Tag Archives: nightowl earlybird

کالج میں ایک طالب علم نے انگریزی کے پروفیسر سے پوچھا: “سر! یہ ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”“نٹورے؟؟” پروفیسر نے حیرت سے پوچھا اور پھر اسے ٹالتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں، میرے آفس آ جانا۔”طالب علم وہاں بھی پہنچ گیا اور بولا: “بتائیے سر، ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”پروفیسر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا: “میں تمہیں کل بتاتا ہوں۔”پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے۔ انہوں نے ڈکشنری کھنگالی، انٹرنیٹ پر تلاش کیا، لیکن ایسا کوئی لفظ نہ ملا۔اگلے دن طالب علم نے پھر وہی رٹ لگا دی: “سر! وہ ‘نٹورے’ کا مطلب…؟”اب پروفیسر صاحب اس سے کترانے لگے اور اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔ لیکن طالب علم ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔بالآخر ایک دن پروفیسر صاحب نے جھنجھلا کر پوچھا: “یہ جس ‘نٹورے’ لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ آخر کون سی زبان کا لفظ ہے؟”طالب…

Read more

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

کسی زمانے میں ایک ملک تھا جس کا بادشاہ بے اولاد ہی مر گیا۔کوئی قریبی رشتہ دار بھی ایسا نہیں تھا کہ جسےتخت و تاج سونپا جا سکتا۔ تو امیروں میں بحث شروع ہو گئی کہ بادشاہ کون بنے گا۔ہوتے ہوتے یہ طے پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے شہر کے دروازے سے داخل ہو گا اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا۔اگلی صبح کا سورج طلوع ہوا تو سب کی نگاہیں داخلیدروازے پر ٹکی تھیں۔ اچانک ایک ہیولا سا دروازےمیں سے اندر داخل ہوا۔ہر جانب مبارک سلامت کا شور اٹھا ملک و قوم کو اگلا بادشاہ مل ہی گیا تھا اور دروازے سے داخل ہونے والا ایک گدڑی پوش فقیر حیرت سے سب امرا کے چہرے دیکھ رہا تھا جو اس کا ہاتھ چومنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے تھے۔خیر قصہ مختصر۔ بادشاہ سلامت دربار میں جلوہ افروز ہوئے ایک وزیر نے اگے پڑھ…

Read more

ایک دفعہ ایک جنگل میں آگ لگ گئی کئی جانور پرندے جنگل سے بھاگنے اور اڑنے لگے ایک چھوٹا سا پرندہ اپنی چونچ میں دور سے پانی بھر کر لاتا اور جنگل کی آگ پر پھینکتا ۔ یہ عمل وہ بار بار کرتا کسی سمجھ دار پرندے نے پوچھا کہ بھائی یہ تم کیا کر رہے ہو ؟تمہارے اس قطرے سے یہ آگ بجھنے والی نہیں تم خو د بھی اس میں جل سکتے ہو …………. تو اس چھوٹے سے پرند ے نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میری اس کوشش سے آگ نہیں بجھے گی مگرجب تاریخ لکھی جائے گی میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا نہ کہ آگ لگانے والوں میں۔ کبھی کبھار آگ بجھانا ہمارے بس میں نہیں ہوتا لیکن خود کو پھونک مار کر آگ بھڑکانے والوں میں شامل نہ کریں۔ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائیں بھلے ہی آپ کی آواز کہیں پہنچ…

Read more

ایک مشہور قصہ ہے کہایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے…

Read more

‏ایک دن مُلا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اتر ہی نہیں رہا تھا۔بہت کوشش کئیے مگر گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ملا تھک کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح سے نیچے آجاۓ.کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.ملا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنی مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں لگا ہوا تھا ملا آخری کوشش کرتے ہوۓ اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو لات ماری…

Read more

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کچھ مصری مزدور اور ایک انڈین شخص فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے۔مصری باہم مل کر ہانڈی روٹی ساتھ پکاتے اور ساتھ کھاتے۔جبکہ انڈین اپنا کھانا الگ سے پکاتا اور کھاتا تھا۔ ایک دن انڈین شخص چھٹی پر انڈیا چلا گیا۔ اِدھر مصریوں کو سالن میں ڈالنے والے مصالحہ جات کی ضرورت پڑ گئی۔ مصریوں نے انڈین شخص کے مصالحہ جات پر ہاتھ صاف کرنا، بازار جانے کی نسبت بہتر سمجھا۔ چند ماہ بعد انڈین واپس آیا، مصریوں سے ملا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ گھبرایا ہوا، پریشان حال اپنے کمرے سے نکلا،مصریوں نے پوچھا، ”کیا ہوا؟“ انڈین نے روتے ہوئے کہا،“میں کمرے میں گیا تو وہاں میرے ابا کمرے سے غائب ہیں؟” مصری حیرانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بیک زبان پوچھا،”تم تو کہتے تھے تمہارا ابا کئی سال پہلے فوت ہوگیا تھا؟“ انڈین کہنے لگا،”ابا…

