Tag Archives: urdustory

مصر کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک غریب لوہار رہتا تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ دن بھر بھٹی کے سامنے پسینہ بہاتا، لوہا پیٹتا اور بمشکل اپنے گھر کا خرچ چلاتا۔ مگر وقت بدل گیا۔ شہر میں کام کم ہونے لگا، لوگ نئے ہنر سیکھنے لگے، اور یوسف کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ اس کے گھر میں چولہا بھی نہ جلتا۔ایک دن وہ انتہائی پریشان ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا۔ اس نے سوچا، “لوگ بیماریوں سے بہت پریشان رہتے ہیں، کیوں نہ میں حکمت سیکھ کر دواخانہ کھول لوں؟” حالانکہ اسے حکمت کا کوئی تجربہ نہ تھا، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔اگلے ہی دن اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا اور اس پر لکھ دیا:“حکیم یوسف — ہر بیماری کا علاج”شروع میں لوگ ہچکچاتے رہے، مگر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سانپ نے ایک جگنو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا جو گھاس کے اوپر نیچی پرواز کر رہا تھا۔کچھ دیر بعد، تھکے ہوئے جگنو نے رک کر سانپ سے کہا:“کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں؟”سانپ نے جواب دیا: “ہاں، پوچھ سکتے ہو۔”جگنو نے پہلا سوال کیا:“کیا میں آپ کی خوراک کا حصہ ہوں (یعنی کیا آپ مجھے اپنی غذا کے لیے کھاتے ہیں)؟”سانپ نے جواب دیا: “نہیں۔”جگنو نے دوسرا سوال کیا:“کیا میں نے کبھی آپ کو کوئی نقصان پہنچایا ہے؟”سانپ نے کہا: “نہیں۔”جگنو نے تیسرا سوال کیا:“پھر آپ مجھے کیوں کھانا چاہتے ہیں؟”سانپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا:“کیونکہ میں تمہاری روشنی برداشت نہیں کر سکتا۔”کہانی کا سبق:کبھی کبھی آپ کی روشنی—آپ کی خوشی، آپ کا سکون، آپ کی کامیابی، یا آپ کی فطری خوبصورتی—دوسروں کے لیے چڑ کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ آپ نے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں سخت خشک سالی رہی   وادی کے خشک اور بے چین ہونے سے بہت پہلے، زمین کے تمام  جانوروں نے ایک عظیم باؤباب (Baobab) درخت کے نیچے جمع ہو کر اپنے مشترکہ سرمایے کے لیے محافظوں کا انتخاب کیا۔ندیاں سب کی تھیں۔سبزہ زار سب کے تھے۔اناج کے گودام اور پھلوں کے باغات سب کے تھے۔لیکن جانوروں کا خیال تھا کہ ایسے خزانوں کو محافظوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان کی نگرانی کے لیے ایک کونسل کا انتخاب کیا—ایسے چالاک جاندار جنہوں نے دانائی، نظم و ضبط اور خوشحالی کا وعدہ کیا۔لکڑ بگھوں نے جوش و خروش سے اپنی خدمات پیش کیں۔“ہم طاقتور ہیں،” انہوں نے کہا۔“ہم ذہین ہیں۔”اور سب سے اہم بات، انہوں نے پراعتماد مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا، “ہم ‘مستقبل’ کی حفاظت کریں گے۔”جانوروں نے تالیاں بجائیں۔بکریاں، جو وادی کا سب سے بڑا حصہ تھیں، سب سے زیادہ شور…

