Tag Archives: urdu blog

*ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک بکری تھی  ایک دن، گھوڑا بہت بیمار ہو گیا۔کسان نے ویٹنری(جانوروں کے) ڈاکٹر کو بلایا، جنہوں نے کہا، آپ کے گھوڑے کو ایک وائرل بیماری ہے اسے تین دن تک یہ دوائی دینا تیسرے دن میں واپس آؤں گا اگر وہ بہتر نہیں ہوتا. تو اسے مار دیا جائے گا تا کہ وائرس مزید گھوڑوں میں نہ پھیل جائے “قریب ہی بکری نے ان کی گفتگو کو سنا.اگلے دن، کسان نے گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری گھوڑے کے پاس گئی اور کہا:“دوست ہمت کرو اٹھو ورنہ وہ تمہیں مار دیں گے!”دوسرے دن، کسان نے ایک بار پھر گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری پھر آئی اور کہا: – “!، دوست چلو اٹھو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاو، چلو، میں آپ کو کھڑا ہونے میں مدد کروں”.چلو! ایک، دو، تین … لیکن غریب گھوڑا کھڑا نہ ہو…

Read more

پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!(شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ) اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید ایران اس راستے کو بند کر دے گا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک تک تیل نہیں پہنچ سکے گا۔ مگر اگر ہم اس معاملے کو صرف سیاسی یا معاشی زاویے سے دیکھیں تو شاید ہم اس کی اصل حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔…

Read more

بشیر بھائی کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “بشیر صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” بشیر بھائی نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” بشیر بھائی نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر…

Read more

ایک  شوہر کو اپنی بیوی کے بارے میں شک ہوا کہ اس کی سماعت کم ہونا شروع ہو گئی ہے..چنانچہ اس نے خاندانی طبیب سے مشورہ کیا..طبیب نے اسے بتایا کہ بیوی کی سماعت کی جانچ کا ایک آسان طریقہ ہے..وہ یہ کہ اس سے پچاس فٹ کے فاصلے پر معتدل آواز میں بات کرے..پھر چالیس فٹ کے فاصلے پر آ کر وہی بات دہرائے..پھر بیس فٹ، اور پھر دس فٹ کے فاصلے تک قریب جائے..اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہو کر بات کرے، اس طرح بیوی کی قوتِ سماعت کا اندازہ ہو جائے گا..شوہر گھر لوٹا تو بیوی کچن میں دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی..وہ کچن سے پچاس فٹ دور کھڑا ہوا اور کہنے لگا: “میری جان! کھانے میں کیا بنا رہی ہو؟”..بیوی نے کوئی جواب نہ دیا!وہ چالیس فٹ کے فاصلے تک قریب آیا اور پوچھا: “میری جان! کھانے…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک چھوٹا تالاب تھا۔ اس تالاب میں کئی مینڈک رہتے تھے، اور اکثر تالاب کے کنارے چھوٹے کیچڑ میں چھپ کر آرام کرتے تھے۔ ایک دن ایک سانپ وہاں آیا۔ سانپ بھوکا تھا اور تالاب کے مینڈکوں کو شکار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے ایک مینڈک کی طرف آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے کہا: “مینڈک بھائی! ڈرو نہیں، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ تمھیں باہر لے چلوں گا تاکہ تمہیں زیادہ اچھا اور محفوظ مقام ملے۔” مینڈک نے سانپ کی باتوں پر شک کیا، لیکن اس نے سوچا کہ شاید سانپ سچا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرخت جلد کے ساتھ کنارے کی طرف آیا۔ جیسے ہی مینڈک سانپ کے قریب پہنچا، سانپ نے اچانک اسے پکڑ لیا اور کھانے کی تیاری کرنے لگا۔ لیکن مینڈک ہوشیار تھا۔ اس نے اپنی کرخت جلد کا فائدہ اٹھایا، اچانک جھٹکا دیا اور سانپ کی…

Read more

ایک بوڑھا دانا اپنے پوتے کے ساتھ جنگل کے کنارے بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج کی آخری روشنی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ بوڑھے کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں تجربے کی گہری روشنی تھی۔ پوتا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے دادا سے کہا: “دادا جان! میرے دل میں عجیب سی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ کبھی میں اچھا بننا چاہتا ہوں، مگر کبھی مجھے غصہ، حسد اور نفرت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟” بوڑھا دانا مسکرایا اور کہنے لگا: “بیٹا، یہ لڑائی صرف تمہارے دل میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کے اندر ہوتی ہے۔” پوتا حیران ہو کر دادا کی طرف دیکھنے لگا۔ دادا نے بات جاری رکھی: “ہر انسان کے دل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔” پوتے نے پوچھا:“دو بھیڑیے؟ کیسے؟” بوڑھے نے کہا: “پہلا بھیڑیا برائی کی…

