Tag Archives: urdu blog

بہت پرانے زمانے میں ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز (Androcles) تھا۔ وہ ایک ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اسے ہر وقت سخت کام کرواتا اور ذرا سی غلطی پر بھی سزا دیتا تھا۔ آخرکار ایک دن اینڈروکلیز اس ظلم سے تنگ آ کر جنگل کی طرف بھاگ گیا تاکہ کہیں آزادی کی زندگی گزار سکے۔ وہ کئی دن تک جنگل میں بھٹکتا رہا۔ ایک دن جب وہ درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا تو اچانک اس نے درد بھری دھاڑ سنی۔ وہ گھبرا گیا، مگر آواز میں ایسی تکلیف تھی کہ وہ احتیاط سے اس سمت بڑھا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا۔ شیر زخمی تھا اور اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا۔ شیر درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے تو ڈر گیا، مگر پھر اس کے دل میں رحم آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا۔ شیر…

Read more

ایک مرتبہ پاکستان کے ایک میاں صاحب انڈیا میں اپنے ایک نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ ایک دِن کھانے کے دوران میاں صاحب کو دہی کی کمی محسوس ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے فرمائش کی، کہ دہی مِل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے- نواب صاحب نے اپنے مُلازم کو آواز دی،اور بولے فلاں دُکان سے دہی لے کر آؤ فوراُُ،، مُلازِم گیا تو نواب صاحب نے بتانا شروع کیا،کہ ملازِم اِس وقت گھر سے نِکل چُکا،اِس وقت گلی کا موڑ مڑ رہا، اس وقت دُکان سے دہی لے رہا،، اب واپِس آ رہا،چند لمحوں بعد انہوں نے مُلازِم کو آواز دی اور پوچھا، دہی لے آئے ؟ملازم نے جواب دِیا،جی حضور،،، میاں صاحب اِس واقعے سے بہت مُتاثِر ہوئے – پھِر کُچھ عرصہ بعد نواب صاحب اپنے پاکستانی میاں دوست کی دعوت پر پاکِستان آئے،میاں صاحب کو وُہ کھانے والا واقعہ بہت خوب لگا…

Read more

میلانیا  بتانے لگی  کچھ سال پہلے  ہماری ایک وزیرنےایک ٹی وی ٹاک شو میں  پیغمبر اسلام پر یہ اعتراض لگادیا  تھا کہ انہوں نے ایک چھ سال کی بچی عائشہ  سے نکاح کرلیا تھا اور جب وہ بچی  نو سال کی ہوئی تو رخصتی ہوئی ۔پھر وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ،”محمود! کیا یہ سچ ہے؟ یہ تو سننے میں ہی  بڑا عجیب لگتا ہے۔” میں نے جواب دیا ۔ میلانیا  کچھ دن پہلے میں اپنی بارہ سالہ  بیٹی کو سمجھا رہا تھا کہ شکسپئیر انگریزی ادب میں ایک اتھارٹی ہے اسے پڑھا کرو ۔میری ترغیب پر  اس نے  شکسپئیر کا شہرہ آفاق ڈرامہ  ”رومیو جیولٹ ”پڑھ لیا تو کہنے لگی کہ پاپا آپ اس رائٹر  پر تو کیس ہونا چاہئے ۔ میں نے حیران ہو کر  پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگی اس کہانی میں رومیو ایک تیرہ سالہ بچی” جیولیٹ”  کو ورغلا رہا ہے…

Read more

کہتے ہیں کہ لکھنؤ میں ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ جب بات کرنی ھو تو تشبیہات, استعارات, محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو.. ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رھے تھے. انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی. ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ھوا: “حضور والا…! یہ بندہ ناچیز، حقیر، فقیر، پر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ھے۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔ چند ثانیے قبل میری چشمِ نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا کہ ایک شرارتی آتشیں پتنگا آپ کی چلم…

Read more

قبطی کا قتل اور موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت. حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے، مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بیزار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو قبطی کہلاتے تھے آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کر رہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع ہے اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں “منف” ہو گیا، اور بعض کا قول ہے کہ یہ شہر فسطاط تھا، اور بعض مفسرین نے کہا: یہ شہر حامین تھا جو مصر سے دو کوس…

