Category Archives: Urdu Stories

دریا کے کنارے شام اتر رہی تھی۔آسمان پر سرخ اور سنہری رنگ بکھرے ہوئے تھے، پانی کی سطح پر ہلکی لہریں ناچ رہی تھیں، اور ایک پرانے جامن کے درخت کی بلند شاخ پر بندر حسبِ معمول بیٹھا پھل کھا رہا تھا۔لیکن آج فضا میں کچھ اور ہی تناؤ تھا۔دریا کے گہرے پانی سے دو چمکتی ہوئی آنکھیں ابھریں۔وہ مگرمچھ تھا۔وہی پرانا مگرمچھ، جس کی بیوی کبھی بندر کا دل کھانے کا خواب دیکھتی تھی، اور جو اپنی چالاکیوں میں کئی بار ناکام ہو چکا تھا۔اس نے پانی سے سر نکالا اور غصے بھرے لہجے میں کہا:“بندر! تم نے مجھے اور میری بیوی کو دھوکہ دیا تھا۔ آج حساب برابر ہوگا!”بندر نے ایک جامن منہ میں ڈالتے ہوئے بے پروائی سے جواب دیا:“حساب؟ تم پانی میں رہتے ہو، میں درخت پر۔ تمہارا حساب ہمیشہ ادھورا ہی رہے گا!”مگرمچھ کے نتھنے پھول گئے۔“تم سمجھتے ہو میں تمہیں پکڑ نہیں سکتا؟”“بالکل!”بندر نے…

Read more

ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا، کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پِتّے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پِتّے سے جس میں فلاں فلاں خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پِتّے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے۔ کسان بہت غریب…

Read more

شیخ چلی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا—عقل سے بالکل پیدل اور حماقت کے بادشاہ! ایک دن پڑوسیوں کے گھر سے ایک پیالے میں گرم گرم، خوشبودار سالن آیا۔ سالن کیا تھا، قسمت کا کھیل تھا! شیخ جی نے زندگی میں پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی۔ تیرتے ہوئے گول گول ٹکڑوں کو دیکھ کر انہوں نے حیرت سے ماں سے پوچھا: “اماں! یہ شوربے میں کون سے خلائی جہاز تیر رہے ہیں؟” ماں نے پیار سے سر پیٹ کر کہا: “بیٹا! اسے بڑیاں کہتے ہیں۔ شیخ چلی نے ایک ٹکڑا انگلی سے اٹھایا: “اور اماں یہ اکیلا؟ ماں نے زچ ہو کر مختصر جواب دیا: “بڑی! شیخ جی نے اس دن پیٹ کو نہیں، بلکہ نیت کو بھر کر کھایا۔ سالن کیا پسند آیا، گویا دل و جان ہی ہار بیٹھے۔ اب اگلا پورا ہفتہ گھر میں ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا: “اماں! مجھے تو…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک دن ایک فقیر آ گیا۔ اس نے بڑے اعتماد سے کہا:“اے بادشاہ! یہ تخت و تاج آخر ہے کیا؟ اس کی کوئی اصل قیمت ہی نہیں۔” بادشاہ یہ سن کر زور سے ہنسا اور درباریوں کو حکم دیا:“اس شخص کو باہر نکال دو، اسے کیا معلوم کہ تخت و تاج کی کیا لذت اور کیا قدر ہوتی ہے۔” وقت گزرتا گیا… پھر ایک دن بادشاہ شکار کے لیے جنگل کی طرف نکلا۔ اچانک اس کا گھوڑا بے قابو ہو گیا اور اسے بہت دور سنسان صحرا میں لے گیا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان۔ بادشاہ پیاس سے نڈھال ہو گیا، اس کی حالت آخری ہچکیوں تک پہنچ گئی۔ اسی لمحے ایک فقیر مشکیزہ لیے وہاں سے گزرا اور آواز لگانے لگا:“پانی لے لو… پانی لے لو…” بادشاہ نے کمزور آواز میں پکارا:“میرے پاس سب کچھ ہے، جو مانگو گے دوں گا… بس…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز تالاب کے کنارے، جہاں کنول کے پھول صبح کی دھوپ میں مسکراتے تھے اور ہوا سرکنڈوں سے سرگوشیاں کرتی پھرتی تھی، ایک مینڈک اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتا تھا۔اس کے کئی ننھے ننھے بچے تھے، جو پانی میں تیرتے، اچھلتے اور شام کو اپنے باپ کے گرد جمع ہو کر قصے سنتے تھے۔زندگی پُرسکون تھی۔پھر ایک دن تالاب کے کنارے ایک سانپ آ گیا۔عجیب دوستیسانپ خاموش مزاج تھا۔وہ نہ پھن پھیلاتا تھا، نہ کسی پر حملہ کرتا تھا۔ایک دن اس نے مینڈک سے کہا:“دوست بنو گے؟”مینڈک حیران ہوا۔“سانپ اور مینڈک؟”“کیوں نہیں؟”“لوگ کہتے ہیں تم ہمیں کھا جاتے ہو۔”سانپ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:“لوگ بہت کچھ کہتے ہیں۔”مینڈک کو بات اچھی لگی۔چند ہی دنوں میں دونوں میں دوستی ہو گئی۔وہ اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے، اور شام کے وقت تالاب کے کنارے لمبی گفتگو کرتے۔دوسروں کی تنبیہتالاب کے دوسرے مینڈک پریشان…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک بیڑی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…

