Tag Archives: groundhogday

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گئے ہیں اور کوئی بھی انہیں بیوقوف نہیں بنا سکتا۔ اسی دوران گاؤں کے ایک آدمی نے مذاق میں کہا: “شیخ چلی! اگر تم سارا دن خاموش رہو تو میں تمہیں دس روپے دوں گا۔” دس روپے سن کر شیخ چلی فوراً مان گئے۔ انہوں نے دل میں کہا: “واہ! بغیر کچھ کیے دس روپے مل جائیں گے!” صبح سے شام تک وہ خاموش رہے۔ لوگ انہیں چھیڑتے، سوال پوچھتے، ہنساتے، مگر وہ ایک لفظ نہ بولتے۔ دوپہر کو ان کی والدہ نے پوچھا: “بیٹا، کھانا کھاؤ گے؟” شیخ چلی خاموش۔ دوستوں نے کہا: “شیخ چلی! تمہارے گھر کے پیچھے بندر ناچ رہا ہے!” مگر وہ پھر بھی خاموش رہے۔ شام کے وقت وہ آدمی آیا اور بولا: “شاباش شیخ چلی! تم واقعی خاموش رہے۔ یہ لو تمہارے دس روپے۔” شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے اور…

Read more

رات گہری ہو چکی تھی۔ ریڈیو اسٹیشن کے لائیو پروگرام میں اچانک ایک کمزور، کانپتی ہوئی آواز ابھری: “بیٹا… میں کئی دنوں سے بھوکی ہوں۔ اگر اللہ کے نام پر کوئی کچھ کھانے کو دے دے تو بڑی مہربانی ہوگی…” یہ الفاظ سن کر کئی دل پسیج گئے، مگر ایک شخص کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔وہ ایک امیر، تعلیم یافتہ مگر خدا کا منکر انسان تھا۔ اس نے قہقہہ لگایا۔ “آج دیکھتے ہیں… اس کا خدا اسے کیسے رزق دیتا ہے!” وہ فوراً بازار گیا۔ آٹا، چاول، گھی، دالیں، پھل، دودھ—گاڑی سامان سے بھر دی۔ پھر نوکر کو حکم دیا: “یہ سب اس بوڑھی عورت کے گھر پہنچا دو… اور اگر پوچھے کس نے بھیجا ہے تو کہنا:‘شیطان نے!’” نوکر حیران ہوا، مگر خاموشی سے چل پڑا۔ تنگ اور سنسان گلی کے آخری کچے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ اندر سے نحیف آواز آئی:“کون ہے بیٹا؟” “اماں جی……

Read more

ایک بادشاہ کے پاس ایک پالتو ہاتھی تھا، جو بہت ضدی تھا۔ وہ روزانہ بازار جاتا، دکانیں تباہ کرتا اور لوگوں کو تنگ کرتا۔ عوام ہاتھی کی اس غنڈہ گردی اور بادشاہ کی “سیاسی طاقت” سے سخت پریشان تھے، لیکن کسی میں شکایت کرنے کی ہمت نہ تھی۔سسپنس اور سیاست:ایک دن، بازار کے تاجروں نے مل کر ایک سیاسی حکمتِ عملی بنائی۔ انہوں نے طے کیا کہ سب مل کر دربار جائیں گے اور بادشاہ سے ہاتھی کی شکایت کریں گے۔ تاجروں نے ملا نصر الدین کو اپنا لیڈر بنایا۔ ملا نے کہا: “جب میں دربار میں کہوں گا کہ ‘عالی جاہ! آپ کا ہاتھی…’ تو تم سب پیچھے سے بولنا ‘روزانہ ہماری دکانیں اجاڑتا ہے، اسے قید کریں!’” سب مان گئے۔ دربار لگا۔ بادشاہ تخت پر جاہ و جلال سے بیٹھا تھا۔ ملا نصر الدین آگے بڑھے۔ جیسے ہی ملا نے بولنا شروع کیا: “عالی جاہ! آپ کا وہ…

