Author Archives: NZ's Collection

ایک صاحب نے مزاحیہ قصہ سنایا کہ😅😅😅آج سے تیس چالیس سال پہلے دیہات میں شلوار، جسے عرف عام میں ستھنڑ کہا جاتا تھا، کا رواج کم ہی ہوتا تھا۔ دھوتی چادر پہننا عام تھا، اور کسی کو ملازمت کی مجبوری سے یہ پہننا بھی پڑتی تھی تو گھر آتے ہی سب سے پہلے شلوار سے جان چھڑائی جاتی۔ بس یوں سمجھیے کہ شلوار کی وہی حیثیت تھی جو یوسفی کے بقول نکٹائی کی ہے۔ مرشد کے بقول ٹائی کا ایک ہی فائدہ سمجھ میں آتا ہے کہ جب اتارو تو بہت سکون ملتا ہے۔ سب سے زیادہ اس موئی شلوار سے تنگ پرائمری سکول ماسٹر ہوا کرتے تھے کہ سرکار کی طرف سے سخت ہدایات تھیں کہ دوران ڈیوٹی شلوار پہنی جائے۔ اب سرکاری احکامات کی مجبوریاں وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں سرکار سے پالا پڑا ہے۔ لیکن جہاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے وہاں راستہ نکالنا بھی آنا…

Read more

A very stingy Seth was shouting at his employee:“Oh! You people waste a lot of electricity. If any fan or light is seen running unnecessarily after today, I will deduct your salary!” The employee was scared. The next day, Seth came home and saw that the employee was hanging upside down in the dark. Seth was surprised and asked: “Oh! What are you doing? And why is the light off?” The employee replied while hanging upside down: “Seth! You yourself had told me to save electricity. A 10 rupee coin had fallen from my pants pocket, I had to turn on the light to find it… So I thought of hanging upside down so that the coin would fall down from my pocket by itself, and the electricity would not be used!” Seth Sahib’s eyes filled with tears (not of joy, but of shock) and he said: “Well done, son!……

Read more

Un Seth muy tacaño le gritaba a su empleado:“¡Ay! ¡Gastas un montón de electricidad! Si ves algún ventilador o luz encendido innecesariamente después de hoy, ¡te descontaré el sueldo!” El empleado estaba asustado. Al día siguiente, Seth llegó a casa y vio al empleado colgado boca abajo en la oscuridad. Seth se sorprendió y preguntó: “¡Ay! ¿Qué haces? ¿Y por qué está apagada la luz?” El empleado respondió colgado boca abajo: “¡Seth! Tú mismo me dijiste que ahorrara electricidad. Se me cayó una moneda de 10 rupias del bolsillo del pantalón, tuve que encender la luz para encontrarla… Así que pensé en colgarme boca abajo para que la moneda cayera sola del bolsillo y no se gastara electricidad.” A Seth Sahib se le llenaron los ojos de lágrimas (no de alegría, sino de sorpresa) y dijo: “¡Bien hecho, hijo!… ¿Pero quién pagará este ‘ventilador’ que se mueve y se lleva…

Read more

ایک بہت ہی کنجوس سیٹھ اپنے ملازم پر چلا رہا تھا:“اوئے! تم لوگ بہت بجلی ضائع کرتے ہو۔ آج کے بعد اگر کوئی پنکھا یا لائٹ فضول چلتی نظر آئی تو میں تنخواہ کاٹ لوں گا!” ملازم ڈر گیا۔اگلے دن سیٹھ صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ملازم اندھیرے میں الٹا لٹکا ہوا ہے۔ سیٹھ نے حیران ہو کر پوچھا: “اوئے! یہ کیا کر رہے ہو؟ اور لائٹ کیوں بند ہے؟” ملازم نے الٹے لٹکے لٹکے جواب دیا: “سیٹھ صاحب! آپ ہی نے تو کہا تھا بجلی بچاؤ۔ میری پینٹ کی جیب سے 10 کا سکہ گر گیا تھا، اسے ڈھونڈنے کے لیے لائٹ جلانی پڑتی۔۔۔ اس لیے میں نے سوچا کہ الٹا لٹک جاؤں تاکہ وہ سکہ خود ہی جیب سے نیچے گر جائے، اور بجلی بھی نہ جلے!” سیٹھ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے (خوشی کے نہیں، صدمے کے) اور بولے: “شاباش بیٹا!۔۔۔ لیکن یہ جو…