Read more

خان بھائی پہلی بار عرب ملک میں کیا۔ ائیر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور منزل کی طرف روانہ ہوا۔ نیا ملک، نئی زبان اور اردگرد ہر طرف عربی بولنے والے لوگ… خان بھائی کے لیے یہ سب کچھ بالکل نیا اور دلچسپ تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے اونچی عمارتیں، روشن سڑکیں اور مصروف بازار دیکھ کر دل ہی دل میں حیران بھی ہو رہے تھے اور خوش بھی۔ راستے میں عربی ٹیکسی ڈرائیور نے ایک دو باتیں کیں۔ خان بھائی کو عربی تو آتی نہیں تھی، مگر عزت بچانے کے لیے انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب میں سورۂ فاتحہ سنادی۔ ڈرائیور بھی خاموشی سے سنتا رہا اور گاڑی چلاتا رہا۔ آخر کار جب منزل کے پاس پہنچے تو خان بھائی سوچنے لگے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو روکنے کی ” عربی ” کیا ہو سکتی ہے۔ دل میں کئی لفظ آئے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ زبان…

Read more

حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔ میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا…

Read more

ایک آدمی کی جرابوں سے سخت بدبو آتی تھی۔ وہ جہاں جوتا اتارتا لوگ دور دور بھاگ جاتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی کے رشتہ داروں میں شادی تھی۔ لہذا اس نے اپنے خاوند کو نئی جرابیں لا کر دیں اور کہا، “کم از کم وہاں تو نئی جرابیں پہن کر جاؤ۔۔۔!” شادی میں اچانک شور اُٹھا اور اس آدمی کے قریب بیٹھے لوگ بھاگنا شروع ہو گئے۔ اس کی بیوی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی اور جھگڑنے کے انداز میں بولی، “تم پھر پرانی جرابیں پہن کر آئے ہو۔۔۔؟” آدمی نے بڑے اطمینان سے بوٹ اتار کر دکھائے اور کہا، میں نے پہنی تو نئی جرابیں ہیں، لیکن مجھے پتا تھا تم یقین نہیں کرو گی اس لیے پرانی جرابیں جیب میں ڈال کر لایا ہوں۔۔۔😅😅😅 حاصل کلام: کچھ لوگوں کی فطرت بھی ایسے ہی گندی ہوتی ہے انسان لاکھ کوشش کر لے وہ کبھی نہیں بدلتی۔ منقول

ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش تدبیر — تین دن میں سچ کیسے سامنے آ گیا؟جب امانت میں خیانت ہوئی… اور انصاف قائم کرنے کے لیے ایک بادشاہ نے قالین کاٹ کر سچ کو بے نقاب کر دیا! سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے قاضی سے اپنی امانت طلب کی۔ قاضی نے وہی بند تھیلی اسے واپس کر دی۔ تاجر مطمئن ہو کر تھیلی لے گیا، مگر جب گھر پہنچ کر اس نے تھیلی کھولی تو حیران رہ گیا۔ اس میں اشرفیوں کی جگہ تانبے کے سکے موجود تھے۔ وہ فوراً قاضی کے پاس پہنچا اور کہا:“اس تھیلی میں تو اشرفیاں تھیں، یہ تانبے کے…

Read more

ایک گھنے افریقی جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ شیر طاقتور اور خوفناک تھا اور جنگل کے تمام جانور اس کے سامنے لرزتے تھے۔ وہ ہر دن شکار کرتا اور جنگل کے سب جانوروں کو ڈراتا۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا مگر چالاک خرگوش بھی رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیر کے سامنے جسمانی طاقت کے زور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیشہ عقل اور چالاکی سے کام لیتا۔ ایک دن شیر نے فیصلہ کیا کہ وہ سب جانوروں کو ڈرانے کے لیے ایک بڑا شکار کرے گا۔ وہ جنگل کے درمیان آیا اور زور سے دھاڑ کر سب جانوروں کو ڈرایا۔ جانور سب خوف کے مارے چھپ گئے، مگر خرگوش نے اپنے ذہن سے سوچا: “میں شیر کی طاقتور جسمانی قوت کے مقابلے میں نہیں جا سکتا۔ مگر اگر میں چالاکی سے کام لوں تو اپنی جان بچا سکتا ہوں۔” خرگوش نے شیر کے پاس…

Read more

“حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں۔”سعودی عرب کا ایک دور افتادہ گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کیلئے جنات کے کھودے ہوئے 300 کنوئیں بھی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اگرچہ ناکارہ ہو چکے ہیں، مگر 20 کنوﺅں سے اب بھی لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔ جنات نے یہ کنوئیں زمین کے بجائے سخت ترین چٹانوں کو توڑ کر بنائے تھے، جس پر اب بھی ماہرین حیران ہیں۔ ان عجائبات کو دیکھنے کیلئے دور دور سے سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ تاریخی گاﺅں ”لینہ“ مملکت کے شمالی شہر رفحا سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قدیم علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کے ساتھ متعدد آثار قدیمہ کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے۔ پرانے…