Read more

محبت کی آخری پناہ گاہشہر کی سب سے اونچی عمارت کی چھت پر رات کے اندھیرے میں ایک سایہ لرز رہا تھا۔ یہ اسلم تھا، جس کی آنکھیں سرخ تھیں اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ نیچے سڑک پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو چکا تھا۔ ہر کوئی اپنی گردن اوپر اٹھائے سانس روکے کھڑا تھا۔اسلم نیچے آ جاؤ بھائی، زندگی بہت قیمتی ہے! اس کا بہترین دوست ساجد نیچے سے گلا پھاڑ کر چلا رہا تھا۔نہیں ساجد! اب کچھ نہیں بچا، سب ختم ہو گیا ہے! اسلم نے ایک دردناک چیخ ماری اور اپنا ہاتھ فضا میں لہرایا۔ مجمع میں موجود خواتین نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں۔ ایک بزرگ تو وہیں بیٹھ کر تسبیح پڑھنے لگے کہ یا اللہ اس نوجوان کو ہدایت دے۔اسی دوران پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی ہوئی پہنچی۔ انسپکٹر نے میگا فون اٹھایا اور گرج کر بولا: دیکھو نوجوان! جذباتی ہونا چھوڑو، تمہارے…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو محکمہ موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا :– موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔اس نے کہا حضور ~ آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟بادشاہ نے کہا:– شکار پر۔کمہار کہنے لگا‘:– حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہوجانے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ :– ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم کا حال ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور…

Read more

یہ کہانی بہت پرانی ہے۔ ایک خاموش باغ میں ایک خوبصورت ناشپاتی کا درخت تھا، جو پھلوں سے لدا ہوا اور بہت سخی تھا۔ جب ایک چھوٹا لڑکا تھا، تو وہ اس کی شاخوں پر چڑھنا، ناشپاتیاں توڑ کر پیٹ بھر کر کھانا، اور پھر درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں میں سونا بہت پسند کرتا تھا۔ لڑکا درخت سے محبت کرتا تھا، اور درخت بھی اس سے محبت کرتا تھا۔وقت گزرتا گیا۔ لڑکا بڑا ہوا اور اس کا آنا جانا کم ہو گیا۔ ایک دن وہ واپس آیا تو بہت اداس لگ رہا تھا۔“آؤ، پہلے کی طرح شاخوں پر چڑھو اور کھیلو،” درخت نے نرمی سے کہا۔“میں اب اس کے لیے بہت بڑا ہو گیا ہوں،” اس نے جواب دیا۔ “مجھے کھلونے چاہئیں، لیکن میرے پاس انہیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔”“میرے پاس بھی پیسے نہیں ہیں،” درخت نے کہا۔ “لیکن میری ناشپاتیاں لے جاؤ۔ انہیں بیچ دو، تو…

Read more

ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی نگرانی کرتے ہوئے خاموشی سے چراگاہ میں کھڑا تھا۔اچانک وہاں ایک ہیلی کاپٹر اترا۔ اس میں سے ایک سوٹ بوٹ پہنے ہوئے نفاست پسند آدمی نکلا، جس کی ٹائی بالکل سیدھی تھی اور ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا۔👉 “تم چرواہے ہو، ہے نا؟” اس نے پوچھا۔چرواہے نے سر ہلایا لیکن خاموش رہا۔👉 “میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں—تم اپنے ریوڑ کا انتظام غلط طریقے سے کر رہے ہو۔ میرے پاس یہاں سیٹلائٹ کا ڈیٹا موجود ہے۔ وہ سامنے والی پہاڑی دیکھ رہے ہو؟ اس کی دوسری طرف گھاس زیادہ سبز ہے۔ وہاں جانے کے تین راستے ہیں، لیکن ایک تو بالکل بیکار ہے کیونکہ وہاں بھیڑیے ہیں۔ دوسرا راستہ مختصر ہے، اس لیے وہی تمہارے لیے بہترین رہے گا۔ اگر تم اس پلان کے مطابق بھیڑوں کو چراؤ گے تو اون (Wool) کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ہے نا میرا تجزیہ لاجواب؟ اب میری…

Read more

ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے… میں نے کونسا منع کیا آپکو. .پڑوسی تلملا کر بولے..  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہے..…

Read more

ایک دن حضرت موسیٰ نے راستہ چلتے ایک چرواہے کو سنا کہ وہ کہہ رہاتھا کہ اے پیارے خدا! تو کہاں ہے۔ آ میں تیری خدمت کروں، تیرے موزے سیوں اور سر میں کنگھی کروں۔ تو کہاں ہے کہ میں تیری ٹہل خدمت بجالاؤں۔ تیرے کپڑے سیوں، پیوند پارہ کروں۔ تیرا جڑا ول دھوؤں ، جُنّویں چنوں اور اے پیارے تیرے آگے دودھ رکھوں، اگر تو بیمار ہو تو میں رشتہ داروں سے بڑھ کر تیمار داری کروں۔ تیرے ہاتھ چوموں، پیروں کی مالش کروں اور جب سونے کا وقت آئے تو تیری خوابگاہ کو جھاڑ کر صاف کروں۔ اگر تیرا گھر دیکھ لوں تو بلا ناغہ صبح وشام گھی اور دودھ تجھے پہنچاؤں، اور پنیر، روغنی روٹیاں اور پینے کو مزے داردہی چھاچھ یہ سب چیزیں صبح و شام تیار کرکے لاؤں۔ غرض میرا کام لانا ہو اور تیرا کام کھانا۔ میرے سارے بکرے تجھ پر فدا ہوں۔تیری یاد…

