Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

ایک میراثی کی بھینس کو “مُنہ کُھر” کی بیماری ہو گئی، اس کے جبڑے کے نچلے حصے پر برا سا دانہ نکل آیا، اس نے گاؤں کے ایک سیانے بزرگ کو احوال سنایا تو بزرگ بولے،“کچھ عرصہ پہلے میری بھینس کو بھی ایسی بیماری ہو گئی تھی، میں نے تو اسکا منہ دو درختوں کے درمیان باندھا، ایک طرف قصائی کی گوشت کاٹنے والی لکڑی (مُڈھی) رکھی اور دوسری طرف سے کِلا ٹھوکنے والی لکڑ سے ایک بھرپور ضرب لگائی تھی، منہ کَھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا…” میراثی کو علاج مل گیا تھا اور فوراً مزید کوئی بات کیے گھر کی طرف بھاگ نکلا۔ جیسے مزید ایک لفظ بھی سننے کو رکا تو بھینس جیسے مر ہی جائے گی۔ اور جاتے ہی بھینس کو اسی طریقے سے باندھا اور ایک بھرپور ضرب بھینس کے گلے پہ لگائی، بدقسمتی سے ضرب اس قدر شدید لگی کہ بھینس مر گئی،…

Read more

ایک سبق آموز مزاحیہ کہانی – ضرور پڑھیے پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں…

Read more

#شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔ اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔ آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔ یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی، تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے، اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ، پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے، اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل…

Read more

یورپی ادب سے ماخوذ  کہانیایک زمین دار تھا، بہت امیر۔ گاؤں کی ساری اچھّی اور زرخیز زمینیں اس کی ملکیت تھیں۔ ان زمینوں کے سرے پر ایک ٹکڑا ایسی بنجر زمین کا تھا جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا تھا۔ زمیں دار نے سوچا، اس زمین سے کوئی فائدہ تو ہوتا نہیں، کیوں نہ اسے کسی غریب کسان کو دے کر اس پر احسان جتایا جائے۔ اگر اس کی محنت سے زمین اچھّی ہو گئی اور فصل دینے لگی تو پھر واپس لے لوں گا۔ زمین دار کے پاس بہت سے کسان کام کرتے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسا کسان چنا جس کے متعلق اسے یقین تھا کہ اگر کبھی زمین واپس لینی پڑے تو چپ چاپ واپس کر دے گا۔ زمیں دار نے کسان کو بلایا اور کہا ”میں اپنی زمین کا وہ ٹکڑا جو ٹیلے کے پاس ہے، تمہیں دیتا ہوں۔ میرا اس سے اب…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے جمعہ کا دن تھا خطیب صاحب ذرا لیٹ ہو گئے تو ایک دیوانہ ممبر پر خطبہ دینے پہنچ گیا۔لوگوں نے اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی مگر ایک ذمہ دار شخص نے انہیں منع کر دیا۔مجنون ممبر پرچڑھا اور خطبہ دینے لگا:“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سب کو دو (ماں اور باپ) سے پیدا کیا اور دو (جنسوں مرد و عورت) میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں سے کچھ کو مالدار بنایا تاکہ خدا کا شکر بجا لائیں اور کچھ کو فقیر چھوڑا تاکہ صبر کریں،مگر نہ تو امیر لوگ شکر کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی فقیر صبر کرتے دکھائی دیتے ہیں،سب پر خدا کی لعنت ہو…نماز جمعہ کے لیے صفیں سیدھی کر لو منافقو…! منقول دیوانہ انجانے میں ایسی بات کر گیا کہ روح تک جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔ ہم ہیں وہ مسلمان جو بات تو اللہ پر ایمان…

Read more

میری دادی ایک کہانی سنایا کرتی تھیں ۔کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں دو عورتیں رہا کرتی تھی ان دونوں عورتوں کی گائے نے ایک ہی دن بچہ دیا۔ ایک عورت کی گائے نے بچھڑا دیا جب کہ دوسری کے ہاں بچھڑی کی پیدائش ہوئی۔ جس عورت کے ہاں بچھڑا پیدا ہوا اس نے اب راتوں رات اپنے بچھڑے کو دوسری عورت کی بچھڑی کے ساتھ تبدیل کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں بچھڑا بچھڑی بڑے ہوتے گئے۔ جب بچھڑی بڑی ہو کر گائے بنی تو وقت آنے پر اس نے بھی بچہ جنا۔  پہلے زمانے میں رواج ہوتا تھا کہ گاؤں میں گائے کے پہلے دودھ سے بنی “بولی” ایک دوسرے کے گھر تحفے کے طور پر بھیجی جاتی تھی۔ اس عورت نے دوسری عورت کے گھر جب وہ بولی بھیجی تو اسے کھاتے ہی دوسری عورت نے فورا کہا کہ یہ گائے تواس کی…

Read more

یہ واقعہ جب تاریخ کے اوراق میں بکھرا ہوا ملتا ہے تو سولہویں صدی کے اوائل میں یورپ اور عثمانی سلطنت کے درمیان تعلقات کسی ایک سرحد یا ایک مسئلے تک محدود نہ تھے۔ بحیرہ روم سے لے کر بلقان، اناطولیہ سے لے کر ہنگری کے میدانوں تک، طاقت کا ایک خاموش مگر شدید مقابلہ جاری تھا۔ عثمانی سلطنت اس وقت محض ایک فوجی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک منظم ریاست، مضبوط معیشت، قانون، انتظامیہ اور مذہبی مرکزیت کی حامل تھی۔ سلطان سلیمان بن سلیم، جسے تاریخ نے القانونی کا لقب دیا، تخت نشین ہو چکا تھا۔ وہ ایک ایسا حکمران تھا جس کے قلم اور تلوار دونوں کو یکساں احترام حاصل تھا، جو جنگ سے پہلے قانون دیکھتا اور فتح کے بعد نظم قائم کرتا تھا۔دوسری جانب ہنگری کی سلطنت تھی جو جغرافیائی لحاظ سے یورپ اور عثمانی دنیا کے درمیان ایک دروازہ سمجھی جاتی تھی۔ ہنگری صرف ایک…

Read more

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام “طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں “چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد “ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی “چلیپا” اور “تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان…

Read more

کہتے ہیں کہ کسی دور افتادہ علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ فگن رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن، ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور للکار کر یہی سوال دہراتا:“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”اور پھر حسبِ روایت، وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں اتر چکا تھا۔خوف کا دنآج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے لرز رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر…

Read more

ایک حکیم نے اپنے جوان بیٹے کو فجر کی نماز کے لیے جگایا۔ جب وہ دونوں مسجد کی طرف نکلے تو پورے شہر میں ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں نے مسجد پہنچ کر باجماعت نماز ادا کی۔جماعت میں نمازیوں کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ نماز کے بعد وہ دونوں اشراق تک عبادت اور ذکرِ الٰہی میں وقت گزارتے رہے۔جب اشراق کی نماز کے بعد باپ اور بیٹا مسجد سے باہر نکلے تو دیکھتے ہیں کہ دنیا جاگ رہی ہے اور ہر طرف لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔یہ منظر دیکھ کر جوان شخص کو بہت دکھ ہوا اور بولا،“ابو جان، دیکھیں کتنے بدنصیب لوگ ہیں! یہ سب دنیا کی فکر میں مشغول ہیں، لیکن آخرت کی کوئی فکر نہیں۔ نماز کے وقت نیند نہیں چھوڑ سکتے، مگر ایک گھنٹے بعد دنیا کے حصول کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے ہیں۔” یہ سن کر…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ کا سب سے بہادر جاسوس کون تھا؟ وہ جس نے 40 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج میں گھس کر سپہ سالار کے خیمے تک رسائی حاصل کی… یہ ہے ان کی کہانی:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سات افراد کو فارسیوں (ایران) کی خبریں لانے کے لیے روانہ کیا اور حکم دیا کہ اگر ہو سکے تو ان کا ایک آدمی قید کر کے لائیں۔ابھی یہ سات افراد نکلے ہی تھے کہ اچانک انہوں نے فارسی لشکر کو اپنے بالکل سامنے پایا (حالانکہ ان کا خیال تھا کہ دشمن ابھی دور ہے)۔ ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے، لیکن ان میں سے ایک مردِ مجاہد نے واپسی سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنا مشن پورا کیے بغیر نہیں جائیں گے۔چنانچہ چھ ساتھی واپس لشکرِ اسلام کی طرف لوٹ گئے، جبکہ ہمارے ہیرو تنِ تنہا ایرانی فوج…

Read more

“مجھے خبر ملی ہے کہ اُن ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دیدی اور تیرے بیٹے کو بھی مار ڈالا ہے؟” دروان شہنشاہِ روم ہرقل کا خط پڑھ رہا تھا جو اسے حضرت خالد بن ولید ؓ سے شکست کھانے کے بعد موصول ہوا تھا۔ “اگر میں تیری ہمت اور طاقت کا عینی گواہ نہ ہوتا تو اسی وقت تیری گردن مارنے کا حکم دے دیتا۔” یہ الفاظ پڑھ کر دروان کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ وہ شہنشاہِ روم کے غضب سے ڈر رہا تھا۔ “چلو خیر جو ہوا سو ہوا، اب آگے کا منصوبہ یہ ہے کہ میں ایک بہت بڑا لشکر اجنادین روانہ کر رہا ہوں، اس لشکر میں نوّے ہزار رومی جوان شامل ہیں، میں تجھے ان سب کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں، تم ان کو لے کر دمشق کے باشندوں کی مدد کو پہنچو۔ اور ایسا کرنا کہ ان میں سے کچھ سپاہی فلس…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عالمِ دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جب جمعے کا دن آتا تو وہ نہا دھو کر، تیل کنگھی کر کے تیار ہو جاتے اور بےچینی سے انتظار کرتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی، وہ تیز قدموں سے جیل کے مین گیٹ کی طرف بڑھتے۔ پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں تھام کر سنتے، پھر بوجھل قدموں اور افسردہ چہرے کے ساتھ، آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔ گیٹ پر مامور جیلر، جو غیر مسلم تھا، کافی عرصے سے اس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ ضبط نہ کر سکا۔ اس نے عالمِ دین کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا: “تم ہر جمعے یہ کیا کرتے ہو؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم باہر نہیں جا سکتے۔…

