Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

دو گھڑےایک گاؤں میں ایک پانی بھرنے والا روزانہ ندی سے دو بڑے گھڑوں میں پانی لا کر اپنے مالِک کے گھر پہنچاتا تھا۔ وہ ان گھڑوں کو ایک لمبی لاٹھی کے دونوں سروں پر باندھ کر اپنے کندھے پر اٹھاتا تھا۔ان دو گھڑوں میں سے ایک بالکل ٹھیک تھا اور ہمیشہ پورا پانی مالِک کے گھر تک پہنچاتا تھا۔ لیکن دوسرا گھڑا ایک جگہ سے تھوڑا سا ٹوٹا ہوا (کراک) تھا۔ ندی سے مالِک کے گھر تک کا راستہ طویل تھا، اس لیے گھر پہنچتے پہنچتے اس ٹوٹے ہوئے گھڑے سے آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا اور اس میں صرف آدھا پانی ہی بچتا۔دو سال تک یہی سلسلہ روزانہ چلتا رہا۔ پورا گھڑا اپنی کارکردگی پر بہت خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا گھڑا اپنی اس خامی پر اندر ہی اندر بہت شرمندہ رہتا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہا۔ایک دن، ندی کے…

Read more

ایک عید… ایک سوال… اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی سچی کہانی عیدالاضحیٰ کی صبح تھی۔ہر طرف قربانی کے جانوروں کی آوازیں، خوشیوں کی رونقیں، اور گوشت تقسیم ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں… مگر ہمارے گھر میں عجیب خاموشی تھی۔ میری چھوٹی بیٹی شازیہ آہستہ سے میرے پاس آئی اور بولی:“بابا… ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟” میں نے مسکرا کر کہا:“ہاں بیٹا، اللہ سب کو دیتا ہے۔” لیکن اُس کی اگلی بات نے دل چیر دیا… “بابا… پچھلی عید پر بھی کسی نے ہمیں گوشت نہیں دیا تھا… ہمیں تو گوشت دیکھے بھی ایک سال ہو گیا۔” میں نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا:“بیٹا، اللہ کا شکر ادا کیا کرو… اُس نے ہمیں بھوکا نہیں رکھا۔” نمازِ عید کے بعد مسجد میں امام صاحب فرما رہے تھے:“قربانی کا اصل حق غریب اور محتاج لوگوں کا ہے، انہیں ہرگز نہ بھولیں۔” مگر شاید یہ بات صرف…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں چار اندھے دوست رہتے تھے، جنہوں نے زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ایک دن گاؤں میں ایک سرکس آئی جس کے ساتھ ایک بڑا ہاتھی بھی تھا۔چاروں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود جا کر ہاتھی کو چھوئیں گے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی حقیقت میں کیسا دکھتا ہے۔ وہ ہاتھی کے پاس پہنچے اور باری باری اسے چھونے لگے۔پہلے اندھے نے ہاتھی کی سونڈ کو ہاتھ لگایا اور فوراً بولا: “ارے! ہاتھی تو ایک موٹے سانپ کی طرح ہوتا ہے!”دوسرے اندھے نے ہاتھی کے پاؤں کو چُھوا اور پہلے والے کو جھڑکتے ہوئے بولا: “تم بالکل غلط کہہ رہے ہو، ہاتھی سانپ جیسا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور گول ستون (پیلر) کی طرح ہوتا ہے!”تیسرے اندھے نے ہاتھی کے بڑے کان کو ہاتھ لگایا اور…

Read more

ایک گھنے جنگل کے بیچ ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر ایک طاقتور عقاب نے اپنا گھونسلا بنا رکھا تھا۔ وہاں اس نے اپنے چار انڈے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔ایک دن اچانک زوردار زلزلہ آیا… زمین ہلنے لگی… درخت کانپنے لگے… اور انہی جھٹکوں میں ایک انڈا گھونسلے سے نکل کر پہاڑ سے لڑھکتا ہوا نیچے ایک مرغیوں کے فارم میں جا گرا۔مرغیوں نے جب وہ بڑا سا انڈا دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ آخر ایک بوڑھی اور رحم دل مرغی بولی:“یہ اب ہمارے پاس امانت ہے، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”وہ مرغی روز اس انڈے کو اپنے پروں میں چھپا کر گرم رکھتی رہی۔ کچھ دنوں بعد انڈا ٹوٹا… اور اس میں سے ایک خوبصورت عقاب کا بچہ باہر نکلا۔مگر افسوس… وہ عقاب مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، اس لیے خود کو بھی مرغی ہی سمجھنے لگا۔وہ زمین کھود کر دانے چگتا…مرغیوں کی طرح کُڑ کُڑ کرتا…اور تھوڑا…

