Tag Archives: groundhogday

ایک وقت کی بات ہے، ایک بہت معروف اور طاقتور بادشاہ تھا جس کا نام شاہِ سکندر تھا۔ اس کی سلطنت بہت وسیع تھی، خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے اور لوگ اس کے خوف سے کانپتے تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ میں غرور اور تکبر آ گیا۔ وہ غریبوں پر ظلم کرتا، کمزوروں کی فریاد نہیں سنتا تھا اور خود کو سب سے بڑا سمجھنے لگا۔ ایک دن ایک بوڑھا فقیر محل کے دروازے پر آیا اور بادشاہ سے کہا:“اے بادشاہ! ظلم کی حکومت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔”بادشاہ نے غصے میں آ کر فقیر کو قید کر دیا اور ہنس کر بولا:“مجھے کوئی نہیں ہرا سکتا!” کچھ ہی دنوں بعد بادشاہ کی سلطنت میں قحط پڑ گیا۔ لوگ بھوکے مرنے لگے، سپاہیوں نے بغاوت کر دی اور دشمن فوج نے حملہ کر دیا۔ جس بادشاہ کے ایک اشارے پر ہزاروں سپاہی دوڑتے تھے، آج…

Read more

نیو یارک کا ایک مشہور و معروف وکیل شکار کی غرض سے ٹیکساس کے دیہی علاقے میں گیا۔ شکار کے دوران اس نے ایک مرغابی کو نشانہ بنایا، جو گولی لگنے کے بعد بدقسمتی سے باڑ کے اُس پار، ایک کسان کے کھیت میں جا گری۔ وکیل باڑ پھلانگ کر مرغابی لینے ہی والا تھا کہ اچانک ایک بوڑھا کسان ٹریکٹر پر نمودار ہوا۔ اُس نے پوچھا:“یہاں کیا کر رہے ہو؟” وکیل نے اعتماد سے جواب دیا:“میں نے ایک مرغابی کو گولی ماری ہے، جو تمہارے کھیت میں گر گئی ہے۔ اُسے لینے آیا ہوں۔” کسان نے سنجیدگی سے کہا:“یہ زمین میری ہے، اور تمہیں یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔” وکیل تپ کر بولا:“میں امریکہ کے نامور وکلاء میں شمار ہوتا ہوں۔ اگر تم نے مجھے مرغابی نہ لینے دی تو میں تم پر مقدمہ کر دوں گا، اور پھر تمہاری یہ ساری زمین میری ہو جائے گی!” بوڑھا…

Read more

برصغیر کی تاریخ میں برطانوی راج کا سب سے پیچیدہ اور گہرا پہلو صرف فوجی قبضہ یا سیاسی تسلط نہیں تھا بلکہ وہ سماجی انجینئرنگ تھی جس کے ذریعے انگریزوں نے ایک ایسا مقامی طاقتور طبقہ پیدا کیا جو ان کی حکومت کا محافظ، منتظم اور وارث بن گیا۔ پنجاب اس منصوبے کا سب سے اہم مرکز تھا۔ یہاں انگریزوں نے زمین، نہریں، فوج، مقامی سرداری، برادری، مذہب اور انتظامیہ کو آپس میں جوڑ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جس کے اثرات آج بھی پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماجی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ اگر پنجاب کی جدید تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ برطانوی حکومت نے صرف قبضہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک نیا اشرافیہ طبقہ تخلیق کیا جس کی بنیاد وفاداری، زمین اور طاقت پر رکھی گئی۔ 1849ء میں جب سکھ سلطنت ختم ہوئی اور پنجاب برطانوی حکومت کے قبضے میں…

