Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach

کُتا یا بکرا۔۔۔🤔پرانے وقتوں میں، لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا۔ اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور چالاکی سے اسے لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ دیہاتی تھوڑا آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ آیا اور بولا:“بھائی، یہ کتا کہاں لے کر جا رہے ہو؟” دیہاتی نے گھور کر کہا:“بیوقوف، تمہیں نظر نہیں آ رہا یہ بکرا ہے، کتا نہیں!” دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا اور بولا:“یار، یہ کتا تو بڑا شاندار ہے! کتنے کا خریدا؟” دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا اور پروگرام کے مطابق…

Read more

ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایکہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہاکہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے…

Read more

ایک اونٹ کسی جگہ پرکھڑا تھا۔ اور اس کی مہار زمین پر گرئی ہوئی تھی۔ چوہے نے اونٹ کی مہار کو منہ میں لے کر کھنچا . .. . اونٹ چلنے لگا۔ چوہے نے دل میں خیال کیا ، کہ میں تو بڑا شہ زور ہوں، میرے کھینچنے پر اونٹ میرے پیچھے چل پڑا ہے۔اونٹ نے چوہے کی جب یہ حرکت دیکھی تواسے مزید بے وقوف بنانے کی خاطر اپنے آپ کو اس کے تابع کر دیا۔ چوہے نے اونٹ کی نکیل کو اپنے منہ میں مضبوطی سے پکڑ لیا،اور آگے آگے غرور کے ساتھ اکڑتا ہواچلنے لگا۔ پیچھے پیچھے یہ اونٹ مثل تابعدارغلام کے چل رہا تھا ۔چوہے نے دل میں کہا،” آج مجھے پتہ چلا میں کون ہوں!اور میرے اندر اتنی جان ہے کہ اونٹ بھی میری پیروی کرنے پر مجبور ہے‘‘۔ اونٹ دل میں یہ کہہ رہا تھا کہ بچو! کوئی بات نہیں، ابھی تھوڑی دیر بعد…

Read more

ایک دفعہ دو بیوقوف بھائیوں نے دو گھوڑے لیے۔اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ کوئی نشانی رکھی جائے تاکہ گھوڑوں کی پہچان ہو سکے۔ بڑے بھائی نے کہا، “میں اپنے گھوڑے کا ایک کان کاٹ دیتا ہوں۔ کان کٹا میرا، اور دوسرا تیرا۔”صبح جب وہ آئے تو دوسرے گھوڑے کا کان بھی کٹا ہوا تھا۔وہ بڑے پریشان ہوئے۔ اب پھر بڑے بھائی نے کہا، “میں اپنے گھوڑے کا دوسرا کان بھی کاٹ دیتا ہوں۔ دونوں کان کٹے والا میرا، اور ایک کان والا تیرا۔” صبح دیکھا تو دوسرے گھوڑے کے دونوں کان بھی کٹے ہوئے تھے!وہ پھر پریشان ہو گئے۔ اب بڑے بھائی نے اپنے گھوڑے کی دُم کاٹ دی۔صبح دیکھا تو دوسرے کی بھی دُم کٹی ہوئی تھی۔اب غصے میں آ کر بڑے بھائی نے کہا، “یار، پتہ نہیں کون حسد کا مارا ہمیں فیصلہ نہیں کرنے دے رہا!ایسا کر، کالے والا تو لے لے اور سفید مجھے دے…

Read more

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آغازِ اسلام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔ وہ اسلام کے پھیلنے کو قریش کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ ایک دن قریش کے سرداروں نے ان کے غصے کو ہوا دی اور کہا کہ محمد ﷺ نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے، ہمارے نوجوانوں کو بہکا دیا ہے، قبیلے میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ تلوار لے کر نکل کھڑے ہوئے کہ آج محمد ﷺ کو ( معاذاللہ) قتل کر دوں گا۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبداللہؓ مل گئے۔ انہوں نے پوچھا، “عمر! کس ارادے سے نکلے ہو؟” عمر نے غصے سے کہا، “محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں!” حضرت نعیمؓ نے کہا، “عمر! پہلے اپنے گھر والوں کو دیکھو، تمہاری بہن فاطمہ اور تمہارے بہنوئی سعید بن زید مسلمان ہو چکے ہیں!” یہ سن کر حضرت عمرؓ غصے سے آگ بگولہ…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

اٹھارہویں صدی کے وسط میں بنگال برصغیر کا سب سے خوشحال، زرخیز اور طاقتور صوبہ تھا۔ اس کی دولت، تجارت، زراعت اور فوجی قوت کی مثال دی جاتی تھی۔ نواب سراج الدولہ ایک نوجوان، باوقار مگر جذباتی حکمران تھا جس نے اپنے بزرگوں سے ایک مضبوط ریاست وراثت میں پائی۔ دوسری طرف ایسٹ انڈیا کمپنی تھی، جو ابتدا میں تاجر بن کر آئی تھی مگر آہستہ آہستہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کے خواب دیکھنے لگی تھی۔ کمپنی کے کارندے بنگال کی دولت پر نظریں جمائے بیٹھے تھے اور وہ کسی بھی قیمت پر اس صوبے کو اپنے قبضے میں کرنا چاہتے تھے۔میر جعفر علی خان بنگال کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ وہ تجربہ کار، بااثر اور دربار میں خاص مقام رکھتا تھا، مگر اس کے دل میں اقتدار کی شدید خواہش پل رہی تھی۔ وہ خود کو نواب بننے کا حقدار سمجھتا تھا اور سراج الدولہ کی جوانی، تیز…

Read more

تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور عبرت ناک واقعہ ، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہ دونوں ،جس جگہ پر  گناہ کرنے لگے تھے وہ روئے زمین کا سب سے زیادہ مقدس مقام تھا. جیسے ہی انہوں نے گناہ کیا، اسی وقت ان کے جسم پتھر ھونے لگے.ان کی روحیں قبض کر لی گئیں اور  گوشت پوست کے جسم پتھر کے بنتے چلے  گئے۔اس  وقت ان کے اریب قریب کوئی بھی نہیں تھا. اس لیے جو  کچھ ان پر گزری اس کے بارے میں خود انہی کے سوا کسی کو پتہ نہیں چلا تھا. یہ تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور خوفناک ترین واقعہ تھا۔ دو زندہ انسان ، جن میں سے ایک مرد تھا اور دوسری عورت تھی عذاب الٰہی کے تحت پتھر کے  بن گئے تھے ۔ کچھ دیر گزری تو ادھر سے کسی کا گزر ہوا ۔ اس نے ان کو…

Read more

پہلی صدی عیسوی میں بحیرۂ روم میں ڈاکہ زنی ایک بڑا مسئلہ تھا سمندری ڈاکوؤں نے اودھم مچا رکھا تھا سیلیسیا ٹراکیا کے نام سے پکارا جانے والا جنوبی اناطولیہ کا سنگلاخ علاقہ سمندروں میں لوٹ مار کرنے والوں کے سبب مشہور تھا جنہوں نے رومی تاجروں اور سفر کرنے والوں کو خوف زدہ کر رکھا تھا۔ 75 عیسوی میں سیلیسیا کے بحری قزاقوں نے روم کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ایک 25 سالہ غیرمعمولی نوجوان کو پکڑ لیا۔ یہ رومی آمر، سیاست دان اور جرنیل جولیس سیزر تھا جو ابھی زمانہ طالب علمی میں تھا وہ فنِ خطابت کی تعلیم کے لیے جزیرہ روڈس جا رہا تھا جو اب جنوب مشرقی یونان میں واقع ہے۔ دراصل جولیس سیزر کو پکڑ کر بحری قزاقوں نے ایک مصیبت اپنے سر ڈال لی۔ سیزر نے اپنی آن بان قائم رکھی اور خود کو یرغمالی ماننے سے انکار کر دیا۔ بحری قزاقوں…

Read more

⚔️🔥یہ سن 1462ء تھا، قسطنطنیہ کی فتح کو ابھی ایک دہائی بھی مکمل نہ ہوئی تھی مگر اس ایک کامیابی نے یورپ کی سیاسی، عسکری اور نفسیاتی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ہر دربار میں ایک ہی نام گونج رہا تھا — سلطان محمد فاتحؒ، وہ نوجوان فرمانروا جس نے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کو فتح کر کے تاریخ کا دھارا موڑ دیا تھا، مگر اسی وقت شمال میں ایک ایسی سرکش ریاست موجود تھی جو نہ صرف عثمانی اقتدار کو چیلنج کر رہی تھی بلکہ دانستہ طور پر ایک نفسیاتی اور اخلاقی جنگ بھی مسلط کر چکی تھی، یہ ریاست ولاکیا تھی، موجودہ رومانیہ کا ایک خطہ، اور اس کا حکمران ولاد سوم تھا جسے تاریخ ولاد ڈریکولا یا ولاد دی امپیلر کے نام سے جانتی ہے، ایک ایسا شخص جو عثمانیوں کا سابق اتحادی رہ چکا تھا، جو نوجوانی میں سلطان مراد ثانی کے…

Read more

🚩 جب جولیس سیزر کو بحری قزاقوں نے اغوا کر لیا: ایک ناقابلِ یقین تاریخی واقعہ!آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے، پہلی صدی عیسوی میں بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کوئی پرامن جگہ نہیں تھی۔ یہ دور سمندری ڈاکوؤں (Pirates) کا تھا، جنہوں نے پورے سمندر میں اودھم مچا رکھا تھا۔ خاص طور پر جنوبی اناطولیہ (موجودہ ترکی) کا سنگلاخ علاقہ، جسے سیلیسیا ٹراکیا کہا جاتا تھا، ان خطرناک لٹیروں کا گڑھ تھا۔لیکن 75 قبل مسیح (75 BC) میں ان قزاقوں نے ایک ایسی غلطی کر دی جس نے ان کی پوری نسل کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک 25 سالہ نوجوان کو اغوا کیا، جس کا نام تھا: جولیس سیزر۔🚢 سفر جو قید میں بدل گیااس وقت جولیس سیزر کوئی ڈکٹیٹر یا عظیم فاتح نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی ذہین طالب علم تھا۔ وہ فنِ خطابت (Public Speaking) سیکھنے کے لیے جزیرہ روڈس جا…