Read more

کہتے ہیں ایک پرسکون تالاب کے کنارے ایک کچھوا رہتا تھا۔وہ نہ سب سے تیز تھا، نہ سب سے طاقتور، نہ سب سے خوبصورت۔مگر ایک خوبی یا یوں کہیے ایک خرابی ایسی تھی جس میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا:وہ بے حد بولتا تھا۔اتنا بولتا تھا کہ اگر صبح سورج نکلنے پر بات شروع کرتا تو شام کو چاند نکلنے تک سانس لیے بغیر قصے سناتا رہتا۔تالاب کے مینڈک اس سے تنگ تھے۔بطخیں اس سے بچ کر تیرتی تھیں۔اور مچھلیاں تو اسے دیکھتے ہی پانی کے اندر غوطہ لگا دیتی تھیں۔دوست کا مشورہایک دن اس کا ایک پرانا دوست اس کے پاس آیا۔اس نے محبت سے کہا:“کچھوا بھائی، ایک نصیحت کروں؟”“ضرور کرو، لیکن پہلے میری کل والی کہانی سن لو۔”“نہیں، پہلے میری بات سنو۔”“اچھا کہو۔”دوست نے گہری سانس لی۔“کبھی کبھی خاموشی بھی نعمت ہوتی ہے۔”کچھوا ہنس پڑا۔“خاموشی؟”“ہاں۔”“وہ کیوں؟”“کیونکہ زیادہ بولنے والا اکثر اپنی مصیبت خود بلا لیتا ہے۔”کچھوا گردن…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز گاؤں کے کنارے ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا، اور اس درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک مرغ رہتا تھا۔یہ کوئی عام مرغ نہ تھا۔صبح سویرے اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا، دوپہر کو فلسفہ بگھارتا اور شام کو خود کو جنگل کا سب سے بڑا گلوکار سمجھتا تھا۔درخت کے نیچے ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔چالاک، مکار، خوش زبان اور تعریفوں کے جال بننے میں ایسی ماہر کہ اگر چاہتی تو کانٹے دار جھاڑی کو بھی یقین دلا دیتی کہ وہ گلاب کا پھول ہے۔تعریفوں کا کاروبارہر صبح لومڑی درخت کے نیچے آتی اور نہایت ادب سے آواز دیتی:“مرغے بھائی!”مرغ اوپر سے گردن نکالتا۔“جی فرمایئے؟”لومڑی مسکراتی۔“آپ کی آواز تو ایسی ہے کہ بلبلیں بھی شرما جائیں۔”مرغ خوش ہو جاتا۔“واقعی؟”“بالکل! ذرا ایک نغمہ تو سنا دیجئے۔”مرغ بانگ دیتا۔اور جیسے ہی وہ اپنی موسیقی کے نشے میں مست ہوتا، لومڑی چھلانگ لگاتی۔مگر مرغ پھڑپھڑا کر دوسری…

