Tag Archives: urdustory

سستی نے اس کی جان لے لی: ایک ایسا آدمی جو امیر بن سکتا تھا، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا تھابہت پرانی بات ہے، ایک آدمی اتنا سست تھا کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے سارا دن فارغ دیکھ کر تنگ آ چکی تھی اور اسے کوستی رہتی:“تم کب تک ایسے رہو گے؟ میں دن رات کام کرتی ہوں اور تم اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں۔ تم ہمیں تباہ کر دو گے!”لیکن وہ آدمی سکون سے جواب دیتا:“گھبراؤ مت، ایک دن ہم امیر ہو جائیں گے اور تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”بیوی نے پوچھا: “اگر تم صوفے سے اٹھتے بھی نہیں، تو ہم امیر کیسے ہوں گے؟”اس نے کہا: “میں نے سنا ہے کہ پہاڑ کے اس پار ایک دانا بزرگ رہتے ہیں، جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس جا کر پوچھوں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، دو دوست ایک سفر پر نکلے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ راستہ لمبا تھا اور انہیں ایک گھنے جنگل سے گزرنا تھا۔ جنگل خاموش تھا، درخت آسمان تک بلند تھے اور راستہ سنسان۔ دونوں دوست باتیں کرتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ اچانک جھاڑیوں میں زوردار سرسراہٹ ہوئی۔ چند لمحوں بعد ایک بڑا ریچھ جھاڑیوں سے نکل آیا۔ ریچھ کو دیکھتے ہی دونوں دوست خوف سے کانپ گئے۔ ان میں سے ایک دوست کو درخت پر چڑھنا آتا تھا۔ اس نے فوراً موقع دیکھا اور اپنے ساتھی کو چھوڑ کر درخت پر چڑھ گیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی اپنے دوست کی طرف نہ دیکھا۔ دوسرا دوست درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔ وہ اکیلا کھڑا رہ گیا۔ اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اچانک…

Read more

*ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک بکری تھی  ایک دن، گھوڑا بہت بیمار ہو گیا۔کسان نے ویٹنری(جانوروں کے) ڈاکٹر کو بلایا، جنہوں نے کہا، آپ کے گھوڑے کو ایک وائرل بیماری ہے اسے تین دن تک یہ دوائی دینا تیسرے دن میں واپس آؤں گا اگر وہ بہتر نہیں ہوتا. تو اسے مار دیا جائے گا تا کہ وائرس مزید گھوڑوں میں نہ پھیل جائے “قریب ہی بکری نے ان کی گفتگو کو سنا.اگلے دن، کسان نے گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری گھوڑے کے پاس گئی اور کہا:“دوست ہمت کرو اٹھو ورنہ وہ تمہیں مار دیں گے!”دوسرے دن، کسان نے ایک بار پھر گھوڑے کو دوا دی اور چھوڑ دیا.بکری پھر آئی اور کہا: – “!، دوست چلو اٹھو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاو، چلو، میں آپ کو کھڑا ہونے میں مدد کروں”.چلو! ایک، دو، تین … لیکن غریب گھوڑا کھڑا نہ ہو…

Read more

پانی بھی مسخرّ ہے، ہوا بھی ہے مسخرّکیا ہو جو نگاہِ فلکِ پِیر بدل جائےدیکھا ہے مُلوکِیّتِ افرنگ نے جو خوابممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر بدل جائےطہران ہو گر عالَمِ مشرق کا جینواشاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!(شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ) اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے جس کے ذریعے تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور جب بھی خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید ایران اس راستے کو بند کر دے گا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک تک تیل نہیں پہنچ سکے گا۔ مگر اگر ہم اس معاملے کو صرف سیاسی یا معاشی زاویے سے دیکھیں تو شاید ہم اس کی اصل حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو کسی نہ کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔…

Read more

بشیر بھائی کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “بشیر صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” بشیر بھائی نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” بشیر بھائی نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر…