Read more

صرف محنت کافی نہیں: بدلتے حالات اور صحیح مہارتاکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا دارومدار صرف “مزید سخت محنت” پر ہے۔ لیکن کبھی کبھی اصل مسئلہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔اپنی انا اور تکبر کی وجہ سے ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد، خرگوش اس ہار کو تسلیم نہ کر سکا۔ اس نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا اور دن رات سخت ٹریننگ شروع کر دی۔ وہ اپنی پہلے سے تیز رفتار ٹانگوں کو مزید مضبوط اور توانا بنانے کے لیے جی توڑ محنت کرتا رہا۔ جب اسے لگا کہ اب اسے کوئی نہیں ہرا سکتا، تو وہ کچھوے کے پاس گیا اور اسے دوبارہ مقابلے کا چیلنج دیا۔کچھوا، جو ہمیشہ کی طرح پرسکون اور دانا تھا، مسکرایا اور بولا:“ٹھیک ہے، لیکن تمہاری اس کڑی محنت کا حق ادا کرنے کے لیے، اس بار راستے کا انتخاب میں کروں گا۔”خرگوش اپنی رفتار پر اتنا مغرور…

Read more

ایک پرسکون وادی میں، جہاں کی زمین بہت زرخیز تھی، دانُو نامی ایک کسان رہتا تھا۔ نسلوں سے اس کا خاندان اسی زمین پر کاشتکاری کر رہا تھا۔ زمین ان کی محنت کا صلہ فصلوں کی شکل میں دیتی تھی، اور اس کے گھر کا گودام ہمیشہ اناج سے بھرا رہتا تھا۔لیکن ایک سال بارشیں دیر سے ہوئیں اور فصل معمول سے کم ہوئی۔ دانُو کو اپنی ظاہری شان و شوکت کھونے کا ڈر ستا رہا تھا۔ جب لوگ اس کے گھر آتے تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اس کی تنگی کا اندازہ ہو۔چنانچہ اس نے ایک غلط فیصلہ کیا۔پہلے تو اس نے اپنی زمین کا ایک حصہ سوداگروں کو بیچ دیا۔ جو رقم ملی، اس سے اس نے عمدہ گوشت، شراب اور قیمتی کپڑے خریدے۔ اس نے اتنی بڑی دعوت دی کہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی شریک ہوئے۔ ڈھول بجے، قہقہے لگے اور دانُو…

Read more

جو چیز شروع میں ایک نعمت لگتی ہے، وہ خاموشی سے آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ✨ایک پرانی لکڑی کی میز پر شہد کا جار اتفاقاً الٹ گیا، جس کی چمکتی ہوئی رنگت اور دلکش خوشبو نے فضا کو بھر دیا۔ مکھیوں کے ایک غول نے فوراً اس مٹھاس کو بھانپ لیا اور اس کی طرف لپکیں۔ شروع میں وہ کنارے پر رہیں اور تھوڑا سا چکھا۔ ذائقہ اتنا لاجواب تھا کہ وہ بار بار مزید کے لیے واپس آتی رہیں۔رفتہ رفتہ، وہ ایک اور گھونٹ کی چاہ میں اس چپکنے والے شہد کے بیچوں بیچ پہنچ گئیں۔لیکن جب وہ بہت زیادہ آگے بڑھ گئیں، تو ان کی ننھی ٹانگیں اب آزاد نہیں رہی تھیں۔ وہ گاڑھے شہد میں دھنس چکی تھیں۔ جب انہیں خطرے کا احساس ہوا اور انہوں نے اڑنے کی کوشش کی، تو ان کے پر شہد سے بھر کر بھاری ہو…

Read more

*حضرت آدمؑ کی پیدائش سے پہلے دنیا میں کیا تھا، اس بارے میں اسلامی تعلیمات، قرآنِ مجید اور احادیث کی روشنی میں علماء نے مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔*قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کائنات اور زمین کو حضرت آدمؑ کی تخلیق سے بہت پہلے پیدا فرمایا تھا۔ زمین ابتدا میں ایک خام اور غیر منظم حالت میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں پہاڑ، دریا، سمندر اور نباتات پیدا کیے۔ سورۂ بقرہ میں جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والے ہیں تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ کیا آپ وہاں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو فساد پھیلائے اور خونریزی کرے؟ مفسرین اس آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت آدمؑ سے پہلے بھی زمین پر کسی نہ کسی قسم کی مخلوق موجود تھی جس نے فساد کیا تھا، اسی لیے فرشتوں نے ایسا سوال کیا۔ اسلامی روایات…

