Tag Archives: ” “knowledge” II. Theme-Specific Keywords: Faith-Based: “Faith

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ…

Read more

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا: “آؤ میرے ساتھ کھیلو۔” نو جوان نے اس سے کہا” اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں…

Read more

ایک صاحب کے حالات بہت خراب تھے۔ نہ روزگار تھا، نہ جمع پونجی۔ زندگی جیسے مشکلوں میں الجھ گئی تھی۔ایسے میں ان کے ذہن میں شیطانی خیال آیا،“کیوں نہ کوئی جن قابو کیا جائے، اور اس کی مدد سے دولت کمائی جائے؟” انہیں کسی بابا جی کا پتا ملا جو عملیات میں کمال رکھتے تھے۔ بابا جی نے چالیس دن کا ایک مجرّب عمل بتایا۔رات کے وقت اُن صاحب نے اپنے گھر کے ایک کمرے کا انتخاب کیا اور عمل شروع کر دیا۔ وہ بتاتے ہیں:“تین دن تک عمل جاری رہا۔ اس دوران کئی ڈراؤنی شکلیں نظر آئیں، مگر میں ڈٹا رہا۔ چوتھی رات عمل کے دوران، جب میں حصار کے اندر بیٹھا تھا، اچانک ایک خوفناک نسوانی آواز گونجی… “منّے کے ابّا… منّے کا فیڈر فریج سے نکال لائیں!” میں چونک گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ کوئی ہوائی مخلوق میرے عمل کو بگاڑنے آئی ہے۔بابا جی نے سختی سے…

Read more

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا “شیوانا” (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. “میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں..” شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی…

Read more

پرانے دمشق میں ایک تاجر رہتا تھا جس کی کنجوسی مشہور تھی۔وہ اگر خواب میں بھی سکہ خرچ کر دیتا تو صبح اٹھ کر صدقہ دے دیتا کہ خواب ٹوٹ جائے۔ ایک دن ایک فقیر اس کی دکان کے باہر آ بیٹھا۔نہ مانگ رہا تھا، نہ آہ و زاری بس بیٹھا ہنس رہا تھا۔ تاجر کو غصہ آ گیا۔“لوگ یہاں رو کر مانگتے ہیں، تم ہنس کیوں رہے ہو؟” فقیر بولا“میں تمہیں دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔” تاجر بھڑک اٹھا“میں تمہیں مضحکہ خیز لگتا ہوں؟” فقیر نے سر ہلایا“ہاں، تمہارے پاس سب کچھ ہے،اور میرے پاس کچھ نہیںمگر نیند مجھے آتی ہے، تمہیں نہیں۔” تاجر نے طنزیہ ہنسی ہنسی“نیند تو خریدی جا سکتی ہے۔” فقیر بولا:“ہاں، مگر صرف سکون کے بدلے،اور وہ تم فروخت نہیں کرتے۔” رات کو تاجر نے واقعی نیند کی کوشش کی۔سونا، گنا، حساب لگایامگر آنکھ نہ لگی۔ صبح اس نے فقیر کو تلاش کیا۔فقیر وہیں بیٹھا…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

ایک استاد تھا۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا : اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔استاد بھی عقل مند تھے۔ طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو،میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا: اس موتی کی…

Read more

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: “میں سیاسی ہوں”۔ (یاد رہے، عربی زبان میں “سیاسی” اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو۔) چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے، اس نے اجنبی کو شاہی اصطبل کا انچارج بنا دیا، کیونکہ اس عہدے پر مامور شخص حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: “یہ نسلی نہیں ہے۔” بادشاہ کو حیرت ہوئی، اس نے فوری طور پر اصطبل کے پُرانے سائیس کو جنگل سے بلوایا۔ سائیس نے بتایا کہ گھوڑا تو اصیل ہے، مگر اس کی ماں پیدائش کے فوراً بعد مر گئی تھی، جس کے بعد…

Read more

ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔ وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اب وہ آخر کار اپنی زندگی بغیر کسی پریشانی اور کوشش کے گزار سکتا ہے۔ چند دنوں کے مزے لینے کے بعد جب چاول ختم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مرتبان کے نیچے پاتا ہے۔ اس وقت، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پھنس گیا ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتا۔ اب زندہ رہنے کے لیے وہ مکمل طور پر کسی پر منحصر ہے کہ وہ گھڑے میں دانہ ڈالے۔ اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اسے جو دیا جائے، اگر اسے دیا جائے تو کھا لے۔ اس طرح غلام پیدا ہوتا ہے۔ ایک غلام جس نے ہمیشہ رضامندی دی۔ سبق 1) قلیل مدتی لذتیں طویل مدتی…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔ ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔” پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔ بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔” وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔ 11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔…

