Category Archives: Urdu Stories

قاہرہ کی فضا ان دنوں عجیب سرگوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ بازاروں، حماموں اور محلّوں میں ایک ہی نام زبان زدِ عام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سلطان کی رعایا میں ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف دیکھ کر بتا سکتی ہے کہ کون پاک دامن ہے، کون حاملہ ہے اور کون اپنے کردار میں لغزش کا شکار رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سادہ لوح لوگ اس پر یقین بھی کر رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ بااثر گھرانے بھی اپنی عورتوں اور لڑکیوں کو اس کے پاس لے جانے لگے تھے۔یہ خبر جب سلطان صلاح الدین ایوبیؒ تک پہنچی تو ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں ہو گئے۔ سلطان نے نہ صرف ایک حکمران کی حیثیت سے بلکہ ایک عادل انسان کے طور پر بھی اس بات کو خطرناک سمجھا۔ انہیں علم تھا کہ ایسے دعوے معاشرے میں بدگمانی، فتنہ اور…

Read more

بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“ وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو صرف سائے دیکھ کر فیصلے کرتا تھا۔اس کے محل میںہر رات پردہ لگتا،چراغ جلتے،اور کٹھ پتلیوں کے سائےدیوار پر ناچتے۔ وزیر کہتا:“حضور! حقیقت باہر ہے،لوگوں میں، کھیتوں میں،پسینے اور بھوک میں۔” بادشاہ جواب دیتا:“سایہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،اصل چیزیں تواپنی شکل بدل لیتی ہیں۔” ایک دنایک اندھا سازندہ دربار میں آیا۔اس نے کہا:“مجھے بھی کھیل دکھانے دو۔” بادشاہ ہنسا:“تم دیکھ ہی نہیں سکتے،سائے کیسے نچاؤ گے؟” اندھے نے چراغ بجھا دیا۔پورا ہال اندھیرے میں ڈوب گیا۔پھر اس نے ساز چھیڑا۔آوازیں بلند ہوئیںکبھی رونے جیسی،کبھی ہنسنے جیسی،کبھی ٹوٹتی سانسوں جیسی۔ لوگ کانپنے لگے۔بادشاہ بولا:“یہ کیا جادو ہے؟میں کچھ دیکھ نہیں پا رہا!” اندھا بولا:“آپ نے عمر بھرصرف سائے دیکھے ہیں،آج پہلی بارحقیقت سن رہے ہیں۔” اس نے چراغ دوبارہ جلایا۔دیوار پرکوئی سایہ نہیں تھا۔صرف لوگ تھے—خاموش، شرمندہ،زندہ۔ اندھا سازندہ بولا:“جو صرف آنکھ سے دیکھےوہ دھوکا کھا سکتا ہے؛جو سننا سیکھ لےوہ اندھیرے میں بھیراستہ پا لیتا ہے۔” کہتے…

Read more

ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو جنگل کا بے تاج بادشاہ سمجھتا تھا۔ شروع میں وہ انصاف پسند تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ کمزور جانوروں کو بلا وجہ ڈرانے لگا اور ان کی بات سننا چھوڑ دی۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا ہرن بھی رہتا تھا، جو نہایت سمجھدار اور صبر والا تھا۔ ایک دن شیر نے ہرن کو بلا کر کہا:“آج سے تم روز میرے لیے پانی اور خوراک لایا کرو گے، ورنہ انجام برا ہوگا۔” ہرن نے ڈرنے کے بجائے نرمی سے جواب دیا:“اے جنگل کے بادشاہ! طاقت اللہ کی امانت ہے، اسے ظلم کے لیے نہیں بلکہ حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے۔” شیر کو یہ بات بری لگی اور اس نے ہرن کو وہاں سے بھگا دیا۔ کچھ دن بعد جنگل میں شدید خشک سالی پڑ گئی۔ پانی…