Read more

ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک نہایت خوبصورت اور تیز رفتار گھوڑا تھا۔ پورے گاؤں میں اس گھوڑے کی مثال دی جاتی تھی۔ ایک دن وہ گھوڑا اچانک بھاگ گیا اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔ گاؤں والے جمع ہو کر کہنے لگے:“کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا سب سے قیمتی گھوڑا چلا گیا!” بوڑھا کسان سکون سے بولا:“شاید… یہ بدقسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” چند دن بعد وہی گھوڑا واپس آیا، مگر اکیلا نہیں — اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔ اب گاؤں والے خوش ہو کر کہنے لگے:“واہ! یہ تو بہت بڑی خوش قسمتی ہے!” بوڑھا پھر مسکرا کر بولا:“شاید… یہ خوش قسمتی ہو، شاید نہ ہو۔” کچھ دن بعد کسان کا بیٹا ان جنگلی گھوڑوں کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ گر پڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ لوگ افسوس کرتے ہوئے کہنے…

Read more

ایک انگریز کو پنجابی سیکھنےکا بہت شوق تھا کسی نےاسے بتایاکہ چک نمبر 136کےقدیم بزرگ بابا بخشی پنجابی کی بہترین تعلیم دیتےہیںانکے پاس چلےجاؤ.انگریز نےبس پر سوار ہو کر 136چک کی راہ لی بس نےاسےجس جگہ اتارا چک وہاں سےایک گھنٹےکی پیدل مسافت پرتھا‏انگریز بس سےاترکر چک نمبر136 کی طرف پیدل چل پڑا ابھی تھوڑی دور ہی گیاتھا کہ اس نےدیکھا کہ ایک شخص چارپائی کا بان بنا رہاتھاانگریز نے پوچھاoh man تم یہ کیا کرتا؟اس آدمی نےجواب دیا:گورا صاب!میں وان “وٹ” رہا ہوں انگریز نےحساب لگایا کہ ٹوئسٹ کرنا کو پنجابی میں “وٹ” کہتے ہیں‏انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگےچلا تو کیا دیکھتا ہےکہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہےانگریز نے پوچھا:oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟دکاندار بولا: گورا صاب.! سویر دا کج وی نئیں”وٹیا” انگریز سوچ میں پڑگیا کہ پنجابی میں پیسےکمانے کو “وٹ” کہتےہیں😕خیر انگریز کچھ اور آگےچلا تو ایک شخص کو‏دیکھا, جو پریشانی کےعالم میں آسمان…

Read more

ایک آدمی کا گزر ایک جنگل سے ہوا جہاں شدید آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ آگ کے حصار میں پھنسا اپنی جان بچانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔ آدمی کو ترس آگیا؛ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر سانپ کو آگ سے نکالا اور اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔جیسے ہی سانپ کی جان میں جان آئی، وہ بولا: “اب میں تمہیں ڈسوں گا۔”آدمی حیرت سے بولا: “یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے تو تمہارے ساتھ نیکی کی اور تمہیں موت کے منہ سے نکالا، کیا نیکی کا یہی صلہ ہے؟”سانپ نے سرد مہری سے جواب دیا: “میرے پاس تو نیکی کا یہی صلہ ہے۔”آدمی نے تجویز دی: “اگر تم یہی سمجھتے ہو تو چلو کسی تیسرے سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔” سانپ مان گیا۔ وہ کچھ آگے بڑھے تو انہیں ایک بھینس چربی ہوئی ملی۔ آدمی نے…

