Tag Archives: ” “hope

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے 🔥❤️آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخصحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جوجہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔ اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ…

Read more

بہت پہلے ایک بزرگ حضرتِ شَمْعُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے ، جنہوں نے ہزار مہینے یا ہزار سال اس طرح عِبادت کی کہ رات کو عبادت کرتے، دن میں روزہ بھی رکھتے اور اللہ پاک کے دین کو عام کرنے کے لیے ،غیر مسلموں سے جہاد (بھی)کرتے(یعنی لڑتے)، طاقتور اتنے تھے کہ لوہے(iron) کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ غیر مسلموں نے آپ کو شہید (یعنی قتل)کرنے کی بہت کوشش کی مگروہ قتل نہ کر سکے تو انہوں نے بہت سے مال (wealth)کا لالچ دے کر آپ کی بیوی کو کہا کہ جب یہ سو جائیں تو اُن کو باندھ کرہمیں بتا دینا۔جب آپ سو گئے تو بیوی نے رسیوں سے آپ کو باندھ دیا، آپ کی آنکھ کھلی، آپ نے اپنے جسم کو ہلایا تو ساری رسیّاں ٹوٹ گئیں۔ پھر اپنی بیوی سےپوچھا: مجھے کِس نے باندھ دیا تھا؟ کہنے لگی کہ میں تو آپ کی طاقت دیکھ…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا “شیوانا” (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. “میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں..” شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

ایک استاد تھا۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا : اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔استاد بھی عقل مند تھے۔ طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو،میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا: اس موتی کی…

Read more

ایک نامی گرامی شاعر گزرا ہے۔ جو پہلے درجہ کا فیاض اور رحمدل انسان تھا ۔ ایک دن کا ذکر ہے ۔ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ شہر سے باہر کسی سبزہ زار کی سیر کر رہا تھا ۔ دفعتہ ایک ہٹا کٹا آدمی بڑی تیزی کے ساتھ ایک جھاڑی سے نکلا اور شاعر کے سامنے پستول تان کر کھڑا ہو گیا بولا یہ جو کچھ جمع جتھا تمہارے پاس ہے ۔ یہاں رکھ دو ورنہ ابھی فائر کرتا ہوں ۔ شاعر اس آدمی کو دیکھ کر گھبرا گیا اور اُس کی بیوی ڈر کے مارے بیہوش ہو کر گر پڑی ۔ شاعر نے اپنی جیب سے روپیوں کی تھیلی نکالی اور ڈاکو کی طرف پھینک دی اُس آدمی نے تھیلی اٹھائی اور شاعر کی طرف احسان مندا نہ نگاہوں سے دیکھتا ہوتا تیزی سے ایک طرف کو چلا گیا اتفاقاً جب ڈاکو بھاگ رہا تھا اُسی وقت شاعر…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔ ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔” پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔ بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔” وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔ 11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔…

Read more

چنگیز خان جلال الدین خوارزمی کی عزت کرتا تھا اس نے اس میں ایک بہادر اور دلیر دشمن دیکھا اس پر قدم رکھتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا سب سے سنگین اعتراف کیا کہ “وہ ابھرتے ہوئے سورج کی طرح ہے”  منگولوں کے ایک بڑے لشکر کو جلال الدین نے Battle of Parwan میں شکست دی اس جنگ میں منگولوں کا کمانڈر Shigi Qutuqu تھا لیکن سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی رہی ہے کہ جلال الدین نے چنگیز خان کو شکست دی لوگوں نے تحقیق کے بغیر بہت شیئر کی لیکن میں نے اس وقت بھی ایک الگ سے پوسٹ میں واضح کیا تھا کہ Battle of Parwan میں جلال الدین کو جو فتح حاصل ہوئی اس میں مدمقابل منگول کمانڈر Shigi Qutuqu تھا  منگولوں کی ابتدائی فتوحات کے دور میں یہ واحد ایک بڑی شکست تھی جس سے آپ جلال الدین الخوارزم…