Read more

ایک لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر گاؤں واپس آیا گاؤں والوں کو بڑا شوق تھا کہ دیکھیں تعلیم سے آخر کیا فرق پڑتا ہے۔ چنانچہ چوہدری صاحب نے اسے بلایا اور پوچھا:“او پتر! یہ پڑھائی لکھائی آخر کام کیا آتی ہے؟” لڑکا مسکرا کر بولا:“چوہدری صاحب، پڑھائی سے انسان کی سوچ اور منطق مضبوط ہو جاتی ہے۔” چوہدری نے حیرانی سے پوچھا:“یہ منطق کیا ہوتی ہے بھلا؟” لڑکے نے کہا:“اچھا، میں مثال دے کر سمجھاتا ہوں…”پھر اس نے پوچھا: “چوہدری صاحب، آپ کے گھر پہ کتا ہے؟” چوہدری: “ہاں جی، ہے۔” لڑکا: “تو اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا، تبھی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہے۔” چوہدری: “ہاں، گھر تو کافی بڑا ہے۔”لڑکا: “بڑے گھر کا مطلب نوکر چاکر بھی ہوں گے۔” چوہدری: “ہاں جی، وہ بھی ہیں۔”لڑکا: “اور نوکر چاکر ہیں تو آمدنی بھی اچھی ہوگی۔”چوہدری خوش ہو کر بولا: “بالکل ٹھیک!” لڑکا مسکراتے ہوئے بولا:…

Read more

ایک دن ملک شام کا بادشاہ سیف الدولہ اپنے دربار میں رونق افروز تھا۔ بڑے بڑے عالم و فاضل اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک سیدھا سادا شخص تر کی لباس پہنے دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے بے باکی سے کہا: کہاں؟ کس جگہ؟ کیا میں اپنی حیثیت کے مطابق بیٹھوں ؟“ اس سوال پر بادشاہ کو بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر کہا: ” ہاں اپنی حیثیت کے مطابق ۔“ یہ سن کر وہ شخص صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کے تخت پر گیا اور اسے ہٹا کر خود بیٹھنا چاہا۔ بادشاہ کو اس شخص کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا اور خادموں سے اپنی زبان میں کہا کہ یہ شخص بہت بے ادب ہے۔ مگر میں اس سے چند سوال کروں گا ، اگر یہ جواب نہ دے سکا تو اسے نہایت سخت سزا دوں گا۔ وہ…

Read more

“ایک دیہاتی کا گدھا بیمار ہو گیا اور وہ کھانا پینا چھوڑ کر سست بیٹھ گیا۔ دیہاتی پریشان ہو کر اسے گاؤں کے ایک دیسی حکیم صاحب کے پاس لے گیا۔حکیم صاحب نے گدھے کا معائنہ کیا، پھر ایک لمبی سی نالی (پائپ) نکالی۔ انہوں نے نالی کا ایک سرہ گدھے کے منہ میں ڈالا، دوسری طرف ایک بڑی سی گولی رکھی اور دیہاتی سے کہا: ‘جیسے ہی میں اشارہ کروں، تم نالی کے اس سرے پر زور سے پھونک مارنا، تاکہ گولی گدھے کے گلے سے نیچے اتر جائے۔’دیہاتی نے کہا: ‘جی بہتر حکیم صاحب!’حکیم صاحب نے پائپ منہ میں لیا اور ابھی پوزیشن سنبھال کر اشارہ کرنے ہی والے تھے کہ… گدھے کو اچانک زور دار کھانسی آ گئی!گدھے کی کھانسی کے دباؤ سے پائپ کے اندر موجود وہ بڑی سی کڑوی گولی سیدھی حکیم صاحب کے حلق میں چلی گئی اور انہوں نے فوراً اسے نگل لیا!…

