Category Archives: Urdu Stories

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ پریشان اور بے چین رہتا تھا۔ جنگل کے تقریباً تمام جانور کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی خوراک جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا اور کوئی اپنے بچوں کی پرورش میں لگا رہتا، مگر چوہے کے پاس کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا۔ جنگل کے جانور اکثر اسے طعنے دیتے۔“کب تک فارغ پھرو گے؟” “زندگی صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے!”لیکن چوہا ہمیشہ سینہ تان کر ایک ہی جواب دیتا: “تم لوگ دیکھ لینا، میں کوئی بہت بڑا کام کروں گا۔ ایسا کام کہ پورا جنگل میرا نام لے گا۔” اس کی ایک گلہری دوست تھی جو اسے دل سے چاہتی تھی۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی: “بڑے کام اچھی بات ہیں، مگر ان کی شروعات چھوٹے قدموں سے ہوتی ہے۔ پہلے کچھ سیکھو، پھر کوئی…

Read more

ایک جعلی پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے بڑے فخر سے اپنی کرامتیں بیان کر رہے تھے۔ پیر صاحب بولے: “میں صحرا میں جا رہا تھا… چلتے چلتے دو دن گزر گئے۔ اچانک بھوک لگی تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور اُڑتا ہوا پرندہ پکڑ لیا! پھر سورج کی روشنی پر اسے بھونا  اور مزے سے کھا لیا!” مرید: پیر صاحب مزید جوش میں آگئے: “پھر نماز کا وقت ہوا، مگر پانی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی اور اچانک وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا! مرید: پیر صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بولے: “میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور آرام کرنے لگا۔ جب دوبارہ پانی لیا تو جہاں جہاں پانی کے قطرے گرے وہاں گلاب کے پھول کھل گئے! مرید: اب تو پیر صاحب پوری فارم میں تھے… بولے: “پھر میں نے چشمے میں پانی ڈالا تو پانی کے…

Read more

Es una historia de hace mucho tiempo. Un rey gobernaba un vasto imperio. Sus tesoros rebosaban de oro y plata, sus ejércitos eran incontables, sus palacios se alzaban majestuosos, pero su corazón estaba afligido por una sola cosa. Su única hija jamás reía. No sonreía, ni reía, ni movía los labios ante ninguna broma. Los bufones de la corte se caían de la risa, los magos realizaban trucos extraños y los poetas recitaban odas, pero el rostro de la princesa permanecía tan serio como si todas las penas del mundo hubieran caído sobre ella. Finalmente, harto de la situación, el rey hizo un anuncio por todo el imperio:«¡El hombre que haga reír a mi hija se casará con ella y se convertirá en dueño de la mitad del imperio!» Al oír este anuncio, príncipes, intelectuales y reyes autoproclamados de todas partes acudieron en masa a la corte. Pero el resultado…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں چوہوں کی ایسی بھرمار تھی کہ جیسے گھر نہیں، چوہوں کی سلطنت ہو۔ دن ہو یا رات، کہیں اناج کے ڈبے کترے جا رہے ہوتے، کہیں کپڑے اور کہیں لکڑی کے صندوق۔ کسان نے ہر تدبیر آزما لی، مگر چوہے کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ آخر ایک دن وہ شہر سے ایک بلی لے آیا۔بلی جوان، پھرتیلی اور شکار میں ماہر تھی۔اس کے آتے ہی چوہوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جو چوہے برسوں سے بے خوف گھومتے تھے، اب بلوں میں چھپنے لگے۔ہر روز کئی کئی چوہے اس کا شکار بنتے۔ کچھ ہی ہفتوں میں چوہوں کی تعداد اتنی کم ہو گئی کہ لوگ مذاق میں کہتے: “یہ اب چوہوں کا گھر نہیں، بلی کا محل بن گیا ہے۔” پڑوس میں ایک اور بلی رہتی تھی۔ وہ ہر شام دیوار پر آ بیٹھتی اور پوچھتی: “بہن، آج کتنے شکار کیے؟”…