Read more

10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل…

Read more

ترکستان کے ایک سوداگر کی درھم کی ایک تھیلی راستہ میں کہیں گرپڑی۔ اس نے گاؤں میں منادی کردی کہ تھیلی جس کوملی ہو واپس کردے۔ تھیلی میں جس قدر درھم ہوں اس کے نصف انعام کا وہ حقدار ہوگا۔ اس تھیلی میں دوسودرہم تھے۔ یہ تھیلی کسی جہاز کے ملاّح کو ملی تھی منادی سن کر وہ اس آدمی کے پاس گیا اورتمام واقعہ بیان کر کے کہا۔ ’’اگراس تھیلی کا مالک نصف یعنی سودرھم حسب وعدہ دے تو اس کے بدلہ میں تھیلی واپس کرنے پر تیار ہوں۔ شرط یہ ہے کہ مجھے انعام پہلے مل جائے‘‘۔جب تھیلی کی خبرسوداگر کو ملی۔ جو بڑا لالچی تھا۔ تو اس نے خیال کیا کہ کسی طرح سے میں انعام کی رقم سے بھی بچوں اور میری پوری رقم مجھے مل جائے۔ اس لئے اس نے ایک ترکیب کی اورملاّح سے کہا کہ اس تھیلی میں ایک ہیرا تھا اگر وہ…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا: “جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔” یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے…

Read more

ایک حسین وادی میں بہتی ندی کے کنارے ایک بہت ہی بڑا، گھنا اور شاندار چنار کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی اونچی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں، اور دور دور تک اس کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ جنگل کے پرندے اس پر گھونسلے بناتے، مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، اور ہر آنے والا اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ چنار کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ خود کو پورے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اسی چنار کے نیچے ایک باریک سا بانس کا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ نہ زیادہ اونچا تھا اور نہ ہی طاقتور، مگر ہمیشہ خاموش اور نرم مزاج رہتا تھا۔ جب بھی تیز ہوا چلتی، بانس جھک جاتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں… جیسے ہوا کے ساتھ دوستی کر رہا ہو۔ چنار یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنستا اور طنز سے…

Read more

ایک پُرسکون شام تھی۔ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، اور ندی کنارے ایک صوفی بزرگ خاموشی سے اللہ کے ذکر میں مشغول بیٹھے تھے۔اچانک ان کی نظر پانی پر پڑی…انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچھو ندی کے تیز بہاؤ میں پھنس گیا ہے۔وہ بار بار پانی سے نکلنے کی کوشش کرتا، مگر لہریں اسے واپس بہا لے جاتیں۔بچھو بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔صوفی بزرگ کا دل رحم سے بھر گیا۔انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس ننھی جان کو بچا سکیں۔لیکن جیسے ہی انہوں نے بچھو کو ہاتھ میں لیا…بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق زور سے ڈنک مار دیا!درد کی تیز لہر بزرگ کے جسم میں دوڑ گئی۔ان کا ہاتھ کانپ گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں جا گرا۔قریب کھڑے لوگ بول اٹھے:“چھوڑ دیں اسے!یہ ناشکرا جانور آپ ہی کو تکلیف دے…