Read more

ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ وہ اب بہت بڑا عالم بن چکا ہے۔ اس نے ایک بڑی سی پگڑی باندھی، ہاتھ میں موٹی کتاب لی اور گاؤں کے چوک میں جا بیٹھا۔ لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے: “شیخ چلی! آج یہ کیا نیا کام شروع کر دیا؟” شیخ چلی نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا: “آج سے میں گاؤں والوں کو عقل کی باتیں سکھاؤں گا!” سب لوگ جمع ہوگئے۔ ایک آدمی نے پوچھا: “اچھا شیخ صاحب، یہ بتاؤ اگر بارش ہو رہی ہو اور چھت ٹپک رہی ہو تو کیا کرنا چاہیے؟” شیخ چلی فوراً بولا: “بہت آسان ہے! بارش بند ہونے کا انتظار کرو!” لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر ایک بچے نے پوچھا: “اگر کوئی کنویں میں گر جائے تو؟” شیخ چلی نے بڑی سنجیدگی سے کہا: “پہلے اس سے پوچھو کہ وہ تیرنا جانتا ہے یا نہیں!” سب لوگ ہنسنے لگے۔…

Read more

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (بخاری و مسلم):“سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو”۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سی چیزیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 1. اللہ کے ساتھ شرک کرنا 2. جادو کرنا 3. ناحق کسی جان کو قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے 4. سود کھانا 5. یتیم کے مال کو ظلم سے کھا جانا 6. جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا 7. پاک دامن ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا یہ وہ بڑے گناہ ہیں جو انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو برباد کر دیتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک سود ہے جس سے انسان سمجھتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، مگر حقیقت میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ مال بڑھ بھی جائے تو سکون اور خیر اٹھ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی واضح تنبیہ کے بعد ایک…

Read more

ابن کثیر میں ہے. ایک شخص بڑا نیک اور بھی تھا۔ اس کا باغ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو ہمیشہ ادا کرتا تھا۔ اس باغ کی پیداوار میں سے اپنے بال بچوں اور باغ کے خرچ کو نکال کر باقی پیداوار کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر ڈالتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالی نے اس کے مال میں بڑی برکت دے رکھی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد جب اس باغ کی وارث اس کی اولاد ہوئی تو باپ کے اس خرچ کا حساب کیا تو بہت ٹھہرا ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ حقیقت میں ہمارا باپ بڑا ہی بے وقوف اور نادان تھا جو اتنی بڑی رقم مفت خوروں ، غریبوں اور مسکینوں میں بلا وجہ دے دیا کرتا تھا لہذا ہم ان غریبوں کے حق کو روکیں اور ان کو کچھ نہ دیں تو ہمارے پاس بہت…

Read more

ایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟” ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔” پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔ پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا جی! آپ مجھ سے جھوٹ بول…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پرورش پاتے رہے، لیکن جب آپ جوان ہوئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے ظلم و ستم کو دیکھ کر بے چین ہو گئے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم، جو قبطی کہلاتی تھی، آپ کے دشمن بن گئے اور آپ نے فرعون کا محل بلکہ پورا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر زندگی گزارنا شروع کر دی۔ ایک دن جب شہر کے لوگ دوپہر کے وقت آرام (قیلولہ) کر رہے تھے تو آپ خاموشی سے شہر میں داخل ہوئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع تھا، اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں بدل کر “منف” بن گیا۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ فسطاط تھا اور بعض نے اسے حامین بتایا ہے جو مصر سے تقریباً دو کوس…

Read more

ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے…

Read more

After the Pharaoh drowned and the waves of the sea subsided, the Israelites were breathing in an atmosphere that many of their generations had never experienced. This was not just a migration… This was the beginning of the psychological, intellectual and spiritual reconstruction of a slave nation. But freedom is not always easy. Freedom also brings with it responsibilities, trials and patience. As soon as the Israelites set foot on the scorching land of the Sinai Desert, they were surrounded by their first great test. The water had run out. Thirst had intensified. They wandered for three days in search of water. This area was famous for its intense heat, dry mountains and harsh environment, where even survival was a struggle. When the thirst became unbearable, the nation began to protest again. They complained to Prophet Moses (peace be upon him). But Allah Almighty had hidden another miracle in the…

Read more

Tras el ahogamiento del faraón y la calma del mar, los israelitas respiraban una atmósfera que muchas generaciones jamás habían experimentado. Aquello no era solo una migración… Era el comienzo de la reconstrucción psicológica, intelectual y espiritual de una nación esclavizada. Pero la libertad no siempre es fácil. La libertad también conlleva responsabilidades, pruebas y paciencia. En cuanto los israelitas pisaron la abrasadora tierra del desierto del Sinaí, se vieron rodeados por su primera gran prueba. El agua se había agotado. La sed se había intensificado. Vagaron durante tres días en busca de agua. Esta región era famosa por su calor intenso, sus montañas áridas y su entorno hostil, donde incluso la supervivencia era una lucha. Cuando la sed se volvió insoportable, la nación comenzó a protestar de nuevo. Se quejaron al profeta Moisés (la paz sea con él). Pero Dios Todopoderoso había escondido otro milagro en el bastón de…