Read more

قدیم عرب کے زمانے سے ہی عزی’ کے بت کا ایک شاندار مندر بنایا گیا تھا، اس مندر میں دوبیہ اسوینی نامی ایک پجاری عزیٰ کے بت کی دیکھ بھال اور خدمت کرتا تھا۔ مندر کے سامنے تھوڑے فاصلے پر جھاؤ کے تین درخت تھے۔ ان درختوں پر عزیٰ جننی کا بسیرا تھا۔ اس بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ عزیٰ بت جس کی پوجا کی جاتی ہے ایک شیطانی جناتی طاقت تھی جو ان درختوں پر رہتی تھی اور جو اسی کے مندر کے قریب واقع تھے۔ جب کبھی لوگ عزی کے بت کی پوجا اور چڑھاووں اور منتوں کے لئے آتے تھے تو وہ مندر میں رکھے بت میں داخل ہو کر باتیں کرتی تھی،  اپنی شیطانی قوتوں سے لوگوں کے مسائل حل کرتی تھی اور اس طریقے سے انہیں بھٹکاتی تھی۔ اس کا آقا شیطان اس کی اس کارکردگی پر خوش تھا۔جب مکہ فتح…

Read more

لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ اپنی باتوں، چالاکی اور ذہنی کھیل سے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔ایک دن ایک شخص بکری کا ننھا سا بچہ (میمنا) خرید کر اسے کندھے پر اٹھائے شہر سے باہر جا رہا تھا۔ راستے میں ٹھگوں کے ایک گروہ نے اسے دیکھ لیا۔ سب نے مل کر طے کیا کہ اس بکری کے بچے کو اس شخص سے ٹھگ لیا جائے ۔انہوں نے ایک پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوگئے ۔ پہلا ٹھگ آگے بڑھا اور تعجب سے کہنے لگابھائی! تم کندھے پر کتا کیوں اٹھائے جا رہے ہو؟وہ شخص ہنسا اور بولاارے بھائی! یہ کتا نہیں بکری کا بچہ ہے۔وہ ٹھگ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔تھوڑی دور دوسرا ٹھگ ملا اس نے ناک سکوڑ کر کہااللہ خیر…

Read more

ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔چنانچہ اس نے عرض کیا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ…

Read more

وہ قوم جس کے لیے آسمان سے تیار رزق نازل ہوتا تھا — قرآن و معتبر تفاسیر کی روشنی میں مکمل اور مستند حقیقت یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ یہ وہ قوم تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی احسانات کیے، یہاں تک کہ ان کے لیے آسمان سے تیار غذا نازل فرمائی گئی۔ ذیل میں یہ پورا واقعہ صرف قرآنِ مجید اور معتبر اسلامی تفاسیر کی روشنی میں، بغیر کسی ذاتی رائے، سبق یا اضافی بات کے، مکمل حقیقت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کون تھے؟ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب “اسرائیل” تھا، اسی نسبت سے ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ یہ قوم ایک طویل عرصے تک فرعونِ مصر کے ظلم اور غلامی میں مبتلا رہی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

یورپی ادب سے ماخوذ  کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…

Read more

دیہاتی اپنے خچر (گدھے جیسا جانور) سے بہت پریشان تھا۔ وہ خچر اتنا سست تھا کہ ایک قدم چلتا اور دس منٹ رک جاتا۔دیہاتی اسے کھینچ کھینچ کر تھک گیا، آخر کار وہ اسے لے کر گاؤں کے ایک مشہور “حکیم” کے پاس گیا۔ دیہاتی نے کہا:“حکیم صاحب! میرا یہ جانور بہت کام چور اور سست ہو گیا ہے۔ یہ بالکل نہیں چلتا۔ کوئی ایسی دوا دیں کہ اس میں بجلی جیسی پھرتی آ جائے۔” حکیم بہت تجربہ کار تھا۔ اس نے اپنی پڑیا میں سے تھوڑی سی “لال مرچ” نکالی، خچر کی دم اٹھائی اور وہ مرچ وہاں لگا دی جہاں نہیں لگانی چاہیے تھی۔ 🌶️🔥 مرچ لگتے ہی خچر نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ہوا سے باتیں کرتا ہوا، گولی کی رفتار سے سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دیہاتی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سر پکڑ…

Read more

ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ “غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔” وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا…