Read more

(ایک افریقی لوک کہانی جو اس کہاوت سے ماخوذ ہے: “اکیلے چلنے والے سانپ کو ہی کلہاڑی سے مارا جاتا ہے”)بہت پہلے کی بات ہے، گھنے جنگل اور لمبی گھاس سے گھرے ایک گاؤں میں ادیوالے نامی ایک نوجوان شکاری رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور، تیز رفتار اور اپنی تیر اندازی کی مہارت پر فخر کرنے والا تھا۔ہر صبح، گاؤں کے شکاری جنگل میں داخل ہونے سے پہلے اکٹھے ہوتے تھے۔ وہ چھوٹے گروہوں میں مل کر چلتے، پانی اور کھانا بانٹتے اور ایک دوسرے کی حفاظت کرتے۔ بڑے بوڑھے ہمیشہ انہیں خبردار کرتے تھے:“جنگل میں کبھی اکیلے مت چلو۔ جھاڑیوں میں بہت سی چیزیں چھپی ہوتی ہیں۔”لیکن ادیوالے کا ماننا تھا کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور طاقتور ہے۔ وہ اکثر فخر سے کہتا: “ایک شکاری پانچ سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ جب آپ اکیلے چلتے ہیں، تو تمام کامیابی کا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔”ایک…

Read more

ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ، تابعی عالم عثمان بن عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں:“میں اپنے والد کے ساتھ خلیفہ ہشام بن عبد الملک سے ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ جب ہم دمشق کے قریب پہنچے تو ہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ایک سیاہ گدھے پر سوار تھا۔ اس کے جسم پر موٹا اور کھردرا قمیص تھا، ایک پرانی سی چادر تھی، سر پر سادہ سی ٹوپی چپکی ہوئی تھی اور رکابیں لکڑی کی تھیں۔میں اسے دیکھ کر ہنس پڑا اور اپنے والد سے پوچھا:‘یہ کون ہے؟’میرے والد نے فوراً مجھے خاموش کرایا اور کہا:‘چپ رہو! یہ حجاز کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔’جب وہ ہمارے قریب آئے تو میرے والد اپنی خچر سے اتر گئے اور عطاء بن ابی رباح بھی اپنے گدھے سے اترے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی، پھر اپنی سواریوں پر سوار…

Read more

سومنات مندر کا مقام بھارتی ریاست گجرات میں واقع تھا۔ موجودہ دور کے انتظامی لحاظ سے یہ ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں آتا ہے، جو گِر سومناتھ ضلع میں ہے ۔ یہ شہر سمندر کے کنارے واقع ہے ۔جبکہ سلطان محمود غزنوی کا دارالحکومت غزنی شہرتھا، جو موجودہ افغانستان میں واقع ہے ۔ غزنی سے سومنات کے مندر کا تقریبا 1100 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ دوری آج کے جدید نقشوں کے مطابق ہے، جبکہ اس وقت یہ سفر ہزاروں فوجیوں اور سامان کے ساتھ طے کرنا انتہائی مشکل تھا۔ محمود غزنوی نے 18 اکتوبر 1025ء کو غزنی سے اس مہم کا آغاز کیا تھا ۔سومنات مندر کا عجوبہ وہاں نصب شیو لنگ تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ لنگ زمین سے فضا میں معلق تھا، یعنی اسے نیچے سے کوئی سہارا نہیں تھا اور نہ ہی اوپر سے لٹکایا گیا تھا ۔ جب محمود غزنوی نے مندر میں…

Read more

شہر کے امیر ترین تاجروں میں حاجی سلیم کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بڑی بڑی دکانیں، کئی مکان اور وسیع زمینیں تھیں۔ مگر بڑھاپے میں وہ اکثر ایک ہی بات سوچ کر پریشان رہتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی دولت کا صحیح وارث کون ہوگا۔ اس کے تین بیٹے تھے: بڑا بیٹا کامران، دوسرا بیٹا عمران اور سب سے چھوٹا بیٹا فہد۔ایک دن حاجی سلیم شدید بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ اب اس کی زندگی زیادہ دن کی مہمان نہیں۔ یہ خبر سن کر تینوں بیٹے اس کے بستر کے پاس جمع ہو گئے۔ حاجی سلیم نے کمزور آواز میں کہا:“بیٹو! میں نے ساری زندگی محنت کر کے یہ دولت کمائی ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ایسے بیٹے کو ملے جو انسانوں کی قدر جانتا ہو۔”تینوں بیٹے حیران ہو کر باپ کی طرف دیکھنے لگے۔حاجی سلیم نے مزید کہا: “میری…