Read more

چچا فیدا اور “یادداشت” کی گولیچچا فیدا کی یادداشت اتنی کمزور تھی کہ وہ اکثر یہ بھول جاتے تھے کہ انہوں نے کھانا کھا لیا ہے یا ابھی کھانا ہے۔ ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور بڑے سنجیدہ ہو کر بولے: چچا فیدا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دیں کہ میری یادداشت کمپیوٹر جیسی ہو جائے۔ کل میں اپنی بیگم کا نام بھول گیا تھا، اس نے بیلن سے میری یادداشت تھوڑی ‘تازہ’ تو کی ہے، پر مستقل حل چاہیے۔” ڈاکٹر صاحب نے ایک چمکدار نیلی گولی نکالی اور بولے: “چچا جی! یہ ‘سپرا سمارٹ’ گولی ہے۔ اسے روزانہ صبح نہار منہ کھائیں، آپ کو بچپن کی باتیں بھی یاد آ جائیں گی۔” چچا گولی لے کر چلے گئے۔ ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئے، مگر اس بار ان کے چہرے پر غصہ تھا۔ چچا فیدا: “اوئے ڈاکٹر! یہ کیسی گولی دی تھی تو نے؟…

Read more

بغداد شہر اپنی رونقوں میں مگن تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے آباد اس شہرِ خوشحال کی گلیاں علم و ادب کی خوشبو سے مہک رہی تھیں۔ دور دور سے تاجر، عالم اور سیاح اس دارالخلافہ کی سیر کو آتے۔ لیکن آج کا دن خاص تھا۔ شہر کی مرکزی سڑک پر قالین بچھے تھے، کنگلے پھولوں سے سجے تھے اور فوجیں پر شکوہ انداز میں قطار در قطار کھڑی تھیں۔ ہر طرف خلیفہ ہارون الرشید کے گذرنے کی خبر پھیلی ہوئی تھی۔ امیر المومنین اپنے شاہی جلوس کے ساتھ شہر کا معائنہ کرتے ہوئے گذر رہے تھے۔ سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی سواریاں، ہاتھیوں پر سوار نقارچی جو اپنی تھاپ سے فضا کو گونجائے دے رہے تھے، اور ہزاروں سپاہی پرچم لہراتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ لوگ اپنے خلیفہ کا دیدار کرنے کے لیے راستے کے دونوں کنارے کھڑے تھے۔ بچے خوشی سے نعرے لگا رہے تھے اور…

Read more

جب بغداد کے امراء محلوں کی آرائش میں مصروف تھے، جابر بن حیان اپنی چھوٹی سی لیبارٹری میں پے در پے تجربات کر رہے تھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے علمِ کیمیا کو محض “جادو ٹونا” یا “سونا بنانے کے خواب” سے نکال کر ایک باقاعدہ تجرباتی سائنس کی شکل دی۔ روایت ہے کہ ایک بار خلیفہ ہارون الرشید نے جابر بن حیان سے ایسی کتاب لکھنے کی فرمائش کی جو کیمیا کے اسرار پر مبنی ہو۔ جابر نے ایک ایسی کتاب لکھی جس کے حروف سونے کے پانی سے لکھے گئے تھے، لیکن ان کی اصل دولت وہ دریافتیں تھیں جنہوں نے دنیا بدل دی۔ جابر بن حیان نے وہ تیزاب (Acids) دریافت کیے جن کے بغیر آج کی انڈسٹری کا تصور بھی ناممکن ہے: شورے کا تیزاب (Nitric Acid): جو انہوں نے پہلی بار تیار کیا۔ نمک کا تیزاب (Hydrochloric Acid): ان کی محنت کا نتیجہ تھا۔…

Read more

*ایک وسیع اور پیاس سے تڑپتے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا — وہی دریا جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ ننھے ہرن سے لے کر بلند قامت زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے شفاف اور ٹھنڈے پانی پر انحصار کرتے تھے۔ خشک سالی کے دنوں میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس زرد ہو جاتی، یہی دریا امید کی آخری کرن بن جاتا۔* ایک سال ایسا آیا کہ ایک طاقتور بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ پر قبضہ جما لیا۔ وہ جگہ ایسی تھی جہاں سے گزرے بغیر کوئی جانور پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس نے وہیں ڈیرہ ڈال لیا۔ اس کا بھاری جسم راستہ روکے کھڑا تھا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔ جو بھی پیاسا جانور قریب آتا، وہ زور سے پھنکارتا اور زمین پر کھر مارتا۔وہ…

