Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection

عجب زمانہ آن پڑا تھا۔ کنویں لبالب تھے، ندیاں گنگنا رہی تھیں، سمندر اپنی موجوں کے تاج پہنے اِتراتے پھرتے تھے، مگر پانی کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی تھی۔ وہ ڈھونڈتا پھرتا تھا وہ دل، جہاں کبھی شفافیت بستی تھی؛ وہ روح، جہاں کبھی پاکیزگی کی جھیل لہراتی تھی۔انسان نے اپنی پیاس تو بجھا لی تھی، مگر اپنے وجود کے چشمے خشک کر بیٹھا تھا۔ حرص کی دھول نے ضمیر کے دریچوں کو بند کر دیا تھا، اور خودغرضی کی تپتی ہوئی ہواؤں نے احساس کی نمی چرا لی تھی۔پانی حیران تھا کہ جس مخلوق کو زندگی دینے آیا تھا، وہی زندگی کے معنی بھول بیٹھی ہے۔ اس نے انسان کے اندر جھانکا تو وہاں خواہشات کے ریگستان تھے، حسد کے کانٹے تھے، اور محبت کے چشمے سوکھ چکے تھے۔تب پانی نے آہ بھری اور کہا:“مجھے زمین کی پیاس نہیں ستاتی، نہ آسمان کی خشکی ڈراتی ہے۔ میری اصل…

Read more

پرانے اناج گھر کی تاریک دیواروں کے بیچ ایک چوہا رہتا تھا۔ وہ پیدائشی اندھا تھا۔ دنیا کے رنگ، روشنی کی چمک اور سایوں کا کھیل اس کے لیے محض کہانیاں تھیں۔ مگر قدرت نے اس کی محرومی کا کچھ ازالہ کر دیا تھا؛ اس کے کان غیرمعمولی طور پر تیز تھے اور وہ ہوا کی ہلکی سی جنبش تک محسوس کر لیتا تھا۔دوسرے چوہے اکثر اس کے گرد جمع ہوتے اور حیرت سے پوچھتے:“تمہیں بلی کا خوف نہیں لگتا؟ تم تو اسے دیکھ بھی نہیں سکتے۔”اندھا چوہا اعتماد سے مسکراتا اور کہتا:“دیکھ نہیں سکتا، مگر پہچان لیتا ہوں۔ جب بلی آتی ہے تو اس کے قدموں سے ہوا کی رفتار بدل جاتی ہے۔ دیواروں کی خاموشی میں ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ میں ہوا کی زبان سمجھتا ہوں۔”یہ سن کر دوسرے چوہے مطمئن ہو جاتے۔ رفتہ رفتہ اندھے چوہے کو بھی اپنے اس ہنر پر ناز ہونے لگا۔ اسے…

Read more

ایک مشہور مگر مہنگے ڈاکٹر کے کلینک کے باہر بڑا سا بورڈ لگا تھا۔ پہلی بار آنے کی فیس: 2000 روپے دوسری بار آنے کی فیس: 500 روپے ایک دن ایک ایسا کنجوس آدمی وہاں پہنچا جس کے بارے میں محلے والے کہتے تھے کہ اگر مچھر بھی اس کا خون پی لے تو وہ مچھر سے کرایہ مانگ لے! وہ کافی دنوں سے بیمار تھا، مگر ڈاکٹر کی فیس سن کر اس کی بیماری سے زیادہ اس کا دل کانپ گیا۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اس کے دماغ میں ایک “عظیم منصوبہ” آیا۔ وہ سینہ تان کر ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا اور بڑی اپنائیت سے بولا:“السلام علیکم ڈاکٹر صاحب! 😊کیسے ہیں آپ؟ میں ایک بار پھر آپ کے پاس آگیا ہوں۔ ذرا چیک کریں، اب میری طبیعت کیسی ہے؟”اس کا خیال تھا کہ ڈاکٹر اسے پرانا مریض سمجھ کر صرف 500 روپے لے گا۔ مگر ڈاکٹر…