Read more

*۔ایک آدمی پہلی دفعہ سسرال گیا۔ سسرال والے بڑے بخیل تھے۔* جب کھانے کا وقت ہوا تو وہ آپس میں بیٹھ کر بات شروع ہوگئے۔ ساس: مسور کی دال بناتے ہیں، ہاضمے کے لیے اچھی ہوتی ہے۔سالی: نہیں نہیں، ساگ پکا لیتے ہیں، کھیتوں سے آرام سے مل جاتا ہے۔ساس: چھوڑو، آلو پکا لو۔سالا: آلو مہنگے ہیں، بینگن بنا لیتے ہیں۔دولہا جو کافی دیر سے “ہاں ہاں” کر رہا تھا اچانک بولا:“آپ لوگ میرا گھوڑا ذبح کرکے وہ پکا لیں۔”سالا: تو دولہا بھائی! آپ واپس کیسے جائیں گے؟؟؟دولہا: کوئی بات نہیں، میں اس مرغے پر بیٹھ کر چلا جاؤں گا جو سامنے پھر رہا ہے۔

1260ء کا موسم گرما تھا۔مصر میں ہوا تک خوف اور بے یقینی کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ منگولوں کی برق رفتار پیش قدمی نے پورے مشرق کو لرزا دیا تھا۔ بغداد کی تباہی کے بعد اب شام بھی ان کے پنجوں میں تھا۔ ہر طرف یہی خبریں تھیں: “منگول آ رہے ہیں، اور وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتے۔”مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قلعے میں ایک اضطرابی فضا تھی۔ نوجوان سلطان سیف الدین قطز اپنے امیروں کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ایک طرف سفیروں کے ذریعے ہلاکو خان کی ڈراؤنی اطاعت کی درخواست پڑی تھی، تو دوسری طرف شام سے آئے ہوئے مہاجرین کے چہروں پر تباہی کے آثار تھے۔ایک روز دربار میں ایک طویل خاموشی کے بعد قطز نے اٹھ کر اعلان کیا:”میں کسی غلام کی طرح منگولوں کی اطاعت نہیں کروں گا۔ ہم جنگ کریں گے۔ فتح یا شہادت!”ان کے ایک جرنیل، ظہیر بیبرس، جن کی آنکھوں…

Read more

سن 1922 میں مصر کی خاموش ریت نے ایک ایسا راز اُگلا، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ راز تھا فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ، جو تقریباً تین ہزار سال سے زمین کے اندر خاموشی سے سو رہا تھا۔ جب ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے اس مقبرے کا دروازہ کھولا، تو کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ دریافت تاریخ کے ساتھ ساتھ خوف کی نئی داستان بھی لکھ دے گی۔ کمرے کے اندر سونا، زیورات، نایاب مجسمے اور دیواروں پر کندہ تحریریں موجود تھیں۔ سب کچھ اتنا محفوظ تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو انسانی آنکھ سے چھپا ہوا تھا، مگر اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ مقبرہ کھلنے کے صرف چند ہفتوں بعد، اس مہم کے سرپرست لارڈ کارناروَن (Lord Carnarvon) اچانک بیمار…

Read more

”گھوڑا اور گدھا دونوں اپنے مالک کا سامان اٹھاۓ جا رہے تھے۔ گدھے نے درد ناک آواز میں کہا: ” بھائ گھوڑے ! میرا کچھ بوجھ اٹھا لو ورنہ میں اس بوجھ تلے دب کر مرم جاؤں گا” گھوڑے نے حقارت اور نفرت سے گدھے کی طرف دیکھا اور کوئ جواب دیئۓ بغیر خاموشی سے چلتا رہا، تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد گدھا واقعی زمین پر گرا اور مر گیا۔ مالک نے جب دیکھا کہ گدھا مر گیا ہے تو اس نے وہ سارا بوجھ گھوڑے پر لاد دیا۔ اب گھوڑے کو پچھتاوا ہوا اور سوچنے لگا کہ میں گدھے کی بات مان لیتا تو نہ گدھا مرتا اور نہ ممجھے سارا بوجھ اٹھانا پڑتا۔“

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی کوشش کی وہ  ہر رشتہ سے پہلی گفتگو کے بعد انکار کر دیتا تھا۔  آخر کار، والد نے بیٹے کو تنگ آ کر محل سے نکال دیا۔ بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔ اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔ مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم بکریاں چرنے نہ لے جاؤ، ہم کچھ دنوں کے لیے سفر کریں گے…

Read more

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

40/99
NZ's Corner