Read more

‏ایک عرب شیخ دبئی کے ایک پرتعیش ریستوراں میں بیٹھا دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک خستہ حال بے گھر آدمی اندر داخل ہوا اور اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ اس آدمی نے کہا، “میرے پاس ایک سنہری لائٹر ہے۔ تم اسے خریدنا چاہو گے، لیکن میں تمہیں پہلے ہی خبردار کر دوں کہ اس کی قیمت دس لاکھ ڈالر ہے۔”عرب ہنسا اور بولا، “بوڑھے آدمی، کیا تمہارا دماغ چل گیا ہے؟ دس لاکھ ڈالر؟ یہ لائٹر تو ایک ڈالر کے لائق بھی نہیں ہے!”وہ بے گھر شخص خاموشی سے سنہری لائٹر جلاتا ہے۔ اچانک، ایک جن باہر نکلتا ہے اور کہتا ہے، “جناب، آپ کی کیا خواہش ہے؟”پورا ریستوراں خاموش ہو جاتا ہے جب وہ آدمی جن سے کہتا ہے، “میرے لیے چینی والی چائے کا ایک کپ لاؤ۔” جن تالی بجاتا ہے اور—پھک!—آگ کے ایک شعلے کے ساتھ، ٹرے میں رکھی چائے کا گلاس، چینی…

Read more

کہتے ہیں کہ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ علیہ سے سارا زمانہ پیار کرتا تھا۔ بغداد کا ہر شخص ان کی عزت کرتا تھا۔ ایک شخص نے کہا: “بابا! تمہارا  بابا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بابا نہ صرف فرض مسجد میں پڑھتے تھے  باقی نماز  مسجد میں  نہیں پڑھتے تھے۔ ۔اایک دن جمعہ کی نماز کے بعد میں نے سوچا کہ آج ان کا پیچھا کروں اور دیکھوں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اسلام میں سنتوں کی بہت تاکید ہے۔ میں فرض پڑھ کر نکل گیا، پیچھے رہ گیا۔ میں نے کہا آج سنت اور نفل چھوڑ دوں، دیکھوں کیا ہوتا ہے۔حضرت بشر حافی جلدی مسجد سے نکلے، کباب کی دکان پر گئے، کباب خریدا۔ میں نے سوچا اس عمر میں بھی کباب کھائے گا؟ اوہ مولوی کو روٹی نے ستایا ہے، اس لیے سنت اور نفل چھوڑ دیا۔آگے بڑھے تو نان بائی کی دکان سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک نہایت امیر زمیندار رہتا تھا۔ گاؤں کی زیادہ تر زرخیز زمینیں اسی کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے کنارے ایک ٹکڑا ایسا بھی تھا جو بالکل بنجر تھا—نہ وہاں کچھ اگتا تھا اور نہ کسی کام کا تھا۔ زمیندار نے سوچا: “کیوں نہ یہ زمین کسی غریب کسان کو دے دوں؟ اگر اس کی محنت سے زمین آباد ہو گئی تو واپس لے لوں گا، ورنہ ویسے بھی بیکار ہے۔” اس نے اپنے ملازم کسانوں میں سے ایک سادہ اور شریف آدمی کو بلایا اور کہا:“ٹیلے کے پاس والی زمین اب تمہاری۔ میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں۔ جو اگاؤ گے، وہ تمہارا ہوگا۔” کسان نے شکر ادا کیا اور اگلے دن سے محنت شروع کر دی۔ کنکر، پتھر اور جھاڑ جھنکار صاف کیے، ہل چلایا۔ مگر اچانک ایک جگہ ہل کسی سخت چیز سے ٹکرا گیا۔ جب اس نے کھودا تو نیچے سے لوہے کا…

Read more

شہر کے پرانے بازار کے بیچوں بیچ ایک قدیم مسجد تھی۔ اس مسجد کے دروازے کے باہر ایک بھکاری تقریباً بیس سال تک بیٹھا رہا۔ لوگ اسے “بابا سلیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کا اصل نام کیا تھا، وہ کہاں سے آیا تھا، اس کا کوئی رشتہ دار تھا یا نہیں — کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔بابا سلیم کے پاس بس ایک پرانی سی چٹائی تھی جس پر وہ بیٹھتا تھا۔ اس کے سامنے ایک ٹوٹی ہوئی پیالی رکھی ہوتی جس میں لوگ نماز کے بعد چند سکے ڈال دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ خاموش رہتا تھا۔ نہ زیادہ مانگتا تھا، نہ کسی سے بحث کرتا تھا۔ہر روز فجر سے پہلے وہ آ کر اپنی چٹائی بچھا لیتا۔ جب لوگ مسجد میں نماز پڑھنے آتے تو وہ دروازے کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھا ہوتا۔ نمازی آتے جاتے اسے کچھ نہ کچھ دے دیتے۔کچھ لوگ اسے دیکھ…