Read more

*بھیڑیے نے کتے سے پوچھا *   کزن، تم نے انسانوں کو کیسے پایا؟   کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں۔   بھیڑیا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟  کتا: نہیں۔   بھیڑیا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟  کتا: نہیں۔   بھیڑیا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا؟  کتا: ہاں   بھیڑیا: بہادر، ہوشیار کو وہ کیا کہتے ہیں؟  کتا: وہ اسے بھیڑیا کہتے ہیں۔   بھیڑیا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے یہ مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ بھیڑیا بن کر رہو؟ میں نے بارہا ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارا ہے، اور وہ اپنے ہیروز کو بھیڑیے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ تم کو یہ سیکھنا چاہیے کہ انسان اپنے جلادوں کے سامنے سر تسلیم خم کرلیتے ہیں اور اپنے وفاداروں کی توھین کرتے ہیں۔

پرانے وقتوں کی بات ہے، جب فریج عام نہیں تھے۔ایک دیہاتی دوسرے دیہاتی کے ہاں گیابرآمدے میں ہی فریج پڑی تھی۔ مہمان چھوٹتے ہی بولا:“ایسی الماری ہمارے گھر بھی ہے، میرے بیٹے نے دوبئی سے بھیجی تھی۔”میزبان نے جواب دیا :“ہمیں بھی ہمارے بیٹے نے سعودی عرب سے بھیجی ہے۔”میزبان نے اسے فریج میں سے ٹھنڈا پانی نکال کر پلایا۔ ‏مہمان حیران ہوکر کہنے لگا:“یہ پانی کو ٹھنڈا… آپ کی یہ الماری کرتی ہے؟“ میزبان نے جواب دیا:“ہاں جی” مہمان بولا:“میں بھی کہوں میرے جوتے اتنے ٹھنڈے کیوں ہوتے ہیں؟” ایک وقت تھا جب ہمارے آباؤاجداد بہت ہی سادہ مزاج ہوا کرتے تھے۔ بات ہماری نسل تک پہنچی تو ہم بگڑ گئے اور اب اگلی نسل تو اللہ معاف کرے… پتا نہیں کیا چن چڑھائے گی۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بچہ شروع سے ہی بہادر تھا، جنگجوانہ مشاغل کھیلنے سے  شوق رکھتا۔ بہت کم عرصے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ گھڑ سواری، تلوار، نیزہ بازی اور تیراندازی میں مہارت حاصل کر لی۔ قاضی غلام کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ جاتاسلطان شہاب الدین غوری، غزنی کا شہنشاہ، ایک روز شاہی گھڑ دوڑوں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا۔ قاضی غلام کو لے کر سلطان کے پاس پہنچ گیا: ” سرکار، ساری سلطنت میں اس غلام کا گھڑ سواری میں کوئی مقابل نہ ثانی ملے گا” سلطان خوبصورت، صحت مند، سانولہ، پرکشش رنگت والے نوجوان غلام کو دیکھ کر مسکرایا۔ جنگلی گھوڑا وحشی تصور کیا جاتا یے، جسے تربیت دینا مشکل ترین کام یے۔ غلام سے پوچھا: ” گھوڑے کو کتنا تیز دوڑا سکتے ہو؟”غلام نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا: ” حضور, گھوڑے کو تیز دوڑانے میں کوئی مہارت نہیں، اصل مہارت اسے اپنا تابع بنانا ہے” سلطان نے ستائشگی…

Read more

عربی حکایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص (بدو) نے اپنی چچازاد سے شادی کی اور اللہ نے اسے یکے بعد دیگرے نو بیٹے عطا کیے۔ قبیلے میں اس کی شان بلند ہو گئی، کیونکہ اس زمانے میں بیٹے طاقت، عزت اور فخر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔مگر جب دسویں بار اس کی بیوی نے ایک بیٹی کو جنم دیا، تو گویا اس پر بجلی گر گئی۔ بجائے شکر کے، اس کے چہرے پر غصے اور ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخ اٹھا:“یا لیلی الأسود! یا لیلی الأسود!”(ہائے میری سیاہ رات، اے میرے بدنصیب دن!)اس نے اپنی بے چاری بیوی سے منہ موڑ لیا اور اس ننھی کلی کو اپنی لیے منحوس سمجھ بیٹھا۔ اس کی نگاہ میں بیٹی جرم بن گئی اور اس کی ماں مجرم۔ بیٹی کے وجود کو گویا اپنے لیے عار سمجھا۔وقت گزرتا گیا۔ مہ و سال کی گردش جاری رہی۔…

Read more

80/169
NZ's Corner