Read more

ایک  شوہر کو اپنی بیوی کے بارے میں شک ہوا کہ اس کی سماعت کم ہونا شروع ہو گئی ہے..چنانچہ اس نے خاندانی طبیب سے مشورہ کیا..طبیب نے اسے بتایا کہ بیوی کی سماعت کی جانچ کا ایک آسان طریقہ ہے..وہ یہ کہ اس سے پچاس فٹ کے فاصلے پر معتدل آواز میں بات کرے..پھر چالیس فٹ کے فاصلے پر آ کر وہی بات دہرائے..پھر بیس فٹ، اور پھر دس فٹ کے فاصلے تک قریب جائے..اگر پھر بھی جواب نہ ملے تو اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہو کر بات کرے، اس طرح بیوی کی قوتِ سماعت کا اندازہ ہو جائے گا..شوہر گھر لوٹا تو بیوی کچن میں دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی..وہ کچن سے پچاس فٹ دور کھڑا ہوا اور کہنے لگا: “میری جان! کھانے میں کیا بنا رہی ہو؟”..بیوی نے کوئی جواب نہ دیا!وہ چالیس فٹ کے فاصلے تک قریب آیا اور پوچھا: “میری جان! کھانے…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک چھوٹا تالاب تھا۔ اس تالاب میں کئی مینڈک رہتے تھے، اور اکثر تالاب کے کنارے چھوٹے کیچڑ میں چھپ کر آرام کرتے تھے۔ ایک دن ایک سانپ وہاں آیا۔ سانپ بھوکا تھا اور تالاب کے مینڈکوں کو شکار بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے ایک مینڈک کی طرف آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے کہا: “مینڈک بھائی! ڈرو نہیں، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ تمھیں باہر لے چلوں گا تاکہ تمہیں زیادہ اچھا اور محفوظ مقام ملے۔” مینڈک نے سانپ کی باتوں پر شک کیا، لیکن اس نے سوچا کہ شاید سانپ سچا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی کرخت جلد کے ساتھ کنارے کی طرف آیا۔ جیسے ہی مینڈک سانپ کے قریب پہنچا، سانپ نے اچانک اسے پکڑ لیا اور کھانے کی تیاری کرنے لگا۔ لیکن مینڈک ہوشیار تھا۔ اس نے اپنی کرخت جلد کا فائدہ اٹھایا، اچانک جھٹکا دیا اور سانپ کی…

Read more

ایک بوڑھا دانا اپنے پوتے کے ساتھ جنگل کے کنارے بیٹھا تھا۔ شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج کی آخری روشنی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھی۔ بوڑھے کے چہرے پر سکون اور آنکھوں میں تجربے کی گہری روشنی تھی۔ پوتا کچھ پریشان نظر آ رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے دادا سے کہا: “دادا جان! میرے دل میں عجیب سی لڑائی چلتی رہتی ہے۔ کبھی میں اچھا بننا چاہتا ہوں، مگر کبھی مجھے غصہ، حسد اور نفرت بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟” بوڑھا دانا مسکرایا اور کہنے لگا: “بیٹا، یہ لڑائی صرف تمہارے دل میں نہیں ہوتی، بلکہ ہر انسان کے اندر ہوتی ہے۔” پوتا حیران ہو کر دادا کی طرف دیکھنے لگا۔ دادا نے بات جاری رکھی: “ہر انسان کے دل میں دو بھیڑیے رہتے ہیں۔” پوتے نے پوچھا:“دو بھیڑیے؟ کیسے؟” بوڑھے نے کہا: “پہلا بھیڑیا برائی کی…