Read more

ایک شخص کو وراثت میں مالِ کثیر ہاتھ آیا۔ وہ سب کھاگیا اور خود ننگا رہ گیا۔ سچ ہے کہ میراث کا مال نہیں رہا کرتا۔ جس طرح دوسرے سے الگ ہوا اسی طرح یہاں بھی جدا ہوجاتا ہے۔ میراث پانے والے کو بھی ایسے مال کی قدر نہیں ہوتی جو بے محنت اور تکلیف ہاتھ آجاتا ہے۔ اے شخص تجھے بھی جان کی قدر اسی لیے نہیں ہے کہ حق نے تجھے مفت بخشی ہے۔ الغرض اس شخص کا نقد وجنس اور جائیداد سب قبضے سے نکل گئی اور الّوؤں کی طرح ویرانے میں رہنے لگا۔ اس نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ تونے مجھے سروسامان دیاتھا وہ جاتا رہا۔ لہٰذا تو اب مجھے سروسامانِ زندگی عنایت کریا موت بھیج دے۔ اس دعا اور گِڑ گِڑاہٹ میں اس نے دونوں ہاتھ پیٹے۔ اس زبردست کو بے محنت زر کی طلب تھی لیکن وہ کون ہے جو خدا کی…

Read more

پھانسی سے قبل مجرم سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے حج سے کہا کہ جیل کی چٹائی پر مجھے نیند نہیں آتی، میں زندگی کی آخری رات چٹائی کی بجائے ایک آرام دہ بیڈ پر سونا چاہتا ہوں اور بیڈ پر برف کا بلاک بھی موجود ہونا چاہیے۔ پھانسی سے ایک رات پہلے جب حج محمد یوسف کی کوٹھڑی میں داخل ہوا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی ٹھہراؤ تھا۔ جیل کے اُجالے میں بھی وہ شخص سائے کی طرح لگ رہا تھا۔ حج نے پوچھا: کوئی آخری خواہش؟ محمد یوسف نے آہستگی سے سر اٹھایا۔ اس کی داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی تیزی تھی جو بیس سال پہلے تھی جب وہ جھنگ کی گلیوں میں موٹر سائیکل کی آواز سے پوری بستی جگا دیا کرتا تھا۔ اس نے کہا: حج صاحب، مجھے جیل کی چٹائی پر نیند نہیں آتی۔ زندگی کی…

Read more

ایک دن ایک مرغا درخت کی ایک اونچی شاخ پر بیٹھا، ککڑوکوں ککڑوکوں کر رہا تھا۔ اتفاق سے ایک لومڑی درخت کے نیچے سے گزری اور مرغے کی آواز سن کر اوپر دیکھنے لگی۔ درخت پر ایک تازہ اور موٹا نوجوان مرغا نظر آیا تو لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی: “یہ شکار تو بہت عمدہ ہے، مگر اسے نیچے کیسے بلاؤں؟” کچھ دیر سوچنے کے بعد لومڑی نے بات چیت شروع کی: “کہو میاں مرغے، کیسا حال ہے؟” مرغے نے جواب دیا:“مہربانی! سناؤ تمہارا مزاج کیسا ہے؟” لومڑی مسکرا کر بولی:“تمہاری دعا سے سب ٹھیک ہے۔ ہاں، میں نے آج ایک بہت اچھی خبر سنی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کیا؟” مرغے نے کہا:“کیسی خبر؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔” لومڑی نے محسوس کیا کہ مرغا اس کی چکنی اور عقل مند باتوں میں پھنسنے کے لیے تیار ہے۔ وہ مسکرا کر…

Read more

وکیل آدھی رات کو گھر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا. بیوی: دروازہ نہیں کھولونگی، اتنی رات کو جہاں سے آرہے ہو وہیں چلے جاؤ.وکیل: دروازہ کھولو نہیں تو نالے میں کود کر اپنی جان دے دونگا. بیوی: مجھے کوئی پرواہ نہیں تمہیں جو کرنا ہے وہ کرو. اس کے بعد وکیل دروازے کے پاس کے اندھیرے حصے میں جاکر کھڑا ہو گیا، اور دو منٹ انتظار کیا، پھر ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور نالے کے پانی میں پھینک دیا. بیوی نے سنا تو فوراً دروازہ کھولا اور نالے کی طرف دوڑی. اندھیرے میں کھڑا وکیل دروازے کی طرف بھاگا اور گھر کے اندر سے دروازہ بند کر لیا. بیوی: دروازہ کھولو، نہیں تو میں چلا چلا کر سارے محلے کو جگا دونگی. وکیل: خوب چلاؤ، جب تک سارے پڑوسی جمع نہ ہو جائیں، پھر میں ان کے سامنے تم سے پوچھونگا کہآدھی رات کو کہاں سے آرہی ہو؟ کالا کوٹ…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

140/423
NZ's Corner