Read more

ایک بوڑھا شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا، اتفاقاً ڈبہ ابھی خالی تھا۔ پھر 8~10 لڑکے اس ڈبے میں آئے اور بیٹھ کر انہوں نے تفریح کرنی شروع کر دی.! ایک نے کہا، “آؤ ، زنجیر کھینچیں”۔ ایک اور نے کہا – ” اس جرم پر 500 روپے جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا لکھی ہے۔ ” تیسرے نے کہا – ”  ہم بہت سارے لوگ ہیں  500 روپے چنده کر کے جمع کروا دیں گے.! ” چندہ جمع کیا گیا تو 500 کی بجائے 1200 روپے جمع ہوگئے۔ جس میں 500 کا ایک نوٹ ، پچاس کے 2 نوٹ  باقی سب 100 کے نوٹ تھے.!🙆چندہ پہلے لڑکے نے جیب میں رکھ لیا ۔ “زنجیر کھینچنے سے پہلے ایک بولا،  “اگر کوئی پوچھے گا تو کہیں دینگے گے کہ بوڑھے نے اسے کھینچا تھا ۔ تب اپنے کو پیسہ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ اور ان روپیوں سے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے، لشکر بے شمار تھے، محلات آسمان سے باتیں کرتے تھے، مگر اس کے دل پر ایک ہی بوجھ تھا۔اس کی اکلوتی بیٹی کبھی ہنستی نہ تھی۔نہ مسکراتی، نہ قہقہہ لگاتی، نہ کسی لطیفے پر لب ہلاتی۔دربار کے مسخرے ناک کے بل گرتے، شعبدہ باز عجیب کرتب دکھاتے، شاعر قصیدے پڑھتے، مگر شہزادی کا چہرہ ایسا سنجیدہ رہتا جیسے دنیا کے سارے غم اسی کے حصے میں آ گئے ہوں۔آخر تنگ آ کر بادشاہ نے سلطنت بھر میں اعلان کروا دیا:“جو شخص میری بیٹی کو ہنسا دے گا، وہی اس سے شادی کرے گا اور آدھی سلطنت کا مالک بنے گا!”یہ اعلان سنتے ہی دور دور سے شہزادے، امیرزادے، دانشور اور خودساختہ عقل کے بادشاہ دربار میں آ پہنچے۔مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔شہزادی…

Read more

زمانۂ قدیم کی بات ہے۔ ایک مال دار تاجر اپنے کاروباری سفر پر نکلا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھنے اور پُراسرار جنگل میں راستہ بھول بیٹھا۔ دن گزرتے گئے، سورج طلوع ہوتا اور ڈوب جاتا، مگر منزل کا سراغ نہ ملتا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں وہ جنگل کی بھول بھلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔آخرکار مایوسی کے عالم میں اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارا:“اے خدا کے بندو! جو کوئی مجھے اس جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھا دے، میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا!”ابھی اس کی آواز درختوں کے سائے میں گونج ہی رہی تھی کہ اچانک زمین کے قریب سے ایک باریک سی آواز سنائی دی:“میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا!”تاجر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے! ایک ننھا سا کانٹے دار چوہا اس کے سامنے کھڑا تھا۔تاجر دل ہی دل میں…

Read more

ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں ایک بھینس اور ایک گدھا تھا۔ بھینس کسان کے ساتھ ہر روز عصر کے وقت جنگل کی طرف چرانے جاتی اور شام کو واپس آ جاتی۔ گدھا گھر ہی میں بند رہتا مگر اس کی اور بھینس کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ جب بھینس واپس آتی تو وہ گدھے کو جنگل کی سبز گھاس، ٹھنڈی ہواؤں اور دور دریا کے کناروں کی باتیں سناتی۔ وہ اسے بتاتی کہ وہاں زمین اتنی نرم ہے جیسے قالین، اور سبزہ ایسا گھنا کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ بھینس کی باتیں سن سن کر گدھے کے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بار بار سوچتا کہ کاش وہ بھی اس جنت جیسے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ کسان گھر سے باہر چلا گیا۔ موقع دیکھ کر بھینس نے گدھے سے کہا:“آج چلو، میں تمہیں…

