Tag Archives: ” “daily lessons

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالاتحضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: “میں سیاسی ہوں”۔ (یاد رہے، عربی زبان میں “سیاسی” اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو۔) چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے، اس نے اجنبی کو شاہی اصطبل کا انچارج بنا دیا، کیونکہ اس عہدے پر مامور شخص حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: “یہ نسلی نہیں ہے۔” بادشاہ کو حیرت ہوئی، اس نے فوری طور پر اصطبل کے پُرانے سائیس کو جنگل سے بلوایا۔ سائیس نے بتایا کہ گھوڑا تو اصیل ہے، مگر اس کی ماں پیدائش کے فوراً بعد مر گئی تھی، جس کے بعد…

Read more

عربی حکایت ہے، کہ ایک بادشاہ اپنی جوان سالہ بیٹی کی شادی کو لیکر بہت فکر مند رہتا تھا ۔ وہ برسوں سے نیک اور عبادت گزار داماد کی تلاش میں تھا۔ ایک دن اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ کسی طرح میری بیٹی کیلئے میری رعایا میں سے عبادت گزار انسان کو تلاش کرکے سامنے پیش کرو ۔ وزیر نے اپنی فوج کو شہر کی جامع مسجد کے گرد تعینات کر دیا اور کہا چھپ کر دیکھتے رہو جو شخص آدھی رات کو مسجد میں داخل ہوگا اسے نکلنے مت دینا جب تک میں نہ آجاؤں..۔ عین اسی وقت ایک چور چوری کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا! اور دل ہی دل میں سوچا کیوں نہ آج شہر کی جامع مسجد میں جا کر چوری کی جائے وہاں مسجد کا قیمتی سامان چرایا جائے۔ چور جیسے ہی جامع مسجد میں داخل ہوا مسجد کی انتظامیہ نے…

Read more

*۔ایک آدمی پہلی دفعہ سسرال گیا۔ سسرال والے بڑے بخیل تھے۔* جب کھانے کا وقت ہوا تو وہ آپس میں بیٹھ کر بات شروع ہوگئے۔ ساس: مسور کی دال بناتے ہیں، ہاضمے کے لیے اچھی ہوتی ہے۔سالی: نہیں نہیں، ساگ پکا لیتے ہیں، کھیتوں سے آرام سے مل جاتا ہے۔ساس: چھوڑو، آلو پکا لو۔سالا: آلو مہنگے ہیں، بینگن بنا لیتے ہیں۔دولہا جو کافی دیر سے “ہاں ہاں” کر رہا تھا اچانک بولا:“آپ لوگ میرا گھوڑا ذبح کرکے وہ پکا لیں۔”سالا: تو دولہا بھائی! آپ واپس کیسے جائیں گے؟؟؟دولہا: کوئی بات نہیں، میں اس مرغے پر بیٹھ کر چلا جاؤں گا جو سامنے پھر رہا ہے۔

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

سن 1922 میں مصر کی خاموش ریت نے ایک ایسا راز اُگلا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ راز تھا فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ، جو تقریباً تین ہزار سال سے زمین کے اندر خاموشی سے سو رہا تھا۔ جب ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے اس مقبرے کا دروازہ کھولا، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ دریافت تاریخ کے ساتھ ساتھ خوف کی نئی داستان بھی لکھ دے گی۔ کمرے کے اندر سونا، زیورات، نایاب مجسمے اور دیواروں پر کندہ تحریریں موجود تھیں۔ سب کچھ اتنا محفوظ تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو انسانی آنکھ سے چھپا ہوا تھا، مگر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ مقبرہ کھلنے کے صرف چند ہفتوں بعد، اس مہم کے سرپرست لارڈ کارناروَن (Lord Carnarvon) اچانک بیمار…

Read more

دو دوست تھے ۔ ایک کا نام تھا “کچھ بھی نہیں” اور دوسرے کا نام تھا “خودبخود” ۔کچھ بھی نہیں کائنات بننے سے پہلے سے موجود تھا ۔ مگرخودبخود کی پیدائش بگ بینگ کے وقت ہوئی جب وقت نے جگہ کو زور سے ٹکر ماری ۔ ایکزوردار دھماکہ ہوا اور خودبخود پیدا ہوا ۔ خودبخود پیدا ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں سے جھگڑنے لگا ۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں سے بڑا ہے ۔ جبکہ کچھ بھی نہیں کا کہناتھا کہ وہ خودبخود سے بڑا ہے ۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر ایک بندر کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ بندر نے کچھ دیر سر کھجاتے ہوئے سوچا اور پھر بولا ۔“میں تم دونوں سے کچھ سوالات پوچھوں گا ۔ تم دونوں نے ان کے سچ سچ جوابات دینے ہیں ۔”“کچھ بھی نہیں” اور “خودبخود” نے یک زبان ہو کر جواب دیا ۔“جو…

Read more

کُتا یا بکرا۔۔۔🤔پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا اور پروگرام کے مطابق…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ ” ایک ٹانگ اٹھاؤ “ وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے ” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “ وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے ” گھڑی پوری ہوئی “ تو وہ…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ: جاہلیت کے ڈاکو سے اسلام کے عظیم مجاہد تک ۔۔کِسریٰ اور شاہِ ایران کی شکستدوستو قصہ لمبا ہونے کے لیے معزرت  لیکن میں چاہتا تھا کے عظیم شاہ سوار کے کارنامے ہمارے لوگوں کو پتا چل سکیں آپ پڑھیں انشا اللّہ آپ کا وقت ضائع نہیں جائے گا۔ حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدیؓ کا شمار اسلامی تاریخ کے نامور بہادروں اور شہسواروں (گھوڑے پر سواری کے ماہروں) میں ہوتا ہے۔ (عمرو میں “ع” پر زبر ہے، “م” اور “و” ساکن ہیں۔ واؤ نہیں پڑھی جاتی) وہ یمن میں آباد عرب قبیلے مذحج کی ایک شاخ بنی زبید سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے زبیدی کہلاتے تھے۔ وہ بڑے ڈیل ڈول اور قد کاٹھ کے آدمی تھے۔ تلوار چلانے میں مہارت رکھتے تھے اور نیزہ بازی میں بہت کم لوگ ان کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ اتنے طاقتور اور شہسوار تھے کہ لوگ…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ریگستان کا وعدہ پرانے عرب کے ریگستان میں، جہاں دن آگ برساتا اور راتیں خاموشی اوڑھ لیتی تھیں، ایک قبیلہ آباد تھا جسے بنو سالم کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا نعمان۔ وہ بہادر تھا، تلوار چلانا جانتا تھا، مگر اس کی اصل پہچان اس کی امانت داری تھی۔ایک دن قبیلے کے سردار نے نعمان کو بلا کر کہا۔“اے نعمان، یہ سونے کے سکے ہیں۔ انہیں دوسرے قبیلے کے سردار تک پہنچانا ہے۔ راستہ طویل ہے، اور خطرات سے بھرا۔” نعمان نے سکوں کی تھیلی تھامی، آنکھیں جھکائیں اور کہا۔“اے سردار، جان چلی جائے تو جائے، مگر امانت میں خیانت نہیں ہوگی۔” نعمان اپنے اونٹ پر روانہ ہوا۔ دن ڈھلنے لگا تو ریت کے ٹیلوں کے پیچھے سے ایک زخمی مسافر ملا۔ وہ پیاس سے نڈھال تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ “اے مسافر، اگر پانی نہ ملا تو جان چلی جائے گی۔”نعمان…

Read more

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔ لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

60/123
NZ's Corner