Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages

افریقہ کے ایک گرم اور سنہری میدانوں والے ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی کنجوسی پورے خطے میں مشہور تھی۔لوگ کہتے تھے کہ اگر اس کے ہاتھ سے ایک اشرفی گر جائے تو وہ اسے اٹھانے کے لیے اتنی دیر جھکے رہتا کہ سورج غروب ہو جائے۔وہ خزانے جمع کرنے کا ایسا شوقین تھا کہ سونے کے سکوں کو رات کو گن کر سوتا اور صبح اٹھ کر دوبارہ گن لیتا، کہیں رات کے اندھیرے میں کوئی اشرفی کم نہ ہو گئی ہو۔مگر دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جو اکثر عقل مندوں کو بھی دھوکا دے دیتی ہے:آسان منافع۔جادوگر کی پیشکشایک دوپہر دربار میں ایک پراسرار جادوگر حاضر ہوا۔اس کے کپڑے گرد آلود تھے، مگر آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بولا:“جہاں پناہ! میں ایک سودا کرنا چاہتا ہوں۔”بادشاہ فوراً چونک گیا۔“سودا؟ کتنے کا؟”جادوگر مسکرایا۔“دس ہزار اشرفیوں کا۔”بادشاہ تقریباً تخت…

Read more

ایک زمانے میں ایک دریا تھا۔نہ بہت چوڑا، نہ بہت تنگ۔مگر اتنا ضرور تھا کہ جو تیرنا نہ جانتا ہو، اس کے لیے وہ فلسفے کی آخری منزل ثابت ہو سکتا تھا۔اسی دریا کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔وہ نرم دل، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے میں یقین رکھنے والا جانور تھا۔اس کا مسئلہ صرف ایک تھا:وہ ہر کسی کی بات پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔ایک صبح وہ کنول کے پتے پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک بچھو ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا۔بچھو کی فریاد“دوست مینڈک!”مینڈک نے چونک کر دیکھا۔“جی فرمائیے۔”بچھو نے دریا کی طرف اشارہ کیا۔“مجھے دوسری طرف جانا ہے۔”“تو جاؤ۔”“میں تیر نہیں سکتا۔”“تو پھر؟”“مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار کرا دو۔”مینڈک نے فوراً دو قدم پیچھے ہٹائے۔“معاف کرنا، مگر تم بچھو ہو۔”“تو؟”“تم مجھے ڈنگ مار دو گے۔”بچھو نے ایسا چہرہ بنایا جیسے اس کی شدید توہین ہو گئی ہو۔“ارے دوست! تھوڑا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔ گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔ وہ اکثر خود سے کہتا:“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔” اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔ گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں…

Read more

جنگل کے بیچوں بیچ ایک مشہور استاد رہتا تھا۔ وہ ایک بوڑھا کوئل تھا جس کی آواز اتنی سریلی تھی کہ دور دور سے جانور اس کے پاس گانا سیکھنے آتے تھے۔ ہرن آتے، خرگوش آتے، بندر آتے، طوطے آتے، حتیٰ کہ کچھ ریچھ بھی اپنی بھاری آوازوں کو بہتر بنانے کی امید میں اس کی کلاس میں بیٹھ جاتے۔کوئل استاد صبح سے شام تک سب کو ایک ہی بات سمجھاتا رہتا: “سر لگاؤ! سر کے بغیر گانا نہیں بنتا”مگر جانور تھے کہ سر میں گانا تو دور کی بات، سیدھی بات بھی نہیں کر پاتے تھے۔ایک دن مسلسل سمجھاتے سمجھاتے استاد کو غصہ آ گیا۔ اس نے زور سے کہا: “آج کے بعد کوئی بھی جانور بغیر سر کے بات نہیں کرے گا! جو بات کرے گا، سر میں کرے گا”۔ سب جانوروں نے فوراً سر ہلا دیا۔ اب جنگل میں عجیب صورتحال پیدا ہو گئی۔ خرگوش اگر کہتا:“پانی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب جنگل بھی سلطنتیں ہوا کرتے تھے، درخت درباریوں کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے تھے اور جانور اپنے اپنے عہدوں اور مرتبوں پر فخر کیا کرتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ ایک طاقتور شیر تھا۔ اس کی دھاڑ سے پہاڑ کانپتے اور اس کی ایک نگاہ سے درندے بھی راستہ بدل لیتے تھے۔مگر ایک دن قدرت کا ایسا حکم ہوا کہ شیر بیمار پڑ گیا۔وہ اپنی غار میں پڑا کراہتا رہتا، نہ شکار پر جا سکتا تھا اور نہ دربار لگا سکتا تھا۔جنگل کے حکیم، نجومی، جڑی بوٹیوں والے اور خود ساختہ ڈاکٹر سب جمع ہوئے۔بڑی بحث کے بعد ایک بوڑھے حکیم نے اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے کہا:“عالی جاہ! آپ کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز میں ہے۔”شیر نے کمزور آواز میں پوچھا:“کیا؟”حکیم نے رازدارانہ انداز میں کہا:“گدھے کا تازہ گوشت!”یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔اس نے فوراً اپنی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز تھا۔ وہ ایک نہایت ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اس سے دن رات سخت مشقت کرواتا اور معمولی سی غلطی پر بھی سخت سزا دیتا۔ آخر ایک دن ظلم سے تنگ آ کر اینڈروکلیز وہاں سے بھاگ نکلا۔ وہ جنگلوں میں بھٹکتا رہا…کبھی بھوک سے لڑتا…کبھی خوف سے… مگر کم از کم اب وہ آزاد تھا۔ ایک دن وہ ایک درخت کے نیچے تھکا ہارا بیٹھا تھا کہ اچانک اسے درد سے بھری ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔ وہ گھبرا گیا۔ مگر اُس آواز میں ایسا درد تھا کہ وہ ہمت کر کے آہستہ آہستہ اُس طرف بڑھنے لگا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا… بہت بڑا…خوفناک…لیکن شدید تکلیف میں مبتلا۔ اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے خوفزدہ ہوا، مگر پھر اس…

