عقل مندی کا انتخاب
ایک دوپہر، تین بھوکے لال بیگ کھانے کی تلاش میں ایک رحم دل کسان کے پاس پہنچے۔ ان کی حالت دیکھ کر کسان نے انہیں پیار سے روٹی اور پنیر کھلایا اور کچھ کھانا ان کے گھر والوں کے لیے بھی دے دیا۔جاتے ہوئے کسان نے کہا: “میرے دوستو! تم روزانہ خوراک کی تلاش میں بھٹکتے ہو، میں تمہیں ایک مستقل کام اور محفوظ مستقبل دینا چاہتا ہوں۔”لال بیگوں نے پوچھا: “کون سا کام اور کتنی تنخواہ ملے گی؟”کسان نے کام اور تنخواہ کی فہرست بتائی:مرغیوں کو دانے کا وقت بتانا: تنخواہ 3,000 ڈالر ماہانہ۔لہسن چھیلنا اور کاٹنا: تنخواہ 5,000 ڈالر ماہانہ۔فصلوں سے چھپکلیوں کو بھگانا: تنخواہ 4,000 ڈالر ماہانہ۔بکریوں کو گانے اور رقص سے بہلانا: تنخواہ 250 ڈالر ماہانہ۔پہلے لال بیگ نے فوراً کہا: “میں لہسن والا کام کروں گا، کیونکہ اس میں سب سے زیادہ پیسے ہیں۔”دوسرے نے کہا: “میں چھپکلیوں کو بھگاؤں گا، یہ بکریوں کے سامنے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
میں شہر کے مصروف بازار میں ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ صبح سے رات تک لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ مزدور، دکاندار، مسافر اور طالب علم سب میرے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے تھے۔ کاروبار اچھا چل رہا تھا، مگر اس مصروفیت کے بیچ ایک چہرہ ایسا تھا جو روز میری نظروں کے سامنے آتا اور دل میں عجیب سی کسک چھوڑ جاتا۔وہ ایک کم عمر لڑکی تھی۔ شاید بارہ یا تیرہ سال کی۔ میلے کپڑے، بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں میں عجیب سی تھکن۔ وہ روز شام کے وقت میرے ہوٹل کے باہر آ کر خاموشی سے بیٹھ جاتی۔ جب گاہک کھانا کھا کر چلے جاتے تو ویٹر بچا ہوا کھانا ایک پلیٹ میں جمع کر کے اسے دے دیتا۔ وہ چپ چاپ کھانا لے لیتی اور تھوڑی دور جا کر بیٹھ کر کھانے لگتی۔شروع میں میں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ بازار میں…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
تین روٹیاں۔۔۔🙂!
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کے ساتھ سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے تو شاگرد سے پوچھا:“کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟” شاگرد نے کہا: “میرے پاس دو درہم ہیں۔” حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا:“اب یہ تین درہم ہوگئے ہیں، قریب ایک بستی ہے وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔” شاگرد بستی گیا اور تین درہم کی روٹیاں خرید لایا، لیکن راستے میں اس کے دل میں خیال آیا کہ اگر تین روٹیاں ہیں تو آدھی حضرت عیسیٰؑ کو ملیں گی اور آدھی مجھے۔ اس نے لالچ میں آ کر ایک روٹی وہیں کھا لی اور دو روٹیاں لے کر واپس آیا۔ حضرت عیسیٰؑ نے ایک روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:“تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟” شاگرد نے جواب دیا:“دو روٹیاں۔ ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے۔” پھر دونوں آگے روانہ ہوئے۔…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا۔ جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا۔چنانچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا ۔ یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھا یا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤپیچ سکھا دبے تھے جو اسے آتے تھے۔ احتیاط کے طور پر بس ایک داؤنہ سکھایا تھا۔ زمانہ اسی طرح گزرتا رہا۔ نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استا د کایہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