Read more

خان بھائی پہلی بار عرب ملک میں کیا۔ ائیر پورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور منزل کی طرف روانہ ہوا۔ نیا ملک، نئی زبان اور اردگرد ہر طرف عربی بولنے والے لوگ… خان بھائی کے لیے یہ سب کچھ بالکل نیا اور دلچسپ تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے اونچی عمارتیں، روشن سڑکیں اور مصروف بازار دیکھ کر دل ہی دل میں حیران بھی ہو رہے تھے اور خوش بھی۔ راستے میں عربی ٹیکسی ڈرائیور نے ایک دو باتیں کیں۔ خان بھائی کو عربی تو آتی نہیں تھی، مگر عزت بچانے کے لیے انہوں نے بڑے اعتماد سے جواب میں سورۂ فاتحہ سنادی۔ ڈرائیور بھی خاموشی سے سنتا رہا اور گاڑی چلاتا رہا۔ آخر کار جب منزل کے پاس پہنچے تو خان بھائی سوچنے لگے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو روکنے کی ” عربی ” کیا ہو سکتی ہے۔ دل میں کئی لفظ آئے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ زبان…

Read more

‏ایک صاحب گھر میں اپنی بیگم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ پہلے نوالے پر ہی وہ غصے سے بپھر گئے۔“یہ آج تم نے کھانے کا کیا حشر کر دیا ہے؟ نہ گوشت گلا ہے اور نہ ہی سبزی۔ مجھ سے تو ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہیں اتر رہا!”بیگم صاحبہ نے تیکھے تیوروں کے ساتھ ترکی بہ ترکی جواب دیا:“اپنی غلطی کا غصہ مجھ پر کیوں اتار رہے ہو؟ یہ کھانا تو میرے اپنے حلق سے بھی نہیں اتر رہا۔”“میری غلطی…؟” شوہر کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ “کیا کھانا میں نے پکایا ہے جو میری غلطی ہے؟”بیوی نے پلیٹ پرے دھکیلتے ہوئے جوابی وار کیا:“وہ پکوان کی ترکیبوں والی کتاب مجھے کس نے لا کر دی تھی؟ میں نے اسی کتاب سے ترکیب دیکھ کر یہ ڈش بنائی ہے۔ اور ذرا یہ بھی سن لیں کہ وہ ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، جبکہ ہم صرف دو ہیں۔”بیگم…

Read more

حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔ میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا…

Read more

ایک آدمی کی جرابوں سے سخت بدبو آتی تھی۔ وہ جہاں جوتا اتارتا لوگ دور دور بھاگ جاتے۔ ایک مرتبہ اس کی بیوی کے رشتہ داروں میں شادی تھی۔ لہذا اس نے اپنے خاوند کو نئی جرابیں لا کر دیں اور کہا، “کم از کم وہاں تو نئی جرابیں پہن کر جاؤ۔۔۔!” شادی میں اچانک شور اُٹھا اور اس آدمی کے قریب بیٹھے لوگ بھاگنا شروع ہو گئے۔ اس کی بیوی دوڑی دوڑی اس کے پاس آئی اور جھگڑنے کے انداز میں بولی، “تم پھر پرانی جرابیں پہن کر آئے ہو۔۔۔؟” آدمی نے بڑے اطمینان سے بوٹ اتار کر دکھائے اور کہا، میں نے پہنی تو نئی جرابیں ہیں، لیکن مجھے پتا تھا تم یقین نہیں کرو گی اس لیے پرانی جرابیں جیب میں ڈال کر لایا ہوں۔۔۔😅😅😅 حاصل کلام: کچھ لوگوں کی فطرت بھی ایسے ہی گندی ہوتی ہے انسان لاکھ کوشش کر لے وہ کبھی نہیں بدلتی۔ منقول

ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش تدبیر — تین دن میں سچ کیسے سامنے آ گیا؟جب امانت میں خیانت ہوئی… اور انصاف قائم کرنے کے لیے ایک بادشاہ نے قالین کاٹ کر سچ کو بے نقاب کر دیا! سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے قاضی سے اپنی امانت طلب کی۔ قاضی نے وہی بند تھیلی اسے واپس کر دی۔ تاجر مطمئن ہو کر تھیلی لے گیا، مگر جب گھر پہنچ کر اس نے تھیلی کھولی تو حیران رہ گیا۔ اس میں اشرفیوں کی جگہ تانبے کے سکے موجود تھے۔ وہ فوراً قاضی کے پاس پہنچا اور کہا:“اس تھیلی میں تو اشرفیاں تھیں، یہ تانبے کے…