Read more

بہت زمانہ پہلے چین کی ایک وسیع و عریض سلطنت میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجیب و غریب خواہشات پالنے کا شوق تھا۔ کبھی وہ موسیقاروں سے ایسا راگ سننے کا مطالبہ کرتا جو بادلوں کو رُلا دے، اور کبھی شاعروں سے ایسی نظم لکھوانا چاہتا جو پتھروں کو ہنسا دے۔ایک روز صبح دربار لگا تو بادشاہ کا موڈ بھی حسبِ معمول غیر معمولی تھا۔اس نے شاہی باورچی کو طلب کیا، جو اپنی حاضر جوابی اور پاک فن میں کمال رکھتا تھا۔باورچی ادب سے جھکا۔“حکم فرمائیے، حضور!”بادشاہ نے سنجیدگی سے کہا:“آج ہمارے لیے ایسا پکوان تیار کرو جو ہمیں رُلا دے۔”درباری ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔کسی نے سوچا شاید کوئی غمگین داستان پر مبنی کھانا ہوگا۔کسی نے خیال کیا شاید مرچوں کا کوئی نادر نسخہ تیار ہوگا۔مگر باورچی نے خاموشی سے سر جھکا لیا اور محل کے باورچی خانے کی طرف روانہ ہو گیا۔چند گھنٹوں بعد شاہی…

Read more

پرانے وقــتوں كـى بات ہے كہ ايک بادشاه كے دربار ميں ايک اجنبى حاضر هوا اور بادشاه سے نوكرى كا طلبگار هوا – بادشاه نے جب اسكى قابليت دريافت كى تو اسنے بتايا كہ وه سياسى (عربى مين سياسى كا مطلب هوتا هى كه افهام و تفهيم سى مسئلى كا حل نكالنى والا اور معامله فهم آدمى) ہے – بادشاه كے پاس پہلے ہى سياستدانوں كى لمبی قطار تهى ليكن اتفاق سے اسكے اصطبل كا مسئول يا ذمه دار فوت هو چكا تها چنانچہ بادشاه نے اسے اپنے خاص اصطبل كا مسئول بنا ديا-كچھ دن بعد بادشاه نے اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گهوڑے كے بارے ميں دريافت كيا تو اس نے كہا كہ يه گهوڑا نسلی نہیں ہے – بادشاه نے وه گهوڑا بڑا مہنگا خريدا تها چنانچہ بادشاه نے اس شخص كو حاضر كرنے كا حكم صادر كيا جو دور كہيں جنگل ميں گهوڑے سدهانے اور…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک غلام تھا جو نہایت کم عقل اور حد سے زیادہ لالچی تھا۔ وہ اپنے فرائض میں بھی غفلت برتتا تھا۔ بادشاہ نے اس کی کوتاہیوں کو دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ اس کا وظیفہ کم کر دیا جائے، اور اگر وہ جھگڑا کرے تو اسے غلاموں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔جیسے ہی اس کا وظیفہ کم ہوا، غلام ناراض اور گستاخ ہو گیا۔ اگر وہ سمجھ دار ہوتا تو اپنی غلطیوں پر غور کرتا، اپنے قصور کو پہچانتا اور معافی مانگ لیتا، لیکن اس کے غرور نے اسے اندھا کر رکھا تھا۔ اس نے بادشاہ کے نام شکایت بھری عرضی لکھنے کا ارادہ کیا۔یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا اپنا وجود ہی ایک ایسی عرضی ہے جو ہر وقت ربِ حقیقی کے حضور پیش ہوتی رہتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ پہلے اپنے اعمال اور کردار کو دیکھے، پھر کوئی شکایت کرے۔غلام…

