Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون ایک دن ایک چھوٹی سی دکان میں داخل ہوئی۔ اس کی نظر فوراً دکان کے کاؤنٹر پر پڑی، جہاں ایک شخص بلی کو دودھ پلا رہا تھا۔ مگر دودھ سے زیادہ اس کی توجہ اُس پیالے نے کھینچ لی جس میں دودھ رکھا تھا۔ وہ فوراً پہچان گئی کہ یہ عام برتن نہیں بلکہ نہایت نایاب چینی کا قدیم پیالہ ہے، جس کی قیمت کم از کم تیس ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔خاتون نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید دکاندار اس پیالے کی اصل قدر و قیمت سے بالکل ناواقف ہے۔ اس نے اپنی حیرت چھپاتے ہوئے بڑی چالاکی سے پوچھا:“جناب، کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟” دکاندار نے مسکرا کر جواب دیا:“یہ تو میری پالتو بلی ہے، لیکن اگر آپ کو بہت پسند آ گئی ہے تو پچاس ڈالر میں لے جا سکتی ہیں۔” خاتون نے…

Read more

پچھلی صدیوں کی داستانیں ہمیشہ انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، ان میں چھپی عبرتیں اور سبق ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہیں۔ ایسی ہی ایک داستان، جو کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ بہت سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی کہانی ہے، آج میں تمہیں سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہے “کھوئے ہوئے باغ” کی، جس کے ارد گرد دنیا کی چکاچوند بکھری ہوئی تھی، مگر اس کا باسی اپنے خالق سے غافل تھا۔ **کھوئے ہوئے باغ کا راجہ** ایک زمانہ تھا جب دنیا کی ایک حسین وادی میں ایک ایسا شخص رہتا تھا جسے لوگ “راجہ” پکارتے تھے، اگرچہ وہ کسی سلطنت کا بادشاہ نہیں تھا، مگر اس کی دولت اور اسبابِ دنیا ایسے تھے کہ کوئی بادشاہ بھی اس پر رشک کرتا۔ اس کے پاس ہر وہ چیز تھی جو انسان کو دنیا میں کامیاب اور خوشحال نظر آنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ سونے کے ڈھیر، چاندی…

Read more

             یہ 3 جنوری 1889ع کی ایک خاموش اور سرد صبح تھی۔ سورج کی مدھم کرنیں اٹلی کے شہر تورین کی پتھریلی گلیوں پر ہولے ہولے پھیل رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی تھی، مگر گلیوں میں زندگی کی معمولی سی رمق باقی تھی۔ فریڈرک نطشے، اپنے خیالات کے بوجھ تلے دبے ہوئے، ویا کارلو البرتو کے تنگ راستے پر بے مقصد قدموں سے چل رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بیزاری تھی، گویا دنیا کی حقائق نے اُس کے اندر ایک ایسا کرب پیدا کر دیا تھا جس کا کوئی علاج نہیں تھا۔ وہ برسوں سے اپنی فکری مسافت میں انسانیت کے چہرے سے نقاب نوچنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ حقیقت کو بے نقاب کرنے والے اکثر خود اسی حقیقت کے بوجھ تلے کچلے جاتے ہیں۔ اچانک، بازار کے قریب گھوڑے کی ایک دل دہلا دینے والی چیخ نے فضا میں ارتعاش پیدا کر…

Read more

شیر نے لومڑی سے کہا “میرے لیے کھانا لاؤ، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” لومڑی نے چال چلی اور اس نے گدھے سے کہا “شیر تمہیں بادشاہ بنانا چاہتا ہے، آؤ میرے ساتھ چلو۔” جب گدھا پہنچا تو شیر نے حملہ کر دیا اور گدھے کے کان کاٹ ڈالے تو گدھا بدک کر بھاگ نکلا۔ گدھے نے روتے ہوئے لومڑی سے کہا “تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے “ لومڑی بولی “بیوقوف مت بنو اس نے تو صرف تمہارے کان اس لیے کاٹے ہیں تاکہ وہ تمہارے سر پر تاج رکھ سکے۔” گدھا واپس آ گیا اور شیر نے اس پے دوبارہ حملہ کیا اب کی بار اس کی دُم کاٹ ڈالی تو گدھا پھر کسی طرح سے بھاگ نکلا اور لومڑی کو کہا تم نے پھر مجھ سے دھوکا کیا ہے لومڑی نے کہا “پاگل، شیر نے تمہاری دم اس لیے کاٹی تاکہ تم تخت پر آرام سے…