Read more

افریقہ کے ایک گرم اور سنہری میدانوں والے ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی کنجوسی پورے خطے میں مشہور تھی۔لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے ہاتھ سے ایک اشرفی گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لیے اتنی دیر جھکے رہتا کہ سورج غروب ہو جائے۔وہ خزانے جمع کرنے کا ایسا شوقین تھا کہ سونے کے سکوں کو رات کو گن کر سوتا اور صبح اٹھ کر دوبارہ گن لیتا، کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی اشرفی کم نہ ہو گئی ہو۔مگر دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جو اکثر عقل مندوں کو بھی دھوکا دے دیتی ہے:آسان منافع۔جادوگر کی پیشکشایک دوپہر دربار میں ایک پراسرار جادوگر حاضر ہوا۔اس کے کپڑے گرد آلود تھے، مگر آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بولا:“جہاں پناہ! میں ایک سودا کرنا چاہتا ہوں۔”بادشاہ فوراً چونک گیا۔“سودا؟ کتنے کا؟”جادوگر مسکرایا۔“دس ہزار اشرفیوں کا۔”بادشاہ تقریباً تخت…

Read more

عرب کے ایک وسیع صحرا میں، جہاں ریت کے ٹیلے سورج کی روشنی میں سونے کی طرح چمکتے تھے اور دور دور تک کھجوروں کے جھنڈ مسافروں کو امید دلاتے تھے، ایک بردبار اونٹ رہتا تھا۔وہ ان اونٹوں میں سے تھا جو کم بولتے ہیں، زیادہ چلتے ہیں، اور دوسروں کی حماقتوں پر صرف مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ایک دن وہ ایک دریا پار کرنے نکلا۔یہ دریا صحرا کے درمیان ایک نیلی لکیر کی طرح بہتا تھا، اور مسافروں کے لیے نعمت بھی تھا اور امتحان بھی۔اونٹ سکون سے پانی میں اترا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔عظیم مہم جو چوہااسی دوران ایک ننھا سا چوہا کہیں سے دوڑتا ہوا آیا۔اس نے دریا کو دیکھا، پھر اپنی مختصر ٹانگوں کو دیکھا، پھر اونٹ کو دیکھا۔اور فوراً ایک فیصلہ کر لیا۔بغیر اجازت لیے وہ اونٹ کی ٹانگ سے چڑھتا ہوا اس کی کوہان تک جا پہنچا۔اونٹ نے…

Read more

ایک زمانے میں ایک دریا تھا۔نہ بہت چوڑا، نہ بہت تنگ۔مگر اتنا ضرور تھا کہ جو تیرنا نہ جانتا ہو، اس کے لیے وہ فلسفے کی آخری منزل ثابت ہو سکتا تھا۔اسی دریا کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔وہ نرم دل، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے میں یقین رکھنے والا جانور تھا۔اس کا مسئلہ صرف ایک تھا:وہ ہر کسی کی بات پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔ایک صبح وہ کنول کے پتے پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک بچھو ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا۔بچھو کی فریاد“دوست مینڈک!”مینڈک نے چونک کر دیکھا۔“جی فرمائیے۔”بچھو نے دریا کی طرف اشارہ کیا۔“مجھے دوسری طرف جانا ہے۔”“تو جاؤ۔”“میں تیر نہیں سکتا۔”“تو پھر؟”“مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار کرا دو۔”مینڈک نے فوراً دو قدم پیچھے ہٹائے۔“معاف کرنا، مگر تم بچھو ہو۔”“تو؟”“تم مجھے ڈنگ مار دو گے۔”بچھو نے ایسا چہرہ بنایا جیسے اس کی شدید توہین ہو گئی ہو۔“ارے دوست! تھوڑا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سرسبز میدان کے کنارے ایک کسان رہتا تھا۔ ہر سال موسمِ سرما آتے ہی وہ اپنی زمین میں گاجریں بوتا۔ اس کی زمین ایسی زرخیز تھی کہ چند ہی ہفتوں میں ہرے پتوں کے نیچے نارنجی گاجریں زمین میں بھرنے لگتیں۔ مگر کسان کی فصل کا ایک اور بھی مداح تھا۔قریب کے جنگل میں خرگوشوں کی ایک بڑی آبادی رہتی تھی۔ جونہی گاجریں تیار ہوتیں، رات کے اندھیرے میں خرگوشوں کے جھنڈ آتے، خوب گاجریں کھاتے اور خوشی خوشی واپس لوٹ جاتے۔ کسان کئی بار انہیں دیکھتا، مگر نہ جال بچھاتا، نہ ڈنڈا اٹھاتا۔ وہ بس مسکرا کر کہتا: “اللہ کی زمین ہے، میرا بھی رزق ہے اور ان کا بھی۔” یوں کئی برس گزر گئے۔ہر سال کسان گاجریں اگاتا اور ہر سال خرگوش ان سے لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن جنگل کے نوجوان خرگوشوں میں سے ایک نے کسان کو ایک نیا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔ گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔ وہ اکثر خود سے کہتا:“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔” اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔ گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں…