Read more

ایک بلند پہاڑ پر ایک عقاب رہتا تھا۔ وہ اپنی طاقت، رفتار اور اونچی پرواز پر بہت فخر کرتا تھا۔ پورے جنگل میں اس کا رعب تھا۔ وہ اکثر دوسرے جانوروں سے کہتا: “میری نظر آسمان سے زمین تک سب کچھ دیکھ سکتی ہے۔ تم سب میری طرح عظیم نہیں بن سکتے۔” جانور اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، مگر دل ہی دل میں اس کے غرور کو ناپسند کرتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا جگنو بھی رہتا تھا۔ دن کے وقت کوئی اسے نہیں دیکھتا تھا اور رات کو بھی اس کی روشنی بہت معمولی لگتی تھی۔ عقاب اکثر اس کا مذاق اڑاتا۔ ایک رات اچانک جنگل میں خوفناک طوفان آیا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑنے لگے۔ بارش نے راستے مٹا دیے۔ جانور ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اسی ہنگامے میں عقاب کا ایک ننھا بچہ اپنے گھونسلے سے گر کر جنگل کے…

Read more

ایک شدید طوفان کے دوران ایک کوا آسمان سے نیچے آ گرا۔ زمین پر گرنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ بے بس ہو کر وہیں رہ گیا۔ درد کی شدت سے وہ حرکت بھی نہ کر سکا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کمزور آواز میں مدد کے لیے پکارنے لگا: “میں اڑ نہیں سکتا… پلیز میری مدد کرو…” قریب ہی ایک شاخ پر بیٹھا نیل کنٹھ پرندہ اسے دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولا: “یہی ہونا چاہیے تھا تمہارے ساتھ! ہمیشہ سب سے اونچا اڑتے تھے، جیسے آسمان تمہاری ملکیت ہو۔ اب اپنی حالت دیکھ لو۔” دوسرے پرندے بھی وہاں موجود تھے مگر سب بے حس اور لاتعلق رہے۔ کوا درد اور بھوک سے نڈھال، بالکل اکیلا پڑا رہا اور اس کی امید بھی کمزور پڑنے لگی۔ اچانک جھاڑیوں سے ایک نرم اور دھیمی آواز آئی: “میں چھوٹی ضرور ہوں……

Read more

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر محل واپس آیا اور تخت پر بیٹھ گیا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب کھڑا تھا۔ بادشاہ کو سخت نیند آ رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی آنکھیں بند ہوتیں، ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی۔ نیند اور بے خیالی میں بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا، لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا۔ جب دو تین بار ایسا ہوا تو بادشاہ نے غلام سے پوچھا:  “تمہیں پتا ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت چھپی ہے؟” غلام نے بادشاہ کا سوال سنا تو ایسا جواب دیا جو سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ غلام بولا:  “بادشاہ سلامت! اللہ نے مکھی کو…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ شہر کے کنارے ایک وسیع و عریض دریا بہتا تھا، جس کا پانی سورج کی کرنوں میں چاندی کی طرح چمکتا اور رات کی خاموشی میں رازدارانہ سرگوشیاں کرتا محسوس ہوتا تھا۔ایک صبح سویرے لوگوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔دریا کے کنارے ایک شخص خاموشی سے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے دہی کا ایک مٹکا رکھا تھا اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چمچ۔ وہ بڑے انہماک سے چمچ بھرتا اور دہی دریا میں انڈیل دیتا، پھر دوسرا چمچ بھر لیتا۔قریب جا کر دیکھا تو وہ ملا نصرالدین تھے۔لوگ حیران ہوئے۔ کسی نے ہنس کر پوچھا:“ملا صاحب! یہ کون سی نئی حکمت ایجاد کر رہے ہیں؟”ملا نے سکون سے جواب دیا:“دریا میں دہی ڈال رہا ہوں۔”لوگوں کی حیرت اور بڑھ گئی۔“لیکن کیوں؟”ملا نے نہایت سنجیدگی سے کہا:“اس لیے کہ دریا کا پانی بہت پتلا ہے، میں اسے گاڑھا کر رہا ہوں۔”یہ سن کر مجمعے میں…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے اور خوبصورت جنگل میں ایک عجیب مصیبت آ پڑی۔ پورے جنگل کے جانوروں اور پرندوں کی نیند جیسے روٹھ گئی تھی۔ رات بھر ہر طرف بے چینی رہتی۔ کوئی کروٹیں بدلتا، کوئی درختوں کے نیچے ٹہلتا، کوئی آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا مگر نیند کسی کے پاس آنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ آخر تنگ آ کر تمام جانور جنگل کے بادشاہ شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ شیر خود بھی کئی راتوں سے جاگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے تھے اور غصہ بھی پہلے سے زیادہ ہونے لگا تھا۔ دربار میں موجود چالاک لومڑی نے آگے بڑھ کر کہا: “جہاں پناہ! ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا ہے۔ مجھے ایک دن کی مہلت دیجیے، میں اس مشکل کا علاج ڈھونڈ لوں گی۔” اگلے…

