Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

ایک شہری لڑکی جو پہلی بار گاؤں میں آئی تھی۔ اس نے ایک دیہاتی شخص سے پوچھا،“یہ جو تمہاری گائے ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں۔ دیہاتی نے جواب دیا،“بعض کے لڑائی میں ٹوٹ جاتے ہیں، بعض کے ہم نکال دیتے ہیں، کچھ کے قدرتی طور پہ ہی نہیں ہوتے لیکن جس کی طرف تم اشارہ کر رہی ہو، وہ بہرحال گدھا ہے۔”😅😅😅 یہ سچ ہے کہ کئی شہری لوگ جب پہلی بار دیہاتی ماحول کو دیکھیں تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں۔ میں ایک دیہاتی دیسی بندہ ہوں۔ لگ بھگ بارہ سال پہلے کی بات ہے کہ میں اسلام آباد ایئرپورٹ اہنے کسی عزیز کو چھوڑنے ساتھ چلا گیا۔ واش روم جانے کی حاجت محسوس ہوئی تو وہاں مجھے سمجھ ہی نہ آئے کہ دروازے کو کُنڈی کیسے لگانی ہے۔ایک بندہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑا اور بڑبڑایا،ہاہاہاہا… دیسی فُولز میں نے کہا،“پائین! تسیں وی کدی اساں…

Read more

عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹے عطا کیے۔ قبیلے میں اس کی شان بلند ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں بیٹے طاقت، عزت اور فخر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔مگر جب دسویں بار اس کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا، تو گویا اس پر بجلی گر گئی۔ بجائے شکر کے، اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخ اٹھا:“یا لیلی الأسود! یا لیلی الأسود!”(ہائے میری سیاہ رات، اے میرے بدنصیب دن!)اس نے اپنی بے چاری بیوی سے منہ موڑ لیا اور اس ننھی کلی کو اپنی لیے منحوس سمجھ بیٹھا۔ اس کی نگاہ میں بیٹی جرم بن گئی اور اس کی ماں مجرم۔ بیٹی کے وجود کو گویا اپنے لیے عار سمجھا۔وقت گزرتا گیا۔ مہ و سال کی گردش جاری رہی۔…

Read more

یہ ایک بادشاہ کے عہد کی بات ہے۔ایک دن وہ کسی بات پر بے حد خوش ہوا تو اس نے ایک عام سے شخص کو بلا کر کہا: “سورج غروب ہونے تک تم جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لو گے، وہ ساری زمین تمہاری ہو گی۔” مگر ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھ دی:“اگر سورج ڈوبنے سے پہلے دائرہ مکمل نہ کر سکے تو تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔” یہ سن کر اس شخص کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ فوراً چل پڑا، بڑے ارمانوں کے ساتھ، بڑے خوابوں کے ساتھ۔چلتے چلتے ظہر کا وقت آ گیا۔ دل نے آہستہ سے کہا،“اب واپسی کا رخ کر لینا چاہیے، دائرہ کافی بن چکا ہے۔” مگر نفس نے سرگوشی کی:“ابھی نہیں… تھوڑا سا اور۔ جتنی زیادہ زمین ہو گی، اتنا فائدہ ہو گا۔” وہ آگے بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک دلکش پہاڑ سامنے…

Read more

شیر نے لومڑی سے کہا “میرے لیے کھانا لاؤ، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” لومڑی نے چال چلی اور اس نے گدھے سے کہا “شیر تمہیں بادشاہ بنانا چاہتا ہے، آؤ میرے ساتھ چلو۔” جب گدھا پہنچا تو شیر نے حملہ کر دیا اور گدھے کے کان کاٹ ڈالے تو گدھا بدک کر بھاگ نکلا۔ گدھے نے روتے ہوئے لومڑی سے کہا “تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے “ لومڑی بولی “بیوقوف مت بنو اس نے تو صرف تمہارے کان اس لیے کاٹے ہیں تاکہ وہ تمہارے سر پر تاج رکھ سکے۔” گدھا واپس آ گیا اور شیر نے اس پے دوبارہ حملہ کیا اب کی بار اس کی دُم کاٹ ڈالی تو گدھا پھر کسی طرح سے بھاگ نکلا اور لومڑی کو کہا تم نے پھر مجھ سے دھوکا کیا ہے لومڑی نے کہا “پاگل، شیر نے تمہاری دم اس لیے کاٹی تاکہ تم تخت پر آرام سے…