Read more

اس کذاب کا تعلق یمن سے تھا۔ یہ خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اسود عنسی شعبدہ بازی اور کہانت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا چونکہ اس زمانے میں یہ دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں لہٰذا یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اس کی معتقد بن گئی۔ اسود عنسی کو ذوالحمار کے لقب سے بھی جانا جاتا تھا، تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سربسجود ہوجاتا، اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا بیٹھ جاتا اور اور کھڑے ہونے کو کہتا کھڑا ہوجاتا، نجران کے لوگوں کوجب اس کے دعویٰ نبوت کا علم ہوا تو انہوں نے اسے امتحان کی غرض سے اپنے ہاں مدعو کیا۔ اس نے وہاں بھی اپنی…

Read more

عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف “V” کی شکل اختیار کر لیتی۔اونٹ اس حالت میں کھڑے ہوتے تو تین ٹانگیں زمین پر ہوتیں اور چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی۔ اس حالت میں وہ کھا پی سکتے، لیٹ سکتے، مگر بھاگ نہیں سکتے تھے۔ بدو اس رسی کو جس سے اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی زبان میں “عقل” کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کی بے قابو حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔ جب ہم کسی سے کہتے ہیں “عقل کرو” تو اصل میں مطلب یہ ہوتا ہے: رک جاؤ، ٹھنڈا ہو جاؤ، جذبات پر قابو پاؤ، اپنی حالت کا جائزہ لو، اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ…

Read more

ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، “اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔”شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی “بہادری” یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔…

Read more

“ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔ یہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے گہرے معانی ہیں:ہر پیالے سے مت پئیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں آپ کو ہر موقع، ہر پیشکش، یا ہر قسم کے تجربات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ جس طرح تصویر میں سانپ کا زہر شامل کیا جا رہا ہے، اسی طرح کچھ چیزیں بظاہر پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن وہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔دانشمندی سے انتخاب کریں: یہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے قریبی تعلقات، مواقع، یا فیصلوں کا انتخاب کرتے وقت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں۔ ہر چیز جو سامنے پیش کی جائے، وہ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔خلاصہ: یہ تصویر اور عبارت دراصل احتیاط اور بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے لیے وہی چیز چنیں جو آپ…

Read more

عرب کے مشہور شاعر اِمرُؤُ القیس دورِ جاہلیت کی نمایاں شخصیت تھا۔ روایت ہے کہ جب اسے قیصرِ روم کے دربار میں بلایا گیا تو روانگی سے پہلے اس نے اپنی زرہ، اسلحہ اور قیمتی سامان اپنے قابلِ اعتماد دوست سَمؤال کے پاس امانت رکھوا دیا۔ کچھ عرصے بعد امرؤ القیس اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسی دوران قبیلہ کندہ کا بادشاہ—جو اس کا سخت مخالف تھا—نے سَمؤال کو پیغام بھیجا کہ امانت میں رکھا ہوا سارا مال اس کے حوالے کر دیا جائے۔ سَمؤال نے دوٹوک جواب دیا:“یہ امانت میں صرف امرؤ القیس کی بیٹی یا اس کے جائز وارثوں کے سپرد کروں گا۔ بادشاہ اس کا حق دار نہیں، اس لیے میں اسے نہیں دے سکتا۔” بادشاہ نے دوبارہ دباؤ ڈالا، مگر سَمؤال اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا:“میں امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔” یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اور لشکر کے ساتھ سَمؤال…

Read more

🦄** ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے*مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہآمدنی نہ تھا، گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا *اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا*اس جاگیردار نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کردیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ھو،* مولوی صاحب نے اس زمین پر گندم کاشت کرلی۔ جب فصل ہری بھری ھوگئی تو مولوی بہت خوش ہوا* اسلیئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ھی بیٹھا رہتا اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا * لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا*مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں…

Read more

160/460
NZ's Corner