Read more

ایک بنجر گاؤں تھا۔ کئی مہینوں سے بارش نہیں ہوئی تھی، کھیت جل چکے تھے، جانور پیاس سے بے حال تھے، اور لوگ ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے تھے۔ آخر گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ گاؤں کے باہر ایک بڑا کنواں کھودا جائے، تاکہ زندگی پھر سے لوٹ آئے۔ٹھیکیدار نے دو مزدور رکھے: رحیم اور کریم۔ دونوں کی مزدوری ایک جیسی تھی، کام بھی ایک جیسا تھا، مگر سوچ الگ تھی۔رحیم صبح اندھیرے سے پہلے آ جاتا۔ گرمی ہو یا سردی، وہ پوری توجہ سے بیلچہ چلاتا رہتا۔ اس کے کپڑے پسینے سے تر ہوتے، ہاتھ چھل جاتے، مگر وہ رکنے کا نام نہ لیتا۔ اس کا کہنا تھا،“رزق حلال ہے، کام پورا کرنا میرا فرض ہے۔”دوسری طرف کریم شروع میں تو جوش سے کام کرتا، مگر جلد ہی تھک جاتا۔ وہ کبھی سائے میں بیٹھ جاتا، کبھی پانی پیتے پیتے وقت ضائع کرتا، اور کبھی لوگوں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کا بادشاہ، جس کے ایک اشارے پر تلواریں نیام سے باہر آ جاتیں اور ایک تیوری چڑھانے پر دربار میں سناٹا چھا جاتا، ایک رات عجیب خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔خواب یہ تھا کہ اس کے منہ کے تمام دانت ایک ایک کرکے جھڑ گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ اس نے فوراً حکم دیا:“دربار سجایا جائے! خواب کے ماہرین حاضر کیے جائیں!”چنانچہ ملک بھر کے نجومی، حکیم اور خواب شناس دربار میں جمع ہو گئے۔سب سے پہلے ایک بزرگ معبرِ خواب آگے بڑھا۔ اس نے خواب سنا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر نہایت سادگی سے عرض کیا:“بادشاہ سلامت! اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے تمام عزیز و اقارب آپ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔”یہ سننا تھا کہ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔“بدزبان!…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک پرانا گدھا تھا جو برسوں سے اس کا وفادار ساتھی تھا۔ گدھا سادہ دل تھا، لیکن تھوڑا سا حسد کرنے کی عادت بھی رکھتا تھا۔ ایک دن کسان بازار سے ایک بڑی سی بھینس خرید کر لے آیا۔ گدھے نے زندگی میں پہلی بار بھینس دیکھی۔ اس نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا:“ارے واہ! یہ کون سی مخلوق آ گئی؟ اتنا بڑا جسم، ایسی موٹی تازی صحت، اور لگتا ہے جیسے کھانے پینے کی رانی ہو” رات ہوئی تو گدھا آرام کرنے لگا، مگر اس کی نظر بار بار بھینس پر جا رہی تھی۔ بھینس خاموشی سے جگالی کر رہی تھی۔گدھے نے حیران ہو کر کہا: “بہن بھینس! تم تو ابھی تک کھائے جا رہی ہو۔ آخر ایسا کیا کھاتی ہو جس سے تمہاری صحت اتنی…

