Tag Archives: earlybird

ایک زمانے کی بات ہے، ایک بہت بڑا اور بے حد امیر تاجر ایک عظیم شہر میں رہتا تھا۔ اس کے محل سونے چاندی سے جگمگاتے تھے، نوکر چاکر ہر وقت اس کے حکم کے منتظر رہتے تھے، اور دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں پڑی تھی۔لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنی دولت کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ راتوں کو وہ نرم بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون کی ایک لمحے کی نیند بھی اسے نصیب نہ ہوتی۔ اس کے چہرے سے خوشی غائب ہو چکی تھی۔ اس نے بڑے بڑے حکیموں، ڈاکٹروں اور عاملوں سے علاج کروایا، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔ایک دن ایک مسافر نے اسے بتایا: “جنگل کے کنارے ایک درویش رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ ٹوٹے دلوں کو سکون دے دیتے ہیں۔” یہ سن کر تاجر فوراً اپنے خزانچی سے سونے…

Read more

ایک حسین وادی میں بہتی ندی کے کنارے ایک بہت ہی بڑا، گھنا اور شاندار چنار کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی اونچی شاخیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں، اور دور دور تک اس کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ جنگل کے پرندے اس پر گھونسلے بناتے، مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، اور ہر آنے والا اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ چنار کے دل میں غرور آ گیا۔ وہ خود کو پورے جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اسی چنار کے نیچے ایک باریک سا بانس کا پودا اگا ہوا تھا۔ وہ نہ زیادہ اونچا تھا اور نہ ہی طاقتور، مگر ہمیشہ خاموش اور نرم مزاج رہتا تھا۔ جب بھی تیز ہوا چلتی، بانس جھک جاتا۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں… جیسے ہوا کے ساتھ دوستی کر رہا ہو۔ چنار یہ منظر دیکھ کر زور زور سے ہنستا اور طنز سے…

Read more

ایک پُرسکون شام تھی۔ندی کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، اور ندی کنارے ایک صوفی بزرگ خاموشی سے اللہ کے ذکر میں مشغول بیٹھے تھے۔اچانک ان کی نظر پانی پر پڑی…انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچھو ندی کے تیز بہاؤ میں پھنس گیا ہے۔وہ بار بار پانی سے نکلنے کی کوشش کرتا، مگر لہریں اسے واپس بہا لے جاتیں۔بچھو بے بسی سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔صوفی بزرگ کا دل رحم سے بھر گیا۔انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس ننھی جان کو بچا سکیں۔لیکن جیسے ہی انہوں نے بچھو کو ہاتھ میں لیا…بچھو نے اپنی فطرت کے مطابق زور سے ڈنک مار دیا!درد کی تیز لہر بزرگ کے جسم میں دوڑ گئی۔ان کا ہاتھ کانپ گیا اور بچھو دوبارہ پانی میں جا گرا۔قریب کھڑے لوگ بول اٹھے:“چھوڑ دیں اسے!یہ ناشکرا جانور آپ ہی کو تکلیف دے…

Read more

حضرت مالک بن دینارؒ اور محمد بن ہارون بلخی کا واقعہحضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے 60 حج کیے۔ ایک حج کے موقع پر میں نے بڑا رش دیکھا، لاکھوں کا اجتماع ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع تھا تو میرے دل میں خیال آیا، میں نے کہا: “اللہ! اتنے لوگ آئے ہیں، ان کا حج قبول بھی ہوا ہے کہ نہیں؟” فرماتے ہیں میں سوچ رہا تھا تو رات کو خواب میں میں نے کسی کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا کہ سب کا حج قبول ہو گیا ہے، مگر بلخ کا رہنے والا ایک شخص جس کا نام “محمد بن ہارون بلخی” ہے، اس کا حج قبول نہیں ہوا۔فرماتے ہیں کہ وہاں شہروں کے علیحدہ علیحدہ خیمے لگتے تھے۔ اب بھی آپ حج کرنے جائیں تو پاکستانیوں کی رہائش علیحدہ ہوتی ہے، انڈینز کی علیحدہ، بنگلادیش، مصری، یمنی سب لوگوں کی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک سیاح کی ملاقات ساحل پر ایک ماہی گیر سے ہوئی۔ماہی گیر دن بھر کا شکار لے کر گھر جا رہا تھا کہ راستے میں سیاح نے اسے روک کر بات شروع کر دی۔ سیاح: تمہیں اس طرح کی مچھلیاں پکڑنے میں کتنا وقت لگا؟ماہی گیر: زیادہ وقت نہیں لگا۔ سیاح: تو پھر تم زیادہ دیر رک کر اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ لیتے؟ماہی گیر: یہ تھوڑا سا شکار میری اور میرے گھر والوں کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔ سیاح: تم باقی وقت میں کیا کرتے ہو؟ماہی گیر: میں دیر تک سوتا ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوں، اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہوں۔ سیاح نے فوراً بات کاٹی اور بولا:“میرے پاس MBA کی ڈگری ہے، میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہیں ہر روز زیادہ وقت تک مچھلیاں پکڑنی چاہئیں۔ پھر اضافی مچھلیاں بیچ کر ایک بڑی کشتی خرید…

