Tag Archives: urdustory

ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے… میں نے کونسا منع کیا آپکو. .پڑوسی تلملا کر بولے..  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہے..…

Read more

ایک دن حضرت موسیٰ نے راستہ چلتے ایک چرواہے کو سنا کہ وہ کہہ رہاتھا کہ اے پیارے خدا! تو کہاں ہے۔ آ میں تیری خدمت کروں، تیرے موزے سیوں اور سر میں کنگھی کروں۔ تو کہاں ہے کہ میں تیری ٹہل خدمت بجالاؤں۔ تیرے کپڑے سیوں، پیوند پارہ کروں۔ تیرا جڑا ول دھوؤں ، جُنّویں چنوں اور اے پیارے تیرے آگے دودھ رکھوں، اگر تو بیمار ہو تو میں رشتہ داروں سے بڑھ کر تیمار داری کروں۔ تیرے ہاتھ چوموں، پیروں کی مالش کروں اور جب سونے کا وقت آئے تو تیری خوابگاہ کو جھاڑ کر صاف کروں۔ اگر تیرا گھر دیکھ لوں تو بلا ناغہ صبح وشام گھی اور دودھ تجھے پہنچاؤں، اور پنیر، روغنی روٹیاں اور پینے کو مزے داردہی چھاچھ یہ سب چیزیں صبح و شام تیار کرکے لاؤں۔ غرض میرا کام لانا ہو اور تیرا کام کھانا۔ میرے سارے بکرے تجھ پر فدا ہوں۔تیری یاد…

Read more

ایک گورو اپنے چیلے کے ساتھ ایک ایسے شہر میں پہنچے جسے لوگ بیداد نگری کہتے تھے۔ وہاں ہر چیزِ خوردنی کا بھاؤ ٹکے سیر تھا۔ گورو نے فوراً چیلے سے کہا: “یہاں سے نکل چلو، اس شہر میں نہ قدر و قیمت کا فرق ہے نہ مرتبے کا لحاظ۔”مگر چیلا خوش تھا کہ جہاں سب کچھ اتنا سستا ہو، وہاں زندگی بڑے مزے سے گزرے گی۔ گورو نے سمجھایا: “ہم نے تمہیں خبردار کر دیا، اب تمہاری مرضی۔”چیلے کو ٹکے سیر حلوہ پوری ملنے لگی، چند ہی دنوں میں وہ کھا کھا کر موٹا تازہ اور ہشاش بشاش ہو گیا۔ قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن ایک چور زیور چرانے کے الزام میں دربار میں پیش ہوا۔ اس نے بڑی دیدہ دلیری سے کہا: “حضور! میں بے قصور ہوں، اگر صاحبِ زیور اتنی قیمتی چیز گھر میں نہ رکھتا تو میں کیسے چراتا؟”نتیجہ یہ نکلا کہ چور…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک قیدی کو لایا۔ وہ شخص موت کی سزا کا مستحق قرار دیا جا چکا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اب اس کی زندگی کے چند ہی لمحے باقی ہیں تو وہ غصے اور مایوسی میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ بادشاہ کو اس کی زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی، کیونکہ وہ کسی دوسرے علاقے کی زبان بول رہا تھا۔بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا: “یہ قیدی کیا کہہ رہا ہے؟” وزیر ایک نیک دل اور نرم طبیعت انسان تھا۔ اس نے کہا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اللہ انہیں پسند کرتا ہے۔” بادشاہ نے یہ بات سنی تو اس کا دل نرم ہو گیا اور اس نے قیدی کو معاف کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن دربار میں موجود ایک اور وزیر نے فوراً کہا:“بادشاہ سلامت!…

Read more

چچا فیدا اور “یادداشت” کی گولیچچا فیدا کی یادداشت اتنی کمزور تھی کہ وہ اکثر یہ بھول جاتے تھے کہ انہوں نے کھانا کھا لیا ہے یا ابھی کھانا ہے۔ ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور بڑے سنجیدہ ہو کر بولے: چچا فیدا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دیں کہ میری یادداشت کمپیوٹر جیسی ہو جائے۔ کل میں اپنی بیگم کا نام بھول گیا تھا، اس نے بیلن سے میری یادداشت تھوڑی ‘تازہ’ تو کی ہے، پر مستقل حل چاہیے۔” ڈاکٹر صاحب نے ایک چمکدار نیلی گولی نکالی اور بولے: “چچا جی! یہ ‘سپرا سمارٹ’ گولی ہے۔ اسے روزانہ صبح نہار منہ کھائیں، آپ کو بچپن کی باتیں بھی یاد آ جائیں گی۔” چچا گولی لے کر چلے گئے۔ ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئے، مگر اس بار ان کے چہرے پر غصہ تھا۔ چچا فیدا: “اوئے ڈاکٹر! یہ کیسی گولی دی تھی تو نے؟…

Read more

بغداد شہر اپنی رونقوں میں مگن تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے آباد اس شہرِ خوشحال کی گلیاں علم و ادب کی خوشبو سے مہک رہی تھیں۔ دور دور سے تاجر، عالم اور سیاح اس دارالخلافہ کی سیر کو آتے۔ لیکن آج کا دن خاص تھا۔ شہر کی مرکزی سڑک پر قالین بچھے تھے، کنگلے پھولوں سے سجے تھے اور فوجیں پر شکوہ انداز میں قطار در قطار کھڑی تھیں۔ ہر طرف خلیفہ ہارون الرشید کے گذرنے کی خبر پھیلی ہوئی تھی۔ امیر المومنین اپنے شاہی جلوس کے ساتھ شہر کا معائنہ کرتے ہوئے گذر رہے تھے۔ سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی سواریاں، ہاتھیوں پر سوار نقارچی جو اپنی تھاپ سے فضا کو گونجائے دے رہے تھے، اور ہزاروں سپاہی پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ لوگ اپنے خلیفہ کا دیدار کرنے کے لیے راستے کے دونوں کنارے کھڑے تھے۔ بچے خوشی سے نعرے لگا رہے تھے اور…

Read more

جب بغداد کے امراء محلوں کی آرائش میں مصروف تھے، جابر بن حیان اپنی چھوٹی سی لیبارٹری میں پے در پے تجربات کر رہے تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے علمِ کیمیا کو محض “جادو ٹونا” یا “سونا بنانے کے خواب” سے نکال کر ایک باقاعدہ تجرباتی سائنس کی شکل دی۔ روایت ہے کہ ایک بار خلیفہ ہارون الرشید نے جابر بن حیان سے ایسی کتاب لکھنے کی فرمائش کی جو کیمیا کے اسرار پر مبنی ہو۔ جابر نے ایک ایسی کتاب لکھی جس کے حروف سونے کے پانی سے لکھے گئے تھے، لیکن ان کی اصل دولت وہ دریافتیں تھیں جنہوں نے دنیا بدل دی۔ جابر بن حیان نے وہ تیزاب (Acids) دریافت کیے جن کے بغیر آج کی انڈسٹری کا تصور بھی ناممکن ہے: شورے کا تیزاب (Nitric Acid): جو انہوں نے پہلی بار تیار کیا۔ نمک کا تیزاب (Hydrochloric Acid): ان کی محنت کا نتیجہ تھا۔…

Read more

*ایک وسیع اور پیاس سے تڑپتے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا — وہی دریا جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ ننھے ہرن سے لے کر بلند قامت زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے شفاف اور ٹھنڈے پانی پر انحصار کرتے تھے۔ خشک سالی کے دنوں میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس زرد ہو جاتی، یہی دریا امید کی آخری کرن بن جاتا۔* ایک سال ایسا آیا کہ ایک طاقتور بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ پر قبضہ جما لیا۔ وہ جگہ ایسی تھی جہاں سے گزرے بغیر کوئی جانور پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس نے وہیں ڈیرہ ڈال لیا۔ اس کا بھاری جسم راستہ روکے کھڑا تھا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔ جو بھی پیاسا جانور قریب آتا، وہ زور سے پھنکارتا اور زمین پر کھر مارتا۔وہ…