Read more

ایک دن بہلول نے حضرت جنید بغدادیؒ سے پوچھا:“شیخ صاحب! کیا آپ کھانے کے آداب جانتے ہیں؟” حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا:“بسم اللہ پڑھنا، اپنے سامنے سے کھانا، چھوٹا لقمہ لینا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اچھی طرح چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمے پر نظر نہ رکھنا، اللہ کو یاد کرنا، آخر میں الحمدللہ کہنا اور کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا۔” بہلول یہ سن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا:“لوگوں کے مرشد ہو، مگر کھانے کے آداب نہیں جانتے!” یہ کہہ کر وہ آگے چل دیے۔حضرت جنیدؒ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ مریدوں نے عرض کیا:“حضور! وہ تو دیوانہ ہے۔”لیکن شیخ پھر بھی ان کے پاس پہنچ گئے۔ سلام کیا۔بہلول نے جواب دیا اور پوچھا:“کون ہو؟” فرمایا:“جنید بغدادی… جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔” بہلول نے پوچھا:“اچھا، بولنے کے آداب جانتے ہو؟” حضرت جنیدؒ نے فرمایا:“مخاطب کے مطابق بات کرنا، بے موقع اور فضول گفتگو سے بچنا،…

Read more

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔ اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں: * اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔ * صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔ * بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔ * اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔ * عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول…

Read more

فرعون کے غرق ہونے اور سمندر کی لہروں کے تھم جانے کے بعد بنی اسرائیل ایک ایسی فضا میں سانس لے رہے تھے جسے ان کی کئی نسلوں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔ یہ صرف ایک ہجرت نہ تھی… یہ ایک غلام قوم کی نفسیاتی، فکری اور روحانی تعمیرِ نو کا آغاز تھا۔ مگر آزادی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ آزادی اپنے ساتھ ذمہ داریاں، آزمائشیں اور صبر بھی لاتی ہے۔ جیسے ہی بنی اسرائیل نے صحرائے سینا کی تپتی زمین پر قدم رکھا، انہیں پہلی بڑی آزمائش نے گھیر لیا۔ پانی ختم ہو چکا تھا۔ پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔ وہ تین دن تک پانی کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ یہ علاقہ اپنی شدید گرمی، خشک پہاڑوں اور سخت ماحول کے لیے مشہور تھا، جہاں زندہ رہنا بھی ایک معرکہ تھا۔ جب پیاس ناقابلِ برداشت ہو گئی تو قوم نے پھر احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرت…

Read more

ایک بادشاہ جنگل میں تنہا گھوڑا دوڑا رہا تھا۔ تیز رفتار گھوڑے پر سوار، ہرن کے پیچھے اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل گیا تھا۔ کئی میل تک گھوڑے نے تیزی سے ہرن کا پیچھا کیا، لیکن آخرکار وہ گھنی جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ گرمی کا موسم تھا، دوپہر کا وقت تھا۔ گرم ہوا سے جسم جھلس رہا تھا، پیاس کی شدت سے ہونٹ خشک تھے اور حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ بادشاہ نے گھوڑا روک کر جسم سے پسینہ پونچھا اور سوچنے لگا کہ اب پانی کی تلاش میں کہاں جائے۔ گھوڑا بھی گرمی سے ہانپ رہا تھا۔ کئی میل چلنے کے بعد کوئی بستی نظر نہ آئی، البتہ دور کچھ جانور چرتے دکھائی دیے اور بانسری کی آواز بھی تیز ہوا کے ساتھ محسوس ہوئی۔ بادشاہ نے اسی سمت اپنے گھوڑے کا رخ کیا۔ چند میل چلنے کے بعد وہ جانوروں کے قریب پہنچا۔ بانسری کی…