Read more

1803 میں، جارجیا کے ساحل کے قریب، 75 ایگبو مردوں اور عورتوں کے ایک گروہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سمندر اور انسانی تاریخ، دونوں کو ہلا کر رکھ دیا: زنجیروں میں جینے کے بجائے، آزاد ہو کر مرنا۔ اپنی باغی طبیعت کی وجہ سے، ایگبو غلاموں کے خریداروں کے لیے ایک خوف کی علامت تھے، جو جانتے تھے کہ ان کے قیدی مزاحمت کریں گے، فرار ہونے کی کوشش کریں گے، اور یہاں تک کہ غلامی پر موت کو ترجیح دیں گے۔ اس دن، انہیں ایک بدنام اور ظالم چاول کے کھیت میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ جہاز کے نچلے حصے میں، زنجیروں میں جکڑے ہوئے، وہ سب ایک ساتھ گانے لگے—ایک ایسا گیت جو صرف موسیقی نہیں تھا، بلکہ بغاوت کا ایک اجتماعی عہد تھا۔جہاز کے ملاحوں نے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی، لیکن ان کی آوازیں ایک اجتماعی گرج کی طرح بلند ہوئیں،…

Read more

بنی اسرائیل کی ایک جماعت جو حضرت حزقیل علیہ السلام کے شہر میں رہتی تھی، شہر میں طاعون کی وبا پھیل جانے سے ان لوگوں پر موت کا خوف سوار ہو گیا اور یہ لوگ موت کے ڈر سے سب کے سب شہر چھوڑ کر ایک جنگل میں بھاگ گئے اور وہیں رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی یہ حرکت بہت زیادہ ناپسند ہوئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک عذاب کے فرشتہ کو اس جنگل میں بھیج دیا۔ جس نے ایک پہاڑ کی آڑ میں چھپ کر اور چیخ مار کر بلند آواز سے یہ فرما دیا کہ موتوا یعنی تم سب مر جاؤ اور اس مہیب اور بھیانک چیخ کو سن کر بغیر کسی بیماری کے بالکل اچانک یہ سب کے سب مر گئے جن کی تعداد ستر ہزار تھی۔ان مردوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ ان کے کفن و دفن کا کوئی…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں🍁 ایک گانا گانے والا آیا اس نے اتنا اچھا گانا گایا کہ بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے وزیر سے کہا اتنا اچھا گا رہا ہے اس کو ہیرے دے دو ، گانا گانے والا اور گانے لگا بادشاہ نے خوش ہو کر اعلان کیا اس کو موتی دے دو ، گانے والا اور سُر لگانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو اشرفیاں دے دو ، 🍁اشرفیوں کا سُن کر وہ اور اچھا گانے لگا بادشا ہ نے کہا اس کو جاگیر دے دو ، بادشاہ نے خوش ہو کر سونے چاندی سب کا اعلان کر دیا ، وہ خوش ہو کر گاتا گیا گاتا گیا ، گانا ختم ہوا اپنے گھر واپس گیا اور بیوی سے کہنے لگا بادشاہ نے آج میرے گانے کی صلاحیت اور قابلیت کی بنا پر خوش ہو کر سونا چاندی اور جاگیر دینے کا اعلان کیا ہے ، 🍁بیوی…

Read more

کہا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران راجہ داہر کو جب اُموی سالار محمد بن قاسم کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو اُن کی دو بیٹیوں سوریا اور پریمل کو محمد بن قاسم نے راجہ کی ہلاکت کے بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پاس دارالخلافہ بغداد روانہ کر دیا۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے جب بڑی بیٹی سوریا سے خلوت کا ارادہ کیا تو سوریا نے چال چلی اور خلیفہ سے کہا کہ محمد بن قاسم پہلے ہی اُن کے ساتھ خلوت اختیار کر چکا ہے چنانچہ وہ اب خلیفہ کے شایانِ شان نہیں رہیں۔غصے میں خلیفہ کو تحقیق کا ہوش نہیں رہا اور اُنھوں نے اسی وقت محمد بن قاسم کے نام پروانہ جاری کیا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں خود کو کچی کھال میں سلوا کر دارالخلافہ کو واپس ہوں۔محمد بن قاسم نے ایسا ہی کیا اور دارالخلافہ کے راستے میں ہی دو دن بعد اُن…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شیطان اور ایک عابد کے درمیان تکرار ہو گئی۔ عابد کا مؤقف تھا کہ ہر برائی کے پیچھے شیطان کا ہاتھ ہوتا ہے،جبکہ شیطان کا دعویٰ تھا کہ انسان خود ہی خرابی پیدا کرتا ہے۔وہ بولا:“میں تو صرف گانٹھ کھولتا ہوں، باقی کام انسان خود کر لیتا ہے۔” عابد یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا۔شیطان نے کہا:“ٹھہرو، میں تمہیں یہ بات ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔” وہ عابد کو ایک درخت کے پاس لے گیا، جہاں ایک گدھا بندھا ہوا تھا۔شیطان نے گدھے کی رسی کھول دی۔ گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔ جب کسان کی بیوی نے یہ منظر دیکھا تو وہ غصّے سے بے قابو ہو گئی اور اس نے گدھے کو ایک ڈنڈا مار دیا۔ ڈنڈا کچھ اس انداز اور شدت سے لگا کہ گدھے وہیں ڈھے کر مر گیا۔ گدھے کی لاش دیکھ…