Read more

جنگل کے بیچوں بیچ ایک مشہور استاد رہتا تھا۔ وہ ایک بوڑھا کوئل تھا جس کی آواز اتنی سریلی تھی کہ دور دور سے جانور اس کے پاس گانا سیکھنے آتے تھے۔ ہرن آتے، خرگوش آتے، بندر آتے، طوطے آتے، حتیٰ کہ کچھ ریچھ بھی اپنی بھاری آوازوں کو بہتر بنانے کی امید میں اس کی کلاس میں بیٹھ جاتے۔کوئل استاد صبح سے شام تک سب کو ایک ہی بات سمجھاتا رہتا: “سر لگاؤ! سر کے بغیر گانا نہیں بنتا”مگر جانور تھے کہ سر میں گانا تو دور کی بات، سیدھی بات بھی نہیں کر پاتے تھے۔ایک دن مسلسل سمجھاتے سمجھاتے استاد کو غصہ آ گیا۔ اس نے زور سے کہا: “آج کے بعد کوئی بھی جانور بغیر سر کے بات نہیں کرے گا! جو بات کرے گا، سر میں کرے گا”۔ سب جانوروں نے فوراً سر ہلا دیا۔ اب جنگل میں عجیب صورتحال پیدا ہو گئی۔ خرگوش اگر کہتا:“پانی…

Read more

زمانۂ قدیم میں یونان کے ایک شہر پر ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جو ہر بیماری کا علاج نایاب چیزوں میں تلاش کرتا تھا۔اگر اسے زکام ہو جاتا تو وہ عام جڑی بوٹیوں پر یقین نہ کرتا، بلکہ کسی دور دراز پہاڑ کی برف یا سمندر کے پار اگنے والے پھول کا نسخہ مانگتا۔اس کا خیال تھا کہ جتنا عجیب علاج ہوگا، اتنا ہی مؤثر ہوگا۔ایک دن اس کی آنکھوں میں شدید درد شروع ہو گیا۔آنکھیں سرخ رہتیں، روشنی چبھتی اور سر بھاری رہتا۔محل کے حکیم، طبیب اور ڈاکٹر سب جمع ہوئے، مگر بادشاہ کی بیماری کم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔آخرکار ایک بوڑھا طبیب دربار میں حاضر ہوا۔اس نے بادشاہ کی آنکھوں کا معائنہ کیا، نبض دیکھی، چند لمحے داڑھی سہلائی اور نہایت سنجیدگی سے بولا:“جہاں پناہ! علاج ممکن ہے، مگر تھوڑا مشکل ہے۔”بادشاہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔“فوراً بتاؤ!”طبیب نے آہستہ سے کہا:“ہر صبح ایک…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب جنگل بھی سلطنتیں ہوا کرتے تھے، درخت درباریوں کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے تھے اور جانور اپنے اپنے عہدوں اور مرتبوں پر فخر کیا کرتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ ایک طاقتور شیر تھا۔ اس کی دھاڑ سے پہاڑ کانپتے اور اس کی ایک نگاہ سے درندے بھی راستہ بدل لیتے تھے۔مگر ایک دن قدرت کا ایسا حکم ہوا کہ شیر بیمار پڑ گیا۔وہ اپنی غار میں پڑا کراہتا رہتا، نہ شکار پر جا سکتا تھا اور نہ دربار لگا سکتا تھا۔جنگل کے حکیم، نجومی، جڑی بوٹیوں والے اور خود ساختہ ڈاکٹر سب جمع ہوئے۔بڑی بحث کے بعد ایک بوڑھے حکیم نے اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے کہا:“عالی جاہ! آپ کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز میں ہے۔”شیر نے کمزور آواز میں پوچھا:“کیا؟”حکیم نے رازدارانہ انداز میں کہا:“گدھے کا تازہ گوشت!”یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔اس نے فوراً اپنی…