Read more

چنگیز خان جلال الدین خوارزمی کی عزت کرتا تھا اس نے اس میں ایک بہادر اور دلیر دشمن دیکھا اس پر قدم رکھتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا سب سے سنگین اعتراف کیا کہ “وہ ابھرتے ہوئے سورج کی طرح ہے”  منگولوں کے ایک بڑے لشکر کو جلال الدین نے Battle of Parwan میں شکست دی اس جنگ میں منگولوں کا کمانڈر Shigi Qutuqu تھا لیکن سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی رہی ہے کہ جلال الدین نے چنگیز خان کو شکست دی لوگوں نے تحقیق کے بغیر بہت شیئر کی لیکن میں نے اس وقت بھی ایک الگ سے پوسٹ میں واضح کیا تھا کہ Battle of Parwan میں جلال الدین کو جو فتح حاصل ہوئی اس میں مدمقابل منگول کمانڈر Shigi Qutuqu تھا  منگولوں کی ابتدائی فتوحات کے دور میں یہ واحد ایک بڑی شکست تھی جس سے آپ جلال الدین الخوارزم…

Read more

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

وردی میں ملبوس، اکٹھے حرکت کرتے ہوئے عملے کو ہر جگہ لوگ بڑے غور سے دیکھتے ہیں۔لڑکے لڑکیوں کو ساتھ دیکھ کر اس گرویدگی کے عالم میں ان کی سوچ وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی اخلاقی طور سے ممکن نہیں رہتی🤤۔ اکثریت کے لیئے اس نوکری کا نام بھی پائلٹ ہونا ہے۔ ظاہر ہے بھئی اتنا بڑا جہاز ہوتا ہے، اسے اڑانے کے لیئے بارہ چودہ بندے تو لازمی چاہیئے ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بھائی کیا آپ پائلٹ ہیں۔ اتنے عوام کو بتا بتا کر آخر اکثر جان چھڑانے کے لیئے یہ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ہاں جی ہم پائلٹ ہوتے ہیں لیکن ایک بار تو حد ہو گئی۔ میں اور میرا ساتھی ریحان ایک روح فرسا پرواز کرنے کے بعد تھکے ہارے اپنا سامان کھینچتے گاڑیوں کی طرف جا رہے تھے کہ دو نوجوانوں نے تقریباً پورا راستہ روک کر…

Read more

سن 1922 میں مصر کی خاموش ریت نے ایک ایسا راز اُگلا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ راز تھا فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ، جو تقریباً تین ہزار سال سے زمین کے اندر خاموشی سے سو رہا تھا۔ جب ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے اس مقبرے کا دروازہ کھولا، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ دریافت تاریخ کے ساتھ ساتھ خوف کی نئی داستان بھی لکھ دے گی۔ کمرے کے اندر سونا، زیورات، نایاب مجسمے اور دیواروں پر کندہ تحریریں موجود تھیں۔ سب کچھ اتنا محفوظ تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو انسانی آنکھ سے چھپا ہوا تھا، مگر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ مقبرہ کھلنے کے صرف چند ہفتوں بعد، اس مہم کے سرپرست لارڈ کارناروَن (Lord Carnarvon) اچانک بیمار…

Read more

ایک مولوی صاحب نے چرسی کو مسجد میں وضو کرتے دیکھا تو پوچھا:“اوئے چرسی تو یہاں کیا کر رہا ہے؟” چرسی جھٹ سے بولا:“مرچیں تو تجھے تب لگیں گی جب جنت میں دیکھو گے۔” بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن اس نے ایک لمحے کو ہوش اڑا دیئے۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے حقیر جانا، جنہیں ہم گناہ گار کہتے رہے، جن پر ہم عمر بھر لعن طعن کرتے رہے، طرح طرح کے فتویٰ لگاتے رہے۔کیا ہو اگر کل بروزِ حشر وہ خدا کے مقبول بندوں میں نکل آئے؟ کیا ہو اگر کہ ہم اسے خوش فہمی میں مارے گئے کہ ہم نے خدا کو راضی کیا اور خدا کو ہماری نیت ہی بھلی نہ لگی ہو۔کیا ہو اگر کہ جنہیں ہم جہنمی اور بدکار کہتے رہے ہوں اور وہ جنت کے دروازے پر مسکراتے ملیں اور ہمیں جنت کی ہوا بھی نصیب نہ ہو۔خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کا…

Read more

دو دوست تھے ۔ ایک کا نام تھا “کچھ بھی نہیں” اور دوسرے کا نام تھا “خودبخود” ۔کچھ بھی نہیں کائنات بننے سے پہلے سے موجود تھا ۔ مگرخودبخود کی پیدائش بگ بینگ کے وقت ہوئی جب وقت نے جگہ کو زور سے ٹکر ماری ۔ ایکزوردار دھماکہ ہوا اور خودبخود پیدا ہوا ۔ خودبخود پیدا ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں سے جھگڑنے لگا ۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں سے بڑا ہے ۔ جبکہ کچھ بھی نہیں کا کہناتھا کہ وہ خودبخود سے بڑا ہے ۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر ایک بندر کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ بندر نے کچھ دیر سر کھجاتے ہوئے سوچا اور پھر بولا ۔“میں تم دونوں سے کچھ سوالات پوچھوں گا ۔ تم دونوں نے ان کے سچ سچ جوابات دینے ہیں ۔”“کچھ بھی نہیں” اور “خودبخود” نے یک زبان ہو کر جواب دیا ۔“جو…

Read more

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے…

Read more

40/101
NZ's Corner