Read more

ایک شخص کو وراثت میں مالِ کثیر ہاتھ آیا۔ وہ سب کھاگیا اور خود ننگا رہ گیا۔ سچ ہے کہ میراث کا مال نہیں رہا کرتا۔ جس طرح دوسرے سے الگ ہوا اسی طرح یہاں بھی جدا ہوجاتا ہے۔ میراث پانے والے کو بھی ایسے مال کی قدر نہیں ہوتی جو بے محنت اور تکلیف ہاتھ آجاتا ہے۔ اے شخص تجھے بھی جان کی قدر اسی لیے نہیں ہے کہ حق نے تجھے مفت بخشی ہے۔ الغرض اس شخص کا نقد وجنس اور جائیداد سب قبضے سے نکل گئی اور الّوؤں کی طرح ویرانے میں رہنے لگا۔ اس نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ تونے مجھے سروسامان دیاتھا وہ جاتا رہا۔ لہٰذا تو اب مجھے سروسامانِ زندگی عنایت کریا موت بھیج دے۔ اس دعا اور گِڑ گِڑاہٹ میں اس نے دونوں ہاتھ پیٹے۔ اس زبردست کو بے محنت زر کی طلب تھی لیکن وہ کون ہے جو خدا کی…

Read more

پھانسی سے قبل مجرم سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے حج سے کہا کہ جیل کی چٹائی پر مجھے نیند نہیں آتی، میں زندگی کی آخری رات چٹائی کی بجائے ایک آرام دہ بیڈ پر سونا چاہتا ہوں اور بیڈ پر برف کا بلاک بھی موجود ہونا چاہیے۔ پھانسی سے ایک رات پہلے جب حج محمد یوسف کی کوٹھڑی میں داخل ہوا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی ٹھہراؤ تھا۔ جیل کے اُجالے میں بھی وہ شخص سائے کی طرح لگ رہا تھا۔ حج نے پوچھا: کوئی آخری خواہش؟ محمد یوسف نے آہستگی سے سر اٹھایا۔ اس کی داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی تیزی تھی جو بیس سال پہلے تھی جب وہ جھنگ کی گلیوں میں موٹر سائیکل کی آواز سے پوری بستی جگا دیا کرتا تھا۔ اس نے کہا: حج صاحب، مجھے جیل کی چٹائی پر نیند نہیں آتی۔ زندگی کی…

Read more

ایک دن ایک مرغا درخت کی ایک اونچی شاخ پر بیٹھا، ککڑوکوں ککڑوکوں کر رہا تھا۔ اتفاق سے ایک لومڑی درخت کے نیچے سے گزری اور مرغے کی آواز سن کر اوپر دیکھنے لگی۔ درخت پر ایک تازہ اور موٹا نوجوان مرغا نظر آیا تو لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی: “یہ شکار تو بہت عمدہ ہے، مگر اسے نیچے کیسے بلاؤں؟” کچھ دیر سوچنے کے بعد لومڑی نے بات چیت شروع کی: “کہو میاں مرغے، کیسا حال ہے؟” مرغے نے جواب دیا:“مہربانی! سناؤ تمہارا مزاج کیسا ہے؟” لومڑی مسکرا کر بولی:“تمہاری دعا سے سب ٹھیک ہے۔ ہاں، میں نے آج ایک بہت اچھی خبر سنی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کیا؟” مرغے نے کہا:“کیسی خبر؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔” لومڑی نے محسوس کیا کہ مرغا اس کی چکنی اور عقل مند باتوں میں پھنسنے کے لیے تیار ہے۔ وہ مسکرا کر…