Read more

ابلیس، جسے شیطان بھی کہا جاتا ہے، اسلامی عقائد کے مطابق ایک جن تھا جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر کئی بار آیا ہے، اور اس کی سرکشی اور نافرمانی کو انسانیت کے لیے ایک سبق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اللہ نے تمام فرشتوں اور جنوں کو حکم دیا تھا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں، کیونکہ آدم کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی۔ اس وقت ابلیس، جو جنات میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، نے غرور اور تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ آگ سے بنا ہے جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں، اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ اس نافرمانی کی وجہ…

Read more

ساس کی کھانسی کی وجہ سے بہو کی نیند ڈسٹرب ہو رہی تھی شوہر کے سامنے خود تو ساس کو برا بھلا کہہ نہیں سکتی تھیلہذا بہو نے فوراً اپنے چند ماہ کے بیٹے کو چٹکی کاٹی تھی جو رونے لگا تھا اور پھر اپنے بیٹے کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا تھا ماں کی وجہ سے چھوٹا بار بار اٹھ جاتا ہے اگر بچے کی نیند پوری نہ ہوئی تو اس شدید ٹھنڈ میں بچہ ویسے ہی بیمار پڑ جائے گا شوہر نے اٹھ کر بیوی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ماں کو جھڑکا تھا مگر کھانسی جھڑکنے سے کہاں رکتی ہے اور پھر بوڑھی ماں تو ٹی بی کی مریضہ تھی لہذا اس کے بیٹے نے اٹھ کر اس کا بستر صحن میں لگا دیا تھا۔ بوڑھی ناتواں ماں اپنے جوان پتر کی مضبوط گرفت میں گھسٹتے ہوئے صحن میں پڑھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی…

Read more

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ ” ایک ٹانگ اٹھاؤ “ وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے ” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “ وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے ” گھڑی پوری ہوئی “ تو وہ…

Read more

مدینہ کی گلیوں میں اُس دن ایک خاص سی خاموشی تھی، جیسے ہوا بھی آنے والے فیصلے کا بوجھ محسوس کر رہی ہو۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھے تھے، نگاہیں جھکی ہوئی تھیں مگر دل میں ایک سمندر موجزن تھا۔ وہی سعدؓ جن کے ہاتھوں سے اسلام کے لیے پہلی بار تیر چلایا گیا، وہی سعدؓ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ “میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں”۔ آج اُن کے کاندھوں پر صرف ایک لشکر کی نہیں بلکہ پوری اُمت کی امیدوں کا بوجھ تھا۔ فارس کی عظیم سلطنت، جس کے گھوڑوں کی ٹاپ سے زمین کانپتی تھی، جس کے سپاہی زرہوں میں لوہے کی دیوار نظر آتے تھے، اُس سلطنت کے مقابل ایک ایسا لشکر کھڑا تھا جس کے پاس ساز و سامان کم مگر ایمان پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔حضرت سعدؓ نے روانگی سے پہلے…

Read more

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے…

Read more

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا، خود تو دال پر گزارا کرتا، ساتھ میں بیوی کو بھی اسی ایک سالن پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنگ آکر جب کبھی بیوی دال کے علاوہ کچھ اور سبزی، گوشت لانے کا کہتی تو جوابا بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتا اور دال کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا۔ ایک دن بیوی اپنے مائیکے گئی تو اس کے بھائیوں نے بہن کے اترے چہرے، پھیکی پڑتی رنگت اور نقاہت زدہ جسم کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ بہن خوش نہیں ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر پہلے پہل تو بہن نے بات ٹالنا چاہی، مگر بھائیوں کے اصرار پر شوہر کی کنجوسی اور…

Read more

کیا آپ یقین کریں گے کہ دو طاقتور قبیلے، جو آپس میں بھائی بھائی تھے، صرف اس بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے کہ “ریس میں میرا گھوڑا آگے تھا یا تمہارا؟” یہ کہانی ہے عرب کی دوسری سب سے بڑی اور مشہور جنگ “جنگِ داحس و غبراء” کی، جس نے ثابت کیا کہ جب انسان کی عقل پر انا کا پردہ پڑ جائے تو وہ جانوروں کی ریس پر انسانوں کی نسلیں قربان کر دیتا ہے۔یہ قصہ ہے دو بڑے عرب قبیلوں “بنو عبس” اور “بنو ذبیان” کا۔ یہ دونوں قبیلے ایک ہی دادا کی اولاد تھے، ان میں گہری رشتہ داریاں تھیں اور یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن عربوں کو اپنی تلواروں کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے گھوڑوں سے تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کا نسب نامہ بھی اپنے بچوں کی طرح یاد رکھتے تھے۔قبیلہ عبس کا سردار…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

حضرت صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں  ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں  بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں  اسے جادو سکھادوں  ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں  ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں  سننے لگا اوراُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں  اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں …

Read more

60/173
NZ's Corner