Read more

ایک جنگل تھا جہاں تمام جانور امن و سکون سے رہتے تھے۔ اچانک وہاں ایک بندر اور لومڑی کی جوڑی نے “معاشی اصلاحات” کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑی منڈی بنائی اور اعلان کیا کہ اب سے کوئی جانور براہِ راست درخت سے پھل نہیں توڑ سکے گا، بلکہ سب کچھ منڈی سے ملے گا۔منڈی کا ٹھیکہ ایک طاقتور ہاتھی کو دیا گیا جو ذخیرہ اندوزی کا ماہر تھا۔ایک صبح جب خرگوش گاجریں خریدنے گیا تو اسے معلوم ہوا کہ گاجر کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ خرگوش نے حیرت سے پوچھا: “کل تو یہ سستی تھیں، آج کیا ہوا؟”ہاتھی نے اپنی سونڈ ہلاتے ہوئے جواب دیا: “دیکھو بھائی! دوسرے جنگل میں خشک سالی آ گئی ہے، اس لیے یہاں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔” حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہاتھی نے گاجروں کا سارا اسٹاک اپنے بڑے گودام میں چھپا دیا تھا تاکہ مصنوعی قلت…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں…

Read more

مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔لوگ حیران تھے۔دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”مگر نوجوان خاموش رہتا۔نہ تعریف قبول کرتا،نہ اپنا نام…

Read more

ایک کوا ایک ہنس کو جھیل میں سکون سے تیرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ہنس کی طرح پانی میں رہے گا تو اس کے پر بھی سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔ کوے نے ہنس کی طرح پانی میں غوطے لگانا اور مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوا نہ تو اپنی سیاہی بدل سکا اور نہ ہی اسے کائیں کائیں والی خوراک ملی۔ سردی اور پانی کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔سبق: اللہ نے ہر جاندار کو الگ خصوصیات دی ہیں، اپنی اصلیت بدلنے کی کوشش جان لیوا ہو سکتی ہے۔

ایک بار کا ذکر ہے…تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی…

Read more

قریش کے نامی گرامی سردار ولید بن مغیرہ کا ایک بیٹا غیر معمولی اوصاف کا حامل تھا۔ لمبے قد، مضبوط جسم، عقابی نگاہ، جنگی و سیاسی چالوں کا ماہر، تلوار کا دھنی، لڑائی کے داؤ پیچ کا گرو، نڈر، بے خوف، فنِ حرب کا جادو گر، شعلہ بیان خطیب، شریف النفس اور ذہین و فطین اس انسان کو دنیا خالد بن ولید ؓ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کا بچپن، بچپن سے لڑکپن، لڑکپن سے نوجوانی، نوجوانی سے جوانی تک کی زندگی کا اکثر حصہ لڑنے بھڑنے، جنگی مہارت حاصل کرنے اور سیکھنے سکھانے میں گزرا۔ جاہلیت میں اسلام کا مخالف ہوکر بہت سی لڑائیاں لڑی ہیں مگر سوائے احد کے اور کسی میں بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ خود فرمایا کرتے تھے: “اسلام قبول کرنے سے پہلے میں تقریباً ہر معرکے میں نبی کریم ﷺ کے سامنے نئے عزم اور ولولے کے ساتھ آتا، لیکن…

Read more

ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﻪ ﺁﺝ ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﻫﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ : “ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﺟﺲ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ, ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ, ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﮐﻪ ﺍُﺱ ﺩِﻥ ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ۔۔”!ﯾﻪ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﺑﮭﯿﮍ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯽ, ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩِﻥ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﯾﺴﺎ ﻫﯽ ﻫﻮﺍ, ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﺍُﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﺎﺭﻩ ﮐﮭﻼﯾﺎ, ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﻫﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺍُﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺰ ﺩﮬﺎﺭ ﻭﺍﻻ ﺁﻟﻪ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﮭﯿﮍ ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮐﻪ ﺁﺝ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﻫﮯ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍُﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻫﻮﺍ ﮐﻪ ﻣﺎﻟﮏ ﺍُﺳﮯ ﺫﺑﺢ ﻧﻬﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﻫﺎ ﺑﻠﮑﻪ ﺻﺮﻑ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻭﻥ ﺍُﺗﺎﺭ ﺭﻫﺎ ﻫﮯ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﻪ ﻧﻪ ﺭﻫﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﻪ ﺳﻠﺴﻠﻪ ﻫﺮ ﺩﻭ,…

Read more

580/740
NZ's Corner