Read more

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تھا۔ اس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا، کناروں پر نرم گھاس اگتی تھی اور رنگ برنگے پھولوں کی خوشبو ہر وقت فضا میں پھیلی رہتی تھی۔ اسی تالاب میں تین مچھلیاں رہتی تھیں۔ تینوں گہری سہیلیاں تھیں، مگر ان کی سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ پہلی مچھلی نہایت عقلمند اور دور اندیش تھی۔ وہ ہمیشہ آنے والے خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیتی اور ہر مشکل کا حل سوچ کر رکھتی تھی۔ دوسری مچھلی بہت حاضر دماغ تھی۔ وہ کہتی:“پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب مصیبت آئے گی تب اپنی عقل سے راستہ نکال لیں گے۔” تیسری مچھلی انتہائی سست اور لاپرواہ تھی۔ وہ ہر وقت یہی کہتی:“جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا۔ زیادہ سوچنے سے کچھ نہیں بدلتا۔” ایک شام سورج غروب ہو رہا تھا اور تالاب سنہری روشنی میں نہا…

Read more

کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔ لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر اگر لکھنے بیٹھوں تو شاید الفاظ کم پڑ جائیں۔ بس اتنا کہوں گا زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں لیکن جو سلوک ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ روا رکھا ہے شاید ہی اب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر بنا چاہئے گا۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔۔۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان۔!  کٹ تو گئی اپنی حیات قدیر۔۔۔لیکن بے ثمر کوفیوں میں گزری۔۔              28 مئی یوم تکبیر۔۔۔!

El rey que olvidó su gracia y el sabio griegoUn rey cabalgaba en su poderoso caballo. El caballo retrocedió de repente y el rey cayó de cabeza al suelo,¡y! Las vértebras de su cuello se sacudieron,Ahora ya no podía mover el cuello. Los médicos reales hicieron todo lo posible,¡Pero! No pudieron curar al rey,Un día, un sabio griego se acercó al reyY lo trató con tanta diligencia que el rey se recuperó…!!Después del tratamiento, el sabio regresó a su tierra natal…!!Al cabo de un tiempo, volvió a la tierra natal del rey y se presentó en la corte real con la intención de saludarlo.Ahora era necesario que el rey, por gratitud, tratara a este sabio con bondad y compasión,¡Pero!

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…

Read more

ایک زمانے میں ایک معمولی سے دیہات میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے: سب سے بڑا سیمیون، درمیانہ تاراس اور سب سے چھوٹا آئیون۔ سیمیون فوج میں بھرتی ہو گیا اور ایک بہادر سپاہی بن گیا۔ تاراس تاجر بن گیا، شہروں میں جاتا، مال خریدتا اور بیچتا، پیسہ کمانے کا ہنر جانتا تھا۔ جبکہ آئیون گھر پر رہ گیا۔ لوگ اسے “بیوقوف” کہتے تھے کیونکہ وہ نہ تو فوج میں جانا چاہتا تھا اور نہ ہی پیسہ کمانے کے چکر میں پڑتا۔ وہ کھیتوں میں محنت کرتا، زمین جوٹتا، بیج بو تا اور فصل کاٹتا۔ جو کچھ مل جاتا، اسی میں خوش رہتا۔بوڑھا مر گیا۔ تینوں بھائیوں نے جائیداد بانٹ لی۔ سیمیون نے گھوڑے، ہتھیار اور فوجی لباس لے لیے۔ تاراس نے مال، گاڑیاں اور نقد روپیہ اٹھا لیا۔ آئیون کے حصے میں صرف ایک بوڑھی گھوڑی، ایک بیل اور ایک پرانا ہل رہ گیا۔…

Read more

ایک رات کو سلطان محمود بھیس بدل کر نکلا اور چوروں کی جماعت کے ساتھ ہوگیا۔ جب کچھ دیر ان کے ساتھ رہا تو انہوں نے پوچھا کہ اے رفیق تو کون ہے؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ میں بھی تمہیں میں سے ایک چور ہوں۔ اس پر ایک چور نے کہا بھائیو! آؤ ذرا اپنا اپنا ہنر تو بتاؤ۔ ہر شخص بیان کرے کہ وہ کیا کیا کمال رکھتا ہے۔ ایک نے جواب دیا کہ میرے دونوں کانوں میں عجب کمال ہے کہ کتّا جو بھونکتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ لوگ فلاں شخص کی امارت کا کیا چرچا کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا میری آنکھوں میں یہ کمال ہے کہ جس کسی کو رات کے اندھیرے میں دیکھ لوں تو دن کے وقت اس کو پہچان لیتا ہوں۔ تیسرے نے کہا میرے بازو میں یہ قوت ہے کہ صرف ہاتھ کی قوت سے کومل لگاتاہوں۔ چوتھے…