Read more

😢 جس شخص نے اُس کی جان بچائی… سالوں بعد وہی شخص اُس کے دروازے پر مدد مانگنے آ گیا!زندگی عجیب ہے… آج آپ کسی کی مدد کرتے ہیں، کل وہی نیکی کسی اور شکل میں آپ کے پاس لوٹ آتی ہے۔ یہ کہانی آخر تک ضرور پڑھیں 📖 کہانی شدید سردی کی رات تھی۔ بارش مسلسل برس رہی تھی۔ شہر کی سڑکیں تقریباً سنسان ہو چکی تھیں۔ ایک نوجوان حمزہ اپنی دکان بند کر کے گھر جا رہا تھا کہ اُس کی نظر سڑک کنارے گرے ہوئے ایک بوڑھے آدمی پر پڑی۔ لوگ گزر رہے تھے… مگر کوئی رُک نہیں رہا تھا۔ حمزہ فوراً اُس کے پاس گیا۔ بوڑھا کانپ رہا تھا۔ اُس نے اسے سہارا دیا، گرم چائے پلائی اور اسپتال پہنچا دیا۔ ڈاکٹر نے بتایا: “اگر آدھا گھنٹہ اور تاخیر ہو جاتی تو شاید یہ زندہ نہ بچتے۔” بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے مٹی کی دیواروں اور کھپریل کی چھت والا ایک سادہ سا گھر تھا۔ اس گھر میں ایک غریب آدمی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ غربت اگرچہ اس کے دروازے پر مستقل دستک دیتی رہتی تھی، مگر اس کے گھر میں محبت، سکون اور قناعت کی روشنی بھی جلتی رہتی تھی۔ایک رات اس نے عجیب خواب دیکھا۔اسے محسوس ہوا جیسے کوئی پراسرار آواز سرگوشی کر رہی ہو:“تمہارے گھر کے نیچے خزانہ دفن ہے۔ اسے نکالو، تمہاری قسمت بدل جائے گی۔”صبح ہوتے ہی اس کا دل بے چین ہو گیا۔اس نے کدال اٹھائی اور گھر کے ایک کونے میں کھدائی شروع کر دی۔سارا دن مٹی اڑتی رہی، زمین الٹتی رہی، مگر خزانے کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔رات آئی تو وہ تھکا ہارا سو گیا۔اسی رات خواب پھر آیا۔اس بار آواز نے گھر کے دوسرے حصے کی طرف اشارہ کیا۔صبح ہوتے ہی…

Read more

ایک انجینئرنگ کالج کے تمام اساتذہ کو ایک ٹور پر لے جانے کے لیے ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا۔ جب سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو پائلٹ نے اعلان کیا:  “تمام معزز اساتذہ کرام! آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جس جہاز میں آپ بیٹھے ہیں، اسے آپ ہی کے کالج کے ذہین طالبعلموں نے تیار کیا ہے!!!” یہ سنتے ہی جہاز میں ہلچل مچ گئی۔ تمام اساتذہ خوف سے کانپتے ہوئے فوراً اپنی نشستوں سے اٹھے اور جلدی جلدی جہاز سے نیچے اترنے لگے۔ سب کو ڈر تھا کہ کہیں جہاز کا کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ لیکن پرنسپل صاحب اپنی جگہ پر سکون سے بیٹھے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر پائلٹ حیران ہوا۔ وہ پرنسپل کے پاس آیا اور پوچھا:  “سر، تمام اساتذہ اپنے ہی شاگردوں کا نام سن کر ڈر کے مارے اتر گئے، مگر آپ کیوں نہیں اترے؟ کیا آپ کو ڈر نہیں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

جیل میں پھانسی کی سزا پانے والا ٹَھگ افسردہ بیٹھا تھا۔۔دو اور قیدی اسکو دلاسہ دینے بیٹھ گئےقیدی نے کہا ۔۔۔ یار یہ دنیا فانی ہے ہم سب نے ایک دن جانا ہےبس ایک قطار میں سب کھڑے ہیںکوئی اگے تو کوئی پیچھےاور موت سے تو کافر لوگ ڈرتے ہیںہم تو ماشااللہ مسلمان ہیںپھانسی کی سزا پانے والا مجرم نے کہا  میں موت سے نہیں ڈرتابس ایک فکر کھائے جارہاہے۔۔دوسرے قیدی نے پوچھا۔۔ کیا مطلب؟پھانسی ولا مجرم:  کچھ سال پہلے میں نے ایک بینک لوٹا تو میں نے کچھ پیسے خرچ کیۓ باقی 5 کروڑ 60 لاکھ میں نے پرانے ماڈل کے TV میں رکھ دیۓ ہیں جو ہمارے گھر کے ایک کونے میں پڑا ہیںکل مجھے پھانسی دے دی جائے گیاور میری بیوی کو پتہ تک نہیں چلیگا۔۔قیدی نے وعدہ کیا میں تمہاری بیوی کو بتا دونگا بس آپ ہمیں اپنے گھر کا پتہ دے دیجئےپھانسی والے مجرم نے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی،…

Read more

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

‏ایک دن مُلا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اتر ہی نہیں رہا تھا۔بہت کوشش کئیے مگر گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آخر کار ملا تھک کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح سے نیچے آجاۓ.کچھ دیر گزرنے کے بعد ملا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.ملا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے اتنی مضبوط نہیں کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں لگا ہوا تھا ملا آخری کوشش کرتے ہوۓ اسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے ملا کو لات ماری…