Read more

بغداد کی ایک پُرسکون رات تھی۔ ایک گلی سے اللہ کے ایک نیک بندے اپنے چند عقیدت مندوں کے ساتھ گزر رہے تھے۔ ایک تنگ موڑ سے گزرتے ہوئے اُن کی نظر ایک شخص پر پڑی جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ وہ نشے میں تھا۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے میلے، آنکھوں میں غصہ بھی تھا اور گہری بے بسی بھی۔ عقیدت مندوں نے اسے دیکھا تو ناگواری سے رخ پھیر لیا۔ اچانک اُس شخص نے سر اٹھایا اور اس کی نظر سیدھی اس نیک بندے پر جا ٹھہری۔ چہرہ دیکھتے ہی اونچی آواز میں پکارا: اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم غیر قادر؟کیا میرا رب میری حالت بدلنے پر قادر ہے یا نہیں؟ نیک بندے کے قدم فوراً رک گئے۔ وہ اس کے قریب زمین پر بیٹھ گئے اور نرمی سے فرمایا: قادر… اور قدرت صرف اسی کی ہے۔ وہ شخص دوبارہ بولا:اے اللہ کے ولی 💚قادر اَم…

Read more

ایک گھنے افریقی جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ شیر طاقتور اور خوفناک تھا اور جنگل کے تمام جانور اس کے سامنے لرزتے تھے۔ وہ ہر دن شکار کرتا اور جنگل کے سب جانوروں کو ڈراتا۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا مگر چالاک خرگوش بھی رہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیر کے سامنے جسمانی طاقت کے زور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیشہ عقل اور چالاکی سے کام لیتا۔ ایک دن شیر نے فیصلہ کیا کہ وہ سب جانوروں کو ڈرانے کے لیے ایک بڑا شکار کرے گا۔ وہ جنگل کے درمیان آیا اور زور سے دھاڑ کر سب جانوروں کو ڈرایا۔ جانور سب خوف کے مارے چھپ گئے، مگر خرگوش نے اپنے ذہن سے سوچا: “میں شیر کی طاقتور جسمانی قوت کے مقابلے میں نہیں جا سکتا۔ مگر اگر میں چالاکی سے کام لوں تو اپنی جان بچا سکتا ہوں۔” خرگوش نے شیر کے پاس…

Read more

وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔ سارے عرب میں اس کی سخاوت کے چرچے عام تھے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ Abu Ja’far al-Mansur اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ Ma’n ibn Za’ida کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ جب معن بن زائدہ کو خلیفہ کے اس حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا، لیکن ہر وقت اسے یہی خوف لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔ آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک سیاہ فام آدمی ایک طرف سے نکلا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ کر اونٹ کو بٹھا دیا۔ پھر اس نے معن بن زائدہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:“میرے ساتھ چلو۔” معن…

Read more

“حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں۔”سعودی عرب کا ایک دور افتادہ گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کیلئے جنات کے کھودے ہوئے 300 کنوئیں بھی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اگرچہ ناکارہ ہو چکے ہیں، مگر 20 کنوﺅں سے اب بھی لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔ جنات نے یہ کنوئیں زمین کے بجائے سخت ترین چٹانوں کو توڑ کر بنائے تھے، جس پر اب بھی ماہرین حیران ہیں۔ ان عجائبات کو دیکھنے کیلئے دور دور سے سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ تاریخی گاﺅں ”لینہ“ مملکت کے شمالی شہر رفحا سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قدیم علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کے ساتھ متعدد آثار قدیمہ کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے۔ پرانے…