Read more

ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں، جہاں قد آور درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور شاخوں پر بیٹھے پرندے صبح و شام نغمے چھیڑتے تھے، ایک بندر اپنی پھرتی اور چستی کے باعث بہت مشہور تھا۔وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر ایسے اچھلتا جیسے ہوا میں کوئی پتنگ ناچ رہی ہو۔اسے اپنی رفتار پر بڑا ناز تھا۔جنگل میں جب بھی کسی دوڑ، چھلانگ یا کرتب کا ذکر ہوتا، بندر فوراً اپنی دم لہرا کر کہتا:“میرا مقابلہ؟ ابھی تک پیدا نہیں ہوا!”اسی جنگل میں ایک کچھوا بھی رہتا تھا۔وہ آہستہ چلتا تھا، کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تو اکثر دوسروں کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ایک دن جنگل کے جانور ایک تالاب کے کنارے جمع تھے کہ کچھوا اپنی مخصوص دھیمی چال سے آگے بڑھا اور بندر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔“جناب بندر!”بندر نے مسکراتے ہوئے پوچھا:“فرمائیے، حضورِ رفتار!”کچھوا بولا:“میں تمہیں دوڑ کا چیلنج دیتا ہوں۔”یہ سن…

Read more

ایک شادی شدہ جوڑا اپنی بہترین اور سکھی ازدواجی زندگی کے لیے مشھور تھا. ان دونوں میاں بیوی کے درمیان انکی 25 سالہ ازدواجی زندگی میں کسی جھوٹی سی بات پر بھی تکرار نہیں ہوئی تھی. لوگ ان کی اس محبت سے بھر پور ازدواجی زندگی کا راز جاننے کے لیے بے چین تھے…. ایک مرتبہ اس خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز دریافت کرنے پر شوہر نے بتایا:ہماری شادی کے فورًا بعد ہم ہنی مون منانے ایک پُرفضا پہاڑی علاقہ میں گئے. وہاں ہم لوگوں نے گھڑ سواری کا پروگرام بنایا۔ میرا گھوڑا بالکل ٹھیک تھا لیکن میری بیوی کا گھوڑا تھوڑا نخرے والا تھا۔ اس نے دوڑتے دوڑتے اچانک میری بیوی کو گرا دیا۔میری بیوی اٹھی اور گھوڑے کی پیٹھ پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا، “یہ پہلی بار ہے۔”اور دوبارہ اس پر سوار ہو گئی۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد گھوڑے نے پھر اسے گرا دیا۔بیوی…

Read more

ایک شخص سخت پریشان حالت میں ایک حاجت مند کے پاس آیا اور بولا:“بھائی! مجھے تھوڑا سا شہد چاہیے، میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے، اس کا علاج شہد سے ممکن ہے۔” اس شخص نے افسوس سے جواب دیا:“میرے پاس اس وقت شہد موجود نہیں، لیکن آپ ایک کام کریں۔ شہر سے باہر شام کے ایک بڑے تجارتی قافلے کا گزر ہونے والا ہے۔ اس قافلے کا امیر بہت نیک اور سخی انسان ہے، مجھے یقین ہے وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔” حاجت مند نے شکریہ ادا کیا اور امید لے کر قافلے کی طرف چل پڑا۔ کچھ وقت بعد قافلہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک نہایت باوقار اور روشن چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ان کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی:“میری بیٹی بیمار ہے، علاج کے لیے مجھے…

Read more

580/1560
NZ's Corner