Read more

ایک شہر کی بلی تھی۔ عمر بھر اس نے گلیوں، محلّوں اور صحنوں میں زندگی گزاری تھی۔ اس کے دن بڑے مزے سے گزرتے تھے۔ کہیں دودھ کا پیالہ مل جاتا، کہیں روٹی کا ٹکڑا، اور اگر قسمت زیادہ مہربان ہوتی تو کوئی موٹا تازہ چوہا بھی ہاتھ آ جاتا۔ مگر ایک دن شہر بھر میں عجیب مصیبت آ گئی۔چوہے جیسے زمین کھا گئی ہو۔نہ کسی گودام میں آواز، نہ کسی دیوار کے سوراخ میں جنبش، نہ رات کے اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی چاپ۔ بلی پریشان ہو گئی۔پہلے ایک دن انتظار کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔آخر اس نے سوچا:“اگر رزق شہر میں ختم ہو گیا ہے تو کیوں نہ جنگل کا رخ کیا جائے؟ سنا ہے وہاں چوہوں کی بھرمار ہے۔” یہ سوچ کر وہ جنگل کی طرف چل پڑی۔ جنگل پہنچ کر اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔واقعی چوہے ہی چوہے تھے۔جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں کے…

Read more

بخارا کے ایک بازار میں ایک تاجر رہتا تھا۔اچھا خاصا کاروبار تھا — مصالحے، ریشم، عطر —لیکن اس کے گھر کی سب سے قیمتی چیز —نہ ریشم تھی، نہ عطر —بلکہ —ایک طوطا تھا۔وہ طوطا جیسے کوئی اور نہیں —پنجرے میں بیٹھتا — سبز پروں کو سنوارتا —اور پھر بولتا —اس طرح بولتا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔شعر سناتا —باتیں کرتا —مہمانوں کا نام لے کر سلام کرتا —مزاق کرتا — قہقہہ لگاتا۔تاجر اسے بہت چاہتا تھا —صبح اٹھ کر پہلے طوطے کے پاس جاتا —رات کو سوتے وقت پنجرے کو کپڑے سے ڈھانپتا —“میرا سورج — میری خوشی۔”ایک دن —تاجر کو ہندوستان کا سفر درپیش ہوا —کاروباری معاملہ تھا — جانا ضروری تھا۔اس نے گھر والوں سے پوچھا —“کیا لاؤں تمہارے لیے؟”کسی نے کپڑا مانگا —کسی نے زیور —کسی نے مصالحے۔آخر میں تاجر طوطے کے پنجرے کے پاس آیا —اور پیار سے بولا:“بتاؤ — تمہارے لیے کیا لاؤں؟”طوطے…

Read more

کہتے ہیں کہ مشرقی افریقہ کے کسی قدیم ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک روز دربار کی سازشوں، درباریوں کی چاپلوسی اور وزیروں کی مکاریوں سے تنگ آ کر اس نے گہری سانس لی اور بولا:“انسان عجیب مخلوق ہے؛ زبان پر شہد، دل میں زہر۔ جھوٹ، فریب اور لالچ اس کی گھٹی میں پڑا ہے۔ کیوں نہ کسی ایسے جانور کو وزیر بنا دوں جو کم از کم منافقت سے پاک ہو؟”یہ کہہ کر اس نے شاہی اصطبل سے ایک گدھا منگوایا اور فرمان جاری کر دیا:“آج سے یہ ہمارا وزیر ہے!”فرمان کیا تھا، شہر بھر میں قہقہوں کا طوفان آ گیا۔ چوک، بازار، گلیاں اور قہوہ خانے سب اسی قصے سے گونج اٹھے۔ لوگ کہتے:“دیکھو بھئی! اب سلطنت کے معاملات عقل سے نہیں، ڈھینچوں سے چلیں گے!”بادشاہ کو مگر اپنی دانائی پر بڑا ناز تھا۔چند دن بعد ملکہ نے مسکراتے ہوئے بادشاہ سے پوچھا:“جہاں پناہ! ایک بات…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک بہت ہی سخی اور رحم دل بادشاہ رہتا تھا۔ اسے پرندوں اور جانوروں سے بہت لگاؤ تھا، اور اس نے اپنی سلطنت میں ایک بہت بڑی پرندوں کی پناہ گاہ بنوا رکھی تھی۔ وہ جانوروں اور پرندوں کو تکلیف دینا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ انہیں گوشت کے لیے بھی نہیں مارتا تھا۔ پرندوں کے ساتھ اس کی سخاوت اور مہربانی سے خوش ہو کر، ایک تاجر نے بادشاہ کو دو خوبصورت شاہین تحفے میں دیے۔ وہ دونوں شاہین مختلف آب و ہوا کے عادی تھے۔ بادشاہ نے تاجر کا شکریہ ادا کیا اور پرندوں کے نگرانِ اعلیٰ کو حکم دیا کہ ان خوبصورت شاہینوں کو تمام سہولیات فراہم کرے اور انہیں اپنے ملک میں آرام دہ محسوس کرائے۔ نگران نے پرندوں کا بہت خیال رکھا۔ آہستہ آہستہ، پرندے ملک کی آب و ہوا کے عادی ہو گئے۔ ایک دن، بادشاہ نے شاہینوں کو…