Read more

بنی اسرائیل کی روایات کے متعلق مشہور ہے کہ نہ تو انہیں سچ مانیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ جھوٹی ہوں) اور نہ ہی انہیں جھٹلائیں (کیونکہ ہوسکتا ہے وہ سچی ہوں)تاہم ایک بات ضرور ہے کہ بعض باتیں واقعی اس لائق ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھا جائے۔ ایسی ہی ایک دلچسپ روایت پیشِ خدمت ہے:کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا: “مجھے ایک بھیڑ دے دو!” چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”بھیڑیا بولا:“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”چرواہے نے کہا:“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”بھیڑیا ہنسا اور بولا:“جب تک تم واپس…

Read more

خلیفۂ بغداد ہارون الرشید کے درباری حکیموں میں ایک نصرانی طبیب بھی تھا، جو بادشاہ کا بہت ہی معتمد اور منہ چڑھا ہوا تھا۔ ایک دن اس نے برسرِ دربار ایک جید عالم علی بن حسین بن واقد سے کہا کہ تمہاری کتاب قرآنِ شریف میں علمِ طب کا کہیں کوئی ذکر نہیں، حالانکہ تمام علوم میں سب سے زیادہ ممتاز اور بلند مرتبہ دو ہی علم ہیں: ایک علمُ الادیان اور دوسرا علمُ الابدان۔ علی بن حسین نے اس کے جواب میں برجستہ فرمایا: کیا تمہیں خبر ہے کہ پورا علمِ طب خداوندِ قدوس نے قرآنِ مجید کی صرف آدھی آیت میں جمع فرما دیا ہے؟نصرانی طبیب نے حیران ہو کر پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟علی بن حسین نے فرمایا: ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾یعنی کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو۔ یہ سن کر نصرانی طبیب ہکا بکا رہ گیا۔ پھر کہنے لگا: اچھا یہ بتاؤ کہ…

Read more

ایک گاؤں میں غریب فِیقاء موچی رہتا تھا ۔جو ایک درخت کے نِیچے اپنی لکڑی کی پیٹی رکھ کر لوگوں کی جُوتئیاں مرمّت کرتا تھا ۔ بیچارے کا گُزر بٙسّر مُشکل سے ھوتا تھا ۔فِیقے کے پاس رہنے کو نا گھر تھا ،نا بیوی تھی ، نا بچے تھے ۔ صرف ایک چادر ، ایک تکیّہ اور ایک لکڑی کی پیٹی اُس کی کُل مٙلکِیّت تھی ۔ جب رات ہوتی تو فِیقا ایک بند سکُول کے باہر چادر بِچھاتا تکیّہ رکھتا اور سو جاتا ۔ ایک دِن صُبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا ۔فیقے کی آنکھ کُھلّی تو ہر طرف شور و غُل تھا ۔لوگ اپنا اپنا سامان گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے ۔فیقا یہ مٙنظر دیکھ رہا تھا ۔وہ اُٹھا اور سکُول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا ۔ چادر بچھائی دِیوار کے ساتھ تکیّہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے…

Read more

There was an old farmer in a village. He had a beautiful horse that he used to work in the fields. One day his horse ran away. The villagers came and said:“How unfortunate you are!”The old farmer smiled and said:“Do you know whether this is unfortunate or fortunate?”A few days later, the same horse returned, and brought three wild horses with it.The villagers were surprised and said:“How fortunate you are!”The old farmer smiled again:“Do you know whether this is fortunate or unfortunate?”🤔🤔The next day, the farmer’s son was trying to tame one of the wild horses when he fell and broke his leg.The villagers came again:“How unfortunate!”The farmer replied again:“Do you know?”🤔🤔A few weeks later, the king started a war and all the young men of the village were taken to the army. But since the farmer’s son was injured, he survived.Now the villagers said:“Really! You have a very good…