Read more

ایک سرسبز تالاب کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ عام مینڈکوں جیسا نہ تھا۔ باقی مینڈک کیچڑ میں خوش رہتے، مکھیاں پکڑتے اور شام کو ٹرٹر کی محفل جماتے تھے، مگر اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔اس کی ایک ہی خواہش تھی:“کاش میں بھی پرندوں کی طرح آسمان پر اڑ سکتا!”ہر صبح وہ گردن اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھتا اور حسرت سے سوچتا:“یہ بطخیں بھی کیا قسمت والی ہیں! کبھی جھیل پر، کبھی کھیتوں پر، کبھی بادلوں کے درمیان۔ اور ایک میں ہوں کہ ساری عمر اسی تالاب کے کنارے ٹرٹر کرتا رہوں!”ایک دن اس نے بطخوں کا ایک غول آسمان میں اڑتے دیکھا۔اس کا دل مچل اٹھا۔وہ اچھلتا کودتا ان کے پاس پہنچا اور بولا:“محترم بطخ بہنو! مجھے بھی اڑنا سکھا دیجیے۔”بطخوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ہنس پڑیں۔ایک بطخ بولی:“بھئی، اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہیے ہوتے…

Read more

زمانۂ قدیم میں ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک ایسا میدان تھا جہاں جانور اکثر اپنی طاقت کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ ایک دن اسی میدان میں ایک ہاتھی اور ایک گینڈا آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔دونوں اپنی اپنی طاقت کے قصیدے خود پڑھتے تھے۔ہاتھی فخر سے اپنی سونڈ لہراتا اور کہتا:“جنگل میں اگر کوئی پہاڑ چلتا پھرتا ہے تو وہ میں ہوں!”گینڈا اپنی ناک کا سینگ آسمان کی طرف اٹھا کر جواب دیتا:“اور اگر کوئی آندھی زمین پر دوڑتی ہے تو وہ میں ہوں!”باتوں باتوں میں بحث بڑھی، بحث سے تکرار ہوئی، اور تکرار سے نوبت لڑائی تک جا پہنچی۔آخر فیصلہ ہوا کہ ایک زبردست مقابلہ کیا جائے تاکہ دنیا جان لے کہ دونوں میں اصل بڑا کون ہے۔جنگل میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔لومڑیاں تماشہ دیکھنے کو بے تاب تھیں، بندر درختوں پر نشستیں سنبھال رہے تھے، اور طوطے تازہ تبصرے تیار کر…

Read more

ایک دن ایک اژدہا ایک ریچھ کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا۔ اتفاق سے ایک بہادر اور طاقتور پہلوان وہاں سے گزرا۔ جب اس نے ریچھ کی بے بسی دیکھی تو اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ اپنی قوت اور فنِ کشتی کے کمال سے اس نے اژدہے کا مقابلہ کیا، اسے زیر کر لیا اور آخرکار مار ڈالا۔ یوں ریچھ موت کے منہ سے بچ گیا۔ریچھ اس احسان پر بے حد شکر گزار ہوا۔ وہ پہلوان کے ساتھ ایسے لگ گیا جیسے وفادار ساتھی ہو۔ پہلوان بھی تھکا ہوا تھا، اس لیے ایک درخت کے سائے تلے آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ریچھ محبت اور عقیدت کے جذبے سے اس کے پاس پہرہ دینے لگا۔اسی دوران ایک راہ گیر وہاں سے گزرا۔ اس نے ریچھ کو پہلوان کے پاس بیٹھے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:“بھائی، یہ ریچھ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟”پہلوان نے سارا…