Read more

دوستو! آج آپ کے لیے ایک سبق آموز واقعہ پیش ہے جو ہمیں ایمان، قربانی اور صبر کا عملی درس دیتا ہے۔ عسفان اور مکہ کے درمیان ایک مقام ہے جسے ’’رجیع‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی، اسی لیے یہ واقعہ تاریخ میں ’’سریۂ رجیع‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دردناک سانحہ ہجری چہارم میں پیش آیا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ قبیلہ عضل و قارہ کے کچھ لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کے قبیلے کے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ کچھ صحابہ رضی اﷲ عنہم ان کی قوم کو اسلام کے عقائد و اعمال سکھائیں۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دس صحابہ رضی اﷲ عنہم کو حضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں اس مشن پر بھیجا۔ جب…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک کسان اپنی اونٹنی کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ راستے میں شام ہوگئی تو اس نے ایک گاؤں میں رات گزارنے کی اجازت مانگی۔ گاؤں والوں نے اسے مہمان بنا لیا۔ کسان نے جاتے وقت کہا کہ اونٹنی حاملہ ہے، اس کا خیال رکھنا۔ رات کو اونٹنی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ صبح جب کسان روانہ ہونے لگا تو وہ بچہ بھی ساتھ لے جانے لگا۔ گھر والوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے:“یہ اونٹ کا بچہ نہیں، ہماری بکری کا بچہ ہے!” بات بڑھ گئی اور گاؤں والے جمع ہوگئے۔ آخرکار سب معاملہ گاؤں کے نمبردار کے پاس لے گئے۔ نمبردار نے کچھ دیر سوچا اور فیصلہ سنایا: “میرے پردادا کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب بکریاں اونٹ کے بچے جَنیں گی۔ لہٰذا یہ بچہ بکری ہی کا ہے۔” کسان حیران رہ گیا اور خاموشی سے چلا گیا۔…

Read more

ایک شہری بابو اپنی شادی کے بعد پہلی بار گاؤں اپنی سسرال گیا۔ سسر جی نے داماد صاحب کی بہت خاطر تواضع کی اور شام کو اسے اپنا ڈیرہ دکھانے لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی اور تگڑی بھینس بندھی ہوئی تھی۔ سسر جی بڑے فخر سے بولے: “داماد جی! یہ ہماری سب سے مہنگی بھینس ہے، بڑا خالص دودھ دیتی ہے۔” داماد صاحب، جو اپنی “شہری عقل” جھاڑنا چاہتے تھے، بھینس کو غور سے دیکھنے لگے۔ اچانک ان کے دماغ میں ایک “سائنس” آئی اور وہ بولے:“ابو جی! آپ کی یہ بھینس بہت خطرناک ہے، اس کا ایک بہت بڑا ‘ڈیفیکٹ’ (نقص) میں نے پکڑ لیا ہے۔” سسر جی پریشان ہو گئے: “خیر تو ہے داماد جی؟ کیا ہوا؟” داماد صاحب بڑے رعب سے بولے: “ابو جی! دیکھیں، اس بھینس کے ‘سینگ’ (Horns) نہیں ہیں۔ یہ تو کسی بھی وقت آپ کو دھوکہ دے سکتی ہے یا اسے کوئی…

Read more

کہتے ہیں سقراط بچپن میں صبح جلدی اٹھنے کے عادی نہیں تھے۔ان کی والدہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے۔ایک دن وہ سقراط کو اپنے استاد کے پاس لے گئیں اور کہا:“استاد جی! اسے سمجھائیں کہ صبح جلدی اٹھنا کتنا ضروری ہے۔”استاد مسکرائے اور سقراط سے بولے:“بیٹا سقراط! میں تمہیں ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں، پھر بتانا کہ اس سے تم نے کیا سیکھا۔”سقراط نے سر ہلا کر کہا:“جی استاد جی، سنائیے۔”استاد نے کہا:“دو پرندے تھے۔ایک پرندہ صبح سویرے جاگ جاتا تھا، کیڑے پکڑتا تھا اور اپنے بچوں کو کھلاتا تھا۔دوسرا پرندہ دیر سے اٹھتا تھا، اس لیے اسے کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا۔”پھر استاد نے پوچھا:“بتاؤ سقراط! اس کہانی سے کیا سبق ملا؟”سقراط نے فوراً مسکرا کر جواب دیا:“استاد جی! سبق تو یہ ملا کہ جو کیڑے جلدی جاگتے ہیں، وہ پرندوں…

Read more

120/423
NZ's Corner