Read more

Había un viejo granjero en un pueblo. Tenía un hermoso caballo que usaba para trabajar en el campo. Un día, su caballo se escapó. Los aldeanos vinieron y le dijeron: “¡Qué desgraciado eres!”. El viejo granjero sonrió y dijo: “¿Sabes si esto es desgraciado o afortunado?”. Unos días después, el mismo caballo regresó, trayendo consigo tres caballos salvajes.Los aldeanos, sorprendidos, dijeron: “¡Qué suerte eres!”. El viejo granjero sonrió de nuevo: “¿Sabes si esto es afortunado o desafortunado?”. Al día siguiente, el hijo del granjero intentaba domar uno de los caballos salvajes cuando se cayó y se rompió una pata. Los aldeanos volvieron a venir: “¡Qué desgraciado!”. El granjero respondió de nuevo: “¿Lo sabes?”. Unas semanas después, el rey inició una guerra y todos los jóvenes del pueblo fueron llevados al ejército. Pero como el hijo del granjero resultó herido, sobrevivió.Los aldeanos dijeron:“¡De verdad! ¡Qué suerte tienes!”.El viejo granjero simplemente sonrió.…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے:“کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!”بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا:“کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟”چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے:“کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!”بوڑھا کسان پھر مسکرایا:“کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟”🤔🤔اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔گاؤں والے پھر آئے:“کتنی بدقسمتی ہے!”کسان نے پھر وہی جواب دیا:“کیا معلوم؟”🤔🤔کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ…

Read more

ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ…

Read more

ایک بہت بڑا عالم (بہت پڑھا لکھا شخص) دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوا۔کشتی چلانے والا ایک سادہ سا دیہاتی “ملاح” تھا۔جب کشتی بیچ دریا میں پہنچی تو عالم نے اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے ملاح سے پوچھا:“بڑے میاں!… کیا تم نے کبھی ‘تاریخ’ (پرانے زمانے کے قصے) پڑھی ہے؟” ملاح نے عاجزی سے کہا:“نہیں جناب!… میں تو ان پڑھ ہوں، مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔” عالم نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا:“بڑے افسوس کی بات ہے!… تم نے اپنی ‘آدھی زندگی’ برباد کر دی۔ انسان کو تاریخ کا علم تو ہونا چاہیے۔” تھوڑی دیر بعد عالم نے پھر پوچھا:“اچھا یہ بتاؤ… کیا تم نے کبھی ‘جغرافیہ’ (زمین اور نقشوں کا علم) پڑھا ہے؟” ملاح نے شرمندہ ہو کر کہا:“نہیں سرکار!… میں نے تو اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھی۔” عالم نے طنزیہ انداز میں کہا:“تمہاری تو ‘تین چوتھائی’ (75 فیصد) زندگی برباد ہو گئی…

Read more

سسرال کی دعوت اور “شرمیلا” داماد 🍗 یہ قصہ ہے نصیر صاحب کا، جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ نصیر صاحب ویسے تو ماشاءاللہ سے “کھاؤ پیو” قسم کے انسان تھے، لیکن سسرال میں اپنی شرافت اور نفاست کا رعب جمانے کے لیے انہوں نے “کم گو اور کم خور” بننے کی اداکاری شروع کر رکھی تھی۔ ایک بار انہیں سسرال سے خصوصی دعوت آئی۔ ساس صاحبہ نے داماد کے لیے دیسی گھی کے پراٹھے، کڑاہی گوشت، مچھلی اور کھیر کا اہتمام کیا۔ دسترخوان پر بیٹھ کر نصیر صاحب کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے، لیکن شرم کے مارے انہوں نے ایسے منہ بنایا جیسے انہیں بھوک ہی نہ ہو۔ساس نے پیار سے کہا: “نصیر میاں! ایک پراٹھا اور لیں نا۔”نصیر صاحب نے ایک چھوٹی سی نوالہ لیتے ہوئے کہا: “جی نہیں امی جی! بس آدھا پراٹھا ہی کافی ہے، میرا معدہ بہت نازک ہے، زیادہ نہیں کھا…

Read more

ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے اچانک لات مار کر اگلے جہاں پہنچا دیا۔کچھ ماہ بعد اس نے دوسری شادی کی اور نئی دلہن لے آیا۔چند دن گزرے ہونگے کہ نئی دلہن بھی گدھے کی زد میں آ گئی۔ گدھے نے موقع غنیمت دیکھتے ہوئے دولَتّی رسید کی اور اس بیچاری کا کام بھی تمام ہوا۔ لوگ اس ڈبل رنڈوے کے ہاں تعزیت کے لئے آنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے نوٹ کیا کہ جب عورتیں دوران تعزیت اس شخص سے کوئی سوال کرتی ہیں تو وہ شخص سر کے اشارے کے ساتھ “ہاں” کہتا ہے۔ اور جب مرد سوال کرتے ہیں تو وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے “نہیں” کہتا ہے۔ اس خاص حرکت پر نظر رکھنے والے شخص نے رنڈوے صاحب سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا، عورتیں سوال کرتے ہوئے پوچھتی ہیں: “پھر شادی کرو گے؟”…