Read more

ایک دن، ایک جنگلی سور کے ساتھ ہولناک لڑائی میں ایک سانپ بری طرح زخمی ہو گیا۔ وہ بمشکل گھسٹتے ہوئے اپنی غار تک پہنچا اور کئی دنوں تک وہیں پڑا رہا۔ وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ شکار نہیں کر سکتا تھا اور شدید بھوک کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔ اس کی تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ اب برداشت سے باہر تھی۔مایوسی کی حالت میں، آنکھوں میں آنسو لیے، اس نے پاس سے گزرتے ہوئے ایک ہمنگ برڈ (شکر خورے) کو آواز دی:“ہمنگ برڈ، خدا کے لیے جلدی کرو… میں مر رہا ہوں اور میں اپنے ظالمانہ ماضی کے گناہوں کا بھاری بوجھ لے کر قبر میں نہیں جانا چاہتا۔ جاؤ اور مینڈک کو ڈھونڈو، مجھے اس کے بھائی کو کھانے پر اس سے معافی مانگنی ہے۔ چھیچھرے (کرکٹ) کو بھی ڈھونڈ لاؤ، مجھے اس کے ماں باپ کو کھانے پر اس سے معذرت کرنی…

Read more

ایک بار ایک مغرور بادشاہ نے سنا کہ اس کی سلطنت کے جنگل میں ایک بہت پہنچے ہوئے درویش رہتے ہیں جن سے ملنے بڑے بڑے لوگ آتے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو ساتھ لیا اور ان سے ملنے چل پڑا۔ درویش کی جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور اکیلا اندر گیا درویش اپنی کٹیا میں خاموشی سے بیٹھے تھے۔ بادشاہ نے جا کر کہا، “میں اس ملک کا بادشاہ ہوں، مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجیے جو میری زندگی بدل دے۔”درویش کی نصیحت: درویش نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، “بادشاہ سلامت! فرض کریں آپ کسی ایسے ریگستان میں پھنس جائیں جہاں دور دور تک پانی نہ ہو اور آپ پیاس سے مر رہے ہوں، تو آپ ایک گلاس پانی کے بدلے کیا دینے کو تیار ہوں گے؟ “بادشاہ کا جواب: بادشاہ نے کہا، “میں اپنی آدھی سلطنت دے دوں گا۔”دوسرا…

