپنا سفر بہت جلد اور کامیابی سے مکمل کر لیا۔سبق: انفرادی قابلیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن ٹیم ورک اور مل جل کر کام کرنے سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل…

Read more

شیطان سے بچنا ایک مشہور بزرگ تھے ان کے پاس ایک دفعہ ایک طالب علم آیا جو دینی علوم سیکھتا رہا۔ کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد جب وہ اپنے وطن واپس جانے لگا تو وہ بزرگ اس سے کہنے لگے: میاں ایک بات بتاتے جاؤ۔ وہ کہنے لگا دریافت کیجئے۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ کہنے لگے اچھا یہ تو بتاؤ کیا تمہارے ہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ وہ کہنے لگا حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ شیطان تو ہر جگہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا:اچھا جب تم نے خدا تعالیٰ سے دوستی لگانی چاہی اور شیطان نے تمہیں ورغلا دیا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ کہنے لگے :فرض کرو تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ بھاگ گیا، لیکن پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جدوجہد کی اور پھر تمہیں شیطان نے روک لیا…

Read more

حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔ میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا…

Read more

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتیافسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہپانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

ایک جنگل میں ایک چیتا رہتا تھا جسے اپنی رفتار پر بہت گھمنڈ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جو تیز بھاگ سکتا ہے، وہی سب سے زیادہ عزت کا حقدار ہے۔ اسی جنگل کے ایک پرانے برگد کے درخت پر ایک کبوتروں کا جوڑا رہتا تھا جو بہت پرسکون اور خاموش طبع تھا۔ایک دن چیتے نے کبوتر کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “تمہاری زندگی بھی کیا زندگی ہے؟ ذرا سی آہٹ ہو تو تم پھڑپھڑا کر اڑ جاتے ہو۔ کاش تم میری طرح بہادر اور تیز ہوتے، تو تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔”کبوتر نے مسکرا کر جواب دیا: “چیتے بھائی! رفتار اللہ کی دین ہے، لیکن اصل چیز وہ نظر ہے جو آنے والے خطرے کو وقت سے پہلے دیکھ لے۔” چیتے نے قہقہہ لگایا اور وہاں سے چلا گیا۔کچھ دن گزرے، جنگل میں شکاریوں نے قدم رکھا۔ انہوں نے چیتے کو پکڑنے کے لیے ایک بہت…

Read more

گھنے جنگل میں ایک پرانا الو رہتا تھا جسے جانور دانا سمجھتے تھے۔ وہ کم بولتا، مگر جب بولتا تو سب خاموش ہو جاتے۔ اسی جنگل میں ایک بندر بھی تھا جو نہایت چالاک، باتونی اور مجمع پسند تھا۔ جب بھی جنگل میں کوئی مسئلہ ہوتا، مجلس بلائی جاتی۔ الو سوچ سمجھ کر رائے دیتا، مگر بندر ہمیشہ شور مچاتا، قصے سناتا اور اپنی بات کو عقل کہہ کر پیش کرتا۔ ایک سال جنگل میں خوراک کی شدید کمی ہو گئی۔ مجلس بلائی گئی کہ کیا کیا جائے۔ الو نے کہا:“ہمیں شکار کی حد مقرر کرنی چاہیے، ورنہ جنگل خالی ہو جائے گا۔” بندر فوراً اچھل پڑا:“یہ بوڑھا الو ہمیں ڈرانا چاہتا ہے۔ جو طاقتور ہے وہ کھائے، جو کمزور ہے وہ سیکھے!” بندر کی بات پر تالیاں بجیں۔ جانوروں نے اسی پر عمل کیا۔ چند مہینوں میں جنگل ویران ہو گیا۔ شکار ختم، درخت اجڑ گئے۔ بندر دوسرے جنگل…

Read more

600/740
NZ's Corner