Read more

ایک شخص نے چڑیا پکڑنے کےلئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..چڑیا نے اس سے کہا.. ” اے انسان ! تم نے کئی ھرن ‘ بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ھیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ھے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ھے اس سے تمہارا کیا بنے گا..؟ تمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہیں بڑی ھی کام میں آنے والی نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ھوگا..ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی ھی کرونگی.. جبکہ دوسری اس وقت کرونگی جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کرونگی جب دیوار سے اڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.. “اس شخص کے دل میں…

Read more

دو گھڑےایک گاؤں میں ایک پانی بھرنے والا روزانہ ندی سے دو بڑے گھڑوں میں پانی لا کر اپنے مالِک کے گھر پہنچاتا تھا۔ وہ ان گھڑوں کو ایک لمبی لاٹھی کے دونوں سروں پر باندھ کر اپنے کندھے پر اٹھاتا تھا۔ان دو گھڑوں میں سے ایک بالکل ٹھیک تھا اور ہمیشہ پورا پانی مالِک کے گھر تک پہنچاتا تھا۔ لیکن دوسرا گھڑا ایک جگہ سے تھوڑا سا ٹوٹا ہوا (کراک) تھا۔ ندی سے مالِک کے گھر تک کا راستہ طویل تھا، اس لیے گھر پہنچتے پہنچتے اس ٹوٹے ہوئے گھڑے سے آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا اور اس میں صرف آدھا پانی ہی بچتا۔دو سال تک یہی سلسلہ روزانہ چلتا رہا۔ پورا گھڑا اپنی کارکردگی پر بہت خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا گھڑا اپنی اس خامی پر اندر ہی اندر بہت شرمندہ رہتا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہا۔ایک دن، ندی کے…

Read more

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو… کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو۔” محلے میں ہر سال اُس کے گھر سب سے بڑا جانور آتا تھا۔ لمبے سینگ…قیمتی نسل…گلے میں خوبصورت رنگین پٹہ…اور دروازے کے باہر تصویریں بنانے والوں کا ہجوم۔ عید سے کئی دن پہلے ہی لوگ کہنا شروع کر دیتے: “اس بار بھی اُن کی قربانی سب سے نمایاں ہوگی…” اور شاید یہی بات اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔ وہ جانور سے زیادہ اُس تعریف کا انتظار کرتا تھاجو قربانی کے بعد لوگوں کی زبانوں پر آتی تھی۔ عید کی صبح اُس کے گھر گوشت لینے والوں کی لمبی قطار لگ گئی۔ کوئی سفید شاپر لیے کھڑا تھا…کوئی پرانا برتن…اور کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لایا تھا کہ شاید کچھ زیادہ گوشت مل جائے۔ اُسی بھیڑ میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا بھی خاموش کھڑا تھا۔ عمر کوئی بارہ تیرہ سال…پاؤں میں گھسے ہوئے چپل…اور…