Read more

اے بات ماننے والے! بھولے پن کی ایک کہانی سن۔ ایک اعرابی نے اونٹ پر ایک بوریا اناج کی بھری اور دوسرے میں ریت بھر کر اونٹ پر لاد دیا اور خود ان دونوں کے اوپر ہو بیٹھا۔ راسے میں ایک باتونی صاحب ملے اور ہمدردی سے سفر کی حضرکی باتیں کرتے رہے۔ پھر پوچھا کہ کیوں میاں! دونوں بوریوں کیا بھرا ہوا ہے؟ اعرابی نے کہا کہ ایک میں تو گیہوں ہے اور دوسرے میں ریت بھری ہے۔پوچھا کہ آخر تو نے اس بوریاکو بھرا ہی کیوں؟ جواب دیا تاکہ دونوں طرف بوریے ہم وزن رہیں اور وزن صرف ایک ہی طرف نہ رہے۔ بولے بوریے میں سے آدھے گیہوں نکال کر دوسری میں پاسنگ کے طور پر ڈال دے۔ دونوں طرف وزن برابر ہوجائے گا اور اونٹ پر بھی بوجھ نہ رہے گا۔ اعرابی نے کہا کہ شاباش اے صاحبِ ہنر! ایسی عمدہ عقل اور اچھی رائے کے…

Read more

یہ ایک سچی اور دل کو چھو لینے والی ایمان افروز کہانی ہے جو توکل، دیانت داری اور اللہ کی غیبی مدد پر یقین کو تازہ کرتی ہے:ایک مرتبہ ایک غریب لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔ شدید گرمی اور تپتی دھوپ کی وجہ سے وہ بہت تھک چکا تھا۔ راستے میں ایک گھنے درخت کے نیچے وہ آرام کرنے کے لیے رک گیا۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا ایک طرف رکھا اور وہیں بیٹھ گیا ابھی وہ سستانے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر درخت کی جڑ کے پاس مٹی میں دبے ہوئے ایک چمڑے کے تھیلے پر پڑی۔ لکڑہارے نے تجسس کے مارے مٹی ہٹائی اور تھیلا باہر نکالا۔ جب اس نے تھیلے کا منہ کھولا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ تھیلا سونے کے قیمتی سکوں سے بھرا ہوا تھا۔لکڑہارا انتہائی غریب تھا، اس کے گھر…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے  ایک شخص نے ایک مرغا پالا تھا۔ ایک بار اس نے مرغا ذبح کرنا چاہا۔مالک نے مرغے کو ذبح کرنے کا کوئی بہانا سوچا اور مرغے سے کہا کہ کل سے تم نے اذان نہیں دینی ورنہ ذبح کردوں گا۔ مرغے نے کہا ٹھیک ہے آقا جو آپ کی مرضی! صبح جونہی مرغے کی اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی لیکن حسبِ عادت اپنے پروں کو زور زور سے پڑپڑایا۔مالک نے اگلا فرمان جاری کیا کہ کل سے تم نے پر بھی نہیں مارنے ورنہ ذبح کردوں گا۔اگلے دن صبح اذان کے وقت مرغے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پر تو نہیں ہلائے لیکن عادت سے مجبوری کے تحت گردن کو لمبا کرکے اوپر اٹھایا۔مالک نے اگلا حکم دیا کہ کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے، اگلے…

Read more

چاچا! فالسہ کیا حساب دے رہے ہو ؟”صاحب جی تازہ فالسہ صرف دو سو روپے کلو کار والے کا منہ بن گیا۔دو سو روپے؟؟ اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم اسے اپنی باتوں سےدکھ نہ پہنچائیں۔۔ جون کی تپتی ہوئی دوپہر تھی اور سورج آگ برسا رہا تھا۔   سڑک کے کنارے، پچپن سالہ چاچا برکت اپنی ریڑھی پر گہرے جامنی رنگ کے چمکتے ہوئے تازہ فالسے سجائے کھڑا تھا۔وہ مسلسل پنکھا جھلتے ہوئے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے آواز لگا رہا تھا: “ٹھنڈے میٹھے فالسے… گرمی کا توڑ فالسے!” چاچا برکت اندر سے شدید پریشان تھا۔ اس کا کرائے کا چھوٹا سا مکان تھا، مالک مکان دو بار کرائے کا تقاضا کر چکا تھا اور اوپر سے اس بار بجلی کا بل پورا چھ ہزار روپے آیا تھا، جس نے اس کے ہوش اڑا دیے تھے۔ گھر میں راشن ختم ہونے کو تھا…