Read more

ایک بادشاہ کے پاس ایک پالتو ہاتھی تھا، جو بہت ضدی تھا۔ وہ روزانہ بازار جاتا، دکانیں تباہ کرتا اور لوگوں کو تنگ کرتا۔ عوام ہاتھی کی اس غنڈہ گردی اور بادشاہ کی “سیاسی طاقت” سے سخت پریشان تھے، لیکن کسی میں شکایت کرنے کی ہمت نہ تھی۔سسپنس اور سیاست:ایک دن، بازار کے تاجروں نے مل کر ایک سیاسی حکمتِ عملی بنائی۔ انہوں نے طے کیا کہ سب مل کر دربار جائیں گے اور بادشاہ سے ہاتھی کی شکایت کریں گے۔ تاجروں نے ملا نصر الدین کو اپنا لیڈر بنایا۔ ملا نے کہا: “جب میں دربار میں کہوں گا کہ ‘عالی جاہ! آپ کا ہاتھی…’ تو تم سب پیچھے سے بولنا ‘روزانہ ہماری دکانیں اجاڑتا ہے، اسے قید کریں!’” سب مان گئے۔ دربار لگا۔ بادشاہ تخت پر جاہ و جلال سے بیٹھا تھا۔ ملا نصر الدین آگے بڑھے۔ جیسے ہی ملا نے بولنا شروع کیا: “عالی جاہ! آپ کا وہ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…

Read more

ابن کثیر میں ہے. ایک شخص بڑا نیک اور بھی تھا۔ اس کا باغ تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو ہمیشہ ادا کرتا تھا۔ اس باغ کی پیداوار میں سے اپنے بال بچوں اور باغ کے خرچ کو نکال کر باقی پیداوار کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر ڈالتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالی نے اس کے مال میں بڑی برکت دے رکھی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد جب اس باغ کی وارث اس کی اولاد ہوئی تو باپ کے اس خرچ کا حساب کیا تو بہت ٹھہرا ان لوگوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ حقیقت میں ہمارا باپ بڑا ہی بے وقوف اور نادان تھا جو اتنی بڑی رقم مفت خوروں ، غریبوں اور مسکینوں میں بلا وجہ دے دیا کرتا تھا لہذا ہم ان غریبوں کے حق کو روکیں اور ان کو کچھ نہ دیں تو ہمارے پاس بہت…

Read more

ایک رات ملا نصر الدین اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہے تھے کہ اچانک باہر گلی میں دو آدمیوں کے لڑنے کی زور زور سے آوازیں آنے لگیں۔ سردی کا موسم تھا، اس لیے ملا نے اپنے اوپر ایک گرم کمبل اوڑھا ہوا تھا۔جب لڑائی کی آوازیں بند نہ ہوئیں، تو ملا نصر الدین سے رہا نہ گیا۔ انہوں نے اپنا وہی کمبل اپنے گرد لپیٹا اور یہ دیکھنے کے لیے باہر گلی میں نکل آئے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔ملا جیسے ہی گلی میں پہنچے، وہاں لڑنے والے دونوں آدمیوں کی نظر ملا کے قیمتی اور گرم کمبل پر پڑی۔ اس سے پہلے کہ ملا ان سے لڑائی کی وجہ پوچھتے، ان میں سے ایک آدمی نے بجلی کی تیزی سے ملا کا کمبل کھینچا اور دونوں چور اندھیرے میں بھاگ گئے۔ اصل میں وہ کوئی سچے لڑاکا نہیں بلکہ چور تھے جنہوں نے ملا کو باہر نکالنے…

Read more

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔ اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں: * اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔ * صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔ * بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔ * اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔ * عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔ البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول…