Read more

وکیل آدھی رات کو گھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا. بیوی: دروازہ نہیں کھولونگی، اتنی رات کو جہاں سے آرہے ہو وہیں چلے جاؤ.وکیل: دروازہ کھولو نہیں تو نالے میں کود کر اپنی جان دے دونگا. بیوی: مجھے کوئی پرواہ نہیں تمہیں جو کرنا ہے وہ کرو. اس کے بعد وکیل دروازے کے پاس کے اندھیرے حصے میں جاکر کھڑا ہو گیا، اور دو منٹ انتظار کیا، پھر ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور نالے کے پانی میں پھینک دیا. بیوی نے سنا تو فوراً دروازہ کھولا اور نالے کی طرف دوڑی. اندھیرے میں کھڑا وکیل دروازے کی طرف بھاگا اور گھر کے اندر سے دروازہ بند کر لیا. بیوی: دروازہ کھولو، نہیں تو میں چلا چلا کر سارے محلے کو جگا دونگی. وکیل: خوب چلاؤ، جب تک سارے پڑوسی جمع نہ ہو جائیں، پھر میں ان کے سامنے تم سے پوچھونگا کہآدھی رات کو کہاں سے آرہی ہو؟ کالا کوٹ…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

ایک جنگ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جب ایک دشمن زد میں آیا تو آپ تلوار سونت کر جھپٹے۔ اس نے حضرت علی کے چہرۂ پر نور پر جوہر نبی و ولی کا فخر تھے، تھوک دیا۔ اس نے ایسے چہرے پر تھوکا کہ اگر چاند بھی مقابل آئے تو اس کے سامنے سجدہ بجا لائے ،مگر حضرت علی اپنا غصہ پی گئے اور اسی وقت تلوار پھینک کر اس کافر پہلوان سے کنارہ کرنے لگے۔ وہ پہلوان آپ کی اس حرکت سے حیران ہوگیا کہ بھلا اظہارِ عفو اور رحم کا یہ کیا محل تھا۔ اس نے پوچھا کہ تم نے مجھ پر ابھی تو شمشیرِ آب دار کھینچی اور ابھی کے ابھی تلوار پھینک کر مجھے چھوڑ دیا۔ اس کا کیا سبب ہے؟ میری جنگ آزمائی میں تم نے ایسی کیا بات دیکھی کہ مجھ پر غالب آنے کے بعد بھی مقابلے سے ہٹ گئے۔ آپ…

Read more

مصر کی سرزمین اُس دور میں انصاف اور عدل کی مثال سمجھی جاتی تھی، کیونکہ وہاں حکومت تھی عظیم سلطان صلاح الدین ایوبی کی۔ سلطان نہ صرف ایک بہادر سپہ سالار تھے بلکہ عقل و فراست میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے دورِ حکومت میں اگر کوئی مظلوم فریاد لے کر آتا تو خالی ہاتھ واپس نہ جاتا۔ایک دن صبح سویرے قاہرہ کے مضافات میں واقع ایک پرانے کنویں سے بدبو اٹھنے لگی۔ گاؤں والوں نے جب جھانک کر دیکھا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کنویں کے اندر ایک نوجوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لڑکی غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور چند دنوں سے لاپتہ تھی۔ اس کے والدین سلطان کے دربار میں پہنچے اور انصاف کی دہائی دی۔سلطان نے فوراً حکم دیا کہ کنواں بند کر دیا جائے اور لاش نکال کر معائنہ کیا جائے۔…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے، بادشاہ اورنگ زیب  کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا:“بادشاہ سلامت! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے دربار میں اہلِ فن کی بہت قدر کی جاتی ہے؟” بادشاہ سلامت نے فرمایا:“ہاں! بالکل، اہلِ فن کی قدر کرنی چاہیے اور ہمارے ہاں یہ قدر کی جاتی ہے۔” اس شخص نے کہا:“عالی جناب! میں ایک بہروپیا ہوں، مجھے اللہ پاک نے یہ صلاحیت دی ہے کہ میں کوئی بھی روپ دھار لیتا ہوں اور سامنے والا مجھے پہچان نہیں پاتا۔” بادشاہ اورنگ زیب رَحمۃُ اللہ علیہ نے کہا:“ٹھیک ہے، تم اپنا فن مجھے دکھاؤ! جس دن تم ایسا روپ دھار لو کہ میں تمہیں نہ پہچان سکوں، اس دن تمہیں انعام دوں گا۔” چند دن گزرے، بادشاہ سلامت بیمار ہو گئے۔ پورے ملک میں خبر پھیل گئی۔ ایک دن دربان نے عرض کیا:“عالی جاہ! آپ کے بیمار ہونے کی خبر ایران تک پہنچی…