Read more

ایک سرسبز و شاداب وادی کے بیچوں بیچ ایک قدیم تالاب تھا۔ اس تالاب کے نیلگوں پانی میں مینڈکوں کی ایک بڑی بستی آباد تھی۔ ہر طرف آزادی ہی آزادی تھی؛ نہ کوئی حاکم، نہ کوئی پابندی، نہ کسی کا حکم چلتا تھا اور نہ کسی کی گردن پر جبر کا طوق تھا۔مگر انسان ہو یا مینڈک، نعمت جب مسلسل میسر رہے تو اس کی قدر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک دن مینڈکوں کی مجلسِ شوریٰ منعقد ہوئی۔ بوڑھے مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے تھے اور نوجوان مینڈک جوشِ خطابت میں اچھل کود کر رہے تھے۔ایک جذباتی مینڈک نے تقریر جھاڑی:“یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی دربار! قومیں اپنے حکمرانوں سے پہچانی جاتی ہیں اور ہم ہیں کہ بے سہارے پھر رہے ہیں!”مجمع نے زور دار ٹرّ ٹرّ کے ساتھ تائید کی۔بالآخر سب نے مل کر دیوتا کے حضور فریاد کی:“اے دیوتا! ہمیں…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھے اک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک خوش آواز گویّا آیا۔ اس نے ایسا سُریلا گانا چھیڑا کہ پورا دربار خاموش ہو گیا…بادشاہ جھوم اٹھا بادشاہ نے وزیر سے کہا:“اس گویّے کو ہیرے دے دو!” یہ سنتے ہی گویّا اور دل سے گانے لگا۔ بادشاہ پھر بولا:“اسے موتی بھی عطا کرو!” اب تو گویّے کی آواز میں اور بھی جادو آ گیا بادشاہ خوش ہو کر چلایا:“اشرفیاں بھی دے دو!” گویّا اب پوری جان لگا کر گا رہا تھا…سر، لے، آواز… سب عروج پر تھے بادشاہ جوش میں آ کر بولا:“اسے جاگیر بھی دے دی جائے!” بس پھر کیا تھا…گویّا خوشی خوشی گھر پہنچا اور بیوی بچوں کو بتایا: “ہماری قسمت بدل گئی!بادشاہ نے سونا، چاندی، اشرفیاں، موتی، ہیرے، حتیٰ کہ جاگیر تک دینے کا اعلان کیا ہے!” گھر میں جشن شروع ہو گیا مگر… ایک دن گزرا…پھر دوسرا…پھر تیسرا… نہ سونا آیا…نہ چاندی…نہ اشرفیاں…نہ جاگیر… آخرکار گویّا دوبارہ دربار پہنچا…

Read more

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک سلطنت میں ایک ایسا شہزادہ رہتا تھا جس کا مزاج کانٹوں سے بھی زیادہ چبھنے والا تھا۔ غرور اس کے سر پر سوار رہتا اور بدتمیزی اس کی زبان پر ناچتی تھی۔ رعایا تو درکنار، اس کے اپنے خادم بھی اس کے رویّے سے عاجز آ چکے تھے۔ایک روز قسمت نے پلٹا کھایا۔ زور دار بارشوں کے باعث دریا بپھر گیا اور سیلاب کا ریلہ ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا تھا۔ انہی دنوں شہزادہ بھی دریا کے تیز دھار پانی میں جا گرا۔ کچھ روایتیں کہتی ہیں کہ اس کے نوکروں نے، جو اس کی سخت مزاجی سے تنگ آ چکے تھے، اسے دھکا دے دیا۔موت اس کے سر پر منڈلا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اسے ایک بہتا ہوا درخت کا تنا ہاتھ آ گیا۔ وہ اسی کے سہارے جان بچانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی تنے سے تین…

Read more

640/1559
NZ's Corner