Read more

ایک عورت کا بچہ گم ہوگیا بڑی ٹینشن میں تھی ، اس کے گھر کے قریب ہی عامل صاحب کا گھر تھا عامل صاحب رات کو 1 بجے  تھکے ہوئے  گھر واپس آئے۔ عورت نے ان کا دروازہ زور سے کھٹکھٹایا عامل صاحب نے دروازہ کھولا عورت بولی میرا بچہ صبح سے گم ہے اسے ڈھونڈنے کے لیے کوئی وظیفہ وغیرہ بتائیں عامل صاحب بولے محترمہ رات 1 بجے کا ٹائم ہے اور میں تھکا ہوا آرہا ہوں۔ یہ سونے کا ٹائم ہے صبح آنا عورت بولی میرا بچہ گم ہے اور، تجھے اپنی نیند کی پڑی ہےعامل نے سوچا کہ اس عورت نے میری جان نہیں چھوڑنی اس عامل نے اخبار لے کر اس کا ایک کونا پھاڑ کر سپیشل سی بتی بنا کر تعویذ کی صورت میں اسے دے دیا اور کہا جاؤ یہ اینٹ کے نیچے رکھ دو صبح بچہ واپس آجائے گا حلانکہ عامل صاحب کو…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کے دل میں طاقت کا غرور اور خواہشات کا طوفان موجزن رہتا تھا۔ ایک دن اس کے کانوں میں ایک کسان کی بیوی کے حسن و جمال کے چرچے پڑے۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ نہ صرف بے حد خوبصورت ہے بلکہ عقل و فہم میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔بادشاہ کے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش جاگی۔ اس نے فوراً گھوڑا تیار کرایا اور چند خادموں کے ساتھ کسان کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔کسان نے جب بادشاہ کو اپنے دروازے پر دیکھا تو گھبرا گیا۔ ادب سے سر جھکا کر بولا:“حضور! میرے غریب خانے کو عزت بخشی، کیا حکم ہے؟”بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:“ہم نے سنا ہے تمہارا کھیت بہت سرسبز ہے۔ آج رات ہم وہیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔”کسان سمجھ گیا کہ بادشاہ کی نیت کھیت سے زیادہ کسی اور طرف ہے، مگر وہ بے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ پریشان اور بے چین رہتا تھا۔ جنگل کے تقریباً تمام جانور کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے۔ کوئی خوراک جمع کرتا، کوئی اپنا گھر بناتا اور کوئی اپنے بچوں کی پرورش میں لگا رہتا، مگر چوہے کے پاس کرنے کو کوئی خاص کام نہ تھا۔ جنگل کے جانور اکثر اسے طعنے دیتے۔“کب تک فارغ پھرو گے؟” “زندگی صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، کچھ کرنا بھی پڑتا ہے!”لیکن چوہا ہمیشہ سینہ تان کر ایک ہی جواب دیتا: “تم لوگ دیکھ لینا، میں کوئی بہت بڑا کام کروں گا۔ ایسا کام کہ پورا جنگل میرا نام لے گا۔” اس کی ایک گلہری دوست تھی جو اسے دل سے چاہتی تھی۔ وہ اکثر اسے سمجھاتی: “بڑے کام اچھی بات ہیں، مگر ان کی شروعات چھوٹے قدموں سے ہوتی ہے۔ پہلے کچھ سیکھو، پھر کوئی…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کے خزانے سونے چاندی سے بھرے ہوئے تھے، لشکر بے شمار تھے، محلات آسمان سے باتیں کرتے تھے، مگر اس کے دل پر ایک ہی بوجھ تھا۔اس کی اکلوتی بیٹی کبھی ہنستی نہ تھی۔نہ مسکراتی، نہ قہقہہ لگاتی، نہ کسی لطیفے پر لب ہلاتی۔دربار کے مسخرے ناک کے بل گرتے، شعبدہ باز عجیب کرتب دکھاتے، شاعر قصیدے پڑھتے، مگر شہزادی کا چہرہ ایسا سنجیدہ رہتا جیسے دنیا کے سارے غم اسی کے حصے میں آ گئے ہوں۔آخر تنگ آ کر بادشاہ نے سلطنت بھر میں اعلان کروا دیا:“جو شخص میری بیٹی کو ہنسا دے گا، وہی اس سے شادی کرے گا اور آدھی سلطنت کا مالک بنے گا!”یہ اعلان سنتے ہی دور دور سے شہزادے، امیرزادے، دانشور اور خودساختہ عقل کے بادشاہ دربار میں آ پہنچے۔مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔شہزادی…

Read more

زمانۂ قدیم کی بات ہے۔ ایک مال دار تاجر اپنے کاروباری سفر پر نکلا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھنے اور پُراسرار جنگل میں راستہ بھول بیٹھا۔ دن گزرتے گئے، سورج طلوع ہوتا اور ڈوب جاتا، مگر منزل کا سراغ نہ ملتا۔ پانچ دن اور پانچ راتیں وہ جنگل کی بھول بھلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا۔آخرکار مایوسی کے عالم میں اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکارا:“اے خدا کے بندو! جو کوئی مجھے اس جنگل سے نکلنے کا راستہ دکھا دے، میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح اس سے کر دوں گا!”ابھی اس کی آواز درختوں کے سائے میں گونج ہی رہی تھی کہ اچانک زمین کے قریب سے ایک باریک سی آواز سنائی دی:“میں تمہیں راستہ دکھاؤں گا!”تاجر نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا تو کیا دیکھتا ہے! ایک ننھا سا کانٹے دار چوہا اس کے سامنے کھڑا تھا۔تاجر دل ہی دل میں…

Read more

40/168
NZ's Corner