Read more

ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ مرغا ہر صبح بڑے فخر سے اذان دیتا، پروں کو پھڑپھڑاتا اور پورے صحن میں زندگی کی آواز بکھیر دیتا۔ ایک دن مالک کے دل میں خیال آیا کہ اب اس مرغے کو ذبح کر دینا چاہیے۔مگر وہ کوئی ایسا بہانہ چاہتا تھا جس سے اپنا ظلم بھی جائز لگے۔ اس نے مرغے کو بلایا اور سخت لہجے میں کہا: “کل سے اگر تم نے اذان دی تو تمہیں ذبح کر دوں گا!” مرغے نے سر جھکا کر کہا:“جی آقا، جیسے آپ کی مرضی۔” اگلی صبح اذان کا وقت آیا۔مرغے نے آواز تو نہ نکالی، مگر عادت سے مجبور ہو کر اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑانے لگا۔ مالک غصے سے بولا:“میں نے منع کیا تھا! کل سے پر بھی نہیں ہلنے چاہئیں، ورنہ جان سے جاؤ گے!” مرغا خاموش ہوگیا۔ اگلے دن صبح ہوئی۔اس بار اس نے نہ اذان دی،…

Read more

ایک بار دو بلیوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ روٹی کس کی ہے۔ “میں نے پہلے دیکھی تھی” ایک بولی۔ “نہیں، میں نے اٹھائی تھی” دوسری چیخی۔ اتنے میں وہاں سے ایک بندر گزرا۔ بلیوں نے بندر سے کہا: “چچا بندر، آپ ہی انصاف کر دیں۔ روٹی کے دو برابر حصے کر دیں۔” بندر مان گیا۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے، مگر جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا رکھا۔ ترازو لے کر بولا: “ارے یہ والا تو بڑا ہے، اسے برابر کرنا پڑے گا۔” یہ کہہ کر بڑے ٹکڑے سے تھوڑا سا کاٹ کر کھا گیا۔ اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہو گیا۔ بندر پھر بولا: “اب یہ بڑا ہے، اسے بھی برابر کرنا ہوگا۔” اور اس میں سے بھی نوالہ توڑ کر کھا گیا۔ ایسے کرتے کرتے بندر ساری روٹی کھا گیا اور آخر میں بولا: “چونکہ اب کچھ بچا ہی…

Read more

ایک سرسبز درخت پر، دریا کے کنارے، ایک ذہین بندر رہتا تھا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر روزانہ درخت کے میٹھے پھل توڑ کر اپنے دوست مگرمچھ کو کھلاتا، اور یوں دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔ ایک دن مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بھی پھل لے گیا۔ پھل کھا کر اس نے کہا: “جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اس کا دل بھی یقیناً بہت میٹھا ہوگا۔ میں اس کا دل کھانا چاہتی ہوں۔” مگرمچھ اپنی بیوی کی ضد کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس نے بندر کو دعوت کا بہانہ بنایا اور اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا کے درمیان لے گیا۔ وہاں اس نے حقیقت بتائی کہ اس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔ بندر لمحہ بھر کو گھبرایا، مگر فوراً عقل سے کام لیا اور بولا: “دوست! ہم بندر اپنا دل درخت پر رکھتے ہیں۔ اگر پہلے…

Read more

ایک شخص کے پاس چار ایکڑ زمین تھی، لیکن ہر سال اس کی پیداوار اپنے پڑوسی کی زمین سے کم رہتی، حالانکہ پڑوسی کے پاس صرف دو ایکڑ زمین تھی اور وہ بھی آدھی ہی کاشت کرتا تھا۔ آخر کار ایک دن وہ شخص اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب کر پڑوسی کے دروازے جا پہنچا۔ بھائی ! یہ کیا جادو ہے؟ اُس نے عاجزی سے پوچھا۔ “تم کم زمین استعمال کر کے بھی مجھ سے زیادہ پیداوار کیسے حاصل کر لیتے ہو ؟ پڑوسی نے مسکراتے ہوئے کہا بھائی، یہ کوئی جادو نہیں، بس زمین سے محبت کا معاملہ ہے۔ میں اپنی زمین کو دو حصوں میں بانٹتا ہوں: ایک حصے پر چھے مہینے فصل اگاتا ہوں اور دوسرے حصے کو آرام کرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ ان چھے مہینوں میں، میں اس زمین کو سنوارتا ہوں، اس کا زخم بھرنے دیتا ہوں، اور اسے زرخیز بناتا ہوں،…

Read more

ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ: “جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!” یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں” دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔ گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے” اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا: “بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!” چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟” بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا: “بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…” بادشاہ حیران…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی…

Read more

100/294
NZ's Corner