Read more

1803 میں، جارجیا کے ساحل کے قریب، 75 ایگبو مردوں اور عورتوں کے ایک گروہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سمندر اور انسانی تاریخ، دونوں کو ہلا کر رکھ دیا: زنجیروں میں جینے کے بجائے، آزاد ہو کر مرنا۔ اپنی باغی طبیعت کی وجہ سے، ایگبو غلاموں کے خریداروں کے لیے ایک خوف کی علامت تھے، جو جانتے تھے کہ ان کے قیدی مزاحمت کریں گے، فرار ہونے کی کوشش کریں گے، اور یہاں تک کہ غلامی پر موت کو ترجیح دیں گے۔ اس دن، انہیں ایک بدنام اور ظالم چاول کے کھیت میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ جہاز کے نچلے حصے میں، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، وہ سب ایک ساتھ گانے لگے—ایک ایسا گیت جو صرف موسیقی نہیں تھا، بلکہ بغاوت کا ایک اجتماعی عہد تھا۔جہاز کے ملاحوں نے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی، لیکن ان کی آوازیں ایک اجتماعی گرج کی طرح بلند ہوئیں،…

Read more

ایک دن بغداد کے قریب دریائے دجلہ کے کنارے ایک نوجوان بیٹھا رو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے، اور دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ کوفہ سے آیا تھا اور اس نے ایک بہت بڑا گناہ کر لیا تھا۔ اس نے شراب پی تھی اور زنا کیا تھا۔ اب اسے اپنی موت کا ڈر تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کیا منہ دکھائے گا۔اچانک اس نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آ رہا ہے۔ سادہ کپڑے، چہرے پر نور، آنکھوں میں رحمت۔ وہ امام ابوحنیفہؒ تھے۔ نوجوان نے انہیں پہچان لیا اور شرم سے زمین میں گھس جانا چاہا، مگر امام صاحب اس کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور بڑی نرمی سے پوچھا:”اے نوجوان! کیا بات ہے؟ کیوں رو رہے ہو؟“نوجوان نے سر اٹھایا اور روتے ہوئے کہا:”یا امام! میں نے…

Read more

بنی اسرائیل کی ایک جماعت جو حضرت حزقیل علیہ السلام کے شہر میں رہتی تھی، شہر میں طاعون کی وبا پھیل جانے سے ان لوگوں پر موت کا خوف سوار ہو گیا اور یہ لوگ موت کے ڈر سے سب کے سب شہر چھوڑ کر ایک جنگل میں بھاگ گئے اور وہیں رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی یہ حرکت بہت زیادہ ناپسند ہوئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک عذاب کے فرشتہ کو اس جنگل میں بھیج دیا۔ جس نے ایک پہاڑ کی آڑ میں چھپ کر اور چیخ مار کر بلند آواز سے یہ فرما دیا کہ موتوا یعنی تم سب مر جاؤ اور اس مہیب اور بھیانک چیخ کو سن کر بغیر کسی بیماری کے بالکل اچانک یہ سب کے سب مر گئے جن کی تعداد ستر ہزار تھی۔ان مردوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ ان کے کفن و دفن کا کوئی…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں🍁 ایک گانا گانے والا آیا اس نے اتنا اچھا گانا گایا کہ بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے وزیر سے کہا اتنا اچھا گا رہا ہے اس کو ہیرے دے دو ، گانا گانے والا اور گانے لگا بادشاہ نے خوش ہو کر اعلان کیا اس کو موتی دے دو ، گانے والا اور سُر لگانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو اشرفیاں دے دو ، 🍁اشرفیوں کا سُن کر وہ اور اچھا گانے لگا بادشا ہ نے کہا اس کو جاگیر دے دو ، بادشاہ نے خوش ہو کر سونے چاندی سب کا اعلان کر دیا ، وہ خوش ہو کر گاتا گیا گاتا گیا ، گانا ختم ہوا اپنے گھر واپس گیا اور بیوی سے کہنے لگا بادشاہ نے آج میرے گانے کی صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر خوش ہو کر سونا چاندی اور جاگیر دینے کا اعلان کیا ہے ، 🍁بیوی…