Read more

ایک وسیع و عریض جنگل میں، جہاں جانور اپنے معاملات طے کرنے کے لیے “عظیم باؤباب” کے درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے، وہاں ایک بوڑھا الو رہتا تھا۔ اسے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ دانا سمجھا جاتا تھا۔ جانور اسے “بزرگ الو” کہتے تھے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دور تک دیکھ سکتا تھا اور وہ باتیں سمجھ لیتا تھا جو دوسرے نہیں سمجھ پاتے تھے۔ جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا یا کوئی مشکل سوال سب کو پریشان کرتا، جانور اس کی اونچی شاخ کی طرف دیکھتے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ الو کی پرسکون آنکھوں کے پیچھے سچائی چھپی ہوتی ہے۔ ایک موسم، شیر بادشاہ نے جنگل کے خوراک اور پانی کے مشترکہ ذخیرے کے انتظام کے لیے ایک کونسل مقرر کی۔ ہرنوں نے اناج دیا، شہد کی مکھیوں نے شہد جمع کیا اور ہاتھیوں نے اپنی سونڈوں میں بھر کر پانی پہنچایا۔ سب جانوروں کو یقین…

Read more

ایک دن ایک مشہور قسم کا شرابی نوکری کے لیے انٹرویو دینے پہنچ گیا۔ آنکھیں ذرا سرخ، بال تھوڑے بکھرے ہوئے، مگر اعتماد پورا آسمان پر! انٹرویو روم میں ایک باوقار سی لڑکی بیٹھی تھی جو بڑے سنجیدہ انداز میں سوالات کر رہی تھی۔ لڑکی نے پہلا سوال کیا:“کیا آپ شراب پیتے ہو؟” شرابی نے بڑے سکون سے جواب دیا:“جی ہاں، پیتا ہوں۔” لڑکی نے بھنویں اٹھائیں:“کتنی پیتے ہو؟” شرابی بولا:“بس کوئی چھ پیک روزانہ…” لڑکی نے فوراً کیلکولیٹر نکالا (یا دماغ میں ہی حساب لگا لیا 😏):“اوہ! چھ پیک؟ اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟” شرابی:“کوئی ہزار روپیہ روزانہ سمجھ لیں۔” لڑکی:“اور کب سے پی رہے ہو؟” شرابی نے فخر سے کہا:“کوئی پندرہ سال ہو گئے۔” لڑکی نے مسکرا کر فاتحانہ انداز میں کہا:“تو اس حساب سے آپ مہینے کے تیس ہزار اور سال کے تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے شراب پر اڑا دیتے ہو۔ اور پندرہ سال میں…

Read more

ایک شکاری نے ایک ہرن کو قیدی بنا لیا اور اس کو گدھوں کے اصطبل میں بند کر دیا۔ ہرن چونکہ آزادی کا مزہ چکھ چکا تھا اور جنگل میں آزادانہ گھومنے پھرنے کا عادی تھا، اس لیے اسے اس قید سے بڑی پریشانی ہوئی۔ وہ اس اصطبل میں وحشت زدہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگتا مگر رہائی کے لیے کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ اس شکاری نے رات کے وقت گدھوں کے سامنے گھاس ڈالی۔ گدھے خوشی خوشی گھاس کھانے لگے مگر ہرن کو چین نہ تھا، وہ کبھی ادھر دوڑتا کبھی اُدھر دوڑتا۔ گدھوں کی خوراک کی طرف اس نے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس قید کو اس نے اپنی موت خیال کیا۔ ہرن بہت دن تک گدھوں کے اصطبل میں قید رہا۔ جان کنی کی حالت میں اس طرح بے چین تھا جیسے مچھلی خشکی پر بے چین ہوتی ہے۔ اس کی حالت اس…

Read more

260/460
NZ's Corner