Author Archives: NZ's Collection

جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…

Read more

ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…

Read more

ایک شخص شہر کے باہر گھوم رہا تھا۔ اس نے دیکھا داروغہ شہر ایک درخت کے نیچے سو رہا ہے ۔ شراب کی بوتل اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی۔ اور منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ داروغہ خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے داروغہ کی نئی اونی قبا اتاری اور وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ شراب کے نشے اور نیند میں اسے پتا ہی نہ چلا۔ جب داروغہ کی آنکھ کھلی اور شراب کا نشہ اترا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی قبا غائب ہے ۔ وہ گھر واپس آئے اور اپنے ملازموں سے کہا کہ میری قباچوری ہو گئی ہے تم چور کو تلاش کر کے فورا میرے سامنے پیش کرو۔ داروغہ کے ملازم تلاش میں نکلے اور آخر انھیں وہ آدمی جس نے قبا چرائی تھی مل گیا ۔ اسے پکڑ کر وہ داروغہ کے پاس لے آئے…

Read more

حضرت سلیمانؑ کے بعد انکے بیٹے رحبعام نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی مگر کچھ عرصہ کے بعد یہودیوں کے دس قبیلوں نے بغاوت کر دی مورخین نے اس بغاوت و جرات کی وجہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد شیطان کی طرف سے انکے تخت کے نیچے رکھے جانے والی جادو کی کتابوں کا ان دس قبیلوں کےسرداروں کا لے لینا تھا بھگڈر میں ان سرداروں نے جو اس وقت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں درباری کی حیثیت سے تھے موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ کتابیں اٹھا کے یہ الزام۔لگایا کہ نعوذباللّٰہ سلیمان نبیؑ نہیں بلکہ جادوگر تھے اور ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیا بعد میں جب رحبعام بادشاہ بنا تو ان سرداروں نے ان جادو کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور ایک الگ سلطنت جسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا نام دیاگیا بنالی رحبعام کے بعد اسکا بیٹا اور حضرت سلیمانؑ کا پوتا ابیہا یا…

Read more

لکھنو میں ایک استاد بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی “نصیحت” کرتے تھے، کہ جب بات کرنی ہو،،،،،، تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔ ایک بار “دورانِ تدریس” یہ “استاد صاحب” حقہ پی رہے تھے انھوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا،،،،، تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی،، اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا: “حضور والا؛ یہ بندہ “ناچیز” حقیر فقیر، پُر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت،حضور کے “گوش گزار” کرنے کی جسارت کر رہا ہے،،،،،، وہ یہ کہ؛ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا،،،،،، کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپکی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کر،چند…

Read more

وہ مخلوق جو ڈائنوسارز سے بھی پہلے یہاں موجود تھی 🦎⏳ہمیشہ سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ڈائنوسارز اس زمین کے پہلے اور طاقتور ترین حکمران تھے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک کھدائی نے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں جمی برف کے نیچے سے ایک ایسی مخلوق کے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ساخت موجودہ سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ مخلوق ڈائنوسارز کے دور سے بھی کروڑوں سال پہلے کی ہے جب زمین پر آکسیجن کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ان عجیب و غریب ڈھانچوں کے سر پر تین آنکھیں اور پشت پر دھاتی ڈھال جیسی ہڈیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف شکاری نہیں تھے بلکہ ان میں ذہانت کی ایک الگ ہی سطح موجود تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ان ڈھانچوں کے…