Read more

کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ داہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا اور پریمل کو محمد بن قاسم نے راجہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پاس دارالخلافہ بغداد روانہ کر دیا۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جب بڑی بیٹی سوریا سے خلوت کا ارادہ کیا تو سوریا نے چال چلی اور خلیفہ سے کہا کہ محمد بن قاسم پہلے ہی اُن کے ساتھ خلوت اختیار کر چکا ہے چنانچہ وہ اب خلیفہ کے شایانِ شان نہیں رہیں۔غصے میں خلیفہ کو تحقیق کا ہوش نہیں رہا اور اُنھوں نے اسی وقت محمد بن قاسم کے نام پروانہ جاری کیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں خود کو کچی کھال میں سلوا کر دارالخلافہ کو واپس ہوں۔محمد بن قاسم نے ایسا ہی کیا اور دارالخلافہ کے راستے میں ہی دو دن بعد اُن…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیطان اور ایک عابد کے درمیان تکرار ہو گئی۔ عابد کا مؤقف تھا کہ ہر برائی کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے،جبکہ شیطان کا دعویٰ تھا کہ انسان خود ہی خرابی پیدا کرتا ہے۔وہ بولا:“میں تو صرف گانٹھ کھولتا ہوں، باقی کام انسان خود کر لیتا ہے۔” عابد یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔شیطان نے کہا:“ٹھہرو، میں تمہیں یہ بات ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔” وہ عابد کو ایک درخت کے پاس لے گیا، جہاں ایک گدھا بندھا ہوا تھا۔شیطان نے گدھے کی رسی کھول دی۔ گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔ جب کسان کی بیوی نے یہ منظر دیکھا تو وہ غصّے سے بے قابو ہو گئی اور اس نے گدھے کو ایک ڈنڈا مار دیا۔ ڈنڈا کچھ اس انداز اور شدت سے لگا کہ گدھے وہیں ڈھے کر مر گیا۔ گدھے کی لاش دیکھ…

Read more

*ظہیر الدین بابر* کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف *شیبانی خان* کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر…

Read more

ایک شخص نے بازار میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا غلام بیچ رہا ہے اور یہ آواز بھی لگا رہا ہے کہ یہ بہت اچھا غلام ہے، اس کے اندر اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں ہے کہ یہ کبھی کبھی چغلی کھاتا ہے، کسی شخص نے یہ آواز سنی تو اس نے سوچا کہ اس میں تو کوئی عیب نہیں ہے اور چغلی کھانا تو عام بات ہے، اس میں کیا خرابی ہے، لہذا اس غلام کو خرید لینا چاہئے ، چنانچہ اس نے سودا کر کے وہ غلام خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا، کچھ عرصے تک تو وہ غلام ٹھیک ٹھیک کام کرتا رہا، اس کے بعد اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا، چونکہ چغل خوری کے اندر وہ ماہر تھا ، اس لئے اس نے چغل خوری کے اندر اپنا کرتب دکھلایا اور سب سے پہلے وہ اپنی مالکہ کے پاس گیا اور اس…

Read more

کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔ ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئیاور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔ آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔اسے لگا یہ اسی کا ہے۔وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔ کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔ مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔ وہ بچہ ہر شام پوچھتا،“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟” مرغی…