Read more

حضرت مالک بن دینارؒ اور محمد بن ہارون بلخی کا واقعہحضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے بڑا رش دیکھا، لاکھوں کا اجتماع ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع تھا تو میرے دل میں خیال آیا، میں نے کہا: “اللہ! اتنے لوگ آئے ہیں، ان کا حج قبول بھی ہوا ہے کہ نہیں؟” فرماتے ہیں میں سوچ رہا تھا تو رات کو خواب میں میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ سب کا حج قبول ہو گیا ہے، مگر بلخ کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام “محمد بن ہارون بلخی” ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔فرماتے ہیں کہ وہاں شہروں کے علیحدہ علیحدہ خیمے لگتے تھے۔ اب بھی آپ حج کرنے جائیں تو پاکستانیوں کی رہائش علیحدہ ہوتی ہے، انڈینز کی علیحدہ، بنگلادیش، مصری، یمنی سب لوگوں کی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک سیاح کی ملاقات ساحل پر ایک ماہی گیر سے ہوئی۔ماہی گیر دن بھر کا شکار لے کر گھر جا رہا تھا کہ راستے میں سیاح نے اسے روک کر بات شروع کر دی۔ سیاح: تمہیں اس طرح کی مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا؟ماہی گیر: زیادہ وقت نہیں لگا۔ سیاح: تو پھر تم زیادہ دیر رک کر اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ لیتے؟ماہی گیر: یہ تھوڑا سا شکار میری اور میرے گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ سیاح: تم باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟ماہی گیر: میں دیر تک سوتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوں، اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ سیاح نے فوراً بات کاٹی اور بولا:“میرے پاس MBA کی ڈگری ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہیں ہر روز زیادہ وقت تک مچھلیاں پکڑنی چاہئیں۔ پھر اضافی مچھلیاں بیچ کر ایک بڑی کشتی خرید…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔ لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ بس اتنا کہوں گا زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن جو سلوک ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ روا رکھا ہے شاید ہی اب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر بنا چاہئے گا۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔!  کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری۔۔              28 مئی یوم تکبیر۔۔۔!

El rey que olvidó su gracia y el sabio griegoUn rey cabalgaba en su poderoso caballo. El caballo retrocedió de repente y el rey cayó de cabeza al suelo,¡y! Las vértebras de su cuello se sacudieron,Ahora ya no podía mover el cuello. Los médicos reales hicieron todo lo posible,¡Pero! No pudieron curar al rey,Un día, un sabio griego se acercó al reyY lo trató con tanta diligencia que el rey se recuperó…!!Después del tratamiento, el sabio regresó a su tierra natal…!!Al cabo de un tiempo, volvió a la tierra natal del rey y se presentó en la corte real con la intención de saludarlo.Ahora era necesario que el rey, por gratitud, tratara a este sabio con bondad y compasión,¡Pero!

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک زمانے میں ایک معمولی سے دیہات میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے: سب سے بڑا سیمیون، درمیانہ تاراس اور سب سے چھوٹا آئیون۔ سیمیون فوج میں بھرتی ہو گیا اور ایک بہادر سپاہی بن گیا۔ تاراس تاجر بن گیا، شہروں میں جاتا، مال خریدتا اور بیچتا، پیسہ کمانے کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ آئیون گھر پر رہ گیا۔ لوگ اسے “بیوقوف” کہتے تھے کیونکہ وہ نہ تو فوج میں جانا چاہتا تھا اور نہ ہی پیسہ کمانے کے چکر میں پڑتا۔ وہ کھیتوں میں محنت کرتا، زمین جوٹتا، بیج بو تا اور فصل کاٹتا۔ جو کچھ مل جاتا، اسی میں خوش رہتا۔بوڑھا مر گیا۔ تینوں بھائیوں نے جائیداد بانٹ لی۔ سیمیون نے گھوڑے، ہتھیار اور فوجی لباس لے لیے۔ تاراس نے مال، گاڑیاں اور نقد روپیہ اٹھا لیا۔ آئیون کے حصے میں صرف ایک بوڑھی گھوڑی، ایک بیل اور ایک پرانا ہل رہ گیا۔…

Read more

ایک رات کو سلطان محمود بھیس بدل کر نکلا اور چوروں کی جماعت کے ساتھ ہوگیا۔ جب کچھ دیر ان کے ساتھ رہا تو انہوں نے پوچھا کہ اے رفیق تو کون ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں بھی تمہیں میں سے ایک چور ہوں۔ اس پر ایک چور نے کہا بھائیو! آؤ ذرا اپنا اپنا ہنر تو بتاؤ۔ ہر شخص بیان کرے کہ وہ کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک نے جواب دیا کہ میرے دونوں کانوں میں عجب کمال ہے کہ کتّا جو بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ لوگ فلاں شخص کی امارت کا کیا چرچا کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا میری آنکھوں میں یہ کمال ہے کہ جس کسی کو رات کے اندھیرے میں دیکھ لوں تو دن کے وقت اس کو پہچان لیتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میرے بازو میں یہ قوت ہے کہ صرف ہاتھ کی قوت سے کومل لگاتاہوں۔ چوتھے…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