Read more

*ظہیر الدین بابر* کے بارے میں پڑھا تھا اسے ایک بار جسم پر خارش ہوگئی، خارش اتنی شدید تھی کہ اگر کوئی کپڑا اس کے جسم سے چھو بھی جاتا تھا تو اس کے منہ سے چیخ نکل جاتی تھی، اس کے مخالف *شیبانی خان* کو پتا چلا تو وہ عیادت کے بہانے اس کی تکلیف انجوائے کرنے کے لیے آ گیا، بابر کو اطلاع ہوئی تو اس نے سر سے لے کر پائوں تک شاہی لباس پہنا، سر پر تاج رکھا اور دربار میں آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ شیبانی خان سارا دن اس کے ساتھ بیٹھا رہا، اس نے کھانا بھی اس کے ساتھ کھایا لیکن بابر نے اپنی تکلیف اپنے چہرے اور آواز تک نہیں آنے دی یہاں تک کہ آخر میں شیبانی خان مایوس ہو کر چلا گیا، مہمان جوں ہی محل سے نکلا، بابر نے فوری طور پر اپنا سارا لباس اتار کر…

Read more

کہتے ہیں ایک جنگل میں ہزاروں مرغیاں آزاد زندگی گزارتی تھیں۔انہی میں ایک مرغی ایسی تھی جس کی گود خالی تھی۔ نہ انڈا، نہ بچہ۔یہ کمی اسے اندر ہی اندر توڑتی رہتی۔ ایک دن مایوسی میں وہ جھنڈ سے دور نکل گئیاور ایک بڑے درخت کے نیچے سو گئی۔اسی درخت پر ایک باز کا گھونسلہ تھا۔اتفاق سے وہاں سے ایک انڈا گرا اور مرغی کے قریب آ کر رک گیا۔ آنکھ کھلی تو انڈا دیکھ کر مرغی خوشی سے بھر گئی۔اسے لگا یہ اسی کا ہے۔وہ انڈا اٹھا کر اپنے جھنڈ میں واپس آ گئی۔ کچھ دن بعد انڈا ٹوٹا اور اس میں سے جو نکلا، وہ مرغی جیسا نہیں تھا۔ مگر محبت نے فرق ماننے سے انکار کر دیا۔ مرغی نے اسے وہی سکھایا، جو وہ جانتی تھی۔زمین پر چلنا، دانہ چگنا، اور سر جھکا کر جینا۔ وہ بچہ ہر شام پوچھتا،“ماں! آسمان میں اڑنے والے کون ہیں؟” مرغی…

Read more

شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ “نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔” شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔” اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔ اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔…

Read more

ایک شخص ہارس رائیڈنگ کا لباس پہن کر‘ گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑی علاقے کی ایک سڑک پرجا رہا تھا‘ راستے میں سڑک پر ایک درخت گرا ہو اتھا۔اس درخت نے راستہ روک رکھا تھا۔ ‘گھوڑے پر سوار 3 شخص گرے ہوئے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا‘ فوج کے تین چار جوان درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں۔اس نے دیکھا‘ جوانوں کا سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ اس شخص نے اندازا لگایا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے‘ یہ بھی درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چند لمحوں میں سڑک سے کھسک جائے…