Read more

ایک عید… ایک سوال… اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی سچی کہانی عیدالاضحیٰ کی صبح تھی۔ہر طرف قربانی کے جانوروں کی آوازیں، خوشیوں کی رونقیں، اور گوشت تقسیم ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں… مگر ہمارے گھر میں عجیب خاموشی تھی۔ میری چھوٹی بیٹی شازیہ آہستہ سے میرے پاس آئی اور بولی:“بابا… ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟” میں نے مسکرا کر کہا:“ہاں بیٹا، اللہ سب کو دیتا ہے۔” لیکن اُس کی اگلی بات نے دل چیر دیا… “بابا… پچھلی عید پر بھی کسی نے ہمیں گوشت نہیں دیا تھا… ہمیں تو گوشت دیکھے بھی ایک سال ہو گیا۔” میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:“بیٹا، اللہ کا شکر ادا کیا کرو… اُس نے ہمیں بھوکا نہیں رکھا۔” نمازِ عید کے بعد مسجد میں امام صاحب فرما رہے تھے:“قربانی کا اصل حق غریب اور محتاج لوگوں کا ہے، انہیں ہرگز نہ بھولیں۔” مگر شاید یہ بات صرف…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ بخارا کے ایک مشہور شہر میں ایک نہایت دانا اور عقل مند قاضی رہتا تھا۔ لوگ اسے “قاضی فہیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مارپیٹ اور شور شرابے کے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر لیتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اس کے پاس آتے اور انصاف پا کر خوشی خوشی واپس جاتے۔ اسی شہر میں ایک بہت بڑا بازار تھا جہاں دور دراز کے تاجر اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے آتے تھے۔ بازار میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا، مگر کچھ مہینوں سے ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ تاجروں کی تھیلیاں، زیورات اور قیمتی سامان غائب ہونے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا۔ بازار کی…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت بڑا صابن کا تاجر رہتا تھا۔ اس کے صابن پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ ایک عالمِ دین کے ساتھ سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا۔راستے میں تاجر نے طنزیہ انداز میں کہا:“مولوی صاحب! ایک بات سمجھ نہیں آتی…صدیوں سے مذہب، نصیحتیں، اخلاقیات اور اچھی باتیں لوگوں کو سکھائی جا رہی ہیں، لیکن پھر بھی دنیا میں جھوٹ، ظلم، نفرت اور برائیاں ختم نہیں ہوئیں۔آخر اتنی تبلیغ کا فائدہ کیا ہوا؟”عالمِ دین خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔انہوں نے فوراً کوئی جواب نہ دیا، بس ہلکا سا مسکرا دیے۔دونوں چلتے چلتے ایک تنگ گلی میں پہنچے، جہاں کچھ بچے مٹی اور کیچڑ میں کھیل رہے تھے۔ ان کے کپڑے گندے تھے، چہرے مٹی سے بھرے ہوئے تھے، اور حالت بہت خراب تھی۔عالمِ دین رکے… بچوں کی طرف دیکھا… پھر تاجر سے بولے:“یہ دیکھو!تم تو کہتے تھے تمہارا صابن بہترین ہے، جو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار اندھے دوست رہتے تھے، جنہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ایک دن گاؤں میں ایک سرکس آئی جس کے ساتھ ایک بڑا ہاتھی بھی تھا۔چاروں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر ہاتھی کو چھوئیں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا دکھتا ہے۔ وہ ہاتھی کے پاس پہنچے اور باری باری اسے چھونے لگے۔پہلے اندھے نے ہاتھی کی سونڈ کو ہاتھ لگایا اور فوراً بولا: “ارے! ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے!”دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پاؤں کو چُھوا اور پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے بولا: “تم بالکل غلط کہہ رہے ہو، ہاتھی سانپ جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور گول ستون (پیلر) کی طرح ہوتا ہے!”تیسرے اندھے نے ہاتھی کے بڑے کان کو ہاتھ لگایا اور…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بستی میں محبت کرنے والے انسان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی، مگر اسی چھوٹی سی دنیا میں اس کے لیے سب کچھ موجود تھا۔ ایک بیوی، دو بچے، ایک چھوٹا سا گھر، اور ان سب کے لیے دھڑکتا ہوا اس کا دل۔ وہ صبح سویرے کام پر نکلتا، شام کو تھکا ہارا واپس آتا، مگر جیسے ہی بچے دوڑ کر اس سے لپٹتے، اس کی ساری تھکن غائب ہو جاتی۔ وہ اکثر لوگوں سے کہا کرتا تھا: “میری جنت یہی ہیں، اگر یہ خوش ہیں تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔” وہ اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے لاتا، بیوی کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتا، اور ان کے آرام کے لیے اپنی ہر خواہش قربان کر دیتا۔ مگر ایک چیز تھی… جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہتا تھا۔ اپنے رب کو۔ نماز اس کے…

Read more

ایک گھنے جنگل کے بیچ ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر ایک طاقتور عقاب نے اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ وہاں اس نے اپنے چار انڈے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ایک دن اچانک زوردار زلزلہ آیا… زمین ہلنے لگی… درخت کانپنے لگے… اور انہی جھٹکوں میں ایک انڈا گھونسلے سے نکل کر پہاڑ سے لڑھکتا ہوا نیچے ایک مرغیوں کے فارم میں جا گرا۔مرغیوں نے جب وہ بڑا سا انڈا دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ آخر ایک بوڑھی اور رحم دل مرغی بولی:“یہ اب ہمارے پاس امانت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”وہ مرغی روز اس انڈے کو اپنے پروں میں چھپا کر گرم رکھتی رہی۔ کچھ دنوں بعد انڈا ٹوٹا… اور اس میں سے ایک خوبصورت عقاب کا بچہ باہر نکلا۔مگر افسوس… وہ عقاب مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، اس لیے خود کو بھی مرغی ہی سمجھنے لگا۔وہ زمین کھود کر دانے چگتا…مرغیوں کی طرح کُڑ کُڑ کرتا…اور تھوڑا…

Read more

140/174
NZ's Corner