Read more

ایک دفعہ ایک بوڑھی عورت شہر کے سب سے بڑے بینک میں گئی۔ وہاں جا کر اس نے بینک مینیجر سے کہا:“میں اپنے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے جمع کروانا چاہتی ہوں۔”مینیجر نے پوچھا:“کتنے پیسے ہیں؟”بوڑھی عورت نے جواب دیا:“تقریباً دس لاکھ روپے ہیں۔”مینیجر حیران ہو کر بولا:“واہ! تمہارے پاس تو بہت پیسے ہیں، تم کیا کام کرتی ہو؟”بوڑھی عورت نے کہا:“میں شرطیں لگاتی ہوں۔”مینیجر نے کہا:“واہ! شرطیں لگا لگا کر اتنے پیسے جمع کر لیے؟”بوڑھی عورت بولی:“جی ہاں۔ اگر یقین نہیں تو تم میرے ساتھ ایک لاکھ روپے کی شرط لگا لو۔ مجھے لگتا ہے تم نے وِگ (نقلی بال) لگائی ہوئی ہے۔”مینیجر فوراً بولا:“نہیں، یہ میرے اصلی بال ہیں، میں ابھی جوان ہوں!”بوڑھی عورت نے کہا:“چلو پھر ایک لاکھ کی شرط لگا لو۔”مینیجر نے دل میں سوچا کہ بوڑھی عورت پاگل ہو گئی ہے، ویسے ہی ایک لاکھ روپے ہار جائے گی۔ اس نے کہا:“ٹھیک ہے، میں شرط مان…

Read more

ایک عقل مند آدمی کسی جنگل سے گزر رہا تھا۔ راستے میں اس نے دو آدمیوں کو دیکھا جو پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر کچھ تلاش کر رہے تھے۔ اس آدمی نے ان کے قریب جا کر پوچھا، ”کیا آپ لوگوں کا اونٹ گم ہو گیا ہے؟“ایک آدمی نے فوراً جواب دیا، ”ہاں بھائی! ہمارا اونٹ گم ہو گیا ہے۔ ہم کافی دیر سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہ جانے وہ کہاں چلا گیا ہے۔ کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے؟“عقل مند آدمی نے ان سے پوچھا، ”کیا تمہارا اونٹ ایک آنکھ سے کانا (اندھا) تھا؟“دونوں آدمی یک زبان ہو کر بولے، ”ہاں، ہاں! بالکل۔“اس نے پھر پوچھا، ”کیا وہ بائیں پاؤں سے لنگڑاتا تھا؟“انہوں نے تصدیق کی، ”ہاں، وہ لنگڑا بھی ہے۔“آدمی نے ایک اور سوال کیا، ”کیا اس کا کوئی آگے کا دانت ٹوٹا ہوا تھا؟“اونٹ والوں نے حیرت سے کہا، ”ہاں… اس کا ایک…

Read more

یہ سچا واقعہ پڑھیے اور دیکھیے آج بھی کیسے کیسے المیے لکھے جا رہے ہیں اور ہمارا قانون نہ تو انھیں روک سکا ہے نہ ظالموں کا کچھ بگاڑ سکا ہے۔۔۔۔۔ مرنے والوں کا کہاں خبر ہوتی ہے کہ ان کی نسلوں کا کیا حشر ہو گا۔ ایسا ہی ایک باپ اپنے بچوں کے لیے ہزاروں کنال زمین چھوڑ کر مرا تھا۔ اس کا ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی، جب وہ مرا تو اس کے بچوں کے لیے اتنی دولت موجود تھی کہ وہ ساری عمر مالی مسائل کا شکار نہ ہوتے لیکن وہ کروڑوں کی جائیداد کے مالک بچے بھوک سے تڑپتے رہے ،کھانے کو ترستے رہے۔ باپ امیر تھا ، کروڑوں کا مالک ، ہزاروں کنال زمین کا مالک لیکن موت نے آ لیا، ماں پہلے ہی خدا کو پیاری ہو چکی تھی ۔ جب باپ بھی گیا تو ان دونوں بہن بھائی کے ماموں زاد نے…

Read more

200/460
NZ's Corner