Read more

کہتے ہیں کسی دور دراز افریقی سلطنت میں ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ دربار میں اگر کوئی مداری، شعبدہ باز یا جادوگر آ جاتا تو بادشاہ سب کام چھوڑ کر اس کا کرتب دیکھنے بیٹھ جاتا۔ایک دن ایک پراسرار جادوگر دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی لمبی چغہ پوشی، نوکیلی ٹوپی اور چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر لوگ ویسے ہی مرعوب ہو گئے۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بڑے اعتماد سے بولا:“بادشاہ سلامت! میں ایسا جادو جانتا ہوں کہ پانی کو جام میں بدل سکتا ہوں۔”دربار میں سرگوشیوں کا طوفان اٹھ گیا۔بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:“واقعی؟ اگر ایسا ہے تو فوراً ہمیں دکھاؤ!”جادوگر مسکرایا۔ اس نے ایک شفاف گلاس میں پانی بھرا، آنکھیں بند کیں، چند پراسرار منتر پڑھے، ہاتھ ہوا میں گھمایا، اور پھر نہایت سنجیدگی سے بولا:“حضور! اب یہ پانی نہیں، خالص جام ہے۔ نوش فرمائیے!”بادشاہ نے گلاس…

Read more

El universo aún estaba en sus inicios y la tierra se purificaba con la luz que emergía en su primera mañana. El rojo que se extendía en el horizonte era misterioso como un secreto profundo e inexplorado, y un extraño silencio danzaba en los vientos, como si anunciara la llegada de una tormenta que cambiaría el curso de la historia humana para siempre. Era una época en la que aún no habían nacido ciudades, imperios, leyes ni tradiciones. La única capital del universo era aquella tierra virgen y sin nombre donde la primera generación de Sayyiduna Adán (la paz sea con él) y Sayyidah Eva (la paz sea con ella) ponía un pie. El dulce aroma de la tierra, las hojas de los árboles y los sonidos de los animales eran la capital absoluta del universo. En esta atmósfera serena, encantadora y gloriosa, donde las bendiciones de Dios caían como…

Read more

Una desolada cordillera ubicada en los densos bosques de América ha sido considerada durante siglos un símbolo de miedo y misterio. Los lugareños la llamaban las “Montañas Hambrientas”. Creían que cualquiera que se adentrara en ellas jamás regresaría o lo haría con un miedo imborrable en la mirada. Esta historia trata sobre esas mismas montañas, donde una tribu vivía alejada de los humanos y, oculta a la vista del mundo, recurría al canibalismo para sobrevivir. Según las tradiciones locales, sus ancestros se perdieron en el bosque hace muchas generaciones. Con el tiempo, perdieron el contacto con la civilización humana. El aislamiento constante, el frío extremo, el hambre y la lucha por la supervivencia los transformaron en criaturas difíciles de distinguir entre humanos y animales. Se dice que estas personas tenían una piel inusualmente blanca porque la luz del sol apenas los había alcanzado durante generaciones. Sus ojos se habían acostumbrado…

Read more

امریکہ کے گھنے جنگلات کے درمیان واقع ایک سنسان پہاڑی سلسلہ صدیوں سے خوف اور پراسراریت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اسے “بھوکے پہاڑ” کہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جو شخص ان پہاڑوں کے اندر داخل ہو جائے وہ یا تو کبھی واپس نہیں آتا یا پھر ایسا واپس لوٹتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں زندگی بھر کا خوف قید ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ان ہی پہاڑوں کے بارے میں ہے جہاں انسانوں سے دور ایک ایسا قبیلہ آباد تھا جو دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے اپنی بقا کے لیے آدم خوری پر انحصار کرتا تھا۔ مقامی روایات کے مطابق ان کے آباؤ اجداد کئی نسلیں پہلے جنگل میں گم ہو گئے تھے۔ وقت کے ساتھ انہوں نے انسانوں کی تہذیب سے اپنا تعلق کھو دیا۔ مسلسل تنہائی، شدید سردی، بھوک اور بقا کی جدوجہد نے انہیں ایک ایسی مخلوق میں تبدیل…

Read more

Había un estanque de un verde exuberante, en cuyas orillas se mecía la suave hierba, las flores de loto sonreían sobre el agua, y al atardecer el croar de las ranas creaba una extraña fiesta. En este estanque vivía una rana joven. No se conformaba con una vida ordinaria como las demás ranas. Grandes sueños bullían en su corazón. A menudo se miraba en el agua y pensaba:“No soy como las ranas comunes. ¡Algo grande está escrito en mi destino!” Una tarde, mientras todas las ranas estaban sentadas sobre las hojas de loto charlando, de repente trepó a una piedra y anunció en voz alta:“¡Escuchen! ¡Algún día seré el rey de todas ustedes!”Hubo un breve silencio. Luego, todo el estanque resonó con risas. Una rana vieja rió y dijo:“Hermano, ¿cómo piensas ser rey?” Otra preguntó:“¿Tienes una corona?” La tercera dijo sarcásticamente:“¿O has nombrado a la garza tu ministro?”La joven rana…

Read more

100/173
NZ's Corner