Read more

ایک بلند پہاڑ پر ایک عقاب رہتا تھا۔ وہ اپنی طاقت، رفتار اور اونچی پرواز پر بہت فخر کرتا تھا۔ پورے جنگل میں اس کا رعب تھا۔ وہ اکثر دوسرے جانوروں سے کہتا: “میری نظر آسمان سے زمین تک سب کچھ دیکھ سکتی ہے۔ تم سب میری طرح عظیم نہیں بن سکتے۔” جانور اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، مگر دل ہی دل میں اس کے غرور کو ناپسند کرتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا جگنو بھی رہتا تھا۔ دن کے وقت کوئی اسے نہیں دیکھتا تھا اور رات کو بھی اس کی روشنی بہت معمولی لگتی تھی۔ عقاب اکثر اس کا مذاق اڑاتا۔ ایک رات اچانک جنگل میں خوفناک طوفان آیا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑنے لگے۔ بارش نے راستے مٹا دیے۔ جانور ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اسی ہنگامے میں عقاب کا ایک ننھا بچہ اپنے گھونسلے سے گر کر جنگل کے…

Read more

ایک شدید طوفان کے دوران ایک کوا آسمان سے نیچے آ گرا۔ زمین پر گرنے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ بے بس ہو کر وہیں رہ گیا۔ درد کی شدت سے وہ حرکت بھی نہ کر سکا۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ کمزور آواز میں مدد کے لیے پکارنے لگا: “میں اڑ نہیں سکتا… پلیز میری مدد کرو…” قریب ہی ایک شاخ پر بیٹھا نیل کنٹھ پرندہ اسے دیکھ کر طنزیہ انداز میں بولا: “یہی ہونا چاہیے تھا تمہارے ساتھ! ہمیشہ سب سے اونچا اڑتے تھے، جیسے آسمان تمہاری ملکیت ہو۔ اب اپنی حالت دیکھ لو۔” دوسرے پرندے بھی وہاں موجود تھے مگر سب بے حس اور لاتعلق رہے۔ کوا درد اور بھوک سے نڈھال، بالکل اکیلا پڑا رہا اور اس کی امید بھی کمزور پڑنے لگی۔ اچانک جھاڑیوں سے ایک نرم اور دھیمی آواز آئی: “میں چھوٹی ضرور ہوں……

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کا بادشاہ، جس کے ایک اشارے پر تلواریں نیام سے باہر آ جاتیں اور ایک تیوری چڑھانے پر دربار میں سناٹا چھا جاتا، ایک رات عجیب خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔خواب یہ تھا کہ اس کے منہ کے تمام دانت ایک ایک کرکے جھڑ گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ اس نے فوراً حکم دیا:“دربار سجایا جائے! خواب کے ماہرین حاضر کیے جائیں!”چنانچہ ملک بھر کے نجومی، حکیم اور خواب شناس دربار میں جمع ہو گئے۔سب سے پہلے ایک بزرگ معبرِ خواب آگے بڑھا۔ اس نے خواب سنا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر نہایت سادگی سے عرض کیا:“بادشاہ سلامت! اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے تمام عزیز و اقارب آپ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔”یہ سننا تھا کہ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔“بدزبان!…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک پرانا گدھا تھا جو برسوں سے اس کا وفادار ساتھی تھا۔ گدھا سادہ دل تھا، لیکن تھوڑا سا حسد کرنے کی عادت بھی رکھتا تھا۔ ایک دن کسان بازار سے ایک بڑی سی بھینس خرید کر لے آیا۔ گدھے نے زندگی میں پہلی بار بھینس دیکھی۔ اس نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا:“ارے واہ! یہ کون سی مخلوق آ گئی؟ اتنا بڑا جسم، ایسی موٹی تازی صحت، اور لگتا ہے جیسے کھانے پینے کی رانی ہو” رات ہوئی تو گدھا آرام کرنے لگا، مگر اس کی نظر بار بار بھینس پر جا رہی تھی۔ بھینس خاموشی سے جگالی کر رہی تھی۔گدھے نے حیران ہو کر کہا: “بہن بھینس! تم تو ابھی تک کھائے جا رہی ہو۔ آخر ایسا کیا کھاتی ہو جس سے تمہاری صحت اتنی…