Read more

ایک بار تعلیم کے محکمے کا ایک “بڑا افسر” معائنے (چیکنگ) کے لیے ایک گاؤں کے مدرسے میں پہنچا۔افسر نے ایک کلاس (جماعت) میں جا کر بچوں کا امتحان لینا چاہا۔اس نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور تاریخ کا ایک سوال پوچھا:“بیٹا! کھڑے ہو جاؤ اور یہ بتاؤ کہ ‘سومنات کا دروازہ’ کس نے توڑا تھا؟” بچہ سوال سنتے ہی گھبرا گیا، اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ روتے ہوئے بولا:“صاحب جی!… اللہ کی قسم، میں نے نہیں توڑا!… میں تو آج مدرسے آیا ہی دیر سے تھا، مجھے نہیں پتہ کس نے توڑا ہے۔” افسر یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے غصے سے “استاد” کی طرف دیکھا اور کہا:“ماسٹر صاحب! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں تاریخ کا سوال پوچھ رہا ہوں اور یہ اپنی صفائیاں دے رہا ہے؟” استاد نے اپنی عینک ٹھیک کی، چھڑی میز پر رکھی اور بڑے…

Read more

شیخ ؒ کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ ہر وقت اپنا احسان جتاتا رہتا ہے۔ کبھی کہتا ہے میں کھلاتا ہوں، میں پلاتا ہوں، اور کبھی کہتا ہے میں ہی رزق فراہم کرتا ہوں۔ اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو کوئی طاقت ہمیں کھانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ سوچ کر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ جب بیوی بچوں نے زیادہ پریشان کیا تو گھر چھوڑ کر ایک پرانے قبرستان میں وہ جا پہنچے۔ شام ہوئی تو ایک صاحب اپنی منت پوری کرنے کیلئے قبرستان میں مَوجود ایک مزار پر حاضر ہوئے۔ فاتحہ کے بعد انہوں نے شیخ کو بھی تبرّک دیا۔ شیخ کے انکار اور اس شخص کے اصرار نے عجیب صورتِ حال پیدا کر دی۔ وہ شخص یہ سمجھ کر کہ شیخ کوئی دیوانے ہیں، ایک پُڑیا میں کچھ لڈو لپٹیے اور ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دئیے کہ جب اس شخص…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

ایک رات سلطان محمود غزنویؒ (متوفی 421ھ / 1030ء) آرام فرما رہے تھے کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند جیسے روٹھ گئی ہو۔ کروٹیں بدلتے رہے، دل بے چین رہا۔آخر خدا ترس بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہو، یا کوئی بھوکا فقیر دروازے پر کھڑا ہو — اسی لیے نیند چھن گئی ہے۔”غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو۔غلام لوٹا اور عرض کیا:“جہاں پناہ! کوئی نہیں ہے۔”سلطان نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر بے چینی بڑھتی گئی۔ دوبارہ حکم دیا کہ اچھی طرح تلاش کرو۔ غلاموں نے چھان مارا، مگر کوئی نہ ملا۔اب سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید تلاش میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ خود تلوار لے کر نکلے۔ تلاش کرتے کرتے ایک مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندر سے آہستہ آہستہ سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔قریب جا کر دیکھا…

Read more

چار بھائی تھے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوشی سے رہتے تھے، مگر ایک دن ان کی بیویوں میں آپس میں لڑائی ہو گئی۔ بات اتنی بڑھی کہ بھائی بھی ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے۔ ہر ایک کہنے لگا، “قصور تمہاری بیوی کا ہے!”آخرکار ایک بھائی کو سب نے قصوروار ٹھہرا دیا۔ غصے میں آ کر انہوں نے اس بے چارے بھائی کو بھی مارا، اس کی بیوی کو بھی ڈانٹا، اور یہاں تک کہ اس کا گھر بھی جلا دیا۔ گھر کا سارا سامان اور جانور بھی جل کر راکھ ہو گئے۔وہ مظلوم بھائی بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلا۔ اس نے ایک جلے ہوئے جانور کی کھال اتاری اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ اس نے سوچا، “اب رات کہاں گزاروں؟”پھر اس نے ایک درخت دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسی کے نیچے رات گزار لے گا۔ اچانک اس نے…

Read more

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا: “اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟” حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے” یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون…

Read more

2300/3786
NZ's Corner