Read more

احمقوں کی ریاست کا عظیم بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ جنگل میں شکار کرنے کیلئے نکلا ہوا تھا کہ بادشاہ کی نظر ایک خوبصورت  لڑکی پر پڑتی ہے جو اسی جنگل میں ہی لکڑیاں جمع کر کے اپنی گدھی پر ڈالنے میں لگی ہوتی ہے، بادشاہ اسے دیکھتے ہی فوراً اپنا دل ہاڑ بیٹھتا ہے اور کچھ سپاہیوں کو اس لڑکی کے بارے میں معلومات لینے کیلئے وہی چھوڑ کر باقی سپاہیوں کے ساتھ آگے کو چل دیتا ہے۔ دوسرے دن معلومات کے ملنے پر بادشاہ کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایک فقیر کی بیٹی ہے تو بادشاہ اس لڑکی کے ماں باپ کو کچھ پیسے اور سازو سامان دے کر اس سے شادی کر لیتا ہے اور خود کو بدنامی سے بچانے کیلئے سسرال والوں کو محل کی طرف رخ کرنے سے سختی سے منع کرتے ہوے کہتا ہے کہ اگر کچھ بھی آپ لوگوں کو چاہیے…

Read more

ایک بار جنگل میں خوفناک آگ لگ گئی۔ آگ کے خوف سے تمام جانور اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔ جنگل میں ایک چڑیا کا گھونسلہ بھی تھا۔ جب اس نے آگ دیکھی تو فوراً اُڑی اور جنگل کے قریب بہنے والی ندی کے کنارے جا پہنچی۔ وہ اپنی چونچ میں پانی کی چند بوندیں بھر لاتی اور واپس آ کر جنگل کی آگ پر ڈالتی۔ وہ یہ عمل بار بار کرتی رہی۔ اسی دوران شیر کی نظر اس پر پڑی۔ شیر نے طنزیہ انداز میں کہا،“اے نادان چڑیا! تیری یہ چند بوندیں کہاں اس خوفناک آگ کو بجھا سکتی ہیں؟” چڑیا نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا:“بات آگ بجھانے کی نہیں۔ بات اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ میری چند بوندیں جنگل کی آگ نہیں بجھا سکتیں، لیکن جب آخرت میں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گے کہ آگ لگی تھی تو تم نے…

Read more

ایک مولوی صاحب خوف خدا پر تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے،کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔اسی خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔ اگر دوسری طرف…

Read more

شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ “نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔” شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔” اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔ اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔…

Read more

کبوتر کی آنکھیں اور خود فریبی کا میٹھا زہر: کیوں ہم ‘کھٹے انگور’ کھا کر اپنی ناکامی چھپاتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی کبوتر کو خطرے کی حالت میں دیکھا ہے؟ جب ایک بھوکی بلی کبوتر کی تاک میں ہوتی ہے اور فاصلہ مٹ رہا ہوتا ہے، تو کبوتر اڑتا نہیں، نہ پنجے لڑاتا ہے۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اس کے ننھے سے دماغ میں ایک عجیب کیمیائی عمل ہوتا ہے جو اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ “اگر میں خطرے کو نہیں دیکھ رہا، تو خطرہ بھی موجود نہیں ہے۔”ہم اس معصوم پرندے کی سادہ لوحی پر مسکراتے ہیں۔ لیکن ذرا رکیے اور اپنے گریبان میں جھانکیے۔ کیا ہم انسان جو شعور، ادراک اور ‘اشرف المخلوقات’ ہونے کے دعویدار ہیں—اپنی نفسیاتی زندگی میں بالکل اسی کبوتر کی تقلید نہیں کر رہے؟ جب زندگی کے تلخ حقائق، معاشی بحران، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ یا اپنی نااہلی کا…

Read more

مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیاتتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے “خمار” کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی “روشنی” کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” #منقول

180/236
NZ's Corner