Read more

سکھوں کے ایسٹ انڈیا کمپنی سے دو معاہدے اہم ترین ہیں ۔ایک اٹھارہ سو چھ کا معاہدہ جسے ٹریٹی آف لاہور کا نام دیا گیا ۔ مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہلکر انگریز سے شکست کھا کر رنجیت سنگھ کے پاس پناہ گزیں ہوا تو رنجیت نے کمپنی کے خلاف بڑا اور مشترکہ محاذ بنانے کی بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ کر لیا اور ہلکر کو ملک سے نکال دیا ۔ اس معاہدے میں لکھا تھا کہ یہ معاہدہ رنجیت اور کمپنی کے مابین امن اور دوستی کا معاہدہ ہےاور رنجیت کی سلطنت ہلکر سے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے کسی بھی دشمن سے کوئی دوستانہ روابط نہیں رکھے گی۔ اسی طرح بعد کے اٹھارہ سو نو میں معاہدہ امرتسر کے مسودے کے آغاز میں ہی ” perpetual friendship” کا لفظ استعمال ہوا جو واضح طور پہ کمپنی اور رنجیت سنگھ کے مابین اُن گہرے اور پرانے دوستانہ تعلقات کو…

Read more

ایک بار طوفان میں ایک جہاز تباہ ہو گیا اور صرف ایک ہی شخص زندہ بچا جو ایک چھوٹے غیر آباد جزیرے پر بہہ کر پہنچ گیا۔ اس نے خدا سے دعا کی کہ اسے بچا لے، لیکن کئی دن گزر گئے، نہ کوئی مدد آئی اور نہ ہی کوئی اسے بچانے آیا۔ تھک ہار کر، ایک دن اس نے ادھر ادھر سے چیزیں ڈھونڈیں اور ٹوٹے ہوئے جہاز کے بہہ کر آئے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں سے اپنے لیے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔ اسے بہت افسوس ہوا کہ اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں اور اسے اس جزیرے پر اکیلا ہی رہنا پڑے گا۔ اس نے آس پاس سے زندہ رہنے کے لیے چیزیں اکٹھی کیں اور وہ سب کچھ جھونپڑی میں رکھ دیا، جب تک کہ اسے کوئی مدد نہ مل جائے۔ دن گزرتے رہے، لیکن ایک دن جب وہ کھانے کی تلاش میں نکلا…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔ ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔ اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا: “کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!” مرغے نے سر جھکا کر کہا:“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔” اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ مالک غصے سے بولا:“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!” مرغا خاموش ہوگیا۔ اگلے دن صبح ہوئی۔اس بار اس نے نہ اذان دی،…

Read more

ایک زمانے میں سلطنتِ نوران پر بادشاہ سکندر شاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا سے بے حد محبت کرتا تھا، اسی لیے پورے ملک میں امن اور خوشحالی تھی۔ مگر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔ دارالحکومت کے امیر تاجروں کے گھروں میں پراسرار چوریاں شروع ہو گئیں۔ نہ کوئی آواز… نہ کوئی نشان… نہ کوئی گواہ… لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ ہر گلی میں صرف ایک ہی نام گونجتا تھا: “سایہ چور!” یہ چور دراصل ایک نہایت چالاک شخص تھا جس کا نام زریاب تھا۔ وہ ہر بار نیا بھیس بدلتا اور ایسے غائب ہو جاتا جیسے کبھی آیا ہی نہ ہو۔ جب شاہی خزانے کے قریب بھی مشکوک حرکت دیکھی گئی تو بادشاہ غصے سے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “اگر یہ چور جلد نہ پکڑا گیا، تو عوام کا قانون پر سے یقین اٹھ جائے گا!” بادشاہ کے دربار میں خاموشی چھا گئی۔ تب وزیرِ اعظم حمزہ…

Read more

En una pequeña aldea de Irlanda vivía un joven llamado Thomas. Vivía con su esposa y sus ancianos padres en una pequeña cabaña. Un año, la cosecha de patatas fracasó. La gente no tenía qué comer. Thomas se vio obligado a cazar en los campos de su amo, a pesar de que el castigo era la muerte. Thomas vagó por el bosque todo el día, pero no encontró ningún animal. Al regresar al anochecer, vio un hermoso ciervo. Cuando le disparó una flecha para matarlo, el ciervo le dijo: «¡No me mates! Te concederé un deseo. Ven mañana por la mañana y dime tu respuesta». Thomas se sorprendió, pero dejó ir al ciervo. Al regresar a casa, consultó con su padre. El padre le dijo: «¡Hijo! Pide oro». Consultó con su madre, que llevaba tiempo ciega. La madre le dijo: «¡Hijo! Pide que me devuelvas la vista». Luego consultó con…

Read more

200/208
NZ's Corner