Read more

ایک شخص نے ایک کتے کو قبرستان میں دفن کردیا لوگوں نے قاضی کے پاس جا کر اس شخص کی شکایت کی اس شخص کو قاضی کے پاس طلب کیا گیا قاضی نے غضبناک ہو کر اس سے پوچھا کہ اےبدبخت کیا تو نے ہی قبرستان میں کتے کو دفن کیا تھا ؟اس شخص نے کہا ہاں کتے کی وصیت تھی سو میں نے پوری کردی قاضی نے کہا تیرا ستیاناس ہو کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے اوپر سے میرا مذاق اڑارہے ہو ؟اس شخص نے کہا قاضی صاحب جلدی نہ کریں میری پوری بات سن لیں مرحوم کتے نے قاضی کے لئے بھی ایک ہزار دینار ھدیہ کرنے کی وصیت کی ہےقاضی نے کہا اللہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے قاضی کی بات سن کر لوگ حیران رہ گئے قاضی نے کہا تم حیران کیوں ہو رہے ہو میں نے اس کتے پر…

Read more

ایسا بادشاہ جس نے بادشاہت شان و شوکت سب کچھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہمؒ ابتدا میں ایک عظیم بادشاہ تھے۔ وہ عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے، شکار کے شوقین تھے اور دنیاوی شان و شوکت میں مشغول رہتے تھے۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر شکار کے لیے نکلے۔ ان کے ساتھ شکاری کتے بھی تھے۔ جب وہ ایک ہرن کے قریب پہنچے تو اچانک ہرن نے آواز دی۔ اس آواز میں اللہ رب العزت کی طرف سے تنبیہ تھی کہ“اے ابراہیم! کیا تم اسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہو؟ کیا تمہیں اسی کام کا حکم دیا گیا تھا؟” حضرت ابراہیمؒ نے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ وہ آگے بڑھے تو دوبارہ آواز آئی، پھر تیسری مرتبہ واضح الفاظ میں کہا گیا کہ:“یہ شکار اور دنیا کی یہ مشغولیت تمہارے لیے نہیں ہے، اپنے آخرت کے سفر…

Read more

بے وقوفوں کی یہ بستی آج سے سیکڑوں برس پہلے کوہِ قاف کے پاس تھی۔ لیکن اب وہاں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں ۔ بستی کے رہنے والے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور تھے ۔ اچنبھے کی بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور وہ بلی کے نام ، اُس کی شکل سے بھی بالکل نا واقف تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بستی چوہوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جدھر دیکھو چوہے ہی چوہے ۔ ادھر چو ہے، ادھر چو ہے۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو ان سے آباد نہ ہو۔ لوگ اس قدر پریشان تھے کہ وہ ہر قیمت پر ان سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ اُنھوں نے کئی مرتبہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں مشورے بھی کئے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔…

Read more

پاکستان کی کسی بھی گورنمنٹ یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں لاء میں داخلہ لینے سے پہلے لیٹ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہے۔ _`Education Required: Intermediate Pass_اپلائی کرنے کی آخری تاریخ 29 دسمبر 2025 ہے اور ٹیسٹ 25 جنوری کو ہوگا۔آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ اشتہار میں دیا گیا ہے پہلے ٹیسٹ پاس ہوگا پھر پاکستان بھر میں کسی بھی یونیورسٹی یا پرائیویٹ کالج میں داخلہ ممکن ہو گا

ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیاتبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہےکتے کی سانس رک گئیآج_تو_کام_تمام_میراپھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگاواہ_شیر_کو_کھانے_کا_مزہ_ہی_کچھ_اور_ہے….ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے، اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،اس نے سوچایہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا، درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے…

Read more

محمد بن عروة یمن کے گورنر بن کر شہر میں داخل ہوئے۔۔ لوگ استقبال کے لئے اجتماع کی شکل میں کھڑے تھے لوگوں کا خیال تھا کہ نئے گورنر  لمبی چوڑی تقریر کریں گے محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔!!   وہ جُملہ :  ” لوگوں یہ میری سواری  میری ملکیّت ھے ۔ اگر اس سے زیادہ لے کر مَیں واپس پَلٹا، تو مجھے چور سمجھا جائے”   یہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا سنہرا دَور تھا۔۔۔!!  محمد بن عروۃ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا۔۔۔ جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و ‏سال پورے کر کے واپس پَلٹ رہے تھے لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رھے تھے ، لوگوں کا جمِ غفیر موجود تھا۔۔ امید تھی کہ لمبی چَوڑی تقریر کریں گے۔  محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔ …

Read more

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

100/169
NZ's Corner