Read more

امیر تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان ہونے والی خونریز اور ہولناک “جنگِ انقرہ” کی تاریخ، جب عثمانیوں کا طاقتور ترین سلطان امیر تیمور کی قید میں مارا گیا۔803 ہجری میں امیر تیمور نے آرمینیا کی سمت سے عثمانی سلطنت کی سرحد میں داخل ہو کر شہر سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ شہر چند سال پہلے سلطان بایزید کے قبضے میں آیا تھا اور اس کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں۔ شہر کی حفاظت سلطان بایزید کے بڑے بیٹے، شہزادہ ارطغرل، کی قیادت میں ہو رہی تھی۔ عثمانی سپاہیوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور ابتدا میں تیمور کی عظیم فوج کامیاب نہ ہو سکی۔لیکن آخرکار تیمور نے ایک خطرناک تدبیر اختیار کی۔ اس نے ہزاروں مزدوروں سے شہر کی دیواروں کی بنیادیں کھدوائیں اور نیچے سرنگیں بنوائیں۔ جب سرنگیں مکمل ہو گئیں تو لکڑی کے سہاروں کو آگ لگا دی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے مضبوط دیواریں…

Read more

یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔پھر انہوں نے وصیت شروع کی:دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن…

Read more

An astrologer used to predict the time of death of people by looking at their hands, and the strange thing was that the person would die at the exact time he announced. His fame had spread throughout the country. Rich or poor, everyone would come to him and place their hands in front of him with trembling hearts. When this news reached the Sultan, a slight fear arose in the Sultan’s heart, although he was a brave and wise ruler. The Sultan immediately ordered the soldiers to bring the astrologer to the palace.When the astrologer came to the palace, there was neither fear nor panic on his face, as if he already knew everything. The Sultan looked at him carefully and said,“Can you predict the time of death by looking at the hand?”The astrologer bowed his head and replied,“If Allah wills, I will tell you only what I see.”The Sultan…

Read more

Un astrólogo solía predecir la hora de la muerte de las personas mirando sus manos, y lo curioso era que la persona moría exactamente a la hora que él anunciaba. Su fama se había extendido por todo el país. Ricos o pobres, todos acudían a él y le ponían las manos delante con el corazón tembloroso. Cuando esta noticia llegó al sultán, un ligero temor se apoderó de su corazón, a pesar de ser un gobernante valiente y sabio. El sultán ordenó inmediatamente a los soldados que llevaran al astrólogo al palacio.Cuando el astrólogo llegó al palacio, no había miedo ni pánico en su rostro, como si ya lo supiera todo. El sultán lo miró atentamente y dijo:“¿Puedes predecir la hora de la muerte mirando la mano?”El astrólogo inclinó la cabeza y respondió:“Si Alá quiere, te diré solo lo que veo”.El sultán extendió la mano. El astrólogo se acercó, la…

Read more

Once a villager came to visit his friend from the city who was a very miser. The villager did not come empty-handed, but brought with him a fat fresh “duck” (bird) as a gift.The miserly host was very happy. He cooked the duck and both of them ate it with pleasure. The next day, some strangers came to the miser’s house and demanded food.The miser asked: “Who are you?”They said:“We are the ‘friends’ of your friend who brought you the duck yesterday.”The miser said nothing and gave them the “soup” (water from the kitchen) of yesterday’s leftover duck. On the third day, some more people came and said:“We are the ‘neighbors’ of the friend of your friend who brought the duck.”The miser fed them as much as he could. On the fourth day, the limit was reached. 10, 12 people came to the miser’s house and sat down and said:“Sir!…

Read more

Una vez, un aldeano vino a visitar a su amigo de la ciudad, que era muy avaro. El aldeano no llegó con las manos vacías, sino que trajo consigo un pato (ave) gordo y fresco como regalo.El avaro anfitrión estaba muy contento. Cocinó el pato y ambos lo comieron con gusto. Al día siguiente, unos desconocidos llegaron a la casa del avaro y exigieron comida.El avaro preguntó: “¿Quiénes son?”.Dijeron: “Somos los ‘amigos’ de tu amigo que te trajo el pato ayer”.El avaro no dijo nada y les dio la “sopa” (agua de la cocina) del pato que sobró de ayer. Al tercer día, llegaron más personas y dijeron: “Somos los ‘vecinos’ del amigo de tu amigo que trajo el pato”.El avaro los alimentó con todo lo que pudo. Al cuarto día, se llegó al límite. Diez o doce personas llegaron a la casa del avaro, se sentaron y dijeron:“¡Señor! Somos…