دو گھڑےایک گاؤں میں ایک پانی بھرنے والا روزانہ ندی سے دو بڑے گھڑوں میں پانی لا کر اپنے مالِک کے گھر پہنچاتا تھا۔ وہ ان گھڑوں کو ایک لمبی لاٹھی کے دونوں سروں پر باندھ کر اپنے کندھے پر اٹھاتا تھا۔ان دو گھڑوں میں سے ایک بالکل ٹھیک تھا اور ہمیشہ پورا پانی مالِک کے گھر تک پہنچاتا تھا۔ لیکن دوسرا گھڑا ایک جگہ سے تھوڑا سا ٹوٹا ہوا (کراک) تھا۔ ندی سے مالِک کے گھر تک کا راستہ طویل تھا، اس لیے گھر پہنچتے پہنچتے اس ٹوٹے ہوئے گھڑے سے آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا اور اس میں صرف آدھا پانی ہی بچتا۔دو سال تک یہی سلسلہ روزانہ چلتا رہا۔ پورا گھڑا اپنی کارکردگی پر بہت خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا گھڑا اپنی اس خامی پر اندر ہی اندر بہت شرمندہ رہتا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہا۔ایک دن، ندی کے…

Read more

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو… کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو۔” محلے میں ہر سال اُس کے گھر سب سے بڑا جانور آتا تھا۔ لمبے سینگ…قیمتی نسل…گلے میں خوبصورت رنگین پٹہ…اور دروازے کے باہر تصویریں بنانے والوں کا ہجوم۔ عید سے کئی دن پہلے ہی لوگ کہنا شروع کر دیتے: “اس بار بھی اُن کی قربانی سب سے نمایاں ہوگی…” اور شاید یہی بات اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔ وہ جانور سے زیادہ اُس تعریف کا انتظار کرتا تھاجو قربانی کے بعد لوگوں کی زبانوں پر آتی تھی۔ عید کی صبح اُس کے گھر گوشت لینے والوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ کوئی سفید شاپر لیے کھڑا تھا…کوئی پرانا برتن…اور کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لایا تھا کہ شاید کچھ زیادہ گوشت مل جائے۔ اُسی بھیڑ میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا بھی خاموش کھڑا تھا۔ عمر کوئی بارہ تیرہ سال…پاؤں میں گھسے ہوئے چپل…اور…

Read more

ایک عید… ایک سوال… اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی سچی کہانی عیدالاضحیٰ کی صبح تھی۔ہر طرف قربانی کے جانوروں کی آوازیں، خوشیوں کی رونقیں، اور گوشت تقسیم ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں… مگر ہمارے گھر میں عجیب خاموشی تھی۔ میری چھوٹی بیٹی شازیہ آہستہ سے میرے پاس آئی اور بولی:“بابا… ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟” میں نے مسکرا کر کہا:“ہاں بیٹا، اللہ سب کو دیتا ہے۔” لیکن اُس کی اگلی بات نے دل چیر دیا… “بابا… پچھلی عید پر بھی کسی نے ہمیں گوشت نہیں دیا تھا… ہمیں تو گوشت دیکھے بھی ایک سال ہو گیا۔” میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:“بیٹا، اللہ کا شکر ادا کیا کرو… اُس نے ہمیں بھوکا نہیں رکھا۔” نمازِ عید کے بعد مسجد میں امام صاحب فرما رہے تھے:“قربانی کا اصل حق غریب اور محتاج لوگوں کا ہے، انہیں ہرگز نہ بھولیں۔” مگر شاید یہ بات صرف…

Read more

160/208
NZ's Corner