Read more

کہتے ہیں کسی دور دراز افریقی سلطنت میں ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ دربار میں اگر کوئی مداری، شعبدہ باز یا جادوگر آ جاتا تو بادشاہ سب کام چھوڑ کر اس کا کرتب دیکھنے بیٹھ جاتا۔ایک دن ایک پراسرار جادوگر دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی لمبی چغہ پوشی، نوکیلی ٹوپی اور چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر لوگ ویسے ہی مرعوب ہو گئے۔اس نے جھک کر سلام کیا اور بڑے اعتماد سے بولا:“بادشاہ سلامت! میں ایسا جادو جانتا ہوں کہ پانی کو جام میں بدل سکتا ہوں۔”دربار میں سرگوشیوں کا طوفان اٹھ گیا۔بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:“واقعی؟ اگر ایسا ہے تو فوراً ہمیں دکھاؤ!”جادوگر مسکرایا۔ اس نے ایک شفاف گلاس میں پانی بھرا، آنکھیں بند کیں، چند پراسرار منتر پڑھے، ہاتھ ہوا میں گھمایا، اور پھر نہایت سنجیدگی سے بولا:“حضور! اب یہ پانی نہیں، خالص جام ہے۔ نوش فرمائیے!”بادشاہ نے گلاس…

Read more

ایک سرسبز و شاداب تالاب تھا، جس کے کناروں پر نرم گھاس لہلہاتی تھی، کنول کے پھول پانی پر مسکراتے تھے اور شام ڈھلے مینڈکوں کی ٹر ٹر ایک عجیب سی محفل سجا دیتی تھی۔اسی تالاب میں ایک نوجوان مینڈک رہتا تھا۔وہ باقی مینڈکوں کی طرح عام زندگی گزارنے پر راضی نہ تھا۔ اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔وہ اکثر پانی میں اپنا عکس دیکھتا اور سوچتا:“میں عام مینڈکوں جیسا نہیں ہوں۔ میری قسمت میں کچھ بڑا لکھا ہے!”ایک شام جب تمام مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے، وہ اچانک ایک پتھر پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں اعلان کیا:“سنو! ایک دن میں تم سب کا بادشاہ بنوں گا!”چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔پھر پورا تالاب قہقہوں سے گونج اٹھا۔ایک بوڑھا مینڈک ہنستے ہوئے بولا:“بھئی، تم بادشاہ کیسے بنو گے؟”دوسرا بولا:“کیا تمہارے پاس تاج ہے؟”تیسرا طنزاً بولا:“یا تم نے…

Read more

دریا کے کنارے شام اتر رہی تھی۔آسمان پر سرخ اور سنہری رنگ بکھرے ہوئے تھے، پانی کی سطح پر ہلکی لہریں ناچ رہی تھیں، اور ایک پرانے جامن کے درخت کی بلند شاخ پر بندر حسبِ معمول بیٹھا پھل کھا رہا تھا۔لیکن آج فضا میں کچھ اور ہی تناؤ تھا۔دریا کے گہرے پانی سے دو چمکتی ہوئی آنکھیں ابھریں۔وہ مگرمچھ تھا۔وہی پرانا مگرمچھ، جس کی بیوی کبھی بندر کا دل کھانے کا خواب دیکھتی تھی، اور جو اپنی چالاکیوں میں کئی بار ناکام ہو چکا تھا۔اس نے پانی سے سر نکالا اور غصے بھرے لہجے میں کہا:“بندر! تم نے مجھے اور میری بیوی کو دھوکہ دیا تھا۔ آج حساب برابر ہوگا!”بندر نے ایک جامن منہ میں ڈالتے ہوئے بے پروائی سے جواب دیا:“حساب؟ تم پانی میں رہتے ہو، میں درخت پر۔ تمہارا حساب ہمیشہ ادھورا ہی رہے گا!”مگرمچھ کے نتھنے پھول گئے۔“تم سمجھتے ہو میں تمہیں پکڑ نہیں سکتا؟”“بالکل!”بندر نے…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک دن ایک فقیر آ گیا۔ اس نے بڑے اعتماد سے کہا:“اے بادشاہ! یہ تخت و تاج آخر ہے کیا؟ اس کی کوئی اصل قیمت ہی نہیں۔” بادشاہ یہ سن کر زور سے ہنسا اور درباریوں کو حکم دیا:“اس شخص کو باہر نکال دو، اسے کیا معلوم کہ تخت و تاج کی کیا لذت اور کیا قدر ہوتی ہے۔” وقت گزرتا گیا… پھر ایک دن بادشاہ شکار کے لیے جنگل کی طرف نکلا۔ اچانک اس کا گھوڑا بے قابو ہو گیا اور اسے بہت دور سنسان صحرا میں لے گیا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان۔ بادشاہ پیاس سے نڈھال ہو گیا، اس کی حالت آخری ہچکیوں تک پہنچ گئی۔ اسی لمحے ایک فقیر مشکیزہ لیے وہاں سے گزرا اور آواز لگانے لگا:“پانی لے لو… پانی لے لو…” بادشاہ نے کمزور آواز میں پکارا:“میرے پاس سب کچھ ہے، جو مانگو گے دوں گا… بس…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک بیڑی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…

Read more

20/167
NZ's Corner