Read more

When Hulagu Khan conquered Baghdad, the waters of the Tigris and Euphrates were red not with ink but with human blood. Libraries were burned, madrasas were deserted, and death danced in the streets of the city. The lamp of the Abbasid Caliphate had gone out, and Baghdad, the center of knowledge and wisdom, had become a pile of rubble.Hulagu Khan set up his grand camp outside the city. Rows of tents, armed soldiers, and such an atmosphere of fear that even a bird thought before flying. From this camp, he sent a message to Baghdad:“The greatest scholar of the city should come to me.”This message spread like lightning through the city. People were shocked. Scholars, jurists, hadith scholars—everyone knew that Hulagu Khan was a priest of power, not knowledge. Going to his court was tantamount to inviting death.Every scholar refused.Someone said: “It is a disgrace to go to the court…

Read more

Cuando Hulagu Khan conquistó Bagdad, las aguas del Tigris y el Éufrates no estaban teñidas de tinta, sino de sangre humana. Las bibliotecas fueron incendiadas, las madrasas desiertas y la muerte danzaba en las calles de la ciudad. La lámpara del califato abasí se había apagado, y Bagdad, centro del conocimiento y la sabiduría, se había convertido en un montón de escombros.Hulagu Khan instaló su gran campamento a las afueras de la ciudad. Hileras de tiendas, soldados armados y una atmósfera de miedo tal que hasta un pájaro pensaba antes de volar. Desde este campamento, envió un mensaje a Bagdad:“El mayor erudito de la ciudad debería venir a mí”.Este mensaje se extendió como un rayo por la ciudad. La gente quedó conmocionada. Eruditos, juristas, eruditos del hadiz; todos sabían que Hulagu Khan era un sacerdote del poder, no del conocimiento. Ir a su corte equivalía a invitar a la muerte.Todos…

Read more

جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے…

Read more

ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…

Read more

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے 🔘 اسپین کا جنوبی علاقہ  اندلس آج بھی یورپ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی مٹی میں آٹھ صدیوں تک اسلامی تمدن کی خوشبو بسی رہی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے مسلمانوں نے الاندلس  کا نام دیا، اور جہاں 711ء سے 1492ء تک تقریباً 781 سال تک اسلامی حکمرانی قائم رہی۔ یہ دور نہ صرف فتوحات کا ہے بلکہ علم، فن، تعمیرات اور رواداری کا بھی شاندار باب ہے۔ 🔘 یہ سب 711ء میں شروع ہوا جب  طارق بن زیاد  نے موسیٰ بن نصیر کے حکم پر افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کی۔ ویزی گوتھ بادشاہ راڈرک (رودرگو) کو وادی لکہ میں فیصلہ کن شکست دی۔ طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا: “دشمن سامنے ہے اور پیچھے سمندر!”۔ اس کے بعد چند ہی…

Read more

‏چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ پینے آجاتا۔۔ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر جان چھڑانا…

Read more

ابن بطوطہ‘‘میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ بحر انٹلا نٹک میں ایک مرتبہ طوفان کی وجہ سے عربوں کا ایک جہاز ٹوٹ گیا ،سمندر کی موجوں نے اسے برباد کردیا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک عرب کو جزیرہ کی طرف پہونچا دیا وہ آبادی میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ پوری بستی غیر مسلموں سے آباد ہے ایک غریب کے جھونپڑے میں فروکش ہوئے کچھ مدت کے بعد گھر والے غمگین اور شکستہ دل تھے ، عرب مہمان نے اپنے محسن مالک ِمکان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ہر سال سمندر سے ایک بلا آتی ہے اور بستی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس بلا کو ٹالنے کے لیے ایک رسم ادا کی جاتی ہے کہ پوری بستی میں سے ایک حسین و جمیل لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے سمندر کے کنارے ایک مندر میں رات میں چھوڑ آتے ہیں لڑکی بلا کی بھینٹ چڑھ…

Read more

2320/3786
NZ's Corner