صبح سویرے، لکڑی کی ایک بڑی کشتی ایک چوڑی ندی کو پار کرنے کے لیے روانہ ہوئی۔ اس میں تاجر، کسان، بچے اور بزرگ سوار تھے—سب اس امید کے ساتھ کہ یہ سفر انہیں پار ایک خوشحال سرزمین تک لے جائے گا۔لیکن ایک مسئلہ تھا۔کشتی کا رخ متعین کرنے کے لیے ایک کپتان کے بجائے، کئی آدمی اسٹیئرنگ وہیل کے گرد کھڑے تھے، اور ہر ایک نے شان دار کپتان والی ٹوپی پہن رکھی تھی۔“مجھے راستہ معلوم ہے!” پہلے کپتان نے چلّاتے ہوئے وہیل کو تیزی سے بائیں طرف کھینچا۔“تم غلط کہہ رہے ہو!” دوسرے نے بحث کرتے ہوئے اسے دائیں طرف گھسیٹا۔ایک تیسرے کپتان نے وہیل کو پکڑا اور اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ “نہیں، نہیں! ندی اس طرف مڑتی ہے!”جلد ہی، مزید کپتان بھی شامل ہو گئے۔ ہر ایک دوسرے سے اونچی آواز میں چلّا رہا تھا۔ ہر کوئی وہیل کو اپنی مرضی کی سمت میں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
کھانے کے آداب۔۔۔🙂!
بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟ کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔ بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔ شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔ بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔ جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔ “70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
سوتے ہوئے پہریدار
اڈو نامی گاؤں کے لوگوں نے پہاڑی پر ایک بہت بڑا غلہ خانہ (گودام) بنایا۔ یہ ان کی محنت کی علامت تھا—ہر کسان نے اپنی فصل کا ایک حصہ اس میں شامل کیا تھا۔ وہاں باجرا، چاول اور مکئی ذخیرہ کی گئی تھی تاکہ طویل خشک سالی کے دوران کوئی بھی بھوکا نہ رہے۔دیہاتی جانتے تھے کہ یہ غلہ خانہ بہت قیمتی ہے، اس لیے انہوں نے اس کی حفاظت کے لیے پہریدار مقرر کیے۔ ان آدمیوں نے چمکدار وردیاں پہن رکھی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں لمبی لاٹھیاں تھیں۔ ہر شام دیہاتی انہیں فخر سے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے دیکھتے، اور وہ سب سے وعدہ کرتے کہ وہ اس اناج کی حفاظت کریں گے جو سب کا مشترکہ مال ہے۔شروع میں پہریدار رات بھر اونچی آواز میں نعرے لگاتے۔وہ پکارتے، “ڈرو مت! کوئی چور اناج کے ایک دانے کو بھی ہاتھ نہیں لگائے گا!”دیہاتی سکون کی نیند سوتے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سرسبز جنگل میں چار عجیب مگر سچے دوست رہتے تھے: ایک کوا، ایک چوہا، ایک ہرن اور ایک کچھوا۔اگرچہ ان کی شکلیں اور عادتیں مختلف تھیں، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت اور اعتماد سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اکثر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے جمع ہوتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ ان کی دوستی پورے جنگل میں مثال بن چکی تھی۔ ایک دن صبح کے وقت ہرن گھاس کی تلاش میں جنگل کے ایک دوسرے حصے میں چلا گیا۔ بدقسمتی سے وہاں ایک شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہرن تیزی سے دوڑتے ہوئے اس جال میں پھنس گیا۔ وہ جتنا زیادہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، جال اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جاتا۔ آخرکار وہ تھک کر زمین پر گر گیا۔ ادھر درخت کے نیچے باقی تین دوست اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کوا کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdupoetry urdu blog urdustory
شرافت کا لبادہ۔۔۔🙂!
ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے دور سے ایک انسان آتا دکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اڑ جاتے ہیں یہ ہمیں مار دے گا۔ چڑا کہنے لگا کہ دیکھو ذرا اسکی دستار پہناوا شکل سے شرافت ٹپک رہی ھے یہ ہمیں کیوں مارے گا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا……..چڑی فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہوگئی۔ شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چاہے سزا دے۔ چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جائے کہ!! اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے۔ _حکایت مولانا رومی
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
کسی گاوں میں تین بھائی رہتے تھے. ان کے گھر پر پھل کا ایک درخت تھا جسکا پھل بیچ کر یہ دو وقت کی روٹی حاصل کرتے تھے. ایک دن کوئی اللہ والا انکا مہمان بنا. اُس دن بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گیا اور دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ ان کو بھوک نہیں. مہمان کا اکرام بھی ہو گیا اور کھانے کی کمی کا پردہ بھی رے گیا آدھی رات کو مہمان اٹھا جب تینوں بھائی سو رہے تھے ایک آری سے وہ درخت کاٹا اور اپنی اگلی منزل کی طرف نکل گیا. صبح اس گھر میں کہرام مچ گیا سارا اہل محلہ اس مہمان کو کوس رہا تھا جس نے اس گھر کی واحد آمدن کو کاٹ کر پھینک دیا تھا. چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاوں میں آیا تو دیکھا اس بوسیدہ گھر پر جہاں وہ مہمان…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
یوسف بن تاشفین: اندلس کو بچانے والا عظیم مجاہد
یوسف بن تاشفین مغربِ اسلامی کے عظیم سپہ سالار اور مرابطین سلطنت کے مضبوط حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی سادگی، عدل اور جہاد کے ذریعے شمالی افریقہ اور اندلس کی تاریخ بدل دی۔انہوں نے اصلاحی و دینی تحریک عبداللہ بن یاسین کی قائم کردہ مرابطین تحریک میں شمولیت اختیار کی، جس کا آغاز تقریباً ۴۴۸ھ / ۱۰۵۶ء میں ہوا تھا اور جس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو مضبوط کرنا تھا۔ یوسف بن تاشفین نے قیادت سنبھالنے کے بعد آپس میں لڑنے والے امازیغ قبائل کو متحد کیا اور انہیں ایک مضبوط اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی قیادت میں مرابطین سلطنت تیزی سے پھیلی اور موریتانیہ، مراکش، الجزائر کے کچھ علاقے اور سینیگال کے حصے ان کی حکومت میں شامل ہو گئے، بعد میں اندلس بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گیا۔انہوں نے ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء میں شہر مراکش کی بنیاد رکھی اور اسے مرابطین سلطنت…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بیس پنس کی آزمائش
ایک امام صاحب روزگار کی غرض سے برطانیہ کے شہر لندن جا پہنچے۔ روزانہ گھر سے مسجد تک بس پر جانا اُن کا معمول بن گیا۔ چند ہفتوں میں ایک ہی روٹ اور ایک ہی ڈرائیور سے اکثر سامنا ہونے لگا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول بس میں سوار ہوئے، کرایہ ادا کیا اور باقی رقم لے کر نشست پر بیٹھ گئے۔ جیب میں رکھنے سے پہلے نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ دل میں خیال آیا کہ اترتے وقت واپس کر دوں گا، یہ میرا حق نہیں۔ مگر فوراً ایک اور وسوسہ سر اُٹھانے لگا: “اتنی معمولی رقم… کون سا کسی کو فرق پڑے گا؟ کمپنی تو لاکھوں کماتی ہے۔ اسے اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر رکھ لو!” اسی کشمکش میں سفر کٹ گیا۔ جب اُن کا اسٹاپ آیا تو اترتے ہوئے ڈرائیور کے پاس جا کر بیس پنس واپس کرتے ہوئے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
انصاف کی لکیر
ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ اپنے محل سے نکل کر اکثر شہر اور دیہات کا دورہ کیا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنی رعایا کے حالات کو خود دیکھے اور سمجھے۔ ایک دن وہ اپنے چند سپاہیوں اور وزیر کے ساتھ شہر سے باہر نکل کر دیہات کی طرف جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ایک کمہار اپنے گدھوں کو ایک لمبی قطار میں لے جا رہا تھا۔ سب گدھے نہایت ترتیب سے، سیدھی لائن میں چل رہے تھے۔ نہ کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ ہی کوئی ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔بادشاہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔اس نے اپنے گھوڑے کو روکا اور کمہار کو آواز دی۔“اے کمہار! ذرا ٹھہرو۔”کمہار فوراً رک گیا اور ادب سے جھک کر سلام کیا۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا“مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ان…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
ادھار کا بادشاہ
نامارا کی وادی میں ایک شاندار محل تھا، جو سفید پتھروں سے بنا تھا اور صبح کی روشنی کی طرح چمکتا تھا۔ اس کے عین بیچ میں بادشاہ کا فخر موجود تھا: سنہری شیروں اور چاندی کے پرندوں سے تراشا ہوا ایک بلند و بالا فوارہ۔ پانی دن رات اس کے دہانے سے اچھلتا اور وسیع سنگِ مرمر کے حوضوں میں گرتا رہتا۔محل کے پاس سے گزرنے والے مسافر رکتے اور دنگ رہ جاتے۔ وہ سرگوشیوں میں کہتے، “دیکھو، یہ سلطنت کتنی خوشحال ہوگی، جن کے فوارے تک کبھی نہیں سوکھتے۔”لیکن اگر وہی مسافر محل کی دیواروں سے ذرا آگے نکل جاتے، تو نامارا کی کہانی بدل جاتی۔گاؤں والے سورج نکلنے سے پہلے اٹھتے، مٹی کے ٹوٹے پھوٹے گھڑے اپنے کندھوں پر اٹھاتے۔ مائیں، کسان اور بچے قریبی ندی تک پہنچنے کے لیے دھول بھرا طویل راستہ طے کرتے۔ اکثر وہ خالی گھڑے یا بمشکل آدھے بھرے ہوئے واپس لوٹتے۔ایک…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن بادشاہ اکبر کا موڈ کچھ بدلنے والا تھا، انہوں نے بیربل سے کہا:“بیربل! مجھے لگتا ہے کہ اس سلطنت میں بے شمار بیوقوف لوگ بھرے پڑے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تم مجھے دنیا کے چھ سب سے بڑے بیوقوف ڈھونڈ کر لاؤ۔”بیربل نے بادشاہ کو سلام کیا اور کہا: “جو حکم جہاں پناہ!”کچھ دن گزرے تو بیربل واپس آیا اور بادشاہ کو بتایا کہ اس نے چھ بیوقوف ڈھونڈ لیے ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا: “وہ کہاں ہیں؟”بیربل نے کہا: “حضور، پانچ تو باہر کھڑے ہیں، چھٹا یہ رہا!” اور اس نے اپنی طرف اشارہ کیا۔بادشاہ ہکا بکا رہ گیا اور بولا: “کیا مطلب؟ تم بیوقوف کیسے ہوئے؟”بیربل مسکرا کر بولا: “حضور! جو شخص اپنا ضروری کام چھوڑ کر دنیا میں بیوقوف ڈھونڈنے کا کام کرے، اس سے بڑا بیوقوف اور کون ہو سکتا ہے؟”بادشاہ اکبر لاجواب ہو گئے اور بیربل کی اس حاضر دماغی پر بہت ہنسے۔
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
کینڈی یا روٹی۔۔۔🙂!
یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے۔ بی بی، جلدی بتائیں کیا لینا ہے— کینڈی یا روٹی؟” کیشئر نے عجلت میں پوچھا۔بوڑھی خاتون سہم گئیں۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس قدر تکلیف دہ صورتحال میں پھنس جائیں گی… وہ بھی عین کاؤنٹر پر، جہاں لائن میں کھڑے سب لوگ انہیں ہی گھور رہے تھے۔ان کے بائیں ہاتھ میں روٹی کا ایک تازہ پیکٹ تھا اور دائیں ہاتھ میں رنگ برنگی گمی کینڈیز (ٹافیوں) کا ایک چھوٹا سا تھیلا۔ان کا چھ سالہ پوتا برابر میں کھڑا کبھی روٹی کو دیکھتا اور کبھی ٹافیوں کو… لیکن وہ خاموش رہا، کچھ کہنے سے ڈر رہا تھا۔“دادی اماں… اگر آپ کا دل نہیں ہے تو ہمیں کینڈی لینے کی ضرورت نہیں،” ننھے بچے نے سرگوشی کی، وہ خود کو بڑا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔بوڑھی عورت کا دل ٹوٹ گیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
حاضر دماغی کے چار حیرت انگیز واقعات
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ زندگی میں چار واقعات ایسے ملے جنہوں نے مجھے بہت حیران کیا۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کون سے واقعات ہیں؟ فرمانے لگے: ایک مرتبہ ایک نوجوان کے ہاتھ میں چراغ تھا۔میں نے اس نوجوان سے سوال کیا: بتاؤ یہ روشنی کہاں سے آئی؟ جیسے ہی میں نے یہ پوچھا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی، اس نے فوراً چراغ پر پھونک ماری اور چراغ بجھا دیا اور کہنے لگا:حضرت! جہاں چلی گئی، وہیں سے آئی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں اس نوجوان کی حاضر دماغی پر آج تک حیران ہوں۔ ایک مرتبہ دس بارہ سال کی ایک بچی آ رہی تھی۔ اس کی بات نے بھی مجھے حیران کر دیا۔ بارش ہوئی تھی۔ میں مسجد جا رہا تھا اور وہ بازار سے کوئی چیز لے کر آ رہی تھی۔ جب وہ میرے قریب آئی تو میں نے کہا:بچی! ذرا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory
سلطان محمد فاتح اور آبناۓ ہرمز
تاریخ میں کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو صرف جنگی کامیابیاں نہیں بلکہ انسانی ذہانت، عزم اور غیر معمولی قیادت کی مثال بن جاتے ہیں۔ 1453 میں قسطنطنیہ کی فتح بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے شہر کی دیواریں ایک نوجوان سلطان کی غیر معمولی سوچ کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قسطنطنیہ، جو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا، جغرافیائی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط شہر تھا۔ اس کے ایک طرف بحیرہ مرمرہ، دوسری طرف باسفورس کی آبنائے اور تیسری جانب گولڈن ہورن کی قدرتی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے گرد مضبوط فصیلیں تھیں جو کئی صدیوں تک دشمنوں کے حملوں کو ناکام بناتی رہی تھیں۔ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو بازنطینیوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خاص انتظام کیا۔ انہوں نے گولڈن ہورن کے داخلی راستے پر ایک بہت…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
پانچویں صدی عیسوی میں جب یورپ مختلف سلطنتوں اور قبائل میں تقسیم تھا، ایک ایسا نام ابھرا جس نے پورے براعظم میں خوف اور دہشت کی علامت بن کر تاریخ میں اپنی جگہ بنا لی۔ یہ نام تھا اٹیلا دی ہن (Attila the Hun)۔ اسے اکثر “خدا کا عذاب” کہا جاتا تھا کیونکہ جہاں اس کی فوجیں پہنچتی تھیں وہاں تباہی اور خوف کی کہانیاں جنم لیتی تھیں۔ اٹیلا تقریباً 406 عیسوی کے قریب پیدا ہوا۔ اس کا تعلق ہن (Huns) نامی ایک خانہ بدوش جنگجو قوم سے تھا جو وسطی ایشیا کے میدانوں سے نکل کر یورپ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہن گھڑ سواری اور تیر اندازی میں بے مثال مہارت رکھتے تھے۔ وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر حملہ کرتے اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیتے۔ اٹیلا کے چچا روگا (Rugila) ہن قبائل کے حکمران